×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دروغ گو حافظہ ناباشد
Dated: 10-May-2016
آج کل لیگی اور لیکسی دونوں زیر عتاب ہیں کبھی وقت تھا کہ دوست بڑے شوق سے بتاتے تھے کہ ہمارے دادا ابو تحریک پاکستان کے سرگرم رکن تھے اور میرے ابو پیدائشی لیگی تھے۔ 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام سے لے کر 2016ء تک اردو کے حروف تہجی کے جتنے الفاظ ہیں سب کے نام سے مسلم لیگ بن چکی ہیں مگر پھر بھی لیگی کہلوانا باعث فخر سمجھاجاتا ہے اور یہ واحد ’’برانڈ‘‘ ہے جو کبھی ڈی ویلیونہیں ہوا۔ پھر اچانک کسی دل جلے نے وکی لیکس کرکے معاشی دنیا میں اودھم مچا دیا۔ پچھلے چند برسوں سے وضاحتوں اور پردہ پوشی کا سلسلہ چل رہا تھا۔مگر مولانا فضل الرحمان بھی اس کی زد سے نہ بچ سکے اور پاکستان میں وہ وکی لیکس زخم خوردہ ٹھہرے۔ عوام کو تعجب ہوا کہ بظاہر مولانا جیسا صاحب کردار شخص بھی ہوس اقتدار میں اس حد تک جا سکتا ہے؟ پھر اس کے بعد بے شمار پانی پُلوں کے نیچے سے بہہ گیا۔ میثاق جمہوریت کا ڈھونگ رچایا گیا اور پھر این آر اوز کا ڈرامہ رچا کر این آر او کی واشنگ مشین سے ہزاروں گناہ گار اُجلے بن کر نکلے۔ میاں نوازشریف کی تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کی خواہش پوری ہوئی۔ سابق صدر آصف علی زرداری کو باہمی رضامندی سے قوانین میں ترامیم کرکے صدر بنایا گیا۔ گویا ایک ہاتھ دو دوسرے ہاتھ لو۔ ملکی خزانے کی لوٹ مار اور غریبوں کی ہڈیوں سے ماس اتارنے کا عمل جاری تھا کہ تب حیرت کی انتہا نہ رہی جب وزیراعظم کے صاحبزادے اچانک ایک نجی ٹی وی چینل پر’’فکسڈ‘‘ پروگرام میں آ کر الحمد اللہ اپنی لندن اور بیرون ملک پراپرٹیز کا اعتراف کرنے لگے۔ یہ خاموش طبع ہیں مگر اب کی بار رٹے رٹائے طوطے کی طرح بول رہے تھے۔ قوم کو ایک اور صدمے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا اور چند دنوں بعد سائوتھ ڈوئچے جرمن اخبار نے پانامہ لیکس کرکے عالمی افق پر ہلچل مچا دی۔ سواکروڑ دستاویزات پر مشتمل ایک سکینڈل نے بہت سے عالمی راہنمائوں سمیت وطن عزیز کے حکمران خاندان سمیت بہت سوں کی نیندیں حرام کر دیں۔ کم از کم ڈھائی سو پاکستانی شرفاء اس حمام میں ڈبکیاں کھاتے نظر آئے۔اب دوسری قسط بھی منظر عام پر آگئی جس میں مزید سیکڑوں نام شامل ہیں۔ملکی خزانے اور سرمائے کو جس بے دردی سے لوٹا گیا اور مالِ غنیمت کو جس طریقے سے سمیٹاگیا اس پر حیرت ہوتی ہے کہ چوری دیدہ دلیری سے کی گئی تھی۔ رنجیت سنگھ ایک آنکھ سے کانا تھا اور کسی کی جرأت نہ تھی کہ اس کے سامنے لفظ کانا بول سکے اور ایسا کرنے والے کی گردن زنی کی جاتی تھی۔ اس طرح پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد بادشاہ وقت کے تخت لاہور کے وارثوں کے درباریوں نے بھی ایک طرف تو تجوریوں اور بوریوں کے منہ کھول دیئے اور دوسری طرف میڈیاکے ایک حصے کو خرید لیا او رپانامہ لیکس کو کبھی پاجامہ لیک ،کبھی ہنگامہ لیکس کہا جانے لگا۔ اب تک تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ جیسے پانامہ کا سکینڈل عمران خان اینڈ کمپنی کا تراشیدہ ہے اور اس کیس کے حوالے سے حکمرانوں کا ذکر بھی کرنے والوں کی ٹانگیں توڑنے، گردنیں اڑانے کی دھمکیاں اور میسور کی دال تک شامل کیا جاتا ہے حتی کہ گذشتہ روز وزیراعظم محترم نے پانامہ لیکس اور ملکی معاملات پر بات کرنے والوں کو دہشت گرد ٹولہ قرار دے دیا ہے۔ ہم نے معاشی دہشت گردوں کی اصطلاح تو سنی تھی مگر یہ لیکسی دہشت گردوں کی اصطلاح پہلی دفعہ سن رہے ہیں۔ اس سے صورت احوال بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑ چکی ہے۔ حکمرانوں نے کشیدہ صورت حال میں جلتی پر تیل چھڑک دیا ہے۔ وزیراعظم ملک کے چاروں کونوں میں جلسے منعقد کرنے لگے ہیں۔ موٹرویز ، پلوں، کالجوں، سکولوں، یونیورسٹیاں ریوڑیوں کی طرح بانٹی جانے لگی ہیں۔ وزیراعظم تین سال پارلیمنٹ یا کسی عوامی اجتماع میں نظر نہیں آئے تھے بھلا ہو پانامہ کے جادو کا کہ اس سے عوام کو کھوئے ہوئے وزیراعظم واپس مل گئے۔ مگر قارئین اب دور ہے 2016ء کا یہ آئی ٹی کا زمانہ ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید میڈیا کا زمانہ ہے۔ جس طرح کمان سے نکلا تیر واپس نہیں ہوتا اس طرح بات میڈیا تک پہنچی بات دبائی نہیں جا سکتی۔ پانامہ لیکس کے آفٹرشاکس جاری ہیں ابھی گذشتہ روز یار لوگوں نے دبئی لیکس کے نام سے ڈھائی ہزار مزید ٹیکس چوروں کا انکشاف کرکے سب کو ہکا بکا کر دیا ہے۔ ان شرفاء میں سیاست دان، بیوروکریٹس، ریٹائرڈ عسکری افسران، فنکار، تاجر سبھی شامل ہیں۔ جھورا جہاز بتا رہا تھاکہ وڑائچ صاحب 9مئی کو پانامہ لیکس کی دوسری قسط کے بعد اب بہت بڑا گروپ کینیڈا لیکس لانے کی بھی تیار کر رہا ہے۔ جو لیکس کے سکینڈلز میں سب سے خوفناک ہوگا۔ وکی لیکس، پانامہ لیکس، دوبئی لیکس تو کینیڈا لیکس کے سامنے پرچون کی چوری تصور کیے جائیں گے۔ اب لگتا ہے قدرت کو پاکستانی عوام پر ترس آ گیاہے ابھی تو بے شمار نام نہاد دانشور،ضمیر فروش، قلمکار، اینکرز اور کالمسٹ بھی اس حمام میں غوطہ زن نظر آئیں گے۔ میرا بیٹا جلال ٹی وی پر پانامہ لیکس کے متعلق شو دیکھ رہا تھا مجھ سے مخاطب ہوا۔ پاپا ان سب ٹیکس چوروں کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لا کر ان کو الٹا لٹکانا چاہیے۔ بیٹے کے منہ سے یہ الفاظ سن کر مجھے سکتہ ہوا کہ اگر خدانخواستہ میں زرداری کی ٹیم کا حصہ بن جاتا تو آج میرا نام بھی انہی وطن فروشوں کی لسٹ میں ہوتا تو میں اولاد کی نظروں سے گِر جاتا مگر میرے خدا نے مجھے بچا لیا۔ قارئین حکمرانوں کو بجلی کے وعدوں کے علاوہ چوروں کو الٹا لٹکانے تک کوئی وعدہ بھی یاد نہیں تو مجھے یہ فقرہ یاد آیا’’دروغ گو حافظہ ناباشد‘‘ کہ جھوٹ بولنے والے کا حافظہ بہت کمزور ہوتا ہے۔ گذشتہ روز لندن کے میئر کا انتخاب ہوا پاکستانی نژاد صادق خاں اکثریت سے منتخب ہو گئے۔ کچھ پاکستانی دانشوروں کا خیال ہے کہ پاکستانی کمیونٹی نے جمائمہ خان کے بھائی گولڈ سمتھ کو مسترد کر دیا ہے اور یہ عمران خان کی شکست ہے۔ لندن کے میئر کے انتخاب سے کس کی جیت ہوئی کس کی ہار ا س کا تو مجھے پتہ نہیں مگر انگلینڈ کے شہر رگبی کے سابقہ لارڈ میئر پاکستانی نژاد جیمز شیرا مجھے بتا رہے تھے کہ لندن کی ٹوٹل آبادی کا صرف بمشکل چار فیصد پاکستانی ووٹرز پر مشتمل ہے اور چار فیصد ووٹرز نتائج پر اثرانداز نہیں ہو سکتے۔ قارئین کوئٹہ میں گذشتہ روز خزانے کے رکھوالے سیکرٹری خزانہ کے گھر سے اربوں روپے برآمد ہوئے ہیں اور ایک صوبائی وزیر جعفر مندوخیل کا تبصرہ بہت دل چسپ تھا کہ نیب کو مشتاق رئیسانی کے گھر یوں اچانک نہیں جانا چاہیے تھا پتہ نہیں ان کمنٹس پر ہمیں ہنسنا چاہیے یا رونا؟ 10مئی2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus