×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اسلام آباد مذاکرات: ناکامی نہیں، اہم پیش رفت
Dated: 15-Apr-2026
اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ ایران۔امریکہ مذاکرات بظاہر کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوئے، تاہم انہیں مکمل ناکامی قرار دینا حقیقت کے منافی ہوگا۔ سفارتی دنیا میں یہ ایک تسلیم شدہ اصول ہے کہ بڑے تنازعات کا حل ایک نشست میں نہیں نکلتا بلکہ طویل اور پیچیدہ عمل کے ذریعے ہی راستہ بنتا ہے۔ یہی کچھ اس مرحلے میں بھی دیکھنے میں آیا، جہاں اختلافات کے باوجود فریقین نے آئندہ مذاکرات کے لیے راہ ہموار کر لی ہے۔ ان مذاکرات کی خاص بات یہ رہی کہ تقریباً 24 سے 25 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس طویل ترین سیشن میں کئی اہم نکات زیر بحث آئے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایجنڈے میں آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام، پابندیاں، جنگی ہرجانہ اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے جیسے حساس معاملات شامل تھے۔ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مذاکرات محض رسمی نہیں بلکہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کے تھے۔ایران کی جانب سے محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی نے قیادت کی، جبکہ امریکی وفد کی نمائندگی جے ڈی وینس نے کی۔ مذاکرات کے بعد جے ڈی وینس کا بیان خاصا اہم تھا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ سنجیدہ گفتگو ہوئی، مگر ایران نے امریکی شرائط قبول نہیں کیں، جس کے باعث کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا۔دوسری جانب ایران کا مؤقف بھی اتنا ہی واضح تھا۔ قالیباف نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو ایران کے اصولی مؤقف کو سمجھنا ہوگا اور غیر ضروری و غیر قانونی مطالبات سے گریز کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس حسن نیت موجود ہے، مگر ماضی کے تجربات کی بنیاد پر مکمل اعتماد ممکن نہیں۔ یہ بیان دراصل دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے گہرے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، جو کسی بھی پیش رفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ خطے کی مجموعی صورتحال بھی ان مذاکرات پر اثرانداز ہوتی نظر آتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک بار پھر سخت بیانات اور آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند رکھنے سے متعلق دباؤ نے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔صدر ٹرمپ نے پھر دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے ابنائے ہرمز نہ کھولی تو ہم اسے بلاک کر دیں گے ایران کے جہاز بھی یہاں سے گزر کر کسی بھی ملک کو تیل فروخت نہیں کر سکیں گے۔صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے بھی ڈیڈ لائن دی۔جنگ بندی 21 اپریل تک ہوئی ہے۔ ابنائے ہرمز کو ایران کی طرف سے نہ کھولے جانے پر ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل کر سکتے ہیں۔ ایران نے امریکہ کے اس اقدام کو بھی قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہاں ایک دوسرے پر حملے ہو سکتے ہیں مگر یہ کشیدگی محدود پیمانے پر رہنے کا امکان ہے جب کہ جنگ بندی برقرار رہتے ہوئے مستقل بنیادوں پر بھی استوار ہو سکتی ہے۔ تاہم اس تمام تر کشیدگی کے باوجود ایک مثبت پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ دونوں فریقین بعض معاملات پر جزوی اتفاق تک پہنچ گئے تھے۔ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق متعدد نکات پر مفاہمت ہو چکی تھی، مگر چند اہم ایشوز پر اختلاف باقی رہ گیا، جس نے حتمی معاہدے کی راہ روک دی۔ان مذاکرات میں پاکستان کا کردار بھی قابلِ ذکر رہا۔ شہباز شریف کی قیادت میں حکومت اور عسکری قیادت نے دونوں فریقین کے درمیان فاصلے کم کرنے کی بھرپور کوشش کی، جسے نہ صرف ایران بلکہ امریکہ اور یورپی یونین نے بھی سراہا۔ یہ امر پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔مزید برآں، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان رابطہ بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اس تنازعے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے بھی ثالثی کی پیشکش سامنے آئی ہے، جو آئندہ مذاکرات کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگرچہ اسلام آباد مذاکرات کسی ٹھوس معاہدے پر منتج نہیں ہوئے، مگر انہوں نے ایک اہم بنیاد فراہم کی ہے۔ ممکنہ طور پر اگلا مرحلہ ترکی میں منعقد ہو سکتا ہے، جہاں فریقین مزید پیش رفت کی کوشش کریں گے۔موجودہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر ایک طرف کشیدگی میں اضافے کے خدشات موجود ہیں، تو دوسری جانب سفارت کاری کے دروازے بھی کھلے ہیں۔ یہی وہ توازن ہے جو مستقبل کا تعین کرے گا۔آیا دنیا ایک اور بحران کی طرف بڑھے گی یا مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں سفارت کاری اور جنگ کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ بیانات اور پیش رفت نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ اگر معاملات سنبھالے نہ گئے تو خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اس تناظر میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کا سخت اور دوٹوک مؤقف عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔اردگان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ لبنان اور ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ دراصل ترکیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر جاری سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ترکیہ اسرائیل کے خلاف عملی اقدام اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل خطے میں کشیدگی بڑھانے کا بنیادی عنصر بن چکا ہے اور وہ مسلسل امن عمل کو سبوتاڑ کر رہا ہے۔ ترک صدر نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘‘آگ سے کھیلنا بند کرے’’، بصورت دیگر اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ ماضی میں ناگورنو کاراباخ اور لیبیا میں جس طرح مداخلت کر چکا ہے، اسی طرز پر اسرائیل کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ یہ بیان نہ صرف ترکیہ کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔اردگان نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ‘‘خون اور نفرت میں اندھا’’ قرار دیا اور ان کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات درج کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے باوجود لبنان میں نہتے شہریوں کا قتل اور فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت جیسے اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ عالمی قوانین کی بھی نفی کرتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں کشیدگی کی جڑیں کتنی گہری ہو چکی ہیں۔ غزہ میں ہونے والی تباہی ابھی دنیا کے سامنے ایک زندہ مثال ہے، جہاں مسلسل حملوں نے انسانی بحران کو جنم دیا۔ خدشہ یہی ہے کہ اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا تو دیگر ممالک بھی اسی قسم کی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں۔تاہم اس تمام تر صورتحال میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ترکیہ تنہا اس چیلنج کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر دیگر مسلم ممالک رجب طیب اردگان کا ساتھ دیں اور ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اجتماعی سفارت کاری، سیاسی اتحاد اور ضرورت پڑنے پر مشترکہ دفاعی حکمت عملی اسرائیل کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کر سکتی ہے۔لیکن اگر مسلم دنیا بدستور تقسیم کا شکار رہی اور ہر ملک اپنی الگ ترجیحات میں الجھا رہا، تو خدشہ یہی ہے کہ ایک ایک کر کے سب کو اسی دباؤ اور ممکنہ تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسا کہ غزہ میں دیکھا جا چکا ہے۔ یہ وقت صرف بیانات کا نہیں بلکہ عملی فیصلوں کا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ آیا خطے کی قیادت کشیدگی کو کم کرنے کے لیے متحد ہوتی ہے یا اختلافات کی دلدل میں پھنس کر حالات کو مزید بگاڑ دیتی ہے۔ اگر سفارت کاری کو موقع دیا گیا تو امن کی امید باقی ہے، بصورت دیگر ایک وسیع تر تصادم کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus