×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ایران، عرب تنازع اور دل کا معاملہ
Dated: 31-May-2016
لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس جو 1974ء میں منعقد ہوئی اس کے سارے انتظامات مکمل تھے۔ معزز مہمانوں کے آنے کا سلسلہ جاری تھا، پاکستان کو یہ اطلاع دی گئی کہ شہنشاہ ایران محمد رضا پہلوی اس میں خود شرکت نہیں کریں گے ان کی نمائندگی ایران کا وزیر خارجہ کرے گا۔ دراصل سقوطِ ڈھاکہ کے بعد عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کی خوفناک شکست اور عالمی طاقتوں کا اسرائیل کی طرف غیر اصولی جھکائو ان عوامل نے مل کر مسلمان سربراہان کو مل بیٹھنے پر مجبور کیا۔ یہ کانفرنس شاید استنبول یا ریاض میں منعقد ہوتی مگر کچھ مسلم مالک وہاں جانے پر رضامند نہ تھے جبکہ ایران بھی یہ کانفرنس منعقد کرنے کے لیے سرگرم تھا۔ دراصل شہنشاہ ایران اس زعم میں تھے کہ انہیں یورپی اور امریکی پشت پناہی حاصل ہے اس لیے وہی ایشین خطے کے تھانیدار ہیں۔ 1979ء میں جب فرانس میں پھلنے پھولنے والا انقلاب امام خمینی کی قیادت میں تہران پہنچا تو کئی سو برسوں کے بعد ایران پہلی دفعہ مذہبی رجعت پسندوں کے نرغے میں آ گیا۔ اسی دوران پاکستان بھی ایک رجعت پسند ڈکٹیٹر کے نرغے میں تھا۔ امام خمینی کے ساتھیوں کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جب تہران میں موجود غیر ملکی سفیروں کا تعارف امام خمینی سے کروایا جا رہا تھا تو امام خمینی نے پاکستانی سفیر کا مصافحہ کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ ٹھکرا کر پاکستان کو یہ پیغام دیا کہ ایران میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد جب امریکہ کے ساتھ ہونے والے تنازع کے بعد یورپ اور امریکہ سمیت پوری دنیا نے ایران کے خلاف سیاسی، سماجی اور اقتصادی پابندیاں لگائیں حتیٰ کہ اقوام متحدہ نے بھی ایران سے تعلقات منقطع کر لیے تو ان حالات میں پاکستان وہ واحد ملک تھا جس نے اسلامی بھائی چارے کی لاج رکھتے ہوئے ہر ادویات اور اناج سمیت خفیہ طور پر اسلحہ اور ہتھیار بھی ایران کوفراہم کئے جبکہ یہ بھی بات حقیقت ہے کہ ایران میں مسلکی بنیادوں پر ابھرنے والی جنداللہ تحریک کے روح رواں عبدالمالک ریگی اور اس کے بھائی کو حکومت ایران کی درخواست پر پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے گرفتار کرکے ایران کے حوالے کیا اور ایران نے ریگی برادرز کو پھانسی دے کر ایران میں اس مسلکی تنازع کو وقتی طور پر دبا دیا لیکن یاد رہے کہ بہت سال پہلے یہ انقلابِ ایران کے ابتدائی ایام تھے۔ اس دوران ایرانی انٹیلی جنس نے پاکستان میں اپنے پنجے گاڑنے شروع کر دیئے تھے۔ انہی دنوں لاہور میں ایرانی قونصلر جنرل صادق گنجی کو قتل کر دیا گیا جبکہ پاکستان میں لڑی جانے والی اس وقت کی پراکسی وار میں غیرملکی ایجنسیوں نے تیرہ ایرانی کیڈیٹس کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ بات کنفرم ہے کہ ایرانی کارروائیوں کے جواب میں سپاہ صحابہ کا قیا م عمل میں آیا ۔ جس سے پاکستان اپنے مقصد سے دور ہوتا گیا۔ آج پھر گوادر پورٹ بننے جا رہی ہے اور چین کے ساتھ چھیالیس ارب ڈالرز کی اقتصادی راہداری کا معاہدہ طے پایا ہے تو ایران میں پاکستان مخالف قوتوں نے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو ٹارگٹ کیا ہے اور ایران کے ساتھ بیس ارب ڈالر کا منصوبہ سائن کر لیا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اور بھارت مل کر پاکستان کے ان پراجیکٹس کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے ہمارے دوست اور دشمن دونوں بے نقاب ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے دورے پر آئے ایرانی صدر کی یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ہمارے برادرملک ہیں جبکہ ہم بائیس کروڑ پاکستانی ایران کو ہمیشہ سے اپنی ذات اور جسم کا حصہ سمجھتے آئے ہیں۔ قارئین! اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت، عرب، ترک اور ایرانی پاکستان میں اپنی پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن ہم نے تو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اور یہ سمجھ کر کہ ہم ایک علیحدہ قوم ہیں، 1947ء میں ہندوئوں سے نجات حاصل کی تھی اور اگر آزاد ہو کر بھی ہمیں عربوں، ترکوں اور ایرانیوں کا غلام اور محتاج بن کر رہنا ہے تو پھر یہ دو قومی نظریہ اور آزادی کہاں کھو گئے؟ قارئین ملا منصور کی ہلاکت کے بعد وزیراعظم برطانیہ چلے گئے جہاں ان کا میڈیکل چیک اپ ہوا ۔ڈاکٹرز نے دل کا معاملہ بتایا۔ وزیراعظم ملکی سلامتی کے پیش نظر واپس آنا چاہتے تھے پاکستان میں حکومت نے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی بلوا لیا ۔ایک مصدقہ اطلاع کے مطابق وزیرداخلہ چوہدری نثار اور پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف چیف آف آرمی سٹاف سے ملنے کے لیے جی ایچ کیو پہنچے۔ 14منٹ دورانیے کی اس ملاقات میں مہمانوں کو چائے تک بھی نہ پوچھی گئی اور دونوں معزز مہمانوں کو بتا دیا گیا کہ پنجاب میں پاک فوج اور رینجرز کا آپریشن بقائے پاکستان کے لیے ہے اور پانا ما لیکس کے مسئلے پر وزیراعظم اور ان کے خاندان کو عوام اور عدالتوں سے کلیئرنس حاصل کرنا ہوگی۔ اور باوثوق ذرائع کے مطابق اس واقعہ کے بعد حکمران خاندان کے اندر موجود ناراضگی اور بداعتمادی کی فضا پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی اور اسی دوران سابق صدر آصف علی زرداری جن سے ملنے کے لیے وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمن بے تاب دکھائی دیتے تھے نے بھی وزیراعظم اور مولانا صاحب سے ملنے سے انکار کر دیا ۔ دوسری طرف زرداری صاحب نے عسکری اسٹیبلشمنٹ کو پیغام بھجوایا کہ ماضی کے تلخ لمحات کو فراموش کر دیا جائے اور یہ کہ آئندہ فوج کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ اپوزیشن کی طرف سے ہاتھ کھینچ لیے جانے کے بعد یک دم لندن سے پاکستان واپسی کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا آج وزیر اعظم کی اوپن ہارٹ سرجری ہورہی ہے۔ اب کم از کم ایک ماہ کے لیے وزیراعظم لمبی رخصت پر چلے گئے ہیںکیونکہ دل کا معاملہ ہی کچھ ایسا ہے ۔قارئین بظاہر اس وقت وطن عزیز کی صورت حال ایک ایمرجنسی کی سی ہے۔ پاکستان وزیر خارجہ اور وزیراعظم کے بغیر ایسے چل رہا ہے جیسے ایک کشتی ملاح کے بغیر۔ گذشتہ روز بھارتی وزیراعظم ایران پہنچے اسی دوران پاکستا ن میں 6افغانی انٹیلی جنس کے ایجنٹ گرفتار ہوئے جبکہ ایران بھارت گٹھ جوڑ کھل کر پاکستان کے مفادات کے خلاف نظر آنے لگا ہے۔ اس طرح پاکستان کوپاک چین سی پیک منصوبے کو جاری ہونے سے پہلے ہی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان لمحات میں ہمارے عاقبت نااندیش حکمران اور سیاستدان ریاست بچانے کی بجائے اقتدار اور سیاست بچانے کے چکر میں ہیں۔ 31مئی2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus