×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
داغ تو اچھے ہوتے ہیں
Dated: 13-Jun-2017
جنوبی کوریا کی سابق صدر ’’پارک گوئن ھی‘‘ پر فردِ جرم عائد کرکے جیل بھجوا دیا گیا۔ یہ خبر نہ تو مجھ پر بم بن کر گِری نہ ہی یہ میرے لیے نیوزشاک تھی بلکہ مجھے یقین تھا کہ جلد ہی پارک گوئن ھی کو سزا بھی سنا دی جائے گی۔ پارک گوئن ھی 2فروری 1952ء کو پیدا ہوئی ان کے والد فوجی جنرل تھے اور1961ء میں اقتدار پر قبضہ کرکے 1974ء تک کوریا کی مسندِ صدارت پر قابض رہے۔ جہاں بعدازاں ان کے ہی قریبی دوست اور انٹیلی جنس چیف نے ان کو قتل کروا دیا۔ قارئین یاد رہے جنوبی کوریا میں 1988ء سے پہلے ایک طویل ڈکٹیٹر شپ مسلط رہی اور دو سابق سربراہان مملکت ’’چُن وہ ھاون‘‘ اور ’’روتھے وو‘‘کو بھی بالترتیب عمر قید اور 17سال سزا ہو چکی ہے جنہیں بعدازاں ایک خصوصی معافی نامے کے ذریعے ایک سال بعد ختم کر دیا گیا۔ سابق صدر پارک گوئن ھی کو کرپشن، فراڈ اور رشوت کے الزامات کا سامنا تھا اور الیکٹرانک کی سب سے بڑی کمپنی ’’سام سنگ‘‘ کے چیف پر الزام تھا کہ انہوں نے کورین صدر کو 69ملین ڈالر دیئے ہیں اور سام سنگ کے مالک جے وائی لی کو بھی گذشتہ جمعہ کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ مسز پارک گوئن ھی کے خلاف کورین پارلیمنٹ نے ایمپیچ منٹ کی تھی۔ پچھلے سال دسمبر میں جس کے بعد انہیں مارچ2017ء میں باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا۔ پارک گوئن ھی 2012ء میں صدرمنتخب ہوئی تھی اور دسمبر 2016ء تک چار سال ملک کے اقتدار پر قابض رہیں۔ ان کے والد’’پارک چن ھی‘‘ نے18سالہ اقتدار میں کرپشن کی بے شمار مثالیں قائم کیں اور آج ان کی بیٹی کو ہتھکڑی میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ قارئین! سربراہان مملکت کا کرپشن میں ملوث ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اس سے پہلے آصف علی زرداری جو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے خاوند تھے اور متعدد بار فیڈرل منسٹر بھی بنے۔ ساڑھے گیارہ سال انہی جرائم میں پابند سلاسل رہے۔ محمد سہارنو انڈونیشیا صدر، فرناڈس مارکوس فلپائنی صدر، مابوٹو زائر کے صدر، آباچا نائیجیریا کے صدر، مالوزووچ یوگوسلاویہ کے صدر، جین کلاوڈ ہیٹی کے صدر، البرٹو فوجی موری پیرو کے صدر، پاویولانزرکو پیرو کے سابق صدر، آملدوآلے ین سنکاراگوا کے صدر، جوزف استھراڈ فلپائنی صدر یہ سب لوگ بھی کرپشن اور اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ان میں سے اکثر لوگ بعدازاں احتساب کے عمل میں سے گزرے۔ قارئین مگر اپنے وطن عزیزمیں ایک نرالی ہی روایت ہے۔ موجودہ حکمران خانوادے کے چند وزراء جن کو یہ کامل یقین ہے کہ اگر اب کی بار حکمران خاندان کرپشن کی مشین سے گزرا تو پھر ان کے رفقاء زندگی بھر کے لیے دوبارہ منتخب نہ ہو پائیں گے۔ اس لیے وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر شاہ کی گردن کے گردپھندا کسنے کا بندوبست کر رہے ہیں ۔ پہلے پانامہ کیس کی سماعت کے دوران روزانہ کی بنیاد پر مسلم لیگی وزراء سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ڈائس او رمائیک پر چھینا جھپٹی کرنے کے لیے پہنچ جاتے تھے جس سے پہلے سے زبوں حالی کا شکار سسٹم مزید ابتری کا شکارہو جاتا تھا۔ مگر یار لوگ تپتی دھوپ میں حق نمک ادا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب سے جے آئی ٹی بنی ہے ایک ہجوم ہر روز اپنے اپنے چہرے دکھانے اور پیار جتلانے آ جاتاہے۔ اس دوران وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز شریف کی دوران تفتیش تصویر سامنے آنے پر پورے ملک میں ایک ہنگامہ برپا ہے جبکہ دوسری طرف کچھ نجی چینلز پر سابق صدر آصف زرداری کی زبان کٹی تصویر دکھائی جاتی رہی ہے۔نواز شریف کی سلاخوںپیچھے پریشان حال تصویر اہتمام کیساتھ دکھائی جاتی رہی۔ پتہ نہیں کیوں ہمارے لوگ عدالت یا جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کو حقارت سے دیکھتے ہیں جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ سینکڑوں بادشاہ ،امراء اور سابق سربراہان مملکت نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا۔ اب 15جون کو گاڈ فادر خود عدالت کی جے آئی ٹی میں پیش ہوگا۔ دیکھیے اس دن کونسا آسمان زمین پہ آ گرتا ہے؟ قارئین! گذشتہ روز سابق وفاقی وزیر اور پی پی پی کے ایک جیالے نذر گوندل نے اپنے دیگر ساتھیوں اور جیالوں جیالیوں کو جوائن کر لیا ہے ۔ میرا مطلب شاہ محمود قریشی، بابر اعوان، فواد چوہدری ،سردار آصف احمد علی، مصطفی کھر، اشرف سوہنا، صمصام بخاری، راجہ ریاض، نور عالم خان، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، یار محمد رند، مختار تارڑ، عامر ڈوگر اور فردوس عاشق اعوان شامل ہیں۔یہ فصلی بٹیرے جو ہزاروں آ چکے ہیں سینکڑوں تیار بیٹھے ہیں اور ابھی وسیم ، ندیم افضل چن، قمرالزمان کائرہ، شوکت بسرا، اورنگ زیب برکی، عبدالقادر شاہین بھی بہت جلد انصاف کمپنی کی واشنگ مشین کے ذریعے اپنا وائٹ واش کروائیں گے۔ عمران خان صاحب جو 31اکتوبر2011کو لاہور مینار پاکستان پر ایک نئے پاکستان کا خواب لے کر آئے تھے تو میرے سمیت ہر پاکستانی کی سوچ میں یہ ارتعاش پیدا ہوا تھا کہ کوئی تو ہے جس نے ڈوبتے سورج کو امید کی نئی کرنوں سے جلا بخشی ہے مگر شاید عمران خان صاحب کی سیاست ، سوچ، فکر اور عزم کو کسی دشمن کی نظر لگ گئی کہ ظلمتوں نے عمران خان صاحب کی پارٹی کے گرد بسیرا کر لیا اور ایک سے بڑھ کر ایک کرپٹ سیاست دان تحریک انصاف کا محور بن گیا۔ جن دریچوں سے تمنا تھی کہ گل برسیں گے اُن سے برسے بھی تو چمکتے ہوئے خنجر برسے قارئین نئی بوتل میں پرانی شراب ڈالنے سے نہ تو شراب کا ذائقہ اور کوالٹی تبدیل ہوتی ہے بس برانڈ آپ کوئی سا بھی نام دے لیں۔ مجھے عمران خان کے جذبے پر کوئی شک نہیں میں نے جہانگیر خان کے ساتھ مل کر کام کیا ہے ان کے پاس ایک ٹارگٹ ہے مگر وہ سیاست کی بھول بھلیوں میں ایسے گم ہو گئے ہیں خود انہیں بھی اب اپنی منزل کا پتہ نہیں یا تعین نہیں۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا وڑائچ صاحب میں نے برسوں کی سیاست میں کمائی سے ایک آٹومیٹک واشنگ مشین خرید لی ہے جس میں کرپٹ و غلیظ ، فراڈزدہ سیاست دان ڈالنے سے یکدم چمکیلے ،اُجلے سیاست دان دُھل کر باہر آ نکلتے ہیں اور ابھی تو جے آئی ٹی کی تفتیش کے بعد پانامہ کیس کا فیصلہ آنے کی دیر ہے۔ میرا سیاسی ویژن یہ کہتا ہے 90 فیصد مسلم لیگ ن ،تحریک انصاف میں شامل ہو جائے گی اور ان سب کے داغ ایک ہی دھلائی میں غائب ہو جائیں گے۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا کہ صاحب ’’داغ تو اچھے ہوتے ہیں‘‘ میں نے جواب دیا جھورے خدا کرے کوئی ایسا واشنگ پائوڈر ایجاد ہو جائے جس سے 22کروڑ عوام کے دلوں پر لگے، ذہنوں پر لگے، سستی ،کاہلی ،بے ایمانی، بے عزتی،کرپشن ،فراڈ، غداری، چوربازاری، ڈاکہ زنی ، غریبوں کا مال ہضم کرنے ،لینڈ مافیا جیسے داغ صاف ہونا شروع ہو جائیں؟ 13جون2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus