×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عید پر سیاسی چُٹکیاں
Dated: 05-Jul-2016
جس ملک میں سٹیل مل ریفرنس کیس میں شرمیلا فاروقی اور اس کے خاندان کے افراد نیب سے پلی بارگیننگ کرکے 21سال کی نااہلی اور سزا قبول کر لیں اور پھر بھی پچھلے چھ سال سے محترمہ صوبائی اسمبلی کی رکن ،صوبائی وزیر اور مشیر رہ رہی ہوں اس ملک میں قانون کو شرمیلی شرم آنی چاہیے۔ایک شرمیلا پہ ہی کیا موقوف پچھلی ایک دہائی سے پاکستان کا پورا پارلیمانی نظام ہی بوگس اور جعلی ہے ، فرق صرف یہ ہے کہ جس طرح میڈان چائنہ چیزیں ایک نمبر ، دو نمبر اور تین نمبر ہوتی ہیں اسی طرح ہمارا پارلیمانی نظام بھی دو نمبرہے۔ کسی بھی معاشرے کے لیے یہ مقامِ عبرت ہے کہ ایک ہی وقت میں اس ملک کی تین بڑی سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کرپشن اور غداری کے الزامات کے تحت خودساختہ جلاوطنی گزارنے پر مجبور ہوں ۔ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو سے شادی کے بعد سے لے کر آصف علی زرداری کی صدارت کی مدت پوری ہونے تک ،بمبینو سینما کی ٹکٹوں سے لے کر ساٹھ ارب ڈالرز کے اثاثے بنانے والے سابق صدر ِ مملکت کو پاکستان واپس آنے میں دشواری ہے۔ موصوف مختلف حیلوں ،بہانوں اور اپنے وسائل کو استعمال کرکے ان دنوں فوج کی خوشنودی کے لیے کوشاں ہیں اور امریکی سینیٹر جان مکین سے ملاقات اور اس کو میڈیا پر کوریج دلوانا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جبکہ پارلیمان کی تیسری بڑی جماعت ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین بھی پاکستان اور فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کی جسارت تو کر چکے مگر اب کمبل انہیں چھوڑنے کو تیار نہیں اور موصوف پچھلے بائیس سالوں سے خودساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔اس طرح موجودہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف جن کے پاس تیسری دفعہ دو تہائی اکثریت والی حکومت ہے ،اس بار بھی اپنی اکثریت کے بوجھ تلے دب چکے ہیں ۔پانامہ لیکس کی بین الاقوامی رسوائی کے بعد مختلف حیلوں، بہانوں اور متعدد دفعہ قوم سے خطاب اور پارلیمنٹ کے مقدس فلور کو اپنے ’’عظیم‘‘ مقاصد کے لیے استعمال کر چکے ہیں، جب کچھ نہ بنا تو بیماریٔ دل کو کرملک سے نو دوگیارہ ہوگئے۔اور اب شنید یہ ہے کہ سپہ سالار پاکستان سے ڈیل کرنے کے چکر میں ہیں اور پاکستان صرف اس شرط پر واپس آنا چاہتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے 14شہدا کے قتل کی ایف آئی آر سے ان کا نام نکلوا دیا جائے جبکہ سپہ سالارِ پاکستان اس مسئلہ پر کوئی وعدہ کرنے کی پوزیشن میں اس لیے نہیں کہ یہ ایف آئی آر ان کی اپنی ثالثی میں درج ہوئی بلکہ متعدد دفعہ اس میں ترامیم بھی سپہِ سالاراعلیٰ کے ایما پر کی گئی۔ قارئین کچھ عرصہ قبل پہلی دفعہ راقم نے ہی ’’نوائے وقت‘‘ کے صفحات پر اپنے کالم میں محمود اچکزئی کے خاندان کا پورا شجرہ شائع کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا اچکزئی سمیت خاندان کے 19افراد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران، وزیر ،مشیر اور کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں۔ پاکستان کی معیشت پر بوجھ یہ خانوادہ نمک تو پاکستان کا کھاتا ہے مگر پائوں میں پاکستان کے دشمنوں کے بیٹھتاہے۔ اب وقت آ گیا ہے ایسے قومی ناسوروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ جب ایم کیو ایم کے قائد کوئی اس سے ملتی جلتی بات کریں تو ان کا جیتے جی ناطقہ بند کر دیا جاتا ہے ان کی تقریر اور بیان بھی شائع کرنا ممنوع قرار دیا جاتا ہے مگر پاکستان کی سالمیت پر اچکزئی جیسے غدار طالع آزمائی کرتے ہیں مگر اس کا ایکشن نہیں ہوگا کہ موصوف حکمران پارٹی کے اتحادی ہیں۔محمود اچکزئی قلعہ عبداللہ بلوچستان سے چند ہزار ووٹوںسے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوتے ہیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ خود پختون نژاد بلوچی ہو کر وہ پاکستان کے پختونوں کی آواز بن سکتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے ۔ پختون عوام کو اب زیادہ عرصہ بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا ،یہی وجہ ہے گذشتہ الیکشن میں خیبرپختونخواہ کی غیور عوام نے مولانا فضل الرحمن کی منافقت زدہ سیاست کو وائٹ واش کر دیا اور اسی طرح پاکستان کے ساتھ منافقت رکھنے میں ماہر اے این پی کو ملکی سیاست سے مکمل چھٹی ہو گئی۔لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ یہ ایسا چسکا ہے کہ جس کو پڑ جائے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ اگر اچکزئی صاحب کی بات مان لی جائے تو کل کو مشرقی پنجاب یہی ڈیمانڈ کرے گا۔ ایران کا صوبہ بلوچستان بھی پاکستانی صوبہ بلوچستان پر حق جتائے گا۔ سندھی بھارت میں بھی ہیں وہ بھی سندھ پر حق جتائیں گے۔ اسی طرح شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے عوام بھی ایک دوسرے کے ملک کی ڈیمانڈ کریں گے اور دنیا بھر کے بے شمار ملک جغرافیائی بنیادوں پر منقسم ہوئے مگر اس بچگانہ خواہشوں کا کیا جائے۔ اگر افغانوں کو رکھنا اتنا ہی ضروری ہے تو افغانستان کے پختون خود کو پاکستان میں ضم کر لیں کیونکہ پورے افغانستان پر اقتدار تو ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ افغان خود تین بڑے گروپس میں تقسیم ہیں۔ پختون ،ازبک اور پریشین۔ افغانستان میں اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا جب تک ازبکستان ،ایران اور پاکستان افغان قیادت کے ساتھ ایک میز پر نہ بیٹھیں۔ اس وقت پاکستان میں غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق 50لاکھ افغان رفیوجی موجود ہیں جو بوقت ہجرت اپنے ٹرک ٹرالے اور بھیڑ بکریاں بھی ساتھ لے آئے تھے جبکہ یہ مہاجرین اپنے انصار بھائیوں کے لیے بطور ہدیہ کلاشنکوف ،ہیروئن اور دیگر منشیات سمیت اخلاقی جرائم کے نت نئے طریقے اور تجربات بھی ساتھ لائے تھے۔آج پاکستان کی سالمیت بھائی چارے کا بھرم رکھتے ہوئے افغانوں کا ساتھ دینے کی وجہ سے دائو پر لگی ہے ۔ انفراسٹکچر تباہ ہو چکا ہے، ایک لاکھ سے زائد سویلین اور دس ہزار عسکری جوان شہادت پا چکے ہیں۔ہم افغانستان کے لیے اور کیا کریں؟ جبکہ ہمارے مدمقابل ایران نے جب مہاجرین آنا شروع ہوئے تو ان کو باڑ لگا کر ایک میلوں لمبے کیمپ میں محصور کر دیا۔ جہاں وہ صرف خصوصی اجازت نامے کے بعد باہر نکل سکتے ہیں۔ یہی حال بنگلہ دیش نے علیحدگی کے بعد اپنے ہاں صدیوں سے آباد بہاری شہریوں کے ساتھ کیا اور آج بھی لاکھوں بہاری بنگلہ دیشی کیمپوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں افغان منشیات کے سوداگروں نے ہماری معیشت کو غیر مستحکم کر دیا ہے اور ہرشہر میں کوٹھیاں، بنگلے ،پلاٹ اور پلازے تعمیر کر رکھے ہیں، جن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ہماری لوکل ٹرانسپورٹ، سروس کارگو کمپنیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ایک سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں دس لاکھ افغانی نجی اور سرکاری عہدوں پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں جبکہ ان مہاجرین کی وجہ سے پاکستان میں مقامی لوگوں کے لیے جاب تلاش کرنا مشکل ہوا اور لاکھوں پاکستانی ہنرمند وسیلۂ روزگار کے لیے عرب امارات، سعودیہ، یورپ ،کینیڈ ااور امریکہ نقل مکانی پرمجبور ہوئے ۔مجھ سمیت بائیس کروڑ پاکستانیوں کی حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ موصوف محمود اچکزئی اور ان کے خاندان کو افغان مہاجرین کے ساتھ افغانستان بھیج دیا جائے جہاں وہ ایک گریٹر افغانستان کے لیے ازبکوں اور ایرانیوں سے دست و پنجہ آزمائیں۔ میری قارئین ’’نوائے وقت ‘‘ اور اہل پاکستان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے گھٹی میٹھی عید مبارک ۔ 5جولائی2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus