×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ایرانی معصوم بچوں کی چیخیں آسمان تک
Dated: 10-Mar-2026
امریکہ اور اسرائیل نے اپنے پہلے ہی حملے میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں معصوم بچوں اور اساتذہ سمیت تقریباً 183 افراد شہید ہو گئے۔ ان شہید ہونے والی بچیوں کو کل کو مائیں ،ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان اور قومی لیڈر بننا تھا، انہیں معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنا تھا۔ انسانی حقوق کی وہ تمام تنظیمیں جو پاکستان سمیت افریقہ، یورپ، آسٹریلیا، شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ میں انسانی حقوق کی علمبردار بنی ہوئی ہیں، ان کا اس سانحے پر کیا مؤقف ہے؟ پاکستان میں بھی ایسی خواتین اور تنظیموں کی کمی نہیں جو انسانی حقوق کے لیے بڑھ چڑھ کر آواز بلند کرتی ہیں۔ این جی اوز کی بھی کمی نہیں جو مختلف معاملات پر سرگرم نظر آتی ہیں۔ لیکن اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بڑی عالمی تنظیموں جیسے یونائیٹڈ نیشن، ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک ،یورپی یونین اورہیومن رائٹس کی بے شمار تنظیمیں اور این جی اوز سے فنڈز حاصل کرنے کے لیے تو بڑے بڑے مظاہرے کیے جاتے ہیں، پریس کلبوں اور اسمبلیوں کے سامنے انسانی حقوق اور بچوں کے نام پر آوازیں بلند کی جاتی ہیں، لیکن ایسے سانحات پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ یورپ کے ممالک جیسے جرمنی، فرانس، اٹلی، سپین، پرتگال اور سوئٹزرلینڈمیں بھی کہیں اس واقعے کے خلاف بچوں کے حق میں نمایاں آواز سنائی نہیں دی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایران کے بچے بچے نہیں تھے؟ بچے تو سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں، معصوم اور بے گناہ۔ جب پاکستان میں آرمی پبلک سکول پشاور اٹیک کا سانحہ پیش آیا تھا تو اس میں 132 بچے اور 15 اساتذہ شہید ہوئے تھے۔ اس وقت پوری دنیا کئی مہینوں تک سوگ میں ڈوبی رہی۔ میں اس وقت یورپ میں تھا اور وہاں کے لوگ مجھ سے بار بار پوچھتے تھے کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے معصوم بچوں پر حملہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ دن طالبان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔ اس کے بعد یورپ نے طالبان کو ایک عام سیاسی قوت کے طور پر قبول کرنا تقریباً چھوڑ دیا تھا۔ ان بچوں کو کسی حد تک انصاف ملا کیونکہ بعد میں ان کے قاتلوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ لیکن آج جو 183 بچے شہید ہوئے ہیں، ان کا کیا قصور تھا؟ بچے تو بچے ہوتے ہیں، وہ پرائمری کلاس کے طالب علم تھے اور ہر گناہ سے پاک تھے۔ سوال یہ ہے کہ غلطی کس کی ہے، جرم کس کا ہے اور سزا کسے ملنی چاہیے؟ مگر ایک بات واضح ہے کہ سزا معصوم بچوں کو ہرگز نہیں ملنی چاہیے۔ آپ کی دشمنی اگر ایران سے ہے تو اس کی فوجی تنصیبات پر حملہ کریں، اس کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنائیں۔ عوام اس زمرے میں نہیں آتے کہ ان پر حملہ کیا جائے۔ اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق بچوں اور عورتوں کو خصوصی تحفظ حاصل ہوتا ہے، مگر کسی ایک شخص کے منہ سے یہ نہیں نکلا کہ ان بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ البتہ دنیا کی غیرت اس وقت جاگ اٹھتی ہے جب ایران میں ریاست کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو آئین کے مطابق سزا سنائی جاتی ہے۔ تب دنیا بھر میں جلوس نکلتے ہیں اور بیانات جاری ہوتے ہیں۔ ایران کے حوالے سے مزید بات کرنے سے پہلے افغانستان کی صورتحال پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے، جہاں عورتوں کے خلاف نہایت سخت اور ظالمانہ قوانین بنائے گئے ہیں، مگر اس پر بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ ان قوانین کے مطابق عورت اپنے شوہر کے ہر حکم کی پابند ہے۔ شوہر کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ حکم عدولی پر بیوی اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے خلاف کارروائی اسی صورت میں ہوگی جب ہڈی ٹوٹ جائے یا گہرا زخم آ جائے، اور وہ سزا بھی زیادہ سے زیادہ تین ماہ قید تک محدود رکھی گئی ہے۔ اگر کوئی شادی شدہ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے رشتہ داروں سے ملنے جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ضابطے کی ایک شق معاشرے کو چار طبقات—علماء، اشرافیہ، متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ—میں تقسیم کرتی ہے، اور ایک ہی جرم کی سزا ملزم کی سماجی حیثیت کے مطابق طے کی جاتی ہے۔ گویا انصاف کی آنکھوں پر پٹی نہیں بلکہ طبقاتی عینک چڑھا دی گئی ہے۔ اگر کوئی عالمِ دین جرم کرے تو محض نصیحت کافی سمجھی جائے گی، اشرافیہ کو مشورہ دے کر چھوڑ دیا جائے گا، متوسط طبقے کو قید کی سزا ہوگی، جبکہ نچلے طبقے کو قید کے ساتھ جسمانی سزا بھی دی جا سکے گی۔ سنگین جرائم میں جسمانی سزا اصلاحی اداروں کے بجائے مذہبی علماء نافذ کریں گے۔ یہ منظر کسی قرونِ وسطیٰ کی داستان معلوم ہوتا ہے، مگر یہ آج کے افغانستان کی حقیقت ہے۔ دنیا کا المیہ یہ ہے کہ کہیں اور کسی عورت کو سزا ملے تو عالمی ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ احتجاج ہوتے ہیں، قراردادیں پیش کی جاتی ہیں اور بیانات جاری ہوتے ہیں۔ ہونا بھی چاہیے، کیونکہ ظلم جہاں بھی ہو اس کے خلاف آواز بلند ہونی چاہیے۔ مگر افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر عالمی سطح پر وہ شدت دکھائی نہیں دیتی۔ مجھے خود ان کی ہولناک کارروائیوں اور ذہنیت کا سامنا کرنا پڑا۔ جب میں نے ان کے بارے میں ایک کتاب ’’TALIBAN… The Global Threat‘‘(طالبان عالمی امن کے لیے خطرہ)لکھی اور ان کے نظریاتی تضادات اور ریاست دشمن سرگرمیوں کو بے نقاب کیا تو وہ میرے درپے ہو گئے۔ باقاعدہ دھمکیاں دی گئیں، یہاں تک کہ میرے بچوں کے تعلیمی اداروں تک پیغامات پہنچائے گئے۔ اس دور میں ان کے خلاف آواز اٹھانا آسان نہ تھا۔ کئی حلقوں میں خوف اس قدر سرایت کر چکا تھا کہ کوئی کھل کر بات کرنے کو تیار نہ تھا۔ ذرائع ابلاغ میں بھی بعض اوقات ان عناصر کے لیے نرم اصطلاحات استعمال کی جاتی تھیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بیانیے کو کس حد تک متاثر کر رکھا تھا۔ ایران کے ساتھ جو تنازع کھڑا کیا گیا ہے، اس میں امریکہ کو اس دور سے باہر نکلنا ہوگا کہ وہ دنیا میں اکیلا چوہدری بن سکتا ہے۔ اب ہم سنہ 2026 میں جی رہے ہیں۔ اس دور میں رہنے کے لیے موجودہ تقاضوں کے مطابق چلنا ہوگا۔ آج کی دنیا میں جس کے پاس وسائل اور طاقت ہے وہ اپنا اثر رکھتا ہے۔ آپ کے سامنے شمالی کوریا کی مثال موجود ہے، جسے کبھی اس طرح روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ دوسری طرف اسرائیل کی آبادی سات ملین کے لگ بھگ ہے، یعنی پورا ایک کروڑ بھی نہیں بنتی، مگر پوری دنیا کے مفادات اس کے ساتھ جوڑ دیے گئے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل دراصل امریکہ کے ہاتھ میں بند اس جن کی مانند ہے جسے وہ بوتل میں قید رکھتا ہے۔ جب امریکہ کو کسی ملک کے حکمران تنگ کرتے ہیں یا اس کے مطالبات ماننے سے انکار کرتے ہیں تو وہ اس جن کو کچھ دیر کے لیے بوتل سے باہر نکالتا ہے۔ وہ سب کو ڈراتا ہے، اور پھر امریکہ کو امداد، ڈالر اور تیل ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اس جن کو بوتل میں بند کر دیتا ہے اور ڈھکن لگا دیتا ہے، اور دنیا کے کچھ لوگ خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں کہ امریکہ نے ہماری مدد کی۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک ایران جیسا کوئی دوسرا ملک آگے بڑھ کر اس کے سامنے کھڑا نہیں ہو جاتا۔ایران اپنے حصے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اب دنیا کے دوسرے ممالک کو بھی آگے آنا ہوگا اور ان معصوموں کے خون کا حساب لینا ہوگا۔ ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے انداز، اپنے طریقے، اپنی ثقافت اور اپنی صدیوں پرانی روایات کے مطابق زندگی گزارے۔ایران رستم اور سہراب کی سرزمین ہے اور اس کی تہذیب چھ سات ہزار سال پرانی ہے، اسے آسانی سے بدلا نہیں جا سکتا۔ اس کے مقابلے میں امریکہ خود کسی ایک قدیم تہذیب یا قوم کا نام نہیں بلکہ مختلف قوموں کا مجموعہ ہے۔ بچوں کے معاملے میں جو کچھ ہوا ہے اس پر اقوامِ متحدہ کو کردار ادا کرنا چاہیے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارہ اکثر ایک ایسی بانجھ گائے کی مانند محسوس ہوتا ہے جو چارہ اور وسائل تو کھاتی ہے مگر دیتی کچھ نہیں—نہ دودھ، نہ مکھن اور نہ دہی۔ ایران کے سینکڑوں معصوم بچوں کی شہادت کے بعداگرعالمی رائے عامہ اب بھی بیدار نہیں ہوئی تو کیا پھر انسانی حقوق کی تنظیمیں اس وقت بیدار ہوں گی جب پوری دنیا میں خطرناک نیوکلیئر بم پھٹ چکے ہوں گے؟صرف ایک مسلم ہی نہیں انسان ہونے کے ناطے میری انسانیت کے ٹھیکداروں سے استعداد ہے کہ ایرانی بچوں کے ان قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے تک ضرور لایاجائے تاکہ آئندہ کسی کو ہٹلر ثانی بننے کی جرأت نہ ہو۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus