×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی خرکار
Dated: 02-Aug-2016
پنجاب میں اغواء کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ ہونے ہر طرف تشویش کا اظہار ہونا فطری امر تھا۔ پنجاب حکومت کی سرکاری رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں جنوری سے جولائی تک 6 ماہ میں 652 بچے اغوا اور لاپتہ ہوئے۔ سب سے زیادہ لاہور میں 312 بچے اغواء ہوئے۔ راولپنڈی 62، فیصل آباد 27، ملتان 25، سرگودھا میں 24 بچے اغواء ہوئے۔یہ دلدوز رپورٹ حکمرانوں اور پولیس کے ضمیر کو نہ جھنجوڑ سکی تاہم رپورٹ نے درددل رکھنے والے پاکستانیوں کو رُلا دیااور سپریم کورٹ کو نوٹس لینے پر مجبور کردیا۔ پولیس میں اپنے فرائض پر جان نچھاور کرنے والے سپوت بھی یقینا موجود ہیں مگر ایمانداری سے کام کرنیوالوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔جہاں تک اغوا اور ڈکیتیوں کا معاملہ ہے ،اس میں پولیس معصوم ہرگز نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں بچوں کے اغوا کیخلاف ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران پولیس نے بادیٔ النظر ایک فیک رپورٹ پیش کی جس کا اندازہ اس کے منددر جات سے ہوجاتاہے۔ سماعت کے دوران بھی سپریم کورٹ کہا کہ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑائی جا سکتی والدین کی مار پیٹ سے ڈر کر بچے گھر سے بھاگتے ہیں۔پولیس رپورٹ کے مطابق 2011 سے 2016 تک مجموعی طور پر پنجاب میں 6793 بچے اغوا ہوئے ،ان میں سے 6654بازیاب کرائے گئے۔گویا پولیس نے98فیصد بچوں کو بازیاب کرایا۔ اغوا برائے تاوان کے 4کیسز سامنے آئے۔ جس میں تمام بچوں کوبازیاب کرا لیا گیا۔ پولیس نے بچوں کے اغوان کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جو رپورٹ پیش کی ہے اس کو من و عن تسلیم کر لیا جائے تو ہماری پولیس کسی بھی مغربی اور یورپی کے ہم پلہ دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی بنیادوں پر بھرتی اور رشوت کرپشن میں گلے تک دھنسی ہوئی پولیس کی ایسی مثالی کارکردگی نہیں ہو سکتی۔ 98فیصد بچے جو پولیس نے بازیاب کرائے وہ لاپتہ ہونے والے تھے۔ کوئی راستہ بھول کر دور جا نکلا، کوئی والدین سے روٹھ کے چلا گیا۔ ان کی پولیس میں رپورٹ کرائی گئی یہ بچے والدین کو مل گئے تو پولیس نے اپنے کھاتے میں ڈال لیے۔ پولیس خود اعتراف کرتی ہے کہ بچوں کو بھیک منگوانے اور ان کے اعضا نکالنے کے لیے بھی اغوا کیا جاتا ہے۔ یہ اغوا کار کیا آسمان سے آتے ہیں؟ ان میں سے کتنے بچے بازیاب کرائے گئے ۔ پولیس نے 5سال میں 6793اغوا ہونے والے بچوں میں سے 6654بازیاب کرائے۔ ان بچوں کو اغوا کرنے والوں کو پولیس نے کیا سزائیں دلائیں۔پولیس سے سپریم کورٹ پکڑے ہوئے اغواکاروں کی لسٹ اور سزائوں کی تفصیل طلب کرے۔ پورے ملک سے تاوان کے لیے اغوا ہونے والے بچے اور بڑوں کا کسی ادارے کے پاس ڈیٹا موجود نہیں ہے۔پنجاب پولیس نے 4ایسے کیسز کی نشاندہی کی۔ اغوا کا اوّل تو لواحقین مقدمہ ہی درج نہیں کراتے اگر ایسا کرنے کی کوشش کریں تو پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ تگڑی سفارش ہو تو مقدمہ درج ہو جاتا ہے اور پولیس اغوا کاروں کے ساتھ ملی ہوئی نہ ہو تو مغوی بازیاب بھی ہو جاتا ہے اور یہ تعداد اتنی ہی ہے جس کا خود پولیس نے اپنے اعدادوشمار میں تذکرہ کر دیا۔ 6793اغوا کے کیسز میں اغوا برائے تاوان کے صرف 4کیس۔ اغوا کار کتنے پاورفل ہیں اس کا اندازہ ن لیگ کے ایم پی اے گڈخان، گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کے بیٹے بیرسٹر اویس شاہ کے اغا سے ہوتا ہے۔پنجاب موجودہ حکمران پارٹی کے ایک ایم پی اے سمیت دیگر کی کروڑوں روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد بازیابی سے ہو سکی ہے اوران مغویوں میں سے علی حیدر اور شہباز تاثیر کو فیصل آباد میں رکھا گیاتھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگردوں کے گڑھ شمالی وزیرستان کی طرح اغوا برائے تاوان کے مجرموں کا گڑھ فیصل آباد ہے اور یہ کام حکومت سے وابستہ لوگوں کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا۔ معصوم بچوں کے اغوا پر دل پھٹ کے رہ جاتا ہے۔ پاکستان میں کہیں معصوم بچے اغوا ہو رہے ہیں، کہیں بچے بھٹوں، ورکشاپوں، ریڑھیوں، دکانوں اور لاری اڈوں پر محنت و مشقت کرتے نظر آتے ہیں۔ کوئی نومولود بچوں کو ایدھی کے جھولوں میں رکھ جاتا ہے ،کوئی ہسپتال کے باہر اور کوئی بچوں کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینک جاتا ہے۔ ہسپتالوں کے اندر تک سے بچوں کو اٹھانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ حکومت پولیس اور معاشرہ بچوں کا پرسان حال نہیں ہے۔ دوسری طرف مغربی ممالک میں بچوں کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی ریاست کی ملکیت بن جاتا ہے۔ اس کے تمام اخراجات تعلیم و صحت اور خوراک سمیت حکومت کے ذمے ہوتے ہیں۔ پیدائش کے پہلے روز سے اس کی ملازمت کے آغاز تک حکومت بچے کے والدین کو 8سو ڈالر اس کی پرورش کی مد میں ادا کرتی ہے۔ پاکستانی اس پالیسی سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں نے بہت سے پاکستانی دیکھے جن کے 8بچے ہیں اور وہ انہی کے وظیفے پر پُرآسائش زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت بھی اس پر معترض نہیںبلکہ مطمئن ہے کہ اس کے ملک کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ریاست ان بچوں کا ایک ماں کی طرح خیال رکھتی ہے۔ سکول میں بچے نے اپنی ماں یا باپ کے تھپڑ مارنے کی شکایت کردی تو اسی روز اس جرم کا مرتکب جیل میں ہوگا۔یورپی معاشرے میں بچہ ریاست کی ملکیت ہوتا ہے اور وہاں کوئی بھی ایسا قانون نہیں کہ اگر کوئی شخص قتل ہوتا ہے تو اس کے لواحقین دیت لے کر یا مخالف پارٹی کا دبائو اور پریشر قبول کرکے قتل جیسا واقعہ بھی معاف کر دے۔ قتل ایسے سنگین جرائم کو دہشتگردی کے زمرے میں سمجھا جاتا ہے۔اور کسی بھی ایسے واقع کی مدعی خود ریاست ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس طرح کی بچوں کی پرورش اور تعلیم و صحت کی سہولتیں ابھی بہت دور کی بات ہے۔ فوری طور پر ان کی زندگی کی حفاظت اور ان کو اغوا کاروں کے بے رحم پنجوں میں جانے سے بچانا ہے۔ اغوا برائے تاوان کا تدارک بھی کرنا ہے۔ تاوان کے لیے بچہ اغوا کیا جائے یا بڑا، اس کا تعلق جس بھی طبقے سے ہو اس کے لیے موثر طریقہ ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنادینا ہے۔ اگر حکومت مخلص ہوملک کے چاروں صوبائی ہیڈکوارٹرز پر اغوا برائے تاوان کے مجرموں کو کھمبوں پر لٹکا دیا جائے تو پھر ایک ماہ بعد ملک میں اغوا برائے تاوان کی شرح صفر ہوگی۔اگر حکومت واقعی ہی سنجیدہ ہے تو ان سیاسی خرکاروں کا قلع قمع کرے مگر کیسے؟کیونکہ حکمران اور ان کے سہولت کار خود اس دھندے میں ملوث ہیں۔اس لیے تو لوگ کہتے ہیں یہ سیاسی خرکار ہیں۔ 2اگست2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus