×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
موسمی تغیرات کا محتاج ہے؟
Dated: 07-Jun-2016
وطن عزیز اس وقت ایک عجیب سیاسی، معاشی اور اندرونی کشمکش میں مبتلا ہے۔ حکومت نام کی کوئی چیز دور دورتک دکھائی نہیں دیتی اور بظاہر اس کی حالت ایک بنانا ریپبلک کی سی ہو کر رہ گئی ہے ۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اکیسویں صدی کے اس دور میں جہاں ٹیکنالوجی اور انفارمیشن کا بول بالا ہے۔ آج کے معروضی حالات آج سے پچاس سال پہلے سے یکسر مختلف ہیں۔ آج کے اس جدید ترقی یافتہ دور میں پاکستان کی ریاست جس کے تین اطراف دشمن اور دوست نما دشمن موجود ہیں اور جہاں مملکت کو انتہائی زیرک خارجہ پالیسی اور داخلہ ویژن رکھنے کی ضرورت ہے، ان حالات میں پچھلے کچھ ہفتوں سے ہمیں بغیر وزیراعظم، وزیر خارجہ، مستقل وزیر دفاع اورنیم گریجوایٹ وزیر خزانہ کے ساتھ گھسیٹا جا رہا ہے جبکہ ہمارے صدرِ مملکت کی سب سے بہترین کوالیفکیشن یہ ہے کہ موصوف ہمارے موجودہ وزیراعظم کو جب وہ جیل میں تھے، ان کے لیے دہی بھلے اور گول گپوں کا انتظام فرماتے تھے اور ہمارے پیارے عوام جو ایک معجزے کے باعث ایک آزاد اور خودمختار وطن حاصل کرنے میں تو کامیاب ہو گئے، حصولِ مملکت کے بعد اڑسٹھ سال سے من و سلویٰ کے انتظار میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ جھورے جہاز کے مطابق کاہلی اور سستی کا یہ عالم ہے کہ ہم لوگ اپنے ہی چہرے پہ بیٹھی مکھی تک کو نہیں اڑاتے۔ حضرت علامہ اقبال نے ؒ ہمیں خواب دیا، قائداعظم نے ہمیں خواب کی تعبیر دلوائی اور ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو شعور اور نیوکلیئر انرجی کا تحفہ دیا۔ پچھلی سات دہائیوں میں ہم نے پانچ مارشل لازکا سامنا کیا جبکہ ایک بھارتی صحافی کے بقول اندرا گاندھی نے اتنی ساڑھیاں نہیں بدلیں جتنے پاکستان کے حکمران بدلے اور جن مقاصد کے لیے ہم نے دشمن سے آزادی حاصل کی ان میں سے ایک بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا۔ آج بھی ملک میں بڑے زمینداروں، جاگیرداروں، چوہدریوں، ملکوں، ٹوانوں، دولتانوں، مخدوموں، سیدوں، مزاریوں، لاشاریوں، لغاریوں اور بگٹیوں کی حقیقی عملداری ہے۔ دوسری طرف قیامِ پاکستان کے وقت کہا جاتا تھا ، تقسیم کا مطلب بائیس خاندانوں کو پاکستان پر مسلط کرنا مقصود ہے اگر ستر سال میں کچھ بدلا تو وہ یہ کہ وہ بائیس خاندان ہزار خاندانوں میں تبدیل ہو گئے جبکہ آزادی کے وقت متحدہ پاکستان میں صرف پانچ فیصد لوگ خطِ غربت کے نیچے زندگی گزار رہے تھے جبکہ آج ان کی تعداد پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ سب بائیس کروڑ عوام کے سامنے ہو رہا ہے۔ عوامی بجٹ ترتیب دینے والوں اور حکمرانوں کو عوام کی صحیح تعداد کا بھی علم نہیں کیونکہ تقسیم ہند کے وقت متحدہ پاکستان کی آبادی پانچ کروڑ جبکہ اس وقت صرف موجودہ پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہمارے اعددوشمار، ہمارے تجزیئے ، ہمارے منصوبہ جات اور ہمارے مسائل محض بیوروکریسی کے مفروضوں پر مشتمل ہیں۔ عوام کی بے حسی، بے مروتی اور حقائق کو نظرانداز کرنے کا یہ عالم ہے کہ عوام گلیوں اور نالیوں کی مرمت، بجلی، سوئی گیس اور پانی کے وعدوں پر اپنا ووٹ اپنا ضمیر گروی رکھ دیتے ہیں اور کچھ بزنس مینوں نے اپنے بزنس اور ٹریڈنگ کو جمہوریت کا نام دے رکھا ہے۔ جیسے ہی کسی کے اکائونٹ میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے تین سال میں ننھے معصوم بچوں کو سکولوں میں ذبح کیا گیا ، ایک لاکھ شہری اور سات ہزار عسکری جوانوں کو بموں، دھماکوں اور گولیوں کی نذر کر دیا گیا مگر عوام چُپ سادھے بیٹھے رہے۔سانحہ ماڈل ٹائون لاہور اور سانحہ ڈی چوک اسلام آباد ہوا۔ درجنوں افراد کو بھون کر رکھ دیا گیا، سینکڑوں زخمی ہوئے ،عورتوں کے منہ میں گولیاں ماری گئیں، بچوں کے سینوں پر گولیاں چلیں، ہمارا الیکٹرانک میڈیا ان لمحات کی لائیو کوریج کرتا رہا۔ اخبارات کے صفحات خون زدہ سرخ رنگ سے بھرے پڑے تھے۔ عوام گھروں میں بیٹھے تاریخِ پاکستان کے اس عظیم قتلِ عام کو براہِ راست کسی ڈرائونی فلم کی طرح دیکھ رہے تھے۔جس پہ انکوائری کمیشن ترتیب دیئے گئے حکمرانوں نے خود اپنے خلاف آنے والی ان رپورٹس کو منظر عام پر لانے سے انکار کر دیا ، حتیٰ کہ متعلقہ کمیشن کا جج بھی آجکل زیر عتاب ہے۔ وکی لیکس کا سکینڈل آیا کئی چہروں سے نقاب اترے مگر عوام خاموش رہے۔ پھر انسانی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی سکینڈل پانامہ لیکس کے نام سے گذشتہ دنوں منظرعام پر آیا ۔ قومی بینکوں کو لوٹنے والے نو لاکھ چوبیس ہزار قرض خوروں کا تذکرہ ہوا ۔ سوئس بینک سکینڈل اور دوبئی لیکس بھی گردش کرتی رہیں۔ میڈیا نے بھی ایک طوفان برپا کیا مگر وہی عوام جو حکمرانوں کو لٹیرے سمجھ کر ان کے بھاگنے کے راستے بند کر رہے تھے ۔ ایک متنازعہ دل کے آپریشن پر ہاتھ اٹھا کر وزیراعظم کی زندگی کی دعائیں مانگتے نظر آئے۔ عوام کو بے وقوف اور ماموں بنانے کا سیل قائم کر دیا گیا ہے جو آکاشوانی کی طرح پراپیگنڈہ میں مصروف ہے۔ مگر عوام کے ماتھے پر جوں تک نہیں رینگی ۔ کبھی سخت گرمی کا بہانہ، کبھی دسمبر کی سردی کا بہانہ، کبھی بچوں کے امتحانات کا سیزن، کبھی مون سون کی بارشوں کا بہانہ اور انہی بہانوں کی وجہ بنا کر عوام سڑکوں پر آنے سے کتراتے ہیں۔ تاریخ کے طالب علم یہ جانتے ہیں کہ انقلابِ فرانس سخت سردی اور انقلابِ ایران کے نتائج سخت گرمی میں حاصل کیے گئے۔ یورپ کے ہٹلر کے خلاف آخری معرکہ اس وقت جیتا جب سخت ترین سردی کا موسم شروع ہو چکا تھا، زمین اور پانی منجمد ہو چکے تھے۔ اسی طرح امریکہ نے ویت نام کی مشکل ترین جنگ خوفناک جنگلوں میں دلدل اور بارش میں لڑی۔ فلسطینی عوام موسم کی پروا کیے بغیر پچھلے سات سال سے ظالم اسرائیل کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔ اریٹیریا، نائیجیریا اور سائوتھ افریقہ کے حریت پسند سخت موسموں اور نامساعد حالات کے باوجود آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ میرے ملک کے بائیس کروڑ راج دلارے عوام اے سی لگے کمروں میں ٹی وی سکرینوں کے آگے بیٹھے انقلاب کے متمنی ہیں۔ یاد رکھیئے انقلابات موسمی تغیرات کے محتاج نہیں ہوتے۔ آج امریکہ دنیا میں ایک سنگل سپر پاور کی حیثیت رکھتا ہے مگر یہ مقام حاصل کرنے کے لیے اس کے آبائواجداد نے پانیوں، ہوائوں، جنگلوں اور زمینی مصائب کو شکست دی جبکہ ہمارے کشمیری بھائی سخت ترین موسموں اور مشکل ترین حالات میں بھی سنگلاخ پہاڑوں، وادیوں میں آزادی کی یہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔۔۔ ثابت یہ ہوا کہ تحریکیں چلانے کے لیے یا انقلاب لانے کے لیے موسمی تغیرات کوئی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ یہ تحریکیں جذبوں سے چلائی جاتی ہیںاور جب تک پاکستان کے عوام اپنی نسلوں کا مستقبل بچانے کے لیے گھر سے باہر نہیں نکلیں گے ،سڑکوں پر نہیں آئیں گے اس وقت تک انقلاب کا خواب دیکھنا بھی حماقت ہے۔یقین رکھیے انقلاب کبھی آپ کو تھالی میں رکھ کر پیش نہیں کیا جاتا ہے۔ 7جون2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus