×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سالگرہ پرشہید بینظیر کی روح کواپنے قاتلوں کی تلاش
Dated: 21-Jun-2016
آج نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے جس کونے میں بھی جیالے موجود ہیںوہ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی جسے شہزادی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کی ایک مرتبہ پھر دھوم دھام اور جوش و خروش سے سالگرہ منارہے ہیں۔شہید بے نظیر بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر،پاکستان کی تقدیر اورپاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن تھیں۔وہ دوبارمملکت خدادپاکستان کی وزیر اعظم رہیں۔ آج 21 جون کوان کی سالگرہ پر سیمینارز کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جیالے شہید بی بی کی سالگرہ کے موقع پر غریب اور مستحق مریضوں کیلئے اپنے خون کے عطیات دینگے ۔ تمام ضلعی سیکرٹریٹ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کا کیک کاٹنے کے علاوہ افطار ڈنرز دیئے جائینگے ۔ محترمہ کی شخصیت کے شایانِ شان انکی سالگرہ منانے کا یہی طریقہ ہے جو جیالوں نے ہمیشہ اختیار کیا۔بھٹو خاندان کے شہیدوں کی برسی ہویاسالگرہ ہو جیالوں کے جذبات امڈے چلے آتے ہیں۔جیالے یہی کرسکتے ہیں۔آج سالگرہ کے موقع پر بے نظیر کی روح پارٹی کے لیڈروں،جیالوں اور کارکنوں کو دیوانہ وارجھومتے دیکھ کے سوال تو کرتی ہوگی کہ میرے قاتلوں کو اب تک کیوں تلاش نہیں کیا گیا اور ان کو کیوں منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا؟شہید بے نظیر کی روح کو تو شاید اپنے قاتلوں اور قتل کے منصوبہ سازوں کا علم ہواور وہ یہ بھی جانتی ہو کہ ان کے خون کا کس کس نے اور کس قیمت پر سودا کیا۔ شہید بی بی کے ساتھ نصیبوں نے اس وقت کھیلنا شروع کیا جب ان کی والدہ اور خالہ نے مارشل لا ء حکومت کا دبائو کم کرنے کے لیے فوری طور پر شادی کا منصوبہ بنایا اور جس شخص کا انتخاب کیا نواب شاہ کے لوگ اسے سجاول ڈاکو کے نام سے جانتے تھے۔ گذشتہ روز ہوائی سفر کے دوران میرا نواب شاہ کے ایک رہائشی سے مکالمہ ہوا ، اس نے مجھے بتایا کہ آصف علی زرداری کے دادا کا نام (بلاول)عرف ’’بالوکچر‘‘تھا جسے سندھی زبان میں صفائی نہ کرنے والا کہا جاتا ہے۔ آصف علی زرداری کا باپ حاکم علی زرداری نواب شاہ کی یونین کونسل بوچھیڑی کا منشی تھا اور اس وقت یونین کونسل کا چیئرمین اسد اللہ شاہ تھا۔بعدمیں یہی اسد اللہ ایم پی اے بن کر کراچی منتقل ہو گیا تو اس نے اپنے ساتھ اپنے منشی حاکم علی زرداری کو بھی لے لیا۔ جہاں حاکم علی زرداری کی ملاقات بمبینو سینما کی مالکن جو کہ ایک بیوہ تھی سے ہوئی اور پھر دونوں نے شادی کر لی۔ اس طرح نوجوان آصف علی اور حاکم علی زرداری اسی سینما کی ٹکٹیں بلیک کرتے دیکھے گئے۔ پیسہ آ جانے کے بعد حاکم علی زرداری نے بیٹے کو پٹارو کالج میں پڑھنے کے لیے بھیج دیا جہاں وہ متعدد بار فیل ہونے کے باوجود گریجوایشن نہ کر سکا اور اسی دوران اس نے این ایم سی (نواب شاہ میڈیکل کالج )میں پڑھنے والی اپنی چچازاد کزن کو غیرت کے نام پر قتل کروا دیا۔ 1980ء کے اوائل میںاسے ایک واردات کے دوران پائوں پہ گولی لگی جس کی وجہ سے وہ کافی دیر لنگڑاتا بھی رہا اور پھر ملک سے باہر چلا گیااور پھر 1987ء میں اچانک اس وقت نمودار ہوا جب اس کی شادی بینظیر بھٹو سے طے پا گئی تھی۔ قارئین آگے کے حالات آپ بخوبی سمجھتے ہیں۔ میرے لئے حیران کن بلاول بھٹو کی مشرف کے پاکستان سے چلے جانے کے بعدکی ایک جلسہ عام کی وہ تقریر ہے جس میں وہ پوری قوت گویائی مجتمع کرکے کہہ رہے تھے کہ ۔’’عوام پوچھتے ہیں 2 بار ملک کا آئین توڑنے والا اور شہید بے نظیر کا قاتل ملک سے باہر کیسے گیا؟۔میری ماں اور سابق وزیراعظم کو عوام کے سامنے کیوں مارا گیا۔ میاں صاحب !فوج کے غدار کو کیسے باہر بھیج دیا گیا‘‘۔یہ وہی’’ غدار‘‘ ہے جس سے این آر او کرکے بلاول کے والد محترم نے اقتدار حاصل کیا ۔انہوں نے ہی ان کو ایوان صدر سے گارڈ آف آنر دے کر’’ غداراور قاتل‘‘ رخصت کیا اور پاکستان سے چلے جانے کی اجازت بھی دیدی۔پیپلز پارٹی پانچ سال نہیں ساڑھے پانچ سال اقتدار میں رہی،زرداری صاحب پارٹی حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد بھی چھ ماہ تک صدر رہے۔اس دوران بے نظیر بھٹو کے قتل کی سکاٹ لینڈ یارڈ اور اقوم متحدہ کی ٹیم نے بھی تحقیقات کی۔ان دونوں کا دائرہ کار محدود کردیا گیاتھا۔یہ ٹیمیں قتل کی سازش کا کھوج لگا سکیں نہ قاتلوں کی نشاندہی کرسکیں۔شاید اس سے محترمہ کے وارثوں کو کوئی دلچسپی بھی نہیں تھی۔اُن دنوںآصف علی زرداری نے قاتلوں کو یہ کہہ کر گولڈن ہینڈ شیک دیدیا کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔بلاول مشرف کو اپنی والدہ کا قاتل کہہ رہے جبکہ زرداری صاحب نے بیت اللہ محسود کو شہید بی بی کا قاتل قرار دیا تھا۔محترمہ نے جن لوگوں کو اپنے قتل کی صورت میں ملزم ٹھہرایا تھا ان میں چودھری پرویز الہٰی کا نام بھی شامل تھاجن کو پی پی پی کی حکومت کے دوران ڈپٹی پرائم منسٹر بنا کر شہید بی بی کے قتل کیس پر مٹی ڈال کر اسے خاک میں ملا دیا گیا۔مشرف کی اصل دشمن بے نظیر نہیں میاں نواز شریف تھے جن کی کینہ پروری مشہورہے۔وہ بھی انتخابی مہم چلا رہے تھے۔مشرف نے کچھ کرنا ہوتا تو پہلا ٹارگٹ میاں نواز شریف ہوتے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو تیسری بار پاکستان کی وزیراعظم بننے جا رہی تھیں جس کے واضح امکانات نظر آ رہے تھے۔ وہ اقتدار میں آتیں تو ان کے مقاصد کیا ہوتے ، وہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کے لیے کیاکرتیں ان کی پلاننگ سے میں پوری طرح آگاہ تھا۔ کیونکہ میں نے ان کے ساتھ بیرونِ ممالک ان کے ساتھ سفر کیا۔ اقوام متحدہ، وائٹ ہائوس اور پینٹاگان کے دوروں کے دوران میں ان کے ساتھ تھا بلکہ متعدد دورے میں نے ارینج کرائے تھے۔ احتجاجی مہم کے دوران میں ان کے ساتھ ہوتا۔ پارٹی لیڈروں کے اجلاس میں بھی شریک رہتا تھا۔ وہ خارجہ معاملات، اندرونی مسائل کے حوالے سے ایک کرسٹل کلیئر وژن رکھتی تھیں جس پراقتدار میں آ کر وہ عمل پیرا ہونے کا عزم کیے ہوئے تھیں۔ یہ ایک الگ موضوع ہے۔ حقیقت یہ ہے ان کی شہادت پر ہمدردی کا ووٹ بھی پیپلزپارٹی کو ملا اور اس میں بھی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کی پنجاب میں اقتدار حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی تھی کیونکہ میاں نوازشریف الیکشنوں میں خود حصہ نہیں لے رہے تھے۔ محترمہ کی شہادت کے بعد وصیت ِنوٹنکی کے بل بوتے پر آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی پارٹی کی وراثت اپنے اور اپنے بیٹے کے نام کر لی۔ زرداری صاحب کی ٹیم کے مقاصد اقتدار میں آتے ہی نمایاں ہونے لگے تھے۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہوتا زمانے نے دیکھا، توقیر صادق اربوں اڑا لے گیا۔ ڈاکٹر عاصم نے کھربوں روپے خوردبرد کر لیے۔حامد سعید کاظمی وزیر حج ان دنوں جیل گئے اب ان کو ان کے ساتھیوں کو کروڑوں کا جرمانہ کیا اور مجموعی طور پر 70سال قید سنائی گئی۔ وزرائے اعظم اپنے صدر کی کرپشن کا تحفظ کرتے ہوئے وزیراعظم ہائوس سے نکل کر مزار کی مجاوری کرنے لگے۔ ان کے متبادل ایسا شخص سامنے آیا جس پر بھی اربوں کی کرپشن کے الزامات ہی نہیں مقدمات بھی تھے۔ ان لوگوں نے جہاں لوٹ مار سے ملک کی جڑیں کھوکھلیں کیں وہیں پارٹی کی ساکھ کو بھی مجروح کر دیا۔ 2013ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کا مردہ بے کفن پڑا تھا۔ بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو وہ اقتدار میں آ کر اپنی پلاننگ پر عمل کرکے ملک کا نقشہ بدل دیتیں۔ اچھی شہرت کے حامل افراد اور ہر شعبے کے ماہرین کی پارٹی میں کمی نہیں ہے۔ وہ ان کو ساتھ لے کر قوم کی تقدیر بدل کر رکھ دینے کا عزم کیے ہوئے تھیں۔ بعید نہیں وہ پاکستان کو خارجہ اور داخلہ محاذ میں اتنا آگے لے جاتیں کہ آج بھی پیپلزپارٹی کی حکومت ہوتی مگر اب اگلی کئی دہائیوں تک پیپلزپارٹی زرداری گروپ کا اقتدار میں آنے کا امکان نہیں ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت ہم لوگوں کے لیے ناقابل برداشت صدمہ تھا اس جیسا ہی صدمہ پارٹی کی تباہ ہوتی ساکھ کو دیکھ کر ہو رہا ہے۔ 21جون2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus