×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وہ تُرک جمہوریت واہ،یہ تَرکِ جمہوریت ٹھاہ
Dated: 19-Jul-2016
سیانے کہتے ہیں کہ ہمسائے کا منہ لال ہو تو اپنا چہرہ تھپڑ مار کر سرخ نہیں کر لینا چاہیے۔ ترکی میں فوج کے ایک گروہ نے طیب اردگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی ۔ اس سازش میں مسلح افواج کے چیف شامل نہیں تھے مگر ہزاروں فوجی اس کا حصہ ضرور تھے۔فوج کے بڑے حصے نے اس بغاوت کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیامگر عوام جس طرح جمہوری حکومت کی حمایت میں جوش اورولولے سے اپنے گھروں سے نکلے اس کی مثال جمہوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ترک صدر طیب اردگان اور وزیراعظم بن علی کی رات گئے اپیل پر استنبول اور انقرا میں لوگ فوجی ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے۔آج سے دس سال قبل ترکی میں فوج کی مقبولیت 98فیصد تھی اب اندازہ کرلیں کہ عوام کے جمہوریت کی حفاظت کے لئے دیوانہ وار سڑکوں پر آنے سے کتنی رہ گئی ہوگی۔سڑکوں پر دندناتے ٹینکوں کو دیکھ کر کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ بغاوت فوج نے بطور ادارہ کی ہے یا یہ ایک ٹولے کی مہم جوئی ہے۔وہ اسے فوج کی طالع آزمائی سمجھ کر ٹینکوں اور توپوں کے سامنے سینہ سپر ہوگئے اور ٹینکوں کو پسپا کرکے دم لیا۔عوام نے یہ سارا کچھ جمہوریت کا وہ روپ دیکھ کر کیا جو طیب اردگان چودہ سال سے عوام کو دکھارہے تھے۔ طیب اردگان دومرتبہ ترکی کے وزیر اعظم بنے اور اب وہ صدر ہیں۔رجب طیب اردگان نے اقتدارسنبھالا تو معیشت ڈوبی ہوئی تھی۔لیرا ٹکے ٹوکری تھا،بے روزگاری انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔انحطاط کی پستی میں گری معیشت کے باعث ترکی کو ’’مرد بیمار‘‘ کہا جاتا تھا۔ طیب اردگان نے ترکی کی معیشت کو بلندوں کی معراج پر پہنچا دیا۔برآمدات میں زبردست اضافہ ہوا۔آج ترکی کی ایکسپورٹ186.6 بلین ڈالر سے زائد ہے۔ GDP کے لحاظ سے ترکی 15واں بڑا ملک ہے۔ترکی نے چند سال میں عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کے چنگل سے نجات حاصل کرکے عملاًکشکول توڑ دیا۔ تعلیمی نظام کو قومی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ملکوں کے ہم پلہ بنایا، ترکی میں آج شرح خواندگی90 فیصدسے تجاوز کرچکی ہے ۔بین الاقوامی معاملات میں جرأت مندانہ فیصلوں سے ترکی کو ایک خوددار ،باوقاراور خودمختار ملک کا مقام دلایا۔مسلم ممالک میں ایران اور ترکی ہی دوممالک ہیںجو اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔یہ تو کہنے کی حد تک ہے کہ ترک فوج کے ایک ناتجربہ کار اور جذباتی گروپ نے مہم جوئی کی مگر گروپ کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔اس امکان کو تقویت امریکی وزیر خاجہ جان کیری کے تردیدی بیان سے بھی ملتی ہے۔ یہ بیان کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے۔کیونکہ راقم ان معاملات کی مکمل خبر رکھتے ہیں اور اصل حقیقت یہ ہے کہ گولن نامی ایک مذہبی روحانی پیشوا نے دنیا بھر میں اپنا تعلیمی اور روحانی نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے اور فوج میں موجود کچھ لوگ بھی اس کی تعلیمات سے متاثر تھے ۔آج ناکام ترکی بغاوت پہ بغلیں بجانے والے یہ تو سوچیں کہ یہ ترک فوج کی طرف سے مارشل لاء لگانے کی کوشش نہیں تھی یہ تو گولن کی تحریک کے پیشرو تھے جنہوں نے فوج کے اندر ایک گروپ بنا کر فوج سے بھی بغاوت کی۔ ترک عوام نے ثابت کردیا کہ جمہوریت ان کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے تووہ جان پر کھیل کر بھی اس کی حفاظت کرتے ہیں۔خواہ جمہوریت کے خلاف سازش کے پسِ پردہ امریکہ ہی کا ہاتھ کیوں نہ ہو۔ ترکی میں عوام کی طرف سے ناکام بنائی جانے والی بغاوت پر ہمارے وزیراعظم میاں نوازشریف نے ترک عوام کو سلام پیش کیا ہے جبکہ حکومتی ترجمان پرویز رشید نے حسب معمول اور اپنی خصلت کے مطابق کفن پھاڑ کر بولتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں مارشل لاء چاہنے والوں کے لیے ترک عوام کا جمہوری حکومت کے حق میں اٹھ کھڑے ہونا ایک پیغام ہے۔ ان کے بقول بعض سیاستدان اور میڈیا عناصر فوج کو بغاوت پر اکساتے ہیں۔ جمہوری حکومت نے عوام کو مطمئن کرنا ہوتا ہے۔ ان کے مسائل حل کرنا ہوتے ہیں۔ ریاست کو جمہوری انداز میں چلانا ملکی وقار اور خودمختاری کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف آمریت کی سازش ناکام بنانے پر ترک عوام کو سلام پیش کر رہے ہیں۔ کیا انہوںنے بھی ایسا کچھ کیا ہے جس پر عوام ان پر فدا ہونے کے لیے ترک عوام کی طرح پاک فوج کی جانب سے ایسی کسی مہم جوئی پر سڑکوں پر آجائیں؟ معیشت ڈوب چکی ہے، عوام مہنگائی کی چکی میں پس کر کہیں اجتماعی اور کہیں انفرادی خودکشیاں کر رہے ہیں۔ وزیرخزانہ اسحق ڈار جو شریف فیملی کے لیے منی لانڈرنگ کا عتراف کر چکے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر 22ارب تک پہنچانے پر اترارہے ہیں۔ یہ نہیں بتاتے کہ انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں سے اس سے کتنے زیادہ قرضے لیے اور کن ناروا شرائط پر لیے۔ کشکول توڑنے کے بجائے اس کے سائز میں اضافہ کر لیا۔ صحت اور تعلیم کی سہولتیں ناپید ہیں۔ پیپلزپارٹی کے دور کو کرپشن کے عروج کا دور کہا جاتا ہے۔ ن لیگی زعما کے ایسے ایسے کرپشن سکینڈل سامنے آئے ہیں کہ اب عوام کے لیے دونوں پارٹیوں کی لیڈرشپ میں موازنہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ کس پارٹی کی لیڈرشپ زیادہ کرپٹ ہے۔ بجلی و گیس کا بحران یوں کا توں ہے۔جس میں آدھی سے زیادہ آبادی معیاری خوراک اور پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ یہاں کھربوں روپے چند ہزار لوگوں کے آرام دہ اور سستے سفر پر اجاڑے جا رہے ہیں۔ پانامہ لیکس کی تحقیقات کی راہ میں روڑے محض ایک شخص کو بچانے کے لیے اٹکائے جا رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت وزیراعظم کی اربوں ڈالروں کی آف شور کمپنیوں کا جواز پیش کرنے سے قاصر ہے۔ عوام اس کرپشن کو بھولنے اور معاف کرنے پر کسی طور پر تیار نہیں ہیں۔ وہ دعائیں کر رہے ہیں کہ ان کی زندگی اجیرن کرنے والوں نے کل جانا ہے تو آج ہی جائیں۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے تو قومی غیرت کا جنازہ ہی نکال دیا ہے۔ بھارت کے کشمیریوں پر مظالم اور بربریت پر وزیراعظم پھسپھسا سا بیان دے دیتے ہیں۔ کل بھوشن کی گرفتاری پر تو گویا ان کی زبان بند رہی۔ متحدہ کی قیادت کے ’’را‘‘ کے ایجنٹ ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہا مگر ان کے خلاف وزیراعظم کوئی نوٹس نہیں لے رہے۔ عوام وزیراعظم کے لندن علاج کی ڈرامہ بازی اور واپسی کے 40کروڑ کے بے جا اخراجات سے بھی تلملا رہے ہیں۔ پرویز رشید ترک عوام کے کردار کو پیغام کہہ رہے ہیں وہ اپنے عوام کی آواز سنیں۔ لوگ شہروں میں بڑے بڑے بل بورڈ لگا کر اور بینر آویزاں کرکے جنرل راحیل شریف کو ’’چلے بھی آئو‘‘ دعوت دے رہے ہیں۔ یہ بل بورڈ عام آدمی نے تو ہٹا نے کی کوشش نہیں کی۔ اس لیے کہ یہ ان کے اندر کی آواز بھی ہے۔ حکومت کو اپنے کارندوں کے ذریعے بینرز اتروانا پڑے۔ فوج نے حکومت کے کارناموں کے باعث ایسا قدم اٹھایا تو لوگ مٹھائیاں تقسیم کریںگے، فوجی گاڑیوں کا استقبال اور فوج کو سلام کریں گے۔ حکمرانوں نے اپنی کرپشن، عوام دشمن پالیسیوں اور کمزور خارجہ پالیسی سے جمہوریت کو عوام کے لیے ایک ڈرائونا خواب بنا دیا ہے۔ جس سے نجات ایک فطری ہے۔ فوج اگر ٹیک اوور کرتی ہے تو مسلم لیگی خود فوج کے ساتھ اقتدار میں شامل ہونے کے لیے فوج کو حسب سابق سلیوٹ کرتے نظر آئیں گے۔ دانیال عزیز ،طلال چودھری ،امیر مقام ،ماروی میمن، زاہد حامد ایسے بہت سے لوگ تو گویا اپنے گھر اور گھونسلوں میں لوٹ آئیں گے۔ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے دن سے پاکستان کے عاقبت نااندیش وزراء بھنگڑے ڈال رہے ہیں ایسے جیسے یہ بغاوت انقرہ میں نہیں رائے ونڈ میں ناکام ہوئی ہو۔ 19جولائی2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus