×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جنگ ابھی جاری ہے!
Dated: 06-Sep-2016
1965ء کی جنگ کب ختم ہوئی ہے؟ یہ توتقسیم ہند سے لڑی جا رہی ہے۔ پاکستان اپنے قیام کے پہلے روز سے حالتِ جنگ میں ہے۔ اس جنگ کا آغاز تو پاکستان کے قیام سے بھی قبل اس وقت ہو گیا تھا جب پاکستان میں مشمولا کئی علاقے بھارت کے حوالے کر دیئے گئے۔ کشمیرکو تقسیم ہند کے ہر قائدے، ضابطے اور قانون کے تحت پاکستان میں شامل ہونا تھا۔ انگریز حکمرانوں اور ہندو سیاستدانوں نے کشمیر تک بھارت کی رسائی ممکن بنانے کے لیے کئی اضلاع پاکستان سے کاٹ کر انڈیا کا حصہ بنا دیئے۔ بھارت نے انہی اضلاع کے راستوں کو استعمال کرتے ہوئے کشمیر پرقبضہ کیا اور آج تک اس قبضے کو مضبوط بناتا چلا آ رہا ہے۔ پاکستان نے بھارت کے پورے کشمیر پر قبضے کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔ تاہم اس کا جس حصے پر قبضہ تھا وہ پاکستان واگزار کرانے کے لیے کوشاں رہا مگر عا لمی سازشوں نے پاکستان کے مقاصد پورے نہ ہونے دیئے اور کچھ ہمارے حکمرانوں کی کشمیر پر کمٹمنٹ بھی وہ نہیں تھی جو قائداعظم کی تھی۔ قائداعظم کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو قوت بازو سے کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے کمٹڈ نظر آئے، انہوں نے بطور وزیرخارجہ 1965ء میں مسئلہ کشمیر کا قضیہ طے کرانے کے لیے ایوب خان کو آپریشن جبرالٹر پر آمادہ کیا۔ اس آپریشن نے جنگ کی صورت اختیار کر لی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم بنے تو انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل اور بھارت کو اس کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہی ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا تھا جو ان کی شہادت کے بعد پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ 65ء کی جنگ میں پاک فوج نے قوم کو ساتھ لے کر دشمن کو عبرت ناک شکست دی۔ اس کا بدلہ لینے کے لیے اس نے سازش کے ذریعے پاکستان کو دولخت کر دیا مگر یہ جنگ پھر بھی رُکی نہیں کسی اور انداز میں جاری ہے۔جو آج پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ جی ہاں!آج پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کیخلاف جنگ65ء کی جنگ کا تسلسل ہے۔ 65ء کی جنگ بھارت نے بارڈر پر لڑی آج کی جنگ وہ پاکستان کے اندر لڑ رہا ہے۔ 71ء میں اس نے باہر سے مشرقی پاکستان میں گھس کر پاکستان کو توڑا آج اسے اس طرح گھسنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اس نے پاکستان کے اندر ہی مکتی باہنی بنا دی ہے۔ اسے پاکستان کے اندر ہی سے پالتو مل گئے یہ نہ صرف کھاتے پاکستان کا ہیں بلکہ اقتدار تک کے سنگھاسن پر بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی نشاندہی ڈاکٹر طاہر القادری تحریک قصاص کے اجتماعات میں کرتے رہتے ہیں۔ 16اگست کو تحریک قصاص کے پہلے مرحلے کا دوسرا فیز تھا کہ اس سے چند روز قبل کوئٹہ میں اہم ترین وکلاء کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس پر عوامی تحریک نے اپنا 16اگست کا احتجاج شہداء سے اظہار یکجہتی کے لیے منسوخ کر دیا۔ 3ستمبر کو عوامی تحریک او رپی ٹی آئی کی ریلیوں کا اعلان ہو چکا تھا۔ تیاریاں جاری تھیں کہ دو روز قبل ورسک کالونی پشاور اور مردان میں خودکش حملوں کی سازش کی گئی۔ ورسک میں 4دہشتگرد نہ مارے جاتے تو کالونی میں ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ مردان اس روز خودکش حملوں میں 12افراد شہید ہوئے۔ بلاشبہ یہ ایک سازش تھی جس کا مقصد تحریک انصاف اور عوامی تحریک کو احتجاج سے روکنا تھا یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ ورسک کالونی میں دہشتگرد اپنے آقائوں کے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام ٹھہرے۔ ان کے آقا کون ہیں؟ جو بھی ہیں ان کی گردن پر فوج کا انگوٹھا ہونا چاہیے مگر یہ فی الحال محفوظ ہیں۔ پاکستان یہ جنگ اندر موجود دشمن کا قلع قمع ہونے ہی سے جیت سکتا ہے۔ اگر حکومت اور پارلیمنٹ کے باہر بیٹھے لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں کون ملوث ہے تو یقینا خفیہ اداروں اور فوج کو تو ان سے بڑھ کر علم ہوگا مگر آئین آڑے آ جاتا ہے۔ یہ خود موازنہ کر لیں کہ آئین اور ریاست میں سے ایک کی بقا ناگزیر ہو تو اسے کس طرف جانا ہوگا۔میں 3 ستمبر کی نہ صرف ریلی میں شامل تھا بلکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ ان کی گاڑی میں جلسہ گاہ تک پہنچا،ہمارے ساتھ حسین محی الدین بھی تھے۔میں بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں رہا ہوں ان کے بڑے بڑے جلسے دیکھے تاہم تین ستمبر جیسا اجتماع میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔تاحد نظر جم غفیر اور انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔بجا طور پر تجزیہ نگار اسے عوامی تحریک کے حق میں ریفرنڈم قرار دیتے ہیں۔ 65ء کی جنگ سے دشمن کے منصوبے خاک میں ملانے کے لیے پاک فوج اور عوام ہمقدم تھے۔ بھارت نے آپریشن جبرالٹر کے جواب میں پاکستان پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ اچانک ہوا کہ پاک فوج کو الرٹ ہونے کا بھی موقع نہ مل سکا۔ بھارتی فوجیوں کو کہا گیا تھا کہ فتح کا پورا انتظام کر لیا گیاہے۔ لاہور پر چند گھنٹے میں قبضہ ہو جائے گا۔ جم خانہ میں رقص و سرود کی محفل سجانے کا پروگرام ترتیب دے دیا گیا تھا۔ جس کے دعوت نامے باقاعدہ تقسیم ہو چکے تھے جو جنگی قیدی بننے والے ایک فوجی افسر کی جیب سے برآمد بھی ہوا تھا مگر پاک فوج نے ان کی پلاننگ خاک میں ملا دی دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔ اپنے سے تعداد اور اسلحہ کی مقدار میں کئی گنا بڑی فوج کو شکست سے دو چار کرنا پاک فوج کا عظیم کارنامہ تھا۔ یہ کارنامہ فوج نے قوم کے تعاون سے سرانجام دیا۔ مشرقی پاکستان میں 71ء کی جنگ میں قوم پشت سے ہٹ گئی تھی اکثر بنگالی غداری کے مرتکب ہوئے، جو محب وطن تھے ان کی تعداد قلیل تھی انہیں اب پھانسیاں دی جا رہی ہیں۔گذشتہ روز میر قاسم علی کو اس جرم کی پاداش میں پھانسی دے دی گئی کہ انہوں نے اس دور میں مادرِ وطن کی حفاظت کی کوشش کی تھی جب آئین کے مطابق ایسا کرنا ان پر فرض تھا۔ یہ لوگ الشمس اور البدر کی صورت میں پاک فوج کے شانہ بشانہ تھے۔ آج پاکستان کی طرف سے ان کی پھانسیوں پر صرف اظہار افسوس کیا جاتا ہے۔ ان کو بنگالی جادوگرنی کے ستم سے بچانا پاک فوج کی ذمہ داری ہے۔حکمران ان کی حمایت میں نہیں بولتے تو یہ بھی ان کا دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کا ثبوت ہے۔ اس وقت ملک کے اندرونی حالات اور بیرونی سرحدیں محفوظ نہیں، دہشتگردوں کو جیسے کھلی چھٹی ہے ۔ملک کی نظریاتی سرحدیں بھی محفوظ نہیں اور بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ہم اب بھی حالاتِ جنگ میں ہیں اور یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہم دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں نہ ملا دیں۔ 6ستمبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus