×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ضربِ عضب پر نقب لگانے کی کوشش اور سائبر بل
Dated: 16-Aug-2016
کوئٹہ میں سو کے قریب وکلاء، صحافیوں، ڈاکٹر اور عام شہریوں کو دہشتگردوں کی طرف سے بربریت کا نشانہ بنانے کے بعد حکومت کو ایک بار پھریاد آیا کہ نیشنل ایکشن پلان کی کئی شقوں پر عمل ہی نہیںہوا جن چند ایک پر عمل ہوا وہ بھی جزوی ہوا۔ دہشتگردی کی ہر واردات کے بعد حکمرانوں کے اندر جوش و جذبات کا اُبال جوش مارتا ہے مگر وقتی جذبات کے تلاطم میں بہت جلد ٹھہرائو آجاتا ہے۔ چند دن بعد پھر پرانی ڈگر پر آ کر گویا دہشتگردوں کے اگلے حملے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ دہشتگردوں کے خلاف لڑتے ہوئے پاک فوج کے سات ہزار سپوت اپنی جانیں جانِ آفریں کے سپرد کرچکے ہیں۔ ضربِ عضب کی کامیابی کے لیے اسی لیے پاک فوج کمٹڈ ہے۔ حکومت کی طرف سے ایسی کمٹمنٹ ہوتی تو نیشنل ایکشن پلان کی ایک ایک شق پر اس کی روح کے عین مطابق عمل ہوتا۔ گذشتہ ہفتے اسلام آباد کے حبس زدہ موسم میںایوانِ وزیراعظم کے یخ بستہ ماحول میںوزیراعظم نوازشریف کی صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں اعتراف کیا گیا کہ ایکشن پلان کی 8شقوں پر عمل نہیں کیا گیا۔ (یاد رہے مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع اللہ ،جماعت اسلامی اور دیگر کئی پریشر گروپ نہیں چاہتے کہ پاکستان میں مدرسہ ریفارم بل لایا جائے اور اس طرح 60ہزار کے قریب مدرسوں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے کہ وہ ریاست کو یرغمال بنا کر طالبان کے آلہ کار بن کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتے رہیں)اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے۔ ایکشن پلان پر عمل نہ ہونے پر وزیراعظم سخت ناراض اور برہم ہوئے۔ ان کی برہمی کس پر تھی ۔ دہشتگردوں کے خلاف جنگ کو خود کمانڈاورلیڈ کرنے کااعلان کر چکے ہیں۔ سویلین سطح پر دہشتگروں کے خلاف جنگ میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کامیابی کا کریڈٹ یا ناکامی کا ڈس کریڈٹ ان کو جاتا ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ کریڈٹ کہیں نہیں ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں مجرمانہ غفلت دوسرے لفظوں میں اس کے اطلاق اور نفاذ میں بدنیتی شامل ہے۔ اجلاس میں برہم ہونے والے وزیراعظم قوم کو بتائیں کہ اب تک دہشتگردوں کے کتنے سہولت کار پکڑے ہیں۔ دہشتگردوں کی کتنی نرسریاں بند کی ہیں جو مدارس کی صورت میں موجود ہیں۔ ان کی فنڈنگ بدستورکیوں جاری ہے۔ نیکٹا کو فعال اس لیے نہیں کیا جاتا کہ وزیر خزانہ اس کو بجٹ فراہم کرنے سے انکاری ہیں۔ وزیر اعظم کو لندن سے پاکستان لانے کے لیے 30کروڑ روپے کا خرچہ برداشت ہو سکتا ہے۔ پاکستانیوں کے قاتلوں کو انجام تک پہنچانے میں ممدو معاون نیکٹا کے لیے اخراجات نہیںہیں۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی اور پنجاب حکومت ہی ایکشن پلان پر عمل کرنے کے لیے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ نہیں کر رہی سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں بھی اسی ڈگر پر چل رہی ہیں۔ پنجاب حکومت پر دہشتگردوں کی سپورٹ اور ان سے رابطوں کا الزام تھا جسے اس حکومت میں شامل بااثر لوگ اپنے بیانات سے تسلیم بھی کر رہے ہیں جو دراصل ضربِ عضب کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ اور ان کی بدنیتی کا اظہار بھی ہے۔ فوج کے افسر اور جوان دہشتگردوں کے ناپاک وجود سے ارض وطن کو پاک کرنے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ فوج اس جنگ کو جیتنے کے لیے اپنی سی کوشش کر رہی ہے۔ وہ کچھ اس کی راہ میںرکاوٹ بننے والوں سے واقف اور انکے خبثِ باطن سے آگاہ ہے اسی لیے جنرل راحیل شریف نے اپنے فوجی رفقاء کے ساتھ اجلاس میں واضح الفاظ میں باور کرایاکہ نیشنل ایکشن پلان پر پیش رفت نہ ہونے سے ضرب عضب آپریشن متاثر ہو رہا ہے، بعض حلقوں کے بیانات اور تجزیے قومی کاز کونقصان پہنچا رہے ہیں، بامعنی اور مناسب اقدامات نہ ہونے سے امن قائم نہیں ہوگا، نیشنل ایکشن پلان ہمارے مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے، اس کی سست روی سے آپریشن ضرب عضب کے استحکام کا مرحلہ متاثر ہو رہا ہے۔تمام ادارے باہمی تعاون سے شدت پسندی کا خاتمہ یقینی بنائیں۔کچھ عناصر کے ترغیبی بیانات اور تھیوریاں قومی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ تمام رخوں سے بامعنی پیش رفت نہ ہوئی تو دہشت گردی کا لاوا پکتا رہے گا۔اس بیان پرپنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ سے ایک اجلاس کے دوران پوچھا گیا کہ آرمی چیف کہتے ہیں،سست روی سے آپریشن ضرب عضب کے استحکام کا مرحلہ متاثر ہو رہا ہے۔اس پر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا،وہ آرمی چیف کی رائے سے متفق نہیں ہے۔ پنجاب کی حد تک یہ بات درست نہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کوئی گاڑی نہیں ہے جسے سرپٹ چھوڑا جائے۔ پنجاب کے طاقتوراور خادم اعلیٰ کے چہیتے وزیر کے ارادوں کا اندازہ ان کے اس بیان سے ہو جانا چاہیے۔یہ صاحب سانحہ ماڈل ٹائون میں بھی ملوث ہیں۔ انہی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے دہشتگردوں سے تعلقات اور رابطے ہیں۔ ایک طرف پاک فوج دشمن کے ساتھ برسرپیکار اور اپنی جانیں نچھاور کر رہی ہے تاکہ ضربِ عضب آپریشن کامیابی سے ہمکنار ہو سکے۔ دوسری طرف سیاسی اور جمہوری حکومتیں ضربِ عضب ہی کو ہڑپ اور ہضم کرنے کے درپے ہیں مگراب ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ فوج کسی کے مفاداور کسی کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے اپنی جانیں نچھاورنہیں کر رہی۔ ہر سیاسی حکومت اپنی مدت پوری کرنا چاہتی ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ یہ ان کا آخری ٹینیور ہے۔ ان سے بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پایا جا سکا نہ معیشت بہتر ہو ئی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک قرضوں میں جکڑتا چلاجارہا ہے۔ اب یہ پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور کے آخری دنوں کی طرح بھاگتے چور کی لنگوٹی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔پی پی سندھ میں یہی کچھ کررہی ہے۔ لوٹ مار کے ساتھ پروٹوکول بھی تو مل رہا ہے۔ پی پی اور مسلم لیگ ن کی قیادتیں دوڈھائی سال حکومت کرنے کی ہی بڑی مشکل سے اہل ہیں۔ یہ انہوں نے اپنی کارکردگی سے ثابت کیا ہے۔ پانچ سال تک حکمرانی ان کے بس کی بات نہیں۔ اب ن لیگ سائبربل لے آئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بے جا پابندیاں لگا کر آزادی اظہار کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔اس پر اپوزیشن تو واویلا کرہی رہی ہے کچھ حکومتی عہدیدار اور شخصیات بھی اس میں بل میںسقم موجودہونے کا اعتراف کررہی ہیں۔ اس قانون کے تحت سزائیں بہت سخت ہیں۔ سائبر لاء سے نہ صرف بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ اس سے سنسر شپ کا دروازہ بھی کھل جائیگا۔حکومتی عہدیدار یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس قانون سے ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنیوں کا کاروبار متاثر ہوگا لیکن اس سے قوم کو بھی بڑا نقصان اٹھانا پڑیگا۔ بل کی زبان ایسی ہے جس کا حکومتی ادارے غلط استعمال کرسکتے ہیں۔بل لانے والے کل اسی کی زد میں آ کر ماتھے پر بازو رکھ کر روتے نظر آئیں گے۔ قوانین ایسے بنائیں کہ حکومت میں ہوتے ہوئے اس کافائدہ نہ ہو اور اپوزیشن میں آئیں تو رونا نہ پڑے۔آنے والے دنوں کی ایک اہم خبر یہ ہے کہ پاکستانی عوامی تحریک نے 20اگست کوملک کے ڈیڑھ سو شہروں کومکمل جام کرنے کا پروگرام ترتیب دے دیا ہے اور کسی بھی انتقامی کاروائی کی صورت میں شدید مزاحمت کا کھلا اعلان بھی کیا ہے۔اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ 16اگست2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus