×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہم تو ڈوبے ہیں صنم ۔۔۔
Dated: 30-May-2017
رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ملکی اور بین الاقوامی سیاست میں ایک طوفان اور تلاطم سا پیدا ہوا ہے اور ساتھ ہی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی۔ خیر قیمتوں میں اضافہ رمضان المبارک میں اور وہ بھی صرف مسلمان ممالک میں ،یہ ایک دیرینہ اور دائمی مرض ہے۔ دراصل جس مبارک مہینے کو ہم برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ کہتے ہیں اسے ہمارے تاجر لوگ اور ذخیرہ اندوز کمائی والا اور نوٹوں سے بوریاں بھرنے والا مہینہ سمجھتے ہیں۔قارئین! میں علاج کے لیے اور بچوں کی چھٹیوں میں کچھ دن ان کے ساتھ گزارنے کے لیے کینیڈا آیا ہوا ہوں۔ میں نے یہاں کے ماحول اور نظام کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ پورے کینیڈا کے اندر یہاں کی قومی اور ملٹی نیشنل فوڈ کمپنیوں اور گراسری سٹورز نے رمضان المبارک کی آمد پر اپنی صرف 4فیصد مسلم آبادی کے لیے اشیائے صرف اور خصوصاً وہ مصنوعات اور اجناس جو مسلمان رمضان میں کثرت سے استعمال کرتے ہیں ان پر کم از کم پچاس فیصد تک کی خصوصی سیل لگائی ہے جبکہ یہاں بھی ہمارے وہ پاکستانی اور انڈین جن کے یہاں گراسری سٹورز ہیں خصوصاً اقبال فوڈز جیسے مشہور گراسری سٹورز پر پہلے سے لگائی ہوئی قیمتوں میں بیس سے پچاس فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ایک عام صارف کی نظروں میں انڈین پاکستانی مسلمانوں کے گراسری سٹورز سے سودا سلف خریدنا باعثِ ثواب اور حلال سمجھا جاتا ہے۔ شاید مسلمان بھائیوں کی اس کمزوری کو مسلمان تاجران ایموشنل بلیک کرتے ہیں۔ دراصل یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے جو ہمیں شعور کی مکمل آگاہی تک ڈستا رہے گا مگر میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو جنہوں نے آمدرمضان کے موقع پر مسلمانوں کے لیے ایک خصوصاً تہنیتی پیغام نشر کیا جس سے دل باغ باغ ہو گیا مگر بائیس کروڑ پاکستانیوں کے وزیراعظم میاں نوازشریف کو دو منٹ ٹائم نہ ملا کہ رمضان المبارک کی آمد پر بھوکی، ننگی ، بجلی، پانی، گیس کو ترستی ہوئی قوم کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کرتے ۔ بس وزیراعظم ہائوس سے روایتی طور پر رٹا رٹایا پریس ریلیز جاری کرنے پر اکتفا کیا گیا۔ قارئین! وزیراعظم محترم نوازشریف اور ان کا خاندان ،مشیران ،وزراء اور کچن کیبنٹ کے پیارے اس وقت جس کرب سے گزر رہے ہیں میں ایک انسان ہونے کے ناطے اس کو محسوس کر سکتا ہوں۔ پاناما کیس کے فیصلے کے آنے کے بعد جس طرح بدحواسی میں مٹھائیاں بانٹی گئیں اور پوری قوم کو ماموں بنانے کی ایک بھونڈی کوشش کی گئی دراصل اس کا پردہ چاک ہو چکا ہے اور جے آئی ٹی کی سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل کو بس وہ بے بسی سے دیکھتے اور محسوس کرتے رہے۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا کہ جب انسان کے بُرے دن شروع ہوتے ہیں اور وہ آفات کی زد میں ہوتا ہے تو خود اس کا سایہ بھی ساتھ چھوڑتا محسوس ہوتا ہے۔ گذشتہ ہفتے وزیراعظم صاحب سعودی عرب تشریف لے گئے ، انہوں نے اسلامی سمٹ میں شرکت کی اور جہاں دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کی جو آئوبھگت اور پذیرائی ہوئی اس پر مزید کچھ کہنا یا لکھنا زخموں پر نمک پاشی کی مانند ہے۔ شاید سیانے لوگ اسی لیے کہتے ہیں کہ جن کی اپنے گھر کوئی عزت نہیں ہوتی ان کی باہر بھی کوئی عزت نہیں کرتا۔ جھورا جہاز ایک دوسری افواہ کی بھی مجھ سے تصدیق چاہ رہا تھا کہ آج مارکیٹ میں افواہ گرم ہے کہ سابق چیف آف آرمی سٹاف اور اسلامی اتحاد فورس کے بانی سربراہ جنرل راحیل شریف بھی شاہوں کی شاہ نوازی سے خوش نہیں اور اسی لیے وہ یہ ہنڈیا بیچ بازار پھوڑ کر واپس آنا چاہتے ہیں۔ میں نے جھورے جہاز سے کہا کہ ہمیں جذباتی ہونے کی بجائے وقت کا انتظار کرنا چاہیے شاید یہ خبر سچ ہو یا ایک بار پھر راحیل شریف کے دائمی دشمن جو ہر وقت تاک میں لگے ہوئے ہیں ان کی یہ نئی سازش بھی ہو سکتی ہے سابق چیف کو بدنام کرنے کی۔ قارئین! برسوں سے ایک فقرہ سنتے آئے ہیں کہ ’’علی بابا اور چالیس چور‘‘ لیکن یہ محاورہ اس وقت بالکل الٹ ہو گیا جب امریکہ سے آئے ایک چور نے چالیس علی بابائوں کو لوٹ لیاوہ بھی اس طرح کہ بابے لٹنے اور لٹانے کو خود ہی بے قرار تھے۔ سوا چار ارب ڈالرز کے تحفے اس گورے چور کو تھالی میں رکھ کر پیش کر دیئے گئے جبکہ اس چور کو ملنے والے ذاتی تحائف کی مجموعی مالیت بھی تقریباً دو ارب ڈالرز بنتی ہے جبکہ صدر ٹرمپ کی خوبرو بیٹی اوینکا ٹرمپ نے عرب شہزادوں کی بیگمات سے ایک گھنٹہ گپ شپ لگائی اور بتایا کہ وہ ایک فلاحی فائونڈیشن کے لیے فنڈ اکٹھا کر رہی ہیں جس پر پندرہ شاہی بیگمات نے ٹرمپ کی بیٹی کو ایک سو ملین ڈالر (تقریباًدس ارب روپے) کا چیک تھما دیا تاکہ گھر آئی بیٹی خالی ہاتھ واپس نہ جائے اور صدر ٹرمپ کے سعودیہ آنے کے زعم میں سعودی عرب اتنا حواس باختہ ہو چکا تھا کہ ریاض سے جدہ جانے والی مشہور شاہراہ بھی ٹرمپ کے نام سے منسوب کر دی گئی۔ سعودی میزبانوں کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ کسی مقدس شہر کو ٹرمپ کے نام سے ہی منسوب کر دیتے۔ ملکی سیاست میں تلاطم کی ایک نشانی یہ ہے کہ فرزند پاکستان حسین نواز کو جے ٹی آئی میں بحالت مجبوری پیش ہونا پڑااور متعدد رفقاء سمیت خاندان کے دوسرے لوگوں کو بھی باری باری اس پُل صراط سے گزرنا ہوگا۔ قارئین! افطاریوں کا سیزن بھی شروع ہو چکا ہے۔ہزاروں کے جلسوں کے بجائے شادی ہالز اور ہوٹلوں میں عوامی اجتماعات اور سیاسی فطاریاں ہوں گی اور انہی افطاریوں میں آج کل ایک خبر کا چرچا ہے کہ حکومت کو اپنی کشتی ڈوبنے کا یقین ہو چلا ہے اسی لیے بوکھلائے ہوئے حکومتی رفقاء شدومد سے یہ چاہ رہے ہیں کہ اپنی کشتی ڈوبنے سے پہلے عمران خاں اور تحریک انصاف کی نیا بھی ڈبو دیں اور حکومتی وزراء کو یہ مکمل یقین ہے کہ ان کا نامزد کردہ الیکشن کمیشن جو خود بھی غیر فعال اور بے اعتبارہو چکا ہے ،جاتے جاتے عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے مشکلات پیدا کر جائے۔ مگر یار لوگوں کو یہ اندازہ نہیں کہ الیکشن کمیشن کے کسی بھی اقدام اور فیصلے کو ملک کی اعلیٰ عدلیہ یعنی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ جہاں پر ایسا کوئی غیرقانونی اور انتقامی اقدام ایک سماعت کی مار ہے۔ انہیں یہ مکمل یقین ہے کہ نوازشریف صاحب اور ان کے ساتھی نااہل قرار پائیں گے مگر اپنی رخصتی سے پہلے وہ تحریک انصاف اور عمران خان کو بھی سیاسی طور پر زمین بوس کر جائیں گے مگر قارئین آج آصف علی زرداری ایک د فعہ پھر ناکامیوں کے بیگ بھر کر ملک سے کوچ کر چکے ہیں مگر ان کا بیرون ملک قیام اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ عدالتوں میں لڑے جانے والے احتساب سے بچ سکیں گے یقینا وہ کرپشن کنگ ہیں جب کرپشن کی لنکا جب زمین بوس ہو رہی ہو گی تو تب کوئی دس پرسنٹ، پچاس پرسنٹ نہیں بچے گا ۔اسے کہتے ہیں کہ ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔‘‘ 30مئی2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus