×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ٹرمپ پر حملہ، عالمی کشیدگی اور امن کے لیے پاکستان کا کلیدی کردار
Dated: 28-Apr-2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حالیہ حملے نے ایک بار پھر عالمی سلامتی کے نظام، انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی اور بین الاقوامی سیاسی کشیدگی کے باہمی تعلق کو نمایاں کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں واقع ہلٹن ہوٹل میں منعقدہ ایک اہم تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آنا بذاتِ خود ایک بڑا سکیورٹی سوال ہے۔ اگرچہ ایف بی آئی اور دیگر امریکی سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا، لیکن یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ حملہ آور حساس ترین سکیورٹی حصار کو عبور کر کے تقریب کے قریب تک پہنچنے اور فائرنگ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو جہاں تعریف بنتی ہے وہاں احتساب کی بھی گنجائش موجود ہے۔واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے سکیورٹی انتظامات پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ہونے والی اس تقریب میں فائرنگ کرنے والے ملزم کی شناخت کول تھامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جو 31 سالہ شخص ہے اور کیلیفورنیا کے شہر ٹورینس کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ملزم ہوٹل میں پہلے سے مقیم تھا، جس کی وجہ سے اسے تقریب کے مقام تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوئی۔ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے موقع پر ہی اپنا اسلحہ اسمبل کیا اور مرکزی سکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب پہنچ کر فائرنگ کی۔ اس نے 7 سے 8 گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں ہال میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد مہمان اپنی جان بچانے کے لیے میزوں کے نیچے چھپنے پر مجبور ہو گئے۔ ملزم کے قبضے سے شاٹ گن، ہینڈ گن اور کئی چاقو برآمد ہوئے ہیں، جس سے اس کے ارادوں کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم سکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے فوری طور پر قابو میں کر لیا۔ یو ایس سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے حملہ آور کو زمین پر گرا کر گرفتار کیا، جبکہ اس دوران ایک ایجنٹ زخمی بھی ہوا۔ خوش قسمتی سے وہ بلٹ پروف جیکٹ پہنے ہوئے تھا، جس کے باعث اس کی جان محفوظ رہی اور اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔حملہ آور نے بھی بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔اگر یہ خودکش حملہ اور ہوتا ہے تو جتنا نقصان وہاں پہ ہو سکتا ہے اس کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی جسم میں سنسنی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ عندیہ ملا ہے کہ حملہ آور نے یہ کارروائی اکیلے کی، تاہم اس کے محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے۔ پولیس کے مطابق یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا اس کا ہدف کوئی مخصوص شخصیت تھی یا وہ محض خوف و ہراس پھیلانا چاہتا تھا۔ویسے محض خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کوئی بھی اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتا۔واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی اداروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام کو بحفاظت مقام سے منتقل کر دیا۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہایت تیزی اور بہادری سے صورتحال کو کنٹرول کیا۔ یہ واقعہ اگرچہ ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہونے سے بچ گیا، لیکن اس نے یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ انتہائی حساس اور اعلیٰ سطحی تقریبات میں سکیورٹی کے مزید مؤثر انتظامات کی کتنی ضرورت ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب عالمی سیاسی کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہو۔اس واقعے کے فوری بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ آور کو ‘‘لون وولف’’ قرار دیا اور عندیہ دیا کہ ابتدائی طور پر اس واقعے کا کسی ریاست، خصوصاً ایران سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ تاہم ان کا یہ کہنا کہ ‘‘آپ کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتے’’ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاست میں غیر یقینی صورتحال کس قدر بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے سخت مؤقف کو دہراتے ہوئے ممکنہ اقدامات کی بھی بات کی، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے۔ یہ تمام پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب خطے میں اہم سفارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دور? اسلام آباد، اور ان کی وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقاتیں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے نہایت سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جو پاکستان کی متوازن سفارتی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی وفد جس میں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ان کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا اعلان بظاہر ایک منفی پیش رفت محسوس ہوا، لیکن اس کے باوجود پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری رہیں۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ‘‘تمام کارڈز ہمارے پاس ہیں’’ اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے طویل سفر کو غیر ضروری قرار دینا امریکی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، تاہم انہوں نے پاکستان کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک مثبت اور مؤثر کردار قرار دیا۔ ادھر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سہولت کاری جاری رکھے گا۔ انہوں نے میڈیا کو بھی محتاط رہنے کی تلقین کی اور زور دیا کہ صرف سرکاری بیانات ہی پاکستان کے مؤقف کی درست نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل ایک ذمہ دار ریاست کی علامت ہے جو نہ صرف داخلی نظم و ضبط برقرار رکھتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی سنجیدہ سفارتکاری کو فروغ دیتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اب صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی معیشت، توانائی کے ذخائر، تجارتی راستے اور سکیورٹی کے خدشات سب اس تنازع سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جو دونوں فریقین کے ساتھ بات چیت کی صلاحیت رکھتا ہے اور اعتماد کی فضا قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس بات کا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اب ایک فعال اور ذمہ دار سفارتی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس کی کوششوں نے نہ صرف کشیدگی میں کمی کی امید پیدا کی ہے بلکہ اسے ایک اہم امن شراکت دار کے طور پر بھی اجاگر کیا ہے۔ تاہم، کسی بھی ثالثی کی کامیابی کا دارومدار فریقین کی آمادگی پر ہوتا ہے۔ جب تک امریکا اور ایران اپنے مؤقف میں لچک پیدا نہیں کرتے، اس وقت تک کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا مشکل رہے گا۔دوسری جانب، اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے تو جنوبی ایشیا بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ بھارت میں پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہونے پر سیاسی ہنگامہ عروج پر ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو اپوزیشن اور غیر جانبدار حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان پر بغیر ٹھوس شواہد کے الزامات عائد کیے گئے، جس کے نتیجے میں نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھی بلکہ بعد ازاں عسکری سطح پر بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خطرات پھر منڈلا رہے ہیں اور دوسری طرف جنوبی ایشیا میں عدم اعتماد کی فضا برقرار ہے۔ ایسے میں پاکستان کا متوازن، ذمہ دار اور فعال سفارتی کردار نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک امید بھی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus