×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بول مٹی دیا باویا
Dated: 30-Aug-2016
مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی میں کشمیریوں کا خون ماضی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرین وادی کو رنگین کررہا ہے۔ 8جولائی کو حزب المجاہدین کے نوجوان اور جوشیلے ورکر برہان مظفر وانی اور ان کے دو ساتھیوں کو بھارتی سفاک فوجیوں نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد شہید کر دیا۔ اس پر کشمیریوں کے جذبہ حریت نے جوش مارا۔ وہ بے سرورسامان گھروں سے نکل آئے۔ کیا بوڑھے، کیا جوان، کیا بچے ،کیا عورتیں،سب سراپا احتجاج بن گئے۔ جلسے جلوسوں اور ریلیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بھارتی افواج اور مقبوضہ کشمیر کی مقامی پولیس جدید اسلحہ کے ساتھ ان کو روکنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسلحہ کا بے دردی سے استعمال کیا ،کرفیو نافذ کر دیا مگر کشمیریوں کا جذبہ آزادی ماند نہ پڑ سکا۔ بھارتی فورسز کی طرف سے نہ صرف جدید اور روایتی اسلحہ استعمال ہو رہا ہے بلکہ اسرائیل سے منگوائی گئی پیلٹ گنوں کا انسانیت سوز استعمال بھی ہو رہا ہے جس پر اسرائیل بھی چیخ اٹھاہے۔ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں بہیمانہ کاروائیوں میں اب تک خواتین اور بچوں سمیت 100سے زائد کشمیری شہید اور سات ہزار زخمی ہوئے۔ ان میں سے پیلٹ گنوں سے اکثر کی بینائی جاتی رہی۔ بھارت یہ سب کچھ ایک پلاننگ کے تحت کر رہا ہے۔ کشمیریوں کو شہید کرنے کے بجائے وہ ان کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں مفلوج اور معذور کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان میں کشمیریوں پر نئے مظالم کے خلاف شدید ردعمل آیا ۔ حکومت نے بھی انگڑائی لی،سفارتکاری تیز کی۔ مسئلہ کشمیر اور بھارتی مظالم اجاگر کرنے کے لیے 22ارکانِ پارلیمنٹ کو خصوصی ایلچی مقرر کیاگیا ہے،جہاں حکومت کا رویہ اندھا بانٹے ریوڑیاں والا رہا،اپنے اتحادیوں اور ساتھیوں کا میرٹ اور اہلیت کو مدنظر رکھے بغیر تقرر کردیا گیا۔ بھارتی مظالم کے خلاف پاکستان میں موجود ہر قابل ذکر شخصیت اور پارٹی نے آواز بلند کی ان میں سے سب سے نحیف اور ضعیف آواز اس شخص کی ہے جو پاکستان کے سب سے زیادہ عزت و عظمت والے منصب پر فائز ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے مودی کے ساتھ گہرے تعلقات اور ذاتی مراسم ہیں۔ نوازشریف کی طرف سے مودی کوفون کرکے احتجاج کرنا چاہیے تھا مگر انہوں نے محض یہ بیان جاری کرنے پر ہی اکتفا کیا۔’’ ہماری دوستی کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے‘‘۔ اس بیان سے نہ صرف کمزوری ظاہر ہوتی ہے بلکہ یہ بزدلی بھی عیاں ہوتی ہے ۔ کشمیر میں کشمیریوں کے مظاہروں سے مودی اس قدر سٹپٹائے کہ پاکستان کو باقاعدہ دھمکیاں دینے پر اتر آئے۔ آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان اور بلوچستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کا اعتراف کر لیا۔ برہمداغ بگٹی نے مودی کو اس پر سلام پیش کیا۔ پاکستان کی طرف سے مودی کے اس شرانگیز بیان پر ایک بار پھر اشتعال سامنے آیا مگر وزیراعظم صاحب کی زبان گنگ رہی۔ مودی نے بذات خود کہا کہ صرف مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے بلکہ آزادکشمیر ،گلگت بھی اس کے اٹوٹ انگ ہیں۔ مودی کے ان بیانات کا بھی وزیراعظم نے نوٹس نہیں لیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کو دن رات گالیاں دینے والے چھوٹو اور گل گھوٹو قسم کے شتر بے بہار وزراء اور لیڈر بھی بھارت کی طرف منہ کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔ اب وزیراعظم نے اتنا کہا ہے کہ تنازع کشمیرکا حل نہ ہونا اقوام متحدہ کی مکمل ناکامی ہے۔ جب پاکستان کی زمامِ اقتدار مٹی کے مادھوئوں کے پاس ہو گی تو مسئلہ کشمیر کیا حل ہوگا؟ اوفا میں مودی سے ملاقات کے بعد بھارت کے نکتۂ نظر سے تیار کئے گئے اعلامیہ پر شاید بغیر پڑھے دستخط کردیئے جس میں مسئلہ کشمیر کا ذکر غائب اور دہشتگردی کے خلاف لڑنے کا عزم کیا گیا تھا۔ گذشتہ دنوں سانحہ کوئٹہ کے اندوہناک مناظر دیکھنے کو ملے جس پر ’’را‘‘ اور بھارتی نواز حکومتی اتحادیوں نے پاک فوج کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور وزیراعظم اپنے اتحادیوں کی اس کرتوتوت پر پھر بھی خاموش رہے۔ الطاف پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور زہر یلی زبان کے استعمال کے ریکارڈ بنا رہا ہے۔ پاکستان کو گالیاں دیتا ہے، اس کو توڑنے کا اعلان کرتا ہے۔ پہلے یہ را سے مدد طلب کرتا تھا اب بھارت، اسرائیل اور امریکہ کو پاکستان توڑنے کی دعوت دے رہا ہے۔ اس کے خلاف پورے ملک میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ رینجرز کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے۔ ہر پاکستانی الطاف کی بے شرمی پر تشویش میں مبتلا ہے مگر وزیراعظم نے محض اتنا کہا پاکستان کے خلاف ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائے گا۔ بس! اس کے بعد لمبی تان کر سو گئے۔ متحدہ کے اکثر پارلیمنٹ الطاف کو اپنا قائد مانتے ہیں، اسی سے رہنمائی کے طلبگار ہیں۔ کراچی میں اپنے بہیمانہ ظلم اور جرائم کی پاداش میں وسیم اختر جیل میں ہیں ان کو میئر منتخب کرایا گیا وہ بھی الطاف ہی کو اپنا مربی اور لیڈر کہہ رہے تھے۔ الطاف کے بیانات غداری ہیں۔ ان سے وابستگی رکھنے والا بھی اسی کی طرح آرٹیکل چھ کی زد میں آتا ہے مگر یہ لوگ دندناتے پھرتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر الطاف کے بیان سے لاتعلقی کی منافقت کرتے ہیں مگر اسے اپنا لیڈر بھی بدستور مان رہے ہیں لیکن وزیراعظم خاموش ہیں ۔ ان کی خاموشی پر مجھے فوک پنجابی گانایاد آ جاتا ہے’’بول مٹی دیا باویا‘‘مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان 220ملین آبادی کے ساتھ دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور نیوکلیئرکلب کے سات ممبران میں شامل ہے، ہونا تو یہ چاہیے کہ اس ملک کا صدر یا وزیراعظم باراک اوباما یاجسٹن ٹرودو جیسا نوجوان، پھرتیلا اور سیاسی چلاک ہونا چاہیے نہ کہ ہمارے وزیراعظم کی طرح غیرملکی سربرہان کے سامنے ہاتھوں میں پرچیاں لے کر بیٹھے رہیں۔یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ پوری دنیا کی عوام پاکستانی عوام کے ساتھ اس بنا پر ہمدردی رکھتے ہیں کہ پاکستان ایک کرپٹ اور ٹیکس چور اشرافیہ کے نرغے میں ہے۔ ان کی خاموشی پر چودھری شجاعت نے درست کہا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے الطاف حسین اور دیگر عناصر کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محض ایک بیان دے کر اس شرمناک فعل سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ وزیراعظم درحقیقت قومی مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں، وزیراعظم نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ اس سارے کیس میں سہولت کار کا کردار ادا کرتے رہے اور مجرموں کو بچاتے رہے، انہوں نے پاکستان کی سالمیت اور تحفظ کا جو حلف اٹھایا تھا اس کی پاسداری نہیں کر سکے۔ جن لوگوں نے پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور قومی سلامتی کے خلاف زہر اگلا اور وزیراعظم جنہوں نے ایسے وطن فروش عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کی ان سب کے خلاف آئین و قانون توڑنے کے تحت کارروائی کی جائے، آرٹیکل 6 کے تحت مقدمات چلائے جائیں ، وطن دشمنوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔قارئین جب وزیراعظم نہیں بولیں گے تو اب 3ستمبر کو پورا پاکستان اپنے حقوق کے لیے خود بولے گا بھی اور گھروں سے بھی نکلے گا۔ 30اگست2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus