×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
’’لُکن مِیٹی‘‘۔۔۔ اور پینلٹی سٹروک کا انتظار
Dated: 14-Jun-2016
حضرت یعقوبؑ کے بیٹے تجارت کی غرض سے اکثر ہمسایہ ملک جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ وہ باپ کے ساتھ ضد کرکے اپنے چھوٹے بھائی حضرت یوسفؑ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے اور راستے میں بدنیتی اور حسد کی بنا پر حضرت یوسفؑ کو ایک کنویں میں پھینک دیا۔ بھائی سمجھ رہے تھے کہ ان کا قصّہ تمام ہو گیا مگر اس دوران اس کنویں کے پاس سے ایک قافلہ گزرا اور بچے کی آوازیں سن کر کنویں سے نکالا اور اپنے ساتھ ملک مصر لے گئے ۔ ایک دن یہی بچہ جب عزیزِ مصر بنا تو اس کے مصاحبین اور وزیروں نے پوچھا کہ عزیزِ مصر بننے کے بعد آپ کی پہلی خواہش کیا ہے؟ تو حضرت یوسفؑ نے جواب دیا مجھے میرے آبائی ملک ’’کنعان‘‘لے چلو۔ قارئین! خود مجھے متعدد بار جلاوطنی کے عذاب سے گزرنا پڑا اور ہر بار ہی جلاوطنی کے دوران میرا حال ماہی بے آب کی طرح تھا مگر ایک ہمارے وزیراعظم ہیں کہ موصوف کا دل پاکستان میں نہیں لگتا۔ خاص طور پر پاناما سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم اور عوام کے درمیان ایک ’’لُکن مِیٹی‘‘ کا کھیل جاری ہے۔ اگر وزیراعظم کے گذشتہ تین سال کے دوران پارلیمنٹ کے سیشن اٹینڈ کرنے اور لندن یاترا کرنے کا موازنہ کیا جائے تو یقینا لندن والا پلڑا بہت بھاری دکھائی دے گا۔ میرے ایک دوست وزیراعظم کی موجودہ یاترا کے حوالے سے کہہ رہے تھے کہ اب کی بار ان کا لندن جانا دراصل خود ساختہ جلاوطنی ہے اور بات اس وقت مذاکرات کی چل رہی ہے یا دوسرے لفظوں میں کہیں تو سودا طے نہیں پا رہا، اگر سودا طے پا گیا تو وزیرِاعظم پاکستان تشریف لے آئیں گے، ورنہ عارضی جلاوطنی کو قانونی حیثیت دے کر مستقل بنا لیا جائے گا۔ گذشتہ روز آرمی چیف نے جی ایچ کیو میں وفاقی کابینہ کے سینئر اراکین اور عسکری ہائی کمان کو طلب کیا اور جھورے جہاز کے مطابق شنید یہ ہے کہ سول قیادت کی کافی ’’لتاڑ ‘‘کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ملکی سیاست کے اندر ایک نیا انداز اور ایک نیا رنگ دیکھنے کو مِل رہا ہے۔ وزیراعظم جو تیزی سے روبصحت ہیں نے اپنے لندن قیام میں طوالت کا عندیہ دیا ہے اور شہرِ اقتدار کی فضائوں میں یہ بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اور ان کے رفقاء عالمی سیاسی مارکیٹ میں وزیراعظم نوازشریف کے لیے لابنگ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور اس مشن کا مقصد یہ ہے کہ پاک فوج کو بین الاقوامی سطح پر اس قدر بدنام کر دیا جائے کہ عسکری قیادت خود ہی کسی غیر متوقع سودے کے لیے راضی ہو جائے۔ قارئین مگر حقیقت یہ ہے کہ دو نشانِ حیدروں کا وارث اپنی جان پر بھی کھیل کر اپنے وطن کی مٹی کو مایوس نہیں کرے گا۔ پچھلے دنوں ایک اعلیٰ سطح امریکی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور عسکری قیادت اور ملک میں موجود سول قیادت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ اگر بھارت کو انٹرنیشنل نیوکلیئر کلب کا ممبر بننے دیا گیا تو اس کے بدلے پاکستان کو ایف 16طیاروں کی یقینی فراہمی کے علاوہ مزید معاشی منصوبوں پر بھی مذاکرات کیے جا سکتے ہیں مگر ہماری جری بہادر عسکری قیادت نے ستر سالہ ملکی تاریخ میں پہلی بار دو ٹوک انداز میں امریکہ سے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کر دیا ہے اور امریکی وفد کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ایک طرف آپ ہم سے طالبان سے مذاکرات اور چند گھنٹوں میں نتائج کا تقاضا کرتے ہیں اور دوسری طرف جب ہم ننانوے کے ہندسے پر پہنچتے ہیں تو لُڈو کے سانپ کی طرح ہماری کاوش کو کاٹ لیا جاتا ہے۔ پاکستان کی سالمیت اور داخلی خودمختاری کو بار بار چیلنج کیا جاتا رہا ہے۔ امریکہ یہ تو چاہتا ہے کہ اس کی مخالف طالبان قوتوں کو ختم کر دیا جائے مگر مولوی فضل اللہ جیسے پاکستان دشمن طالبان کمانڈر کی نہ صرف سرپرستی کی جاتی ہے بلکہ اسے تحفظ، سرمایہ، اسلحہ اور جدید وسائل بھی مہیا کیے جاتے ہیں۔ مگر دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی کا یہ عالم ہے کہ اہم پوسٹوں پر پچھلے تین سال سے تعیناتی نہیں ہو رہی۔ میرے ایک دوست کہہ رہے تھے کہ حکومت نے مملکت کے نظام کو ’’آٹو‘‘‘ پر ڈال رکھا ہے اور جب تک گاڑی کسی بڑے ایکسیڈنٹ کے بغیر چلتی رہی حکمران اپنے جیبیں اور تجوریاں بھرتے رہیں گے۔ سیانے کہتے ہیں دشمن تو ایک بھی کافی ہوتا ہے اور ہمارے تو تینوں اطراف دشمن موجود ہیں۔ ملکی ناکام خارجہ پالیسی کے باوجود ہمارا فخر ہماری پاک فوج اور اس کا آئی ایس آئی ادارہ اس وقت دنیا کی پانچ بڑی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے برسرپیکار ہے اور ملک کی داخلی صورت حال اس قدر ناگفتہ بہ اور غیر یقینی ہے کہ خود حکمران ،امراء ، وزراء اور صاحبِ حیثیت لوگ اپنی اولادیں اور اپنا سرمایہ پاکستان میں رکھنا پسند نہیں کرتے۔ معاشی حالت یہ ہے کہ زراعت پر اسّی فیصد انحصار کرنے والا ملک کسانوں کو مسلسل نظرانداز کرکے ملکی سلامتی کو دائو پر لگا رہے ہیں۔ پہلے فصل کٹنے کے ایام میں کسانوں کے گھر بیساکھی کے میلے لگتے تھے مگر موجودہ حکمرانوں کے دورِ حکومت میں کسانوں کے گھروں میں فصل کٹنے کے ایام میں صفِ ماتم بچھنا شروع ہو گئی ہے اور سیاسی صورتِ حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کے پانچ پیارے آپس میں اس قدر شدید ناراض ہیں کہ اب تو پبلک مقامات پر ان کو اکٹھے دیکھنا کسی معجزے سے کم نہیں جبکہ وزیر خارجہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر ’’آئیسولیشن‘‘ کا شکار ہے جبکہ چند دنوں بعد سانحہ ماڈل ٹائون پہ پھر ایک بار دھرنہ دیا جا رہا ہے۔ یقینا اس کے نتائج آنے کے بعد باقی ماندہ اپوزیشن پارٹیاں بھی اس موومنٹ کو جوائن کر لیں گی جبکہ وزیراعظم اوران کے خاندان کو بھی اس بات کا شدت سے انتظار رہے گا کہ وہ سیاسی جماعتوںکے درمیان کوارڈینیشن کا مسئلہ بنا رہے اور شاید وہ موسم گرما کی حدت کو بھی باعث رحمت تصور کرنے لگیں۔مگر اس سیاسی ’’لُکن مِیٹی‘‘ میں کس کے ہاتھ کیا آتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر ملک کے بائیس کروڑ عوام حکمرانوں کی عاقبت نااندیشیوں اور سیاست دانوں کی کم فہمیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور بھگتتے رہیں گے۔قارئین! حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کو بھجوائے جانے والے ٹی آر اوز پر سپریم کورٹ نے حکومت کو واپسی جواب میں لکھا کہ اس کیس میں جن لوگوں کے خلاف انکوائری کرنی ہے اس کی واضح نشاندہی کی جائے اور اس سلسلے میں ایک خصوصی شق آئین میں شامل کی جائے جس سے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جا سکے۔ جس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پھر ایک ’’لُکن مِیٹی‘‘ شروع ہو گئی اوراس سلسلے میں بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی گذشتہ روز اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی ہے۔ انا للہ۔۔۔۔بال اب اعلیٰ عدلیہ کے کورٹ میں ہے اور بائیس کروڑ عوام اس فائول پلے پر پینلٹی سٹروک دیئے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ 14جون2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus