×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تحریک قصاص، تحریک احتساب اور عوام کیلئے تحریک احساس
Dated: 09-Aug-2016
پاکستان عوامی تحریک 6اگست سے تحریک قصاص کے ساتھ پورے ملک میں دھرنے دے کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہی ہے۔ پاکستان عوامی تحریک نے قصاص تحریک کا آغاز کرتے ہوئے پہلے روزلاہور‘ فیصل آباد‘ اسلام آباد‘ گوجرانوالہ‘ کراچی میں دھرنے دئیے۔ قصاص مارچ اور دھرنوں سے ٹیلیفونک خطاب میں ڈاکٹرطاہر القادری صاحب نے کہا کہ آج شہدائے ماڈل ٹائون کے خون کا قصاص لینے اور پانامہ لیکس کے کرپٹ کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کی تحریک کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ اب آل شریف کے اقتدار کا خاتمہ ہو گا اور بھارت کے سوا انہیں کوئی پناہ نہیں دے گا‘ حکمران اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ میرے بغیر بھی میرے کارکنوں کا کیا جذبہ ہے جب اس تحریک میں میں شامل ہوں گا تو پھر قاتلوں اور قومی خزانے کے لٹیروں کی گرفتاریاں ہو نگی اور وہ اپنے انجام سے دوچار ہوں گے۔ عوامی تحریک کے تین فیز کے دھرنے میں پہلا فیز 30اگست کو ختم ہو گا جس میں اب 16اگست کو 8شہروں میں دھرنے دئیے جائے گے۔ اس کے بعد 20اگست کو مزید 8شہروں میں دھرنے دئیے جائیں گے پھر 27اگست کو مزید 8شہروں میں دھرنے دئیے جائیں گے جبکہ پہلے فیز کا آخری دھرناڈاکٹر طاہر القادری خود 30اگست کو اسلام آباد دیں گے۔ تحریک انصاف نے حکمرانوں کے احتساب کے لیے 7اگست سے تحریک احساس شروع کر دی ہے پشاور ،کراچی تک تحریک انصاف کا مارچ شروع ہے۔ ملک بھر میں پھر سے تحریکوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی لوٹ مار کرنے والوں کا بِلاامتیاز احتساب چاہتی ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کی قصاص تحریک کا احتساب بھی ایک حصہ ہے۔ عمران خان احتساب کے لیے ساری اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے مگر پیپلزپارٹی اور دیگر پارٹیوں نے ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر احتساب کا مطالبہ کیا مگر جب آصف علی زرداری جیسے لوگوں کو احتساب کا پھندا نظر آیا تو ان جیسی پارٹیوں نے عمران خان کا ہاتھ جھٹک دیا۔ عمران خان کو ان پارٹیوں کے بغیر اپنے مشن کی خاطر آگے بڑھنا پڑا جس میں عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی قیادت میں ان کے شانہ بشانہ ہو گئی۔پانامہ لیکس پر ایک موقع پر پیپلزپارٹی ڈرائیونگ سیٹ پر آ گئی تھی، اس کا مقصد خود احتساب سے بچنا، لوٹا ہوا مال ہضم کرنا اور مسلم لیگ ن کی قیادت کو احتساب سے بچانا تھا۔ ٹی آر اوز پر اپوزیشن میں اعتزاز احسن سنجیدہ نظر آئے۔ ان کو بھی ن لیگ کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی ہاں میں ہاں ملانا پڑی۔ عمران خان کے لیے احتجاج کے سوا کوئی راستہ بچا ہی نہیں تھا۔سو وہ سڑکوں پر نکل آئے ۔ عوام ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ عوامی تحریک اپنے ماڈل ٹائون کے 14شہداء کا قصاص مانگ رہی ہے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے خود سانحہ ماڈل ٹائون کی تحقیق و تفتیش کے لیے جوڈیشنل کمیشن بنایا اور ٹی وی پر اعلان کیا کہ کمیشن نے موردِ الزام ٹھہرایا تو دو منٹ میں استعفیٰ دے دوں گا۔ کیا وجہ ہے کہ اس کمیشن کی رپورٹ ہی سامنے نہیں لائی گئی ۔ جسٹس نجفی کے سامنے تو عوامی تحریک نے اپنا موقف ہی نہیں رکھا تھا۔ انہوں نے پھر بھی حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے حکمرانوں کو موردِ الزام ٹھہرایا توان کی رپورٹ ہی منظر عام پر نہ آنے دی گئی۔ آج اس سانحہ کو سوا دو سال ہونے کو ہیں ۔ جسٹس نجفی کی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی۔حکمرانوں نے اپنی جان چھڑانے کے لیے مرضی کی جے آئی ٹی بنا کر خود کو دھوکے اور بے ایمانی سے کلیئر کرانے کی کوشش کی۔اس سے بڑا ظلم او رناانصافی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتاکہ مقتولین کے لواحقین اور ورثا پر قتل کے مقدمات درج کرا دیئے گئے ۔اِدھر یہ ظلم اور اُدھر عمران خان کو بلیک میل کرنے کے لیے ان کی نااہلی کا ریفرنس سپیکر ایاز صادق کے پاس عمران خان کے بقول موٹو گینگ نے بھجوا دیا ہے۔ایاز صادق تحریک انصاف کے زخم خوردہ ہیں۔وہ عمران خان کے خلاف باقاعدہ ایک پارٹی ہیں ۔ان کی تحریک انصاف کے حوالے سے جانبدارانہ پوزیشن ہے۔سپیکر کو نیوٹرل ہونا چاہیے مگر ان کے بیانات کو دیکھ لیںوہ مسلم لیگ ن کے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نظر آتے ہیں۔بعید نہیں کہ ریفرنس انہوں نے ہی بھجوانے کو کہا ہو۔ حکومت کے خلاف تحریک لے کر اٹھنے والے منافقوں اور کردار کے سچے لوگوں کے مابین فرق واضح ہو گیا۔’’مودی کا جو یار ہے‘‘ کہنے والے یہ نعرے محض آزاد کشمیر میں انتخابات میں ایک سٹنٹ کے طور پر لگاتے رہے۔ عوامی تحریک اور تحریک انصاف بالترتیب تحریک قصاص اور تحریک احتساب کے ساتھ عوام کو سڑکوں پر لے آئے ہیں۔ اب عوام کو شعور اور احساس کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔قوم کے لیے یہ تحریک احساس ہے۔حکومت نے عوامی تحریک کے لیے قصاص اور تحریک انصاف کے لیے احتساب کی تحریکوں کے سواکوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ آج کی حکمران پارٹی ظلم و جبر اور ناانصافی سے ہمیشہ اقتدار میں رہنا چاہتی ہے جو ممکن نہیں۔اس کام کے لیے کرپٹ مافیا نے درجنوں صحافیوں کو خرید لیا ہے مگر یہ خدا کا انصاف نہیں خرید سکتے۔خدا کا کوڑا کرپٹ اور انصاف کا خون کرنے والوں پر ہر صورت برسنا ہے۔بکے ہوئے صحافی کیا ان کو خدا کے غضب اور قہر سے بچا لیں گے؟ مجھے ایسے صحافیوں کے کردار پر افسوس ہوتا ہے جن کا ایک ماہ میں قبلہ بدل گیا۔ یہ لوگ حکومت کی کتنی مدد کر لیں گے۔ جبری طور پر لائی گئی بہو آخر کتنا عرصہ گھر بسائے رکھے گی۔ ہر روز مختلف نجی ٹی وی چینلز پر یہ بکائو صحافی اپنی اپنی دکانیں سجا کر بیٹھ جاتے ہیںاور عوام کو گمراہ اور غلط اعدادوشمار بتا کر اور خود کو سیاسی،معاشی اور عسکری تجزیہ نگار کہلوانے پہ بضد ہوتے ہیں۔ کیا عوام ان کو نہیں پہچانتی، اگر عوام میں شعور بیدا رہو گیا تو قصاص اور احتساب تحریکوں کے ساتھ ملک بھر میں بکائو صحافیوں کے خلاف بھی عوامی کریک ڈائون شروع ہو جائے گا کیونکہ اب ہم 2016ء میں رہ رہے ہیں اور یہاں اب اڑھائی کروڑ عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔عوامی اور حکمران ٹولہ ملکی وسائل کے بل بوتے پر قومی خزانے کو بے دردی سے استعما ل کرکے کب تک عوامی امنگوں پر قابض رہے گا۔ لوگ اب گھروں سے باہر نکل آئے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب منزل ان کے پائوں کے نیچے ہو گی۔ 9اگست2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus