×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ایدھی ایک شاہی فقیر
Dated: 12-Jul-2016
بھکاریوں کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک جو سڑکوں پر مانگتے ہیں ،گلیوں اور گھروں میں جا کر مانگتے ہیں ،ایک وہ ہوتے ہیں جو صرف اپنے رب سے مانگتے ہیں اور انسانوں کی ایک اور قسم بھی ہوتی ہے جو آئی ایم ایف سے قرضہ مانگ کر قوم کو قرضوں کی دلدل میں پھنسا دیتی ہے اور پھر ایک دن اس قوم کا ہر پیدا ہونے والا بچہ ایک لاکھ پینتیس ہزار روپے کا مقروض بن کر پیدا ہوتا ہے۔ عبدالستار ایدھی بھی ایک فقیر تھا جو موسمیاتی سختیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ،اپنی عمر اور صحت کا لحاظ نہ رکھتے ہوئے ہر وقت اپنے رب سے پاکستان کے غریب انسانوں کے لیے مانگتا رہتا۔یقینا وہ شاہی فقیر تھا۔ معمولی تعلیم کے حامل عبدالستار ایدھی نے انسانیت کی خدمت کوشعار بنایا توعظمت کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہوئے۔ایسے مرتبے پر جس پر فائز ہونے کے بارے انسان سوچ ہی سکتا ہے مگر ایدھی صاحب نے کبھی ایسی خواہش نہیں کی تھی۔انہیں انسانیت کے کاموں سے ہی فرصت نہیں تھی۔ عبدا لستارایدھی گیارہ برس کے تھے تو ان کی وا لدہ فا لج کا شکار ہو گئیں اور اس کے بعد وہ 9 سال زند ہ ر ہنے کے بعد خا لق حقیقی سے جا ملیں، عبدالستار ایدھی نے وا لدہ کی بیما ری میں ان کی بہتر ین خدمت کی۔وا لدہ کی بیما ری کے دوران ہی انہوں نے بزرگ افراد کی دیکھ بھا ل کے لیئے ایک ادارہ قا ئم کر نے کا فیصلہ کیااور کچھ عرصہ بعد انہوں نے کمیو نٹی کی مدد سے اید ھی ٹر سٹ کے نام سے ایک ر فاہی ادار ہ قائم کیا۔ آج ایدھی فائونڈیشن کے تحت 600 سے زائد ایدھی ایمبولینسز کام کر رہی ہیں، ایدھی فائونڈیشن نے کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، یتیم خانے، معذوروں کیلئے گھر، بلڈ بنک، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور سکول قائم کئے۔ اس کے علاوہ غریبوں کو کھانا فراہم کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا تھا جس کے تحت ایدھی مراکز پر ہزاروں کی تعداد میں غریبوں اور مزدوروں کو دو وقت کی روٹی دی جاتی ہے۔ وہ 6 دہائیوں سے ایدھی فائونڈیشن چلا رہے تھے۔ انہوں نے اس کام کیلئے کبھی فائونڈیشن سے تنخواہ نہیں لی۔ عبدالستار ایدھی کو 2010ء میں یونیورسٹی آف بیڈفائرشائر کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی۔ان کی فائونڈیشن کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہے۔ عبدالستار ایدھی نے سیاست میں بھی قسمت آزمائی کی جہاں انہیں کبھی کامیابی ملی تو کبھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایوب دور میں بنیادی جمہوریت کے انتخابات میں بلامقابلہ کامیاب ہوئے،1964میں انہوں نے ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔1970 کے انتخابات میں آزادامیدوارکی حیثیت سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر ہارگئے۔1982 میں جنرل ضیا الحق نے انہیں مجلس شوری کاممبربنایا مگر سادہ طبیعت کی وجہ سے انہیں یہ سب پسندنہ آیا اور وہ مجلس شوریٰ کے بہت کم اجلاسوں میں شریک ہوئے اورپھرسیاست کوہمیشہ کے لئے خیربادکہہ دیا۔ وہ 2013ء سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔ انہیں بیرونِ ملک علاج کی پیشکشیں ہوئیں مگر انہوں نے ملک سے باہر علاج کرانے سے انکار کردیا۔ اید ھی ٹر سٹ نے افریقہ ، مشرق وسطی، کا کسس، مشرقی یورپ اور امر یکہ میں بھی مشکل کی گھڑی میں مو جود لو گوں کو خد مات فرا ہم کیں۔انہیں حکو مت پا کستان کی جا نب سے انسا نیت کی خد مات کے صلے میں نشا ن امتیاز سمیت متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا ، پا ک فو ج کی جا نب سے شیلڈ آ ف آ نر عطا ء کی گئی جبکہ عالمی سطح پر بھی لینن پیس پرا ئز کے علا وہ متعدد نا مور ایوارڈز حا صل کئے۔ عبدالستار ایدھی کی انسانیت کے لئے بے بہا اور لازوال قربانیوں کی بدولت ہی دنیا ان کے شایان شان انکو لقب دے رہی ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے لکھا عبدالستار ایدھی پاکستانی غریبوں اور ضرورت مندوں کے ہیرو تھے۔ الجزیرہ نے انہیں پاکستان کی مدر ٹریسا لکھا۔ دی گارڈین نے انہیں اینجل آف مرسی کہہ کر خراج عقیدت پیش کیا۔ دی ٹیلی گراف نے لکھا پاکستانی انسان اور انسانیت دوست کہا ہے۔ میل آن لائن نے انہیں لیجنڈری پاکستانی سوشل ورکر کہا۔ نیویارک ٹائمز نے عبدالستار ایدھی کو پاکستانی فادر ٹریسا کا لقب دے دیا۔ امریکی میڈیا نے انہیں خدائی خدمت گار قرار دیا ہے۔ ایدھی صاحب نے اپنے کئی اعضا عطیہ کرنے کی وصیت کی تھی۔وصیت کے مطابق ان کی آنکھیں گزشتہ روز 2 افراد کو لگا دی گئیں۔عبدالستار ایدھی ہم میں نہیں رہے مگر ان کی آنکھیں دنیا کو دیکھ رہی ہیں۔ان کی تدفین کے مناظر کو کروڑوں افراد نے اشک بار آنکھوں سے براہِ راست دیکھا اور لاکھوں افراد موسم کی بے رحمانہ شدت کے باوجود جنازے میں موجود تھے۔فوجی قیادت کا جنازے میں شریک ہونا ایک بہت بڑے اعزاز کی بات جو خال ہی کسی سویلین کا مقدر ہوتاہے۔ جس دن ایدھی کو دفنایا گیا عین اس روز ہمارے وزیر اعظم لندن اپنے علاج کی نوٹنکی کے بعد واپس پاکستان لوٹے۔پاکستان میں لوگ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم دورے پر پاکستان آئے ہیں۔ایک طرف وہ ایدھی جو پیسہ پیسہ اکٹھا کرکے انسانیت کی خدمت کرتے تھے اور اس میں سے اپنی ذات پر خرچ کرنے کو حرام سمجھتے تھے دوسری طرف لندن وزیر اعظم ایک شاہ اور شہزادے کی طرح پاکستان میں وارد ہوئے۔ لندن ان کو ہنگامی طور پر پاکستان نہیں آناتھا،وہ روٹین میں سیٹیں بُک کرا کے آسکتے تھے مگر انہوں نے لندن میں خصوصی طیارہ منگوایا۔ وزیراعظم کی علالت کے باعث وزیراعظم ہائوس کا کیمپ آفس عارضی طور پر لندن منتقل کیا گیا تھا۔کیمپ آفس کو وہاں اور پھر واپس پاکستان منتقل کرنے میں کتنے اخراجات آئے ہونگے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کو وطن لانے کے لئے پی آئی اے کا بوئنگ 777 استعمال کیاگیا۔ پی آئی اے کے حاشیہ بردار اور کاسہ ترجمان جواز پیش کرتے ہیںکہ وزیراعظم چونکہ لندن میں اپنے عملے کے ساتھ امور حکومت دیکھ رہے تھے جس کے لئے کیمپ آفس لندن میں قائم کیا گیا تھا جس کے لئے دستاویزات اور عملہ لندن میں موجود تھا۔ چونکہ پی آئی اے کی معمول کی پروازوں میں اتنے سامان اور مسافروں کو لانے کی گنجائش نہیں تھی اس لئے پی آئی اے نے اس مقصد کے لئے خصوصی طیارہ لندن بھیجا۔لندن سے صرف پی آئی اے ہی اپریٹ نہیں کرتی اوربھی کئی ایئر لائنز ہیں۔پوری سرکس کاایک ہی جہاز اور پرواز میں سفر کرناآئین میں نہیں لکھاتھا۔ اس موقع پر من پسند صحافیوں کو ایئر پورٹ پر بلایا گیا تھا۔ وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عبدالستار ایدھی کی ملک کے لئے لازوال خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ہم بھی خدمت کی نئی تاریخ رقم کریں گے۔وہ پاکستان نہ آتے تو پاکستان کی زیادہ خدمت ہوتی۔ان کے بغیر ملک زیادہ بہتر طریقے سے چل رہا تھا۔ان کی آمدپرلاہور ائرپورٹ کے اطراف دوہزار پولیس اہلکار تعینات تھے جبکہ انہوں نے ان سڑکوں سے گزرنا ہی نہیں تھا جہاں دن بھر اہلکار گرمی اورحبس میں کھڑے رہے۔انہیں خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے رائے ونڈ روڈ جاتی عمرہ پہنچا یا گیا۔وزیر اعظم کی آمد پر ایئرپورٹ سے جاتی عمرہ تک روٹ لگایا گیاتھا۔سیکورٹی اہلکاروں نے اردگرد کے علاقے میں سرچ اپریشن کیا۔شہر کے داخلی راستوں پر سخت چیکنگ سے عام شہریوں کو عذاب میں ڈالا گیا۔پانامہ لیکس کا حساب دینے سے راہ فرار اختیار کرنے والے قوم کے وسائل پر ہاتھ صاف کرنے سے باز نہیں آرہے۔ایدھی صاحب انسانوں اور انسانیت کے لئے رحمت کا فرشتہ تھے ،قوم کے وسائل لوٹنے والوں کو دوزخ کا داروغہ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔وہ شاہی فقیر تھے جو امیروں سے لے کر غریبوں میں بانٹتے تھے ۔ 12جولائی 2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus