×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بھارت، اسرائیل ،افغان گٹھ جوڑاور تیسری عالم گیر جنگ کا آغاز
Dated: 03-Mar-2026
وقتِ حاضر میں پاکستان ایک مرتبہ پھر حالتِ جنگ میں ہے۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان تنہا نہیں۔ ریاستِ پاکستان، مملکت اور ملک کے اندر و بیرونِ ملک بسنے والے تیس کروڑ عوام ایک صف میں، ایک پیج پر کھڑے ہیں—اور وہ پیج ہے یکجہتی، اتحاد اور پاکستانیت کا۔پنجابی میں کہا جاتا ہے: ’’ماں دی سوکن تے دھی کی سہیلی‘‘—یعنی ماں کے دشمن سے رشتہ نہیں رکھا جاتا۔ پاکستان ہماری ماں ہے، اور جو ماں کا دشمن ہے وہ ہمارا دشمن ہے۔ ایسے میں دشمنوں نے جنگ کا ماحول کس طرح تیار کیا ہے، یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف Abraham Accords کے نام پر فلسطین کے مسئلے کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، دوسری طرف پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت اس صف بندی کا حصہ بنے۔ اگر فوج نہیں بھیج سکتے تو پولیس بھیج دیں، کچھ نہ کچھ تو بھیجیں—یعنی پاکستان کا نام اور برانڈ استعمال ہونا چاہیے۔ پاکستان کے نام کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا خطرناک منصوبہ ترتیب دیا جا رہا ہے جو خدانخواستہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ گزشتہ دو تین دن سے نریندر مودی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ازلی دشمن وہ نہیں ہوتا جو سامنے سے وار کرے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو دوستی کا لبادہ اوڑھ کر دشمن کے ہاتھ مضبوط کرے۔ مودی نے اسرائیل کی پارلیمنٹ، یعنی Knesset، میں خطاب کیا۔ سوال یہ ہے کہ اس خطاب کی سیاسی معنویت کیا ہے؟ اسرائیل آبادی کے لحاظ سے ایک چھوٹا ملک ہے، اگرچہ مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے یروشلم اور بیت المقدس کی مذہبی اہمیت مسلمہ ہے۔ مگر مودی وہاں کیا پیغام دینا چاہتے تھے؟ کیا کوئی نیا سیاسی مذہب جنم لے چکا ہے؟یہ وہی بھارت ہے جہاں کبھی اندرا گاندھی اور یاسر عرفات کے قریبی تعلقات کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ہوتی، فلسطینی قیادت بھارت کے ساتھ کھڑی نظر آتی تھی۔ یہ معاملہ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور دیگر مسلم حکمرانوں کے ادوار میں بھی موضوعِ بحث رہا۔ آج صورتحال مختلف ہے۔ دنیا کے 160 سے زائد ممالک فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کر چکے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں اس حوالے سے پیش رفت ہو چکی ہے۔ ایسے وقت میں اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہو کر دنیا کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ کیا یہ محض امریکہ کو خوش کرنے کی کوشش ہے؟ کیا یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کا معاملہ ہے؟ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا مودی کسی سیاسی دباؤ یا بلیک میلنگ کا شکار تو نہیں؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو اس وقت معمولی اکثریت کے سہارے حکومت چلا رہے ہیں۔ جب نیتن یاہو اور مودی تقریر کے لیے ایوان میں آئے تو اپوزیشن کی بڑی تعداد واک آؤٹ کر گئی۔ اس منظر نے اس دورے کی علامتی اہمیت کو مزید سوالیہ بنا دیا۔ کیا یہ سب یہودی عوام کی حمایت کے لیے تھا یا محض سیاسی مفادات کے حصول کے لیے؟ کیا یہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ساتھ قربت دکھا کر علاقائی سیاست میں کوئی نیا توازن قائم کرنے کی کوشش ہے؟حالات پیچیدہ ہیں، بیانات سخت ہیں اور سفارتی بساط پر مہرے تیزی سے چل رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کھیل میں کون کس کو استعمال کرتا ہے—اور کس قیمت پر۔ بنیامین نیتن یاہو فرما رہے تھے کہ افغانستان آج کے بعد ہمارا اتحادی ہے، ہم اسے سپورٹ کریں گے، اور دہشت گردی پاکستان پھیلا رہا ہے۔ یعنی تمام الزامات پاکستان پر ڈال دیے گئے۔ دنیا کے مستند، تصدیق شدہ اور سرٹیفائیڈ دہشت گرد طالبان قرار پائے معصوم، اور پاکستان ٹھہرا مجرم۔طالبان نے خواتین کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، اور چند روز پہلے بھی خواتین کے خلاف مزید پابندیوں اور اقدامات کی خبریں آئیں۔ اگر طالبان اتنے ہی معصوم تھے تو پھر امریکہ وہاں دو مرتبہ جا کر کھربوں ڈالر خرچ کر کے کیوں ذلیل ہوا؟ اور روس کیوں وہاں سے پسپا ہوا؟ کہا جاتا ہے: ’’ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہوگا۔‘‘ جس کے دوست اسرائیل اور انڈیا بن جائیں، اسے کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں رہتی؛ وہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارے گا جو ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔افغانستان کی عسکری حقیقت کیا ہے؟ امریکہ جو اسلحہ چھوڑ گیا، اسے چلانا تک نہیں آتا۔ گاڑیاں، ہیلی کاپٹر اور ٹینک نقل و حمل کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ وہی مثال ہے کہ بندر کے ہاتھ میں استرا پکڑا دیا جائے تو خیر نہیں۔ ذرا سا دباؤ پڑے تو استرا ہاتھ سے گر جاتا ہے۔ہنود و یہود اور افغان—یہ تینوں، آپ کے بقول، مل کر پاکستان کو (نعوذباللہ) نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھیے کہ پاکستان نے سب کچھ دیکھا ہے۔ نریندر مودی اسرائیل کی پارلیمنٹ، یعنی Knesset، میں خطاب کرنے گئے، مگر آپریشن سیندور کا ذکر تک نہ کیا۔ کیوں کرتے؟ آپ تو اٹھائیس سال پرانے بمبئی دھماکوں کا ریکارڈ اٹھا لائے۔ لیکن یہ یاد نہیں رکھا کہ حالیہ محاذ پر کیا صورت حال بنی۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ روکا جاتا تو وہ تباہ شدہ طیاروں کی تعداد مزید گنواتے جاتے۔ دنیا کے سامنے جو سفارتی اور سیاسی صورت حال بنی، اس سے بھی سبق حاصل نہیں کیا گیا۔مودی بیرونی طاقتوں کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں، مگر اپنے خطے کے ممالک سے ہم آہنگی پیدا نہیں کرتے۔ جب افغانستان پر سخت وقت تھا—ایک طرف روس اور دوسری طرف امریکہ کی جنگ—تو اس وقت بھارت نے ایک بھی افغان کو سیاسی پناہ نہیں دی۔ آج بھی چند ہزار افغان وہاں موجود ہیں، مگر بڑے پیمانے پر ذمہ داری پاکستان نے اٹھائی۔ 1979ء میں پاکستان نے تقریباً چالیس لاکھ افغانوں کو پناہ دی، جو وقت کے ساتھ بڑھتے بڑھتے کروڑوں تک جا پہنچے۔ وہ اپنے ساتھ ٹرک، ٹرالے، مویشی، اسلحہ اور منشیات بھی لائے۔ دنیا میں سیاسی پناہ دی جاتی ہے، مگر باقاعدہ تلاشی اور نگرانی کے ساتھ۔ ایران نے افغانوں کو کیمپوں تک محدود رکھا، مگر پاکستان میں وہ ہر شہر، گاؤں، بازار اور گلی تک پھیل گئے۔ ٹرانسپورٹ، کاروبار اور کئی شعبوں پر اثرات مرتب ہوئے۔ اب سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ انہیں واپس بھیجنے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ کیا یہ حکومتی نااہلی تھی؟آج اگر کوئی پاکستان کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے عوام سیاسی طور پر مختلف جماعتوں سے وابستہ ہو سکتے ہیں—پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام، پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی یا تحریک لبیک پاکستان—لیکن قومی سلامتی کے معاملے پر سب ایک ہیں۔دنیا بھر میں سیاسی اختلافات ہوتے ہیں۔ امریکہ، یورپ، انڈیا اور اسرائیل میں بھی جماعتیں اور اندرونی اختلافات موجود ہیں۔ گھر کے اندر اختلاف ہو سکتا ہے، مگر باہر والوں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھیں۔ یہ بات بھی یاد رکھیے کہ ہم نے شبِ برات پر پٹاخے چلانے کے لیے گھاس نہیں کھائی۔ پوری قوم، تیس کروڑ عوام، اس صلاحیت کو اس لیے برقرار رکھتے ہیں کہ جب ضرورت پڑے تو اپنے دفاع کا حق استعمال کیا جا سکے۔ یہ دھمکی نہیں، پاکستان کا استحقاق ہے—اپنے دفاع کا حق۔بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ اگر آج عمران خان بھی باہر ہوتے تو وہ بھی قوم کو متحد ہو کر کھڑے ہونے کا پیغام دیتے۔ اس وقت پوری قوم پاکستان اور پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ قارئین جب میں اس کالم کی تیاری کر رہا ہوں تو ایک افسوس ناک خبر میں اضافہ ہوا ہے کہ بظاہر تیسری عالم گیر جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ بے شمار حیلے، بہانے اور رکاوٹوں کے باوجود امریکہ نے اسرائیل کی بھرپور اور شدید خواہش پر ایران پر حملہ کر ہی دیا ہے ۔پوری دنیا خصوصا عالم عرب اور عالم اسلام حتی الوسع کوشش کر رہے تھے کہ اس خطے میں موجود مسلم ممالک کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچایا جا سکے مگر اسرائیل بھی جانتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی صورت میں انہیں ایک نادر موقع ملا ہے کہ وہ اپنے Abraham Accords پروگرام کو آگے بڑھا سکے کیونکہ یہ صدر ٹرمپ کی آخری ٹرم ہے۔پہلے یہ ہچکچاہٹ تھی کہ اسرائیل چاہ رہا تھا کہ امریکہ پہلے حملہ کرے اور امریکہ چاہ رہا تھا کہ اسرائیل ایران پر پہلے حملہ کرے۔ اس دوران ایک تو وقت گزر رہا تھا اور دوسرا ایران کو تیاری کے لیے خاصا ٹائم مل گیا تھا۔ بالآخر مختلف جھوٹ اور مکاریوں کے باوجود امریکہ نے ایران پر ایک شدید خطرناک حملہ کر دیا ہے۔ اور اس حملے میں ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای اور ایران کے صدر مسعود پز شکیان اور دیگر اعلیٰ ملٹری کرنیلوں اور سیاستدانوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق ایرانی سپریم قیادت ابھی تک محفوظ ہے۔ ایران کے مختلف مقدس شہروں پر ہونے والے حملوں کے بعد ایران نے بھی جوابی وار کرتے ہوئے بحرین، اردن، قطر، سعودی عرب، ابوظہبی،عراق اور یو اے ای میں موجود امریکی بیسز کو اڑا کر رکھا دیا ہے۔اور جس طرح سے اس جنگ کا آغاز ہوا ہے جس نے علاقے کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔دوسری طرف پاکستان،افغانستان اور انڈیا بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔ اگر کوئی معجزہ نہ ہوا تو یہ یقینا تیسری عالم گیر جنگ کی شروع متصور ہو گی۔ اللہ پاکستان ،عالم اسلام کے عوام کواپنی حفظ و امان میں رکھے۔لیکن جس دن کے آنے کا ڈر تھا، اس کی تباہیوں اور آگ سے خود کو محفوظ رکھنا آسان بھی نہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus