×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے!
Dated: 28-Jun-2016
عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ تارکول کی تپتی سڑکیں انسانوں سے بھری پڑی تھیں۔ ایک عجیب منظر تھا، ہر شخص دوسرے کے گلے لگ کر اور دوسرے کے کندھے پر سر رکھ کر بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔ ایک دوست جو اس پروقار جنازے میں شامل تھا، کہہ رہا تھا لوگ ایک دوسرے سے اجنبی تھے مگر ان کے سر دوسرے اجنبی کے کندھے پر تھے اور وہ رو رہے تھے۔ لیاقت آباد کے اس محلے میں جہاں امجد صابری شہید کی آبائی رہائش گاہ تھی عجب منظر تھا۔ مکانوں کی کھڑکیوں سے بچیاں ،خواتیں روتی بلکتی بین کر رہی تھیں۔ سانحہ ہی ایسا تھا کہ ہر سخت دل بھی پس جائے۔ جب دہشت گرد فائرنگ کر رہا تھا تو امجد شہید نے قاتل سے فریاد کی ’’مجھے کیوں ما رہے ہو میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں میرا قصور کیا ہے؟‘‘ واہ میرے بھولے امجد بھائی! آپ بھی ساری عمر بھولے ہی رہے۔ آپ کو نہیں پتہ آپ کا کیا قصور کیا تھا؟ کوئی ایک قصور ہو آپ کا تو بتایا جائے ناں۔سب سے بڑا قصور تو یہ تھا کہ آپ اس ملک میں پیدا ہوئے ۔ دوسرا قصور اس ملک سے محبت کی اور خاندان والوں کے کہنے کے باوجود کہ لندن آجائو یہی ٹِکے رہے۔ تیسرا قصور جو ناقابل معافی تھا کہ جس شہر میں پچھلے کچھ عرصہ سے ہزاروں لاشیں گِر چکی ہیں فرقہ پرست تنظیمیں ،سیاسی پارٹیوں کے ٹارگٹ کلر بھارت اور افغانستان سمیت عالمی طاقتوں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی پراکسی وار جہاں طالبان کی تکفیری سوچ کو کلاشنکوف اور بارود کے زور پر مسلط کرانے کی حتی الوسع کوششیں جاری ہوں اس شہر میں آپ حمدونعت پڑھیں۔ جس شہر کی فضا بارود کی بو سے اَٹی پڑی ہو۔ اس شہر کی فضا کو امیر خسروؒ کی روایت سے معطر کرنے کا سوچ بھی آپ نے کیسے لیا۔ تاریخ گواہ ہے اسلام نے دنیا بھر میں غلبہ حاصل کیا۔ اولیائے اکرام کے فلسفہ صوفی ازم سے۔ نفرت کا جواب پیار محبت سے دینے میں، تلوار کے زور سے فتوحات ممکن نہ تھیں کیونکہ کافر کیا ہم مسلمانوں سے فزیکلی کم طاقتور تھے؟ یہ فلسفہ پیار محبت اور عشق رسول اللہ ہی تھا جس نے عرب کے ایک چھوٹے سے خطے سے نکل کر سکندر،رستم، دارا کے درودیوار ہلا دیئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان صوفیائے اکرام کو اپنے محبوب سے عشق کرنے پر انعامات سے نوازا۔ آج بھی داتا علی ہجویری گنج بخشؒ ، بابا فرید شکر گنجؒ، سلطان باہوؒ، حضرت نظام الدین اولیاءؒ اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مزارات پر چویبس گھنٹے عوام کا سیلاب اُمڈا رہتا ہے۔ جہاں صدیوں سے ابد تک لنگر اور دعا کے ساتھ قوالی کا بھی سلسلہ جاری ہے اور رہے گا۔ جہاں اہل خرد کو قلبی سکون ملتا ہے، جہاں مانگنے والے کو خالی ہاتھ واپس لوٹایا نہیں جاتا، جہاں مانگنے والے کا مان اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ پکارتا ہے ’’بھردو جھولی میری یا محمدﷺ لوٹ کر میں نہ جائوں گا خالی‘‘کبھی کبھی میں سوچتا ہوں میرا رب وحدہ ٗ لاشریک ہے اس کا کوئی شریک نہیں مگر میں اس کے محبوب سے عشق کرتا ہوں۔میرا رب میری اس جسارت کو معاف کرے اور قبولیت بخشے اور پھر عشق تو عشق ہے دل پر کسی کا زور نہیں۔ وزیراعظم کا بھی نہیں۔قارئین امجد صابری کے پُروقار جنازے کو دیکھ کر ہر پاکستانی کے دل میں عشق رسول کی نئی جوت جگی ہے۔ آج دنیا بھر کی دولت لوٹ کر بیرون ملک اثاثے بنانے والے حکمران یہ نہیں سمجھیں گے ۔ آج سونے چاندی کے محلات میں قیا م پذیر شہزادے یہ نہیں سمجھیں گے کہ ان کا عشق دنیاوی دولت ہے مگر رسول خدا کے عاشق کی آخری دعا ہے کہ ’’جب وقت نزع آئے آقا دیدار عطا کرنا۔‘‘ یہ صرف مقابلہ ہی نہیں ایک طرف عشق ہے دوسری طرف حواس، لالچ اور طاقت کا نشہ ۔ مگر قارئین آخر یہ کب تک ہوگا؟ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ہم 2016ء میں کھڑے ہیں جہاں ویژن کی جنگ ہے ۔ تعلیم، علم اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور اس دور میں ملک میں وزیراعظم ایک انجانے خوف سے ملک چھوڑ کر غائب ہیں ۔ ملک کے خارجی مسائل سنبھالنے کے لیے وزیرخارجہ نہیں ہے ۔ وزیرداخلہ ہر سانحہ کے موقع پر ایسے غائب ہو جاتے ہیں جیسے………لوگ بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہیں۔ پانی و بجلی کا کوئی ماہر وزیر نہیں ہے۔ ملکی سرحدوں پہ اُمڈتے خطرات کا کسی کو ادراک نہیں۔ ایک چائنہ چھوڑ کر باقی اطراف دشمن اور نیم دوست نما دشمن ہیں۔ مملکت کا وزیر دفاع ڈنگ ٹپائو جوپارلیمنٹ میں بھی اپنی ہی فوج کو گالیاں دینے کا دھنی ہے، شاید پی ایم کو ان کی یہی خوبی پسند آئی۔ ملک کا وزیر خزانہ وزیراعظم کا قریبی عزیز ہے اور حکمرانوں کی منی لانڈرنگ کا مصدقہ اقرار نامہ لکھ کر دے چکا ہے۔ گذشتہ 15برسوں میں ایک لاکھ سے زائد سویلین اور 8ہزار سے زائد عسکری جوان اور ٹاپ آفیسرز بدامنی ،لاقانونیت، دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، ملک بھر کا انفراسٹکچر تباہ ہو چکا ہے مگر خزانہ لوٹنے والوں کو ہوش ہی نہیں۔ مقدس ترین ایوان پارلیمنٹ میں میراثیوں کی طرح جملے بازی اور ایک دوسرے کی تذلیل کی جاتی ہے اور عوام یہ تماشا دیکھ کر محظوظ ہو رہے ہوتے ہیں۔ اب عوام کی حالت بھی اس مجنوں کی ہو چکی ہے جس کے چہرے پر مکھیاں بیٹھی ہوں اور وہ انہیں اڑاتانہیں کہ کہیں مکھیوں کی نیند خراب نہ ہو جائے۔ واہ رے عوام تمہارا احساس؟ کراچی میں جو کچھ نہ کچھ سکون ہوا وہ رینجر کی بدولت ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ سانحہ پشاور آرمی سکول کے بعد نیشنل ایکشن پلان فوج کے کھاتے میں جاتا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے شہدا کی ایف آئی آر بھی آرمی چیف نے مداخلت کرکے لکھوائی۔اب خارجی محاذ پر افغانستان، بھارت اور ایران کے حربوں کا جواب بھی آرمی چیف اور ان کے ساتھی دے رہے ہیں۔ آرمی چیف کے امریکہ، یورپین یونین کے میراتھن وزٹ جاری ہیں ۔ ابھی کل ہی آرمی چیف کی ذاتی کاوشوں سے نیوکلیر انرجی کلب میں داخل ہونے کی بھارتی خواہش چکنا چور ہو گئی۔ بھارت سمجھتا ہے کہ عالمی سیاست بھی بالی ووڈ کی فلموں کی طرح ہے۔مگر ہر فلم شاہ رخ اور سلمان خان کی فلموں کی طرح باکس آفس پر دھوم مچانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ میرے خیال میں نریندر مودی کو وزارتِ عظمیٰ چھوڑ کر بالی ووڈ کی فلموں میں قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔ قارئین ملکی اور عالمی معاملات کے حوالے سے اگلے دو ہفتے بہت حساس ہیں۔ملکی معاملات پر سکیورٹی اداروں نے اپنے تحفظات کا برملا اظہار کیا ہے اور یقینا ایک نیشنل آپریشن کلین اپ کی تیاری ہے۔ 28جون2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus