×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
آبنائے ہرمز : عالمی معیشت کی شاہ رگ ایران کے کنٹرول میں
Dated: 17-Mar-2026
ایک تو امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ہیں اور ایک اصطلاح ’’ٹرمپ کارڈ‘‘ بھی ہوتی ہے۔ ٹرمپ کارڈ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آخری اور فیصلہ کن پتا پھینک دیا جائے۔ اب یہ فیصلہ کن پتا ایران کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ ایران کو اس کی اہمیت کا پہلے ہی سے علم تھا، کیونکہ پانچ ہزار سال سے اس کی تاریخ اسی علاقے سے وابستہ ہے۔ یہ سمندر بھی کوئی نئے نہیں بلکہ لاکھوں سال پرانے ہیں۔ ایران کو اس راستے کا بھی پورا علم تھا اور یہ سب ان کے ذہن میں تھا، اسی لیے انہوں نے اس حوالے سے پہلے ہی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ یہ ایسی قوم ہے جس پر تقریباً سینتالیس برس سے پابندیاں عائد ہیں۔ ان پابندیوں کے دوران انہیں صرف بیرونِ ملک سے ادویات منگوانے کی اجازت تھی، اس کے علاوہ کسی اور چیز کی اجازت نہیں تھی۔ ان حالات میں بھی انہوں نے اپنے انتظامات کیے، راکٹ تیار کیے، میزائل بنانے کی صلاحیت حاصل کی اور اپنے وسائل جمع کیے۔ پابندیوں کے باوجود ایران کی فضائی کمپنی ’’ماہان ایئر‘‘ کو زیادہ ممالک میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ صرف ایک دو ملکوں تک جا سکتی تھی جن کے ساتھ ایران کے سفارتی تعلقات تھے یا جہاں اقوامِ متحدہ نے اجازت دی ہوئی تھی۔ ایران کے وزیرِ خارجہ کو بھی بیرونِ ملک سفر کے لیے خاص اجازت درکار ہوتی تھی۔ ان تمام حالات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے دن سے ہی امریکہ کے ساتھ اس جنگ کے لیے تیار تھے۔ جنگوں میں جانی نقصان بھی ہوتا ہے، مالی نقصان بھی ہوتا ہے اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ ایران نے یہ سب نقصانات بارہا برداشت کیے ہیں۔ مثال کے طور پر علی خامنہ ای کی موت، اس سے پہلے جنرلقاسم سلیمانی کی موت کوئی معمولی دھچکا نہیں تھا۔ اسی طرح حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کی موت، حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کی موت اور صدر ابراہیم رئیسی کی موت جیسے واقعات بھی پیش آئے۔ یہ چار پانچ بڑے جھٹکے دو سال کے اندر لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران پہلے ہی حالتِ جنگ میں تھا۔ یہ کہنا کہ ایران اب حالتِ جنگ میں آیا ہے درست نہیں۔ ایران پہلے ہی اس کیفیت میں تھا اور اسی دوران اس نے اپنے میزائل بنانے کے پروگرام کو بہت آگے بڑھایا۔ اس کے پاس اتنے میزائل موجود ہیں کہ اگر وہ اسی رفتار سے استعمال کرے جس رفتار سے آج کر رہا ہے تو آئندہ تین مہینے تک مسلسل جنگ جاری رکھ سکتا ہے۔ اس کے اسلحہ بنانے والے کارخانے، میزائل، ڈرون اور راکٹ بنانے والے مراکز بدستور کام کر رہے ہیں۔ ادھر اسلحہ استعمال ہو رہا ہے اور ادھر تیار بھی ہو رہا ہے۔ اسرائیل کی صورتِ حال یہ ہے کہ اس کے پاس روکنے والے میزائل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ ایران کے پچیس ہزار ڈالر کے ایک ڈرون کو مار گرانے کے لیے چالیس لاکھ ڈالر کا راکٹ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اب یہ راکٹ بھی کم ہونے لگے ہیں۔ اسی لیے اسرائیل نے امریکہ کو مزید اربوں ڈالر دے کر نئے روکنے والے میزائل حاصل کرنے کا انتظام کیا ہے۔ امریکہ کے پاس بھی یہ محدود مقدار میں رہ گئے ہیں۔ اسرائیل اب یوکرین سے بھی ایسے میزائل حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین نے یہ راکٹ اور میزائل اسرائیل کو دیے تو ایران اسی طرح یوکرین پر بھی حملہ کرے گا جیسے وہ اسرائیل پر کر رہا ہے، اور ان ممالک پر بھی کررہا ہے جن کی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ یورپی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران ایک سال تک جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے۔ اسی طرح امریکہ کی طرف سے وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر کے لے جانا اور وہاں عبوری صدر بنانے کا منصوبہ بھی ناکام ہو گیا۔ مقصد یہ تھا کہ وینزویلا کا تیل امریکی کمپنیاں یا امریکی حکومت فروخت کرے، اس میں سے وینزویلا کو معمولی حصہ دے اور باقی رقم امریکہ استعمال کرے۔ لیکن یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ تیل زیادہ تر انہی علاقوں میں جانا تھا جہاں اس کے خریدار موجود ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے انڈیا ایک بڑا ملک ہے اور اس کا تقریباً اسی فیصد تیل اور گیس آبنائے ہرمز کے راستے سے گزرتا ہے۔ اسی طرح چائنا کا بھی تقریباً اسی فیصد تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یعنی دنیا کا بہت بڑا حصہ اسی راستے پر انحصار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایشیا کے دیگر ممالک جیسے پاکستان اور جاپان بھی اسی راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو گویا عالمی معیشت کی سانس رک سکتی ہے۔ اس وقت یہ صرف جنگ نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ بھی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایران پر ایٹمی حملہ ممکن نہیں کیونکہ دنیا اس کی حمایت نہیں کرے گی۔ اسی برس پہلے جو واقعہ جاپان کے ساتھ پیش آیا تھا، اب ویسی صورتِ حال دوبارہ پیدا ہونا مشکل ہے۔ بحر ہرمز دراصل عالمی معیشت کی شہ رگ ہے اور اس پر ایران کا اثر بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ نے فرانس، جاپان، جرمنی اور یو کے سے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجیں، مگر جاپان، چین اور جرمنی سمیت کئی ممالک نے اس مطالبے سے انکار کر دیا۔ برطانیہ اس معاملے میں امریکہ کے ساتھ کھڑا نظر آ رہا ہے کیونکہ امریکی صدر نے اس پر دباؤ ڈالا تھا۔ باقی یورپی ممالک کا امریکہ کے ساتھ نہ کھڑا ہونا بعض مبصرین کے نزدیک ایران کی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ دراصل ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا اثر برقرار رکھ کر عالمی معیشت کی شہ رگ پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ تاہم وہ پوری دنیا کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتا۔ ایران کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جو ممالک چین کی کرنسی یوآن میں ادائیگی کریں گے، وہ جہاں سے بھی تیل خریدیں، ان کے تیل بردار جہاز یہاں سے گزر سکتے ہیں۔ اسی لیے ترکی، بنگلہ دیش اور حتیٰ کہ انڈیا کو بھی اپنے چند ٹینکر گزارنے کی اجازت مل چکی ہے۔ باقی ممالک بھی کوشش کر رہے ہیں کہ براہِ راست ایران سے رابطہ کر کے اپنے ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزار سکیں۔اس حکمتِ عملی سے ایران امریکہ کو اس تنہا کرتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے۔ باقی جہاں تک ایرانی لیڈرشپ کے مارے جانے کا تعلق ہے اس حوالے سے ایران نے فو پروف حکمت عملی طے کر رکھی ہے ایران کو 31 یونٹس میں تبدیل کیا گیا ہے۔ہریونٹ کا الگ سے کمانڈر ہے اور الگ سے اس کے پاس اسلحہ موجود ہے۔اسلحہ ساز فیکٹریاں بھی الگ سے ہیں۔انہیں کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی حکم کا انتظار کیے بغیر اپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہیں معاملات کو ہینڈل کر سکتے ہیں۔اگر ایران کی ساری کی ساری فوجی قیادت بھی خدانخواستہ ختم ہو جاتی ہے جس کا قطعی طور پر امکان نہیں ہے بالفرض ایسا ہوتا ہے تو بھی ایران کا سسٹم آٹو پر آ جائے گا اور ہر کمانڈر اسی طرح سے حملے جاری رکھے گا جس طرح آج ہو رہے ہیں اس لیے یہ جنگ جتنی بھی طویل ہو ایران کے لیے مسئلہ نہیں ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus