×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تحریک قصاص اور لرزتے اقتدار کے ایوان
Dated: 23-Aug-2016
تحریک قصاص کامیابی سے جاری ہے۔ گذشتہ روز اس کا تیسرا مرحلہ تھا۔ دوسرا مرحلہ 16اگست کوطے تھا جو کوئٹہ میں دہشتگردی کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔ کوئٹہ کے دھماکے میں 97افراد لقمہ اجل بنے۔ ان میں زیادہ تعداد وکلاء کی تھی اور شہید ہونے والے وکلاء صوبے کی کریم تھے۔ یہ سانحہ اس وقت رونما ہوا جب پاکستان عوامی تحریک کی اس کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں قصاص تحریک عروج حاصل کر رہی تھی ۔ اس کے متوازی عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی احتساب تحریک بھی جاری ہے۔ حکومت دونوں تحریکوں سے خائف اور لرزاں تھی اور بدستور ہے۔ ایسی تحریکیں ناکام بنانے کے لیے حکمران کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں۔ جب بھی ایسی تحریکیں چلتی ہیں تو ملک میں بدترین دھماکے شروع ہو جاتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہفتہ 20اگست کو عوامی تحریک نے 105شہروں میں ریلیوں، مظاہروں اور احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ تحریک کے جانثاروں نے ہمیشہ اپنے قائد کی کال پر لبیک کہہ کر ایسی ریلیوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ 20اگست کو 105شہروں میں مظاہروں کے کامیاب ہونے کا یقین تھا مگر اس روز 105شہروں کو پی اے ٹی کے جانثاروں نے توقعات سے کہیں بڑھ کر کامیابی سے ہمکنار کرکے حکومتی ایوانوں میں لرزا طاری کر دیا۔یہ سوال ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے خطاب میں بڑے زور سے اٹھایاکہ جب بھی نواز شریف کو خطرہ ہوتا ہے دھماکے شروع ہوجاتے ہیں، ہم جاننا چاہتے ہیں پنجاب اور وفاق کے حکمرانوں کا اور دہشت گردی کا آپس میں کیا تعلق ہے؟۔۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے پُرمغز اور پُر اثر خطاب میں یہ بھی کہا کہ نواز شریف کو بھارت اقتدار میں لے کرآیا ڈاکٹر صاحب یہ اس بنیاد پر بھی کہتے ہیں کہ کل بھوشن پکڑا جائے یا بلوچستان میں بھارتی وزیراعظم اپنی کھلی مداخلت کا اعتراف کرے یا انکی فیکٹریوں سے جاسوس پکڑے جائیں یا کوئٹہ میں دھماکہ ہو یا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوں وزیراعظم کے لب کیوں سلے رہتے ہیں۔یہ الزام برائے الزم نہیں ہے۔ 2013 ء کے الیکشن سے پہلے نوازشریف کو اقتدار میں لانے کیلئے عالمی سطح پر جدوجہد شروع ہوگئی تھی۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ میرے انکشافات حقائق کے برعکس ہیں تو پاک فوج اور قومی سلامتی کے ادارے اس کی تردید کر دیں میں سمجھوں گا میری معلومات درست نہیں۔کیا کسی کو شک ہے کہ سانحہ ماڈل ٹائون کی ایف آئی آر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے توسط سے درج ہوئی تھی۔ اب 25اگست کو ڈی جی خان‘ 26 کو مظفر گڑھ‘27 کو ملتان اور28کو بلوچستان میں قصاص ریلیاں نکالی جائیں گی۔اس کے بعدقائد تحریک ڈاکٹر طاہر القادری اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ اور یہ تحریک اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔ مجھے تحریکِ قصاص کی منزل قریب نظر آ رہی ہے۔ تحریکِ قصاص کا مقصد پوری دنیا پر واضح ہے۔2014ء میں ماڈل ٹائون کو حکومت نے جس طرح دشمن کاایریاسمجھ کر یلغار کی اس کی مثال مہذب معاشروں میں عبث ہے۔ اس روز پنجاب انتظامیہ کے ایما پر پولیس نے بربریت کی نئی تاریخ رقم کرکے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم کو بھی شرما دیا۔ خواتین سمیت 14افراد تو موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ زخموں سے چور اور معذور ہونے والوں کی تعداد شہید ہونیوالوں سے تین گنا زیادہ تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس ظلم پر اظہار افسوس تو کیا مگر پولیس کی طرف سے سفاکیت ہو رہی تھی اور گلوبٹ بھی اپنا غصہ گاڑیوں پر نکال کر پولیس والوں کی طرح ظلم کی داستان رقم کرنے کا میں اس کے شانہ بشانہ تھے اس دوران وزیراعلیٰ صاحب خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے اور پھر جب مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ عہد بھی کیا کہ اگر جوڈیشل کمیشن نے ان کو قصوروار قرار دیا تو وہ استعفیٰ دینے میں دو منٹ کی تاخیر بھی نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے شفاف تحقیقات کے لیے رانا ثناء اللہ اور توقیر شاہ سے ان کے عہدے واپس لے لیے۔ جسٹس نجفی کمیشن نے پنجاب حکومت کو موردِ الزام ٹھہرایا تو شہبازشریف نے اپنے وعدے کے مطابق استعفیٰ دینے کے بجائے کمیشن کی رپورٹ ہی دبا دی۔ رانا ثناء اللہ کو دوبارہ وزیر قانون بنا دیا اور توقیر شاہ کو پہلے سے بھی پُرکشش عہدہ پر لگا کے بیرونِ ملک بھجوا دیا۔ خود کو بچانے کے لیے ایک اور ڈرامہ جے آئی ٹی بنا دی گئی جس کا عوامی تحریک نے بائیکاٹ کیا تھا۔ اس جے آئی ٹی سے مرضی کی رپورٹ حاصل کرکے 14افراد کے ساتھ انصاف کا بھی قتل کر دیا گیا۔ حکومت نے پی اے ٹی کے لیے سر پر کفن باندھ کر احتجا ج اور مظاہروں کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ پرویز رشید جیسے لوگوں نے زبان درازی اور بدزبانی کو وطیرہ بنایا ہوا ہے جبکہ شریف برادران کی طرف سے معافیوں کے لیے وفد در وفد ڈاکٹر طاہر القادری اور میرے سمیت دیگر لیڈروں کے پاس آ رہے ہیں، کہتے ہیں صلح کر لیں۔ جن کے پیارے بچھڑ گئے، جن کو بہیمانہ طریقے سے شہید کیا گیا ان کو عوامی تحریک کی قیادت کیا جواب دے گی؟۔شہیدوں کے خون کا کس طرح سودا کیا جاسکتا ہے؟ البتہ صلح کا ایک طریقہ ہے۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے شہدا کے قصاص کے بعد قصاص میں اپنے انجام تک پہنچنے والوں کے لواحقین اور سانحہ ماڈل ٹائون کے شہدا کے لواحقین کے مابین صلح کرا دی جائے۔ 23اگست2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus