×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مجید نظامی ۔نیوکلیئر دھماکے کے خالق
Dated: 26-Jul-2016
آج نظریہ ٔ پاکستان کے نگہبان ومحافظ، مرشدِ صحافت اور میرے صحافت میں اتالیق جناب مجید نظامی صاحب کو ہم سے بچھڑے دوسال ہوگئے ہیں۔گو میری سیاست میں ایک عمر بیتی ہے مگر ان سے ملاقات میں میں نے خود کو سیاست کا بھی طفلِ مکتب جانا۔نظامی صاحب سے میں سیاست کے بھی رموز سیکھے۔نظامی صاحب صحافت کے تو بلا شبہ امام تھے، انہوں نے سیاست میں کبھی باقاعدہ حصہ نہیں لیا مگر اپنے قلم سے انہوں نے سیاست کو نئی جہتیں دیں اور سیاستدانوں کا قبلہ درست رکھنے کے لئے اپنا کردار احسن طریقے سے اداکیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب 2008ء کے عام انتخابات ہو چکے تھے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی ناگہانی شہادت کے بعد میرے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے اختلافات جڑ پکڑ چکے تھے۔ ان دنوںپاکستان لیڈنگ روزناموں میں میرے کالم شائع ہو رہے تھے۔ انہی دنوں میری مرد صحافت ڈاکٹر مجید نظامی صاحب سے ملاقات طے پائی۔کون ہے جو مجید نظامی صاحب کو نہ جانتاہو اور ان کے کاز اور عزم و ارادے سے نہ آگاہ ہو،میں بھی اس سب سے آگاہ اور واقف تھا مگران سے ملاقات ہوئی تو یوں لگا پاکستان کی تاریخ سے ملاقات ہوگئی ہے۔ ملاقات میں جب راز و نیاز کی باتیں ہوئیں تو مجھے ایسے لگا جیسے میں نظامی صاحب کو صدیوں سے جانتا ہوں چونکہ ان دنوں پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میں اقتدار اقتدار کا کھیل کھیل رہی تھیں۔ دونوں پارٹیاں اقتدارمیں بھی تھیں اور اپوزیشن میں بھی تھیں۔ اس سے زیادہ سیاسی منافقت کیا ہوسکتی ہے۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مابین ابھی تک منافقت کا یہ کھیل جاری ہے۔نواز لیگ نے کرپٹ ترین پیپلز پارٹی کی حکومت کا پانچ سال تحفظ کیا اور اب مسلم لیگ ن کی حکومت کو پانامہ لیکس سے پیپلز پارٹی بچا رہی ہے۔وزیراعظم پانامہ لیکس کے مرض کو عارضہ قلب کا نام دے کر لندن چلے گئے۔اس کے بعد پیپلزپارٹی ٹی او آرز اور احتجاج کا ڈرامہ رچاتی رہی۔وزیر اعظم نوٹنکی کے بعد واپس لوٹے تو پی پی پی نے احتجاج کے لئے تحریکِ انصاف کو تنہا چھوڑ کر اپنے دوہرے معیار کا اظہار کردیا۔ میں اس دور کی دونوں بڑی جماعتوں کی منافقت کا تذکرہ کررہا تھا۔میرے جیسا نظریاتی کارکن پیپلز پارٹی سے پالیسی اختلاف کی بنا پر کوئی ایسا پلیٹ فارم چاہتا تھا ، جہاں سے اس کی آواز کو جاندار طریقے سے قوم کے سامنے رکھاجا سکے۔ نظامی صاحب میری تحریروں اور کتب سے تو واقف تھے ہی ۔انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا اور خود وعدہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’اگر آپ دو قومی نظریہ اور پاکستان کے بنیادی نظرئیے کا احترام رکھو گے تو نوائے وقت میں جو دل چاہے اور جتنا چاہولکھو۔ہم اس میں سے کچھ ایڈٹ نہیں کریں گے‘‘۔ میں نے نظامی صاحب سے گزارش کی کہ آپ میرے لکھے کالم کی تصحیح بھی فرمایا کریں اور آپ مجھے اپنی شاگردی میں بھی لے لیں جس پر نظامی صاحب کی ہاں کے بعد شاگرد اورانکے اتالیق بننے کی باقاعدہ رسم ادا کی گئی۔یوں مجھے مرد صحافت کی باقاعدہ شاگردی کا اعزاز حاصل ہوا۔ پھر سال ہا سال تک میرے ہر کالم کو وہ نہ صرف چیک کرتے بلکہ جہاں ضرورت محسوس ہوتی تصیح بھی فرماتے۔ اس کے بعد ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہا تا آنکہ مجھے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کے دوران طالبان کی دھمکیوں کے باعث جلاوطن ہونا پڑا۔میں نے ان دنوں طالبان کی دہشتگردی پر کتاب لکھ کرانکو بے نقاب کیا جب بہت سے اخباری اور چینلز مالکان ان دہشتگردوں اور انسانیت کے قاتلوں کے خلاف خبر تک شائع کرنے سے خائف رہتے تھے۔ ان دنوں ہونے والی ملاقاتوں میں نظامی صاحب نے مجھے بتایا کہ’’ ذولفقار علی بھٹو کے ساتھ میرے تعلقات طویل عرصے پر محیط ہیں ۔ان کی دوستی لندن سے شروع ہوئی اور پھر جب بھٹو نے ایوب کابینہ سے استعفی دیا تو سیدھے میرے پاس لاہور آئے ۔بھٹو صاحب نے کہا کہ کوئی شخص ایوب خان کے سامنے بولنے کی جسارت نہیں کرتا تو میں نے بھٹو کو کہا کہ نوائے وقت آپ کا ساتھ دے گا اور پھر ہماری کاوشوں سے مال روڈ پر وائی ایم سی اے ہال میں بھٹوکے پہلے جلسے کا اہتمام بھی ہم نے کیا‘‘۔ نظامی صاحب ایک دفعہ نوائے وقت کی پرانی بلڈنگ میں آخری فلور پر لے کر خود گئے۔ جہاں دیواروں پر سینکڑوں یاد گار اور تاریخی تصویریں آویزاں تھیں۔ انہی میں سے چند تصاویر اس تقریب کی بھی تھیں۔ نظامی صاحب کی پوری زندگی جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے عبارت ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ایک تقریب جس میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے مدیروں کو مدعو کیا ہوا تھا۔ سب ایوب خان کے سامنے خاموش تھے مگر نظامی صاحب نے کھڑے ہو کر ایوب خان کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جس پر برہم ہوکر ایوب خان نے یہ تقریب اسی وقت منسوخ کر دی۔ بھٹو صاحب نظامی صاحب کے دوست تھے مگر جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو نظامی صاحب سے سوشلزم پر ٹھن گئی۔ حالات اس حد تک خراب ہوئے کہ نوائے وقت کا پرچہ نکلنا مشکل ہو گیا۔ اسی طرح ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی میں بھارت کے دورہ پر ساتھ لیجانا چاہا تو نظامی صاحب نے کہا کہ ضیاء صاحب میں بھارت جانا چاہتا ہوں مگر ٹینک پر بیٹھ کر۔ ایک دفعہ ضیاء الحق کے ساتھ ترکی کے دورے پر گئے جہاں پاکستانی وفد کو جدید ترکی کے بانی کمال اتا ترک کے مزار پر لیجایا گیا ۔ترکی میں ان دنوں سیکولر فوج کے حمایت یافتہ حکمران تھے ۔اسی فوج کے سے نظریات رکھنے والے ایک گروپ نے گزشتہ دنوں پھر وہی دور واپس لانے کی کوشش کی جس میں وہ گروہ بُری طرح ناکام ہوا۔اس فوجی بغاوت کو کچھ حلقے نواز شریف کے دوست صدر اردوان کی ڈرامہ بازی قرار دے رہے ہیں۔بہرحال اُن دنوں پاکستانی وفد مزار پر پہنچا تو پھول چڑھانے کے بعد پروٹوکول کے مطابق تعظیماً کھڑے ہو گئے مگر نظامی صاحب نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے۔بعد میں ضیاء الحق نے پوچھا تو نظامی صاحب نے جواب دیا کمال اتا ترک مسلمان تھا میں اس کی قبر پر آیا تو دعائے مغفرت بھی نہ کروں۔ 1998ء میں جب نواز شریف وزیر اعظم تھے اور بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان زبردست دبائو میں تھا نواز شریف بھی گومگو کی حالت میں تھے۔ نظامی صاحب نے خود نواز شریف سے کہا کہ میاں صاحب اس سے پہلے کہ عوام آپ کا دھماکہ کر دیں، آپ بھارتی دھماکوں کے جواب میں دھماکہ کرنے کا حکم جاری کریں ،جس پر میاں صاحب کو مجبوراً ایساکرنا پڑاتھا۔ اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے نیوکلیئر بم کے خالق ذوالفقار علی بھٹو شہید اور اور دھماکہ کرنے کے خالق مجید نظامی مرحومؒ تھے۔ سائوتھ ایشین صحافی تنظیم کی ایک تقریب میں میاں نواز شریف نے شرکت کی اور اپنے سامنے بھارتی سکھوں اور حاضرین کو دیکھ کر جذباتی ہو گئے اور اس روز میاں نوازشریف نے دو قومی نظریئے کی دھجیاں بکھیر دیں جس پر نظامی صاحب آخری وقت تک دلی طور پر نواز شریف صاحب سے ناراض ہی رہے۔ چند سال پہلے مجھے برین ہیمرج کااٹیک ہوا۔نظامی صاحب نے ہسپتال اور گھر آ کر نہ صرف میری خبر گیری کی بلکہ ایک باپ کی طرح پریشان بھی دکھائی دے رہے تھے۔ ایک دفعہ میری ان سے ملاقات جاری تھی کہ ملازم کو آواز دے کر کہا ’’رمیزہ بی بی‘‘ کو بلوائو۔ رمیزہ بی بی آئیں تو میرا بھرپور تعارف کرایا اور بتایا کہ مطلوب وڑائچ سینئر جیالا ہے اور اب میرا شاگرد بھی ہے۔ میرے نوائے وقت میں کالم نگاری کے ابتدائی ایام میں ایک خاص سوچ و فکر کے حامی طبقہ نے بہت اعتراض کیا اور نظامی صاحب کے سامنے شکایتوں کے انبار بھی لگا دیئے کہ ایک جیالا کیوں کر نوائے وقت کا کالم نگار ہو سکتا ہے؟ میں پریشان ہوتا تو نظامی صاحب مجھ سے کہتے مطلوب آپ پریشان نہ ہوں۔ ہمارا ادارہ کسی خاص مسلک و مذہب، رنگ و نسل اور سیاسی پارٹیوں کا ترجمان نہیں ہے یہ صرف نظریہ پاکستان، تحریک پاکستان اور دو قومی نظریہ کا محافظ ہے۔ نظامی صاحب یاروں کے یار اور زبان کے پکے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دیئے ہوئے قول کو آخری دم تک نبھایا۔ نظامی صاحب روایات کے امین تھے۔ یقیناً اس دنیا میں انکے پردہ نشیں ہو جانے کے بعد انکے متعلق خصوصی مکالمے، کتب لکھی جائیں گی مگر ان کایقیناً صحافتی خلا پر نہ ہو سکے گا۔آج ان کی دوسری برسی پر میں ان کے درجات کی بلندی اور نوائے وقت پبلیکیشنز کی ترقی کے لئے اس اطمینان کے ساتھ دعا گو ہوں کہ مجید نظامی صاحب کی صاحبزادی رمیزہ مجید نظامی ادارے کو ان کی پالیسی کے عین مطابق چلا رہی ہیں۔ 26جولائی2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus