×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
چٹھی ذرا سیّاں جی کے نام لکھ دے
Dated: 17-May-2016
عالمی رہنمائوں کے پرزور اصرار پر 23جولائی 1939ء کے دن انسانی حقوق کے علمبردار اور آل انڈیا کانگریس کے رہنما موہن داس گاندھی نے اپنے دیرینہ دوست جرمن چانسلر اڈولف ہٹلر کو جو خط لکھا اس کا متن یہ ہے: پیارے دوست! میرے دوست مجھ سے التجا کرتے رہے کہ میں انسانیت کے ناطے آپ کو خط لکھوں۔ لیکن میں ان کی بات ٹالتا رہا یہ سوچتے ہوئے کہ میری طرف سے ایسا کوئی خط بدتمیزی کے زمرے میں نہ آتا ہو۔ اب لگنے لگا ہے کہ مجھے ضربیں تقسیمیں چھوڑ کر اپنی طرف سے اپیل کرنی چاہیے بے شک اس کی جو بھی وقعت ہو۔ یہ بات صاف ہے کہ اس وقت دنیا میں آپ وہ واحد شخص ہیں جو ایسی جنگ کو روک سکتے ہیں جو انسانیت کو پھر سے غیر مہذب بنانے کی قوت رکھتی ہے۔ کیا آپ کسی بھی مفاد کے لیے اتنی گراں قدر قیمت ادا کرنے کی سکت رکھتے ہیں؟ کیا آپ ایک ایسے شخص کی اپیل پر غور کریں گے جس نے جنگ اور تباہی کے بجائے امن رستہ چنا ہو؟ بہرحال میں معذرت چاہتا ہوں اگر میں نے آپ کو یہ خط لکھ کر کوئی بھی گستاخی کی ہو۔ ہمیشہ آپ کا مخلص دوست ایم کے گاندھی قارئین! دوسری خوفناک جنگ عظیم کے دوران لکھنے جانے والے اس خط کے عالمی افق پر دوررس نتائج مرتب ہوئے۔ اسی طرح 8دسمبر 1940ء کو برطانیہ کے وزیراعظم سرونسٹن چرچل نے امریکی صدر روزویلٹ کو اس دن یہ خط لکھا جب برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں نے اطلاع دی کہ ہٹلر لندن پر حملے کے لیے تیاریاں کر رہا ہے۔ اس خط ہی کی وجہ تھی کہ امریکہ پوری طرح اس جنگ میں شامل ہو گیا اور ہٹلر لندن پر حملے سے باز رہا(قارئین آپ کو اس خط کے متعلق بھی خبر ہو گی جو 1971ء میں پاکستانی صدر یحییٰ خاں نے اپنے ہم منصب امریکی صدر رچرڈ نکسن کو لکھا جس میں امریکی امداد کی درخواست کی گئی تھی اور امریکی صدر نے بحری بیڑہ روانہ کرنے کی نوید سنائی تھی مگر وہ بحری بیڑہ آج تک خلیج بنگال تک نہ پہنچ سکا) 16اپریل 1963ء کے دن امریکی ریاست الہ باما برمنگھم کی جیل سے سیاہ فام امریکیوں کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ نے امریکی پادریوں کے نام ایک تاریخی خط لکھا اور اس خط کے مثبت اور تاریخی اثرات اس طرح مرتب ہوئے کہ وہ امریکہ جہاں لوکل باڈیز الیکشن میں ایک سیاہ فام کونسلر بھی منتخب نہیں ہو سکتا تھا آج اس ملک کا ایک سیاہ فام صدر دوسری دفعہ منتخب ہو کر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ قارئین! خطوط لکھنے کی تاریخ اور رواج بہت قدیم ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی ایسے کئی خطوط کا تذکرہ ہمیں ملتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے جب انہیں موت کی سزا سنائی جا چکی تھی جیل سے اپنی پیاری بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایک تاریخی خط لکھا جس میں موت سے ڈرنے کی بجائے مستقبل میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی رہنمائی اور سمت اپنی قوم اور بیٹی کو بتائی۔ اسی طرح جولائی 1978ء میں فرانس کے صدر جسکارڈ کو کال کوٹھری سے خط لکھا یہ خط ’’دی ہندوستان ٹائمز‘‘ نے اپنی 16اپریل 1979ء کی اشاعت میں شائع کیا ۔اس خط کے مندرجات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ لیڈر کال کوٹھری میں بھی اپنے حواس کو مجتمع رکھتے ہیں اور وہ اصولوں پر سودے بازی کے لیے رازی نہیں ہوتے۔ قارئین! چند ہفتے پیشتر عالمی مالیاتی سکینڈل پاناما لیکس کے نام سے منظرعام پر آیا۔ درجنوں عالمی ادارے حکمران اور سیاسی خانوادے اس سکینڈل سے متاثر ہوئے۔ پاکستان میں بھی حکمران خاندان زیرِعتاب آیا اور جب عوام کا دبائو بڑھا تو بکھری ہوئی اپوزیشن کو بھی خیال آیا تو پارلیمنٹ کی نوپارلیمانی جماعتوں نے مل کر حکومت کو عوامی خواہشات پر ایک خط لکھا جس میں احتساب اور استعفے کا مطالبہ کیا گیا پھر پس و پیش کے بعد حکومت نے اپوزیشن کی ڈیمانڈ پر چیف جسٹس کو ایک خط لکھا مگر اس خط کے ٹی آر اوز اپنی مرضی کے شامل کیے ۔دراصل حکومت یہ چاہتی تھی کہ سپریم کورٹ اس کیس کی سماعت سے انکار کر دے مگر ایسا نہ ہوا اور تین ہفتوں کے صبر آزما امتحان کے بعد چیف جسٹس نے وفاق کے خط کا جواب کچھ اس طرح دیا کہ حکومت مشکلات میں مزید گھِر گئی۔ دراصل حکمران جو اس وقت جنرل راحیل شریف اور چیف جسٹس انور ظہیر جمالی دونوں سے خائف ہیں اور چاہتے ہیں کہ کمیٹیاں بنانے او رکمیشن بنانے کی اس پریکٹس کے دوران دونوں چیفس کی ریٹائرمنٹ کا وقت آ جائے جبکہ عوام اور اپوزیشن سے نمٹنا حکمرانوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ قارئین آج جھورا جہاز آفس میں گنگناتا داخل ہوا ’’چٹھی ذرا سیّاں جی کے نام لکھ دے‘‘ تو مجھے خیال آیا کہ یہ ایک دوسرے کو خط کے ذریعے اپنے مطالبات اور عزائم سے آگاہ کرنا اچھی بات ہے تو کیوں نہ عوام اپنے منتخب اور محبوب قائد محترم نوازشریف صاحب سے یہ گزارش کریں کہ جناب آپ کی قوم وطن سے محبت اور خدمت کی تعارف کی محتاج نہیں مگر ملک و قوم کے بہترین مفاد کی خاطر مستعفی ہو جایئے۔ ہمیں یقین ہے کہ کچھ اور لوگ بھی وطن کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں۔ میں جھورے جہاز سے کہہ رہا تھا کہ یہ خط میں تمہیں لکھ دیتا ہوں تم اسے ’’برنگ‘‘ ہی پوسٹ کر آئو۔ گذشتہ دنوں ایک خبر یہ بھی ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار احمد چودھری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران غیر متوقع طور پر وزیراعظم نوازشریف کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا ہے مگر قارئین آپ کو یاد ہوگا کہ 2008ء سے سابق چیف جسٹس اور شریف برادران کے درمیان محبت کی پینگیں بڑھتی رہیں۔اور یہ وجہ تھی کہ پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت 2008ء سے 2013ء تک پیپلزپارٹی کومسلسل سوموٹو کی زد میں رکھا گیاحتی کہ پی پی پی کی حکومت ناکام بنانے کے لیے اس کے دو وزرائے اعظم کو کام نہ کرنے دیا گیا جب کہ ایک وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کو مسلسل پابندِ سلاسل رکھا گیا۔ جھورے جہاز کی اطلاع کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے سابق چیف جسٹس کے ساتھ ایک زبانی معاہدہ کر رکھا تھا کہ جیسے ہی ان کے سرکاری ملازمت کے بعد دوسال پورے ہوں گے انہیں ممنون حسین کی جگہ صدر مملکت بنا دیا جائے گا۔ مگر اب صورت حال بدل چکی ہے وزیراعظم نوازشریف کے پاس کسی کو اپوائنٹ کرنا ممکن نہیں رہا اس لیے سابق چیف جسٹس نے موقع جانتے ہوئے اپنا غصہ اور بھڑاس نکالی ہے۔یار لوگ کہتے ہیں کہ ابھی تو ابتدا ہے آگے دیکھئے کیا کیا ہوتا ہے،اب تو صدر ممنون حسین جو کہا اس سے ن لیگ اور اس کی حکومت لرز گئی ہے۔اس پر کہا جا رہا ہے ؎ اب تو بدلے بدلے سے سرکار نظر آتے ہیں اب کی بار تو جدہ سے بھی کوئی خط نہیں آئے گا 17مئی 2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus