×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جنگ کے بعد کا منظرنامہ
Dated: 05-May-2026
ہمیشہ عالمی سیاست میں نئی صف بندیوں، نئے اتحادوں اور طاقت کے توازن میں تبدیلیوں کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ حالیہ حالات میں بھی یہی کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں ایک طرف بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت نئے بلاکس تشکیل دے رہی ہیں، وہیں دوسری جانب علاقائی ممالک اپنی سفارتی حیثیت کو مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ایسے ہی پیچیدہ ماحول میں پاکستان نے ایک غیر معمولی سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ 44 برسوں سے کشیدہ تعلقات رکھنے والے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا کسی بھی ملک کے لیے آسان نہیں تھا۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر سخت معاشی پابندیاں عائد تھیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اس کے باوجود پاکستان نے مسلسل کوششیں جاری رکھیں، جو بالآخر نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان سفارتی کوششوں میں سید عاصم منیر نے غیر معمولی دانشمندی اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ ان کی شبانہ روز محنت کے باعث دونوں ممالک اسلام آباد میں مذاکرات پر آمادہ ہوئے، جو پاکستان کی سفارتی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان ہی کی درخواست پر جنگ بندی کی راہ بھی ہموار ہوئی، جس نے خطے کو ایک ممکنہ بڑے بحران سے بچا لیا۔دوسری جانب، پاک-بھارت کشیدگی کے تناظر میں بھی پاکستان کا کردار اہم رہا۔ بھارت کی جانب سے 6 مئی کو کی جانے والی جارحیت کو ایک سال مکمل ہونے پر یہ حقیقت مزید نمایاں ہوتی ہے کہ اس بحران کے دوران عالمی طاقتوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، جس پر پاکستان کی قیادت نے نہ صرف اعتراف کیا بلکہ ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں اس بات کا ذکر بھی سامنے آیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں کروڑوں انسانی جانیں بچائی گئیں۔ ٹرمپ نے کئی مواقع پر اس بیان کو دہرایا اور ساتھ ہی پاکستانی قیادت، خصوصاً عسکری قیادت کی صلاحیتوں کو بھی سراہا۔ ان کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے متعدد طیارے مار گرائے، جو اس کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ادھر، 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور ایک اہم پیش رفت تھا۔ اگرچہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا، تاہم اسے ناکامی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ بین الاقوامی مذاکرات اکثر مرحلہ وار آگے بڑھتے ہیں، جہاں کبھی تعطل اور کبھی پیش رفت دیکھنے کو ملتی ہے۔ دونوں فریقین کی جانب سے سخت شرائط اور بیانات کے باوجود مذاکرات کا تسلسل برقرار رہنا بذات خود ایک مثبت علامت ہے۔ حال ہی میں وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنی شرائط میں نرمی پیدا کی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ کسی ممکنہ حل کی جانب بڑھنا چاہتا ہے۔ ایران کی جانب سے فوری پابندیوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبرداری اور پاکستان میں مزید مذاکرات پر آمادگی ایک بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔پاکستان نے ایک طویل عرصے بعد یہ صلاحیت دکھائی ہے کہ وہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ فریقین براہ راست اور بالواسطہ رابطے میں ہیں، اور پاکستان اس عمل میں ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جب امریکہ نے جنگ بندی کا اعلان کیا اور ایران نے بھی اس پر آمادگی ظاہر کی، تو بظاہر خطے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ جنگ بندی صرف محدود دائرے تک نہیں بلکہ لبنان سمیت ان تمام علاقوں پر لاگو ہوگی جہاں کشیدگی جاری ہے۔ اس مؤقف کی توثیق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی کی گئی، جس سے امید پیدا ہوئی کہ تنازع ایک وسیع تر امن معاہدے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آئے۔ لبنان میں اسرائیل کے حملے نہ صرف جاری رہے بلکہ ان میں شدت بھی دیکھنے میں آئی۔ ایک ہی دن میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات نے اس جنگ بندی کی ساکھ کو متاثر کیا۔ اس صورتحال پر ایران نے شدید ردِعمل ظاہر کیا اور یہاں تک عندیہ دیا کہ اگر حملے نہ رکے تو جنگ بندی ختم کی جا سکتی ہے۔ابتدائی طور پر اسرائیل اور امریکی مؤقف یہ تھا کہ لبنان اس جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں تھا، مگر بڑھتے ہوئے دباؤ اور بگڑتی صورتحال کے پیش نظر بالآخر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان بھی سیز فائر کروانے میں کردار ادا کیا۔ اس پیش رفت کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عندیہ دیا، جو عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں اس اقدام کو مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بظاہر اس اقدام کو سراہا، مگر ساتھ ہی متضاد بیانات دیتے ہوئے اس گزرگاہ کو بدستور محدود رکھنے کی بات بھی کی، جس سے عالمی سطح پر بے یقینی اور مایوسی میں اضافہ ہوا۔اگر ایران کے اعلان کے ساتھ ہی امریکہ بھی عملی طور پر محاصرہ ختم کر دیتا تو یہ اعتماد سازی کی ایک بڑی مثال ہو سکتی تھی۔ لیکن فریقین کے درمیان بداعتمادی اب بھی واضح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مواقع پر ٹرمپ کے بیانات کو غیر سنجیدہ بھی قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر جب وہ امریکی بحریہ کے اقدامات کو ‘‘قزاقوں’’ سے تشبیہ دیتے ہیں اور اسے منافع بخش قرار دیتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں سینکڑوں تیل بردار جہاز رکے ہوئے ہیں، جن کی روانگی عالمی ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔ یہ تضادات نہ صرف سفارتی عمل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات ڈالتے ہیں، جو پہلے ہی اس تنازع کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ اس تناظر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ ایران نے اپنے مؤقف میں لچک دکھائی ہے، مگر اصل پیش رفت کا دارومدار بڑی حد تک امریکہ کے فیصلوں پر ہے۔پاکستان اس پورے عمل میں ایک بار پھر ایک ذمہ دار اور فعال ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ماضی میں بھی وہ مذاکرات کی راہ ہموار کر چکا ہے اور آئندہ بھی جب کبھی فریقین آمادہ ہوں، وہ سہولت کاری کے لیے تیار ہے۔ تاہم یہ کوششیں اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب متعلقہ ممالک سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور عملی اعتماد سازی کے اقدامات کریں۔آخرکار، امن محض بیانات یا عارضی جنگ بندیوں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مستقل مزاجی، واضح حکمت عملی اور باہمی اعتماد ناگزیر ہوتا ہے—اور یہی وہ عناصر ہیں جن کی اس وقت سب سے زیادہ کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ جلد یا بدیر اس جنگ کا خاتمہ ہونا ناگزیر ہے، کیونکہ طویل تنازعات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ناقابلِ برداشت معاشی اور سیاسی بوجھ بن جاتے ہیں۔ اس مرحلے پر صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ چین اور روس بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی یہ مشترکہ دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تنازع محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔تاہم ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے غیر روایتی طرزِ سیاست رکھنے والے رہنما کی موجودگی میں کسی بھی معاہدے یا مستقل جنگ بندی کے باوجود غیر یقینی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔ ان کے طرزِ بیان اور پالیسیوں میں تسلسل کی کمی بعض اوقات اچانک فیصلوں یا مہم جوئی کے خدشات کو جنم دیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس کشیدگی نے علاقائی صف بندیوں کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں غیر معمولی قربت دیکھنے میں آئی ہے، حتیٰ کہ دفاعی تعاون کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن میں میزائل دفاعی نظام کی فراہمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ امارات پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کر چکا ہے، جس کے بعد دونوں کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔اسی طرح امارات کے بھارت کے ساتھ تعلقات میں بھی گرمجوشی آئی ہے، جبکہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات پہلے ہی قریبی نوعیت کے ہیں۔ ان تینوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت ایک نئے اسٹریٹجک بلاک کی نشاندہی کرتی ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔دوسری جانب، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں دراڑیں نمایاں ہوئی ہیں۔ یمن میں پیش آنے والے واقعات، خصوصاً امارات کے بحری جہازوں پر حملے اور اسلحے کی مبینہ ترسیل کے الزامات نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کو بڑھایا۔ اس کے بعد امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس جیسے فورمز سے علیحدگی اختیار کرنا اس خلیج کو مزید گہرا کر گیا۔ جہاں امارات اور سعودی عرب کے درمیان فاصلے بڑھے، وہیں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مضبوط ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ نیٹو، جو طویل عرصے سے مغربی اتحاد کی علامت رہا ہے، اب اندرونی اختلافات کا شکار نظر آتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو پر تنقید اور اسے امریکہ پر بوجھ قرار دینا اس اتحاد کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ہم اپنے کالموں میں بار بار نیٹو کے ٹوٹنے کی پیش گوئی کر چکے ہیں۔ اب نیٹو کا ٹوٹنا یقینی ہے۔یورپی طاقتیں جیسے فرانس، برطانیہ، جرمنی اور اٹلی، جو ماضی میں اکثر امریکہ کے مؤقف کی حمایت کرتی رہی ہیں، اب بعض معاملات میں قدرے محتاط اور فاصلے پر دکھائی دیتی ہیں، خصوصاً ایران کے ساتھ کشیدگی کے معاملے میں۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سیاست یک قطبی سے کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دنیا ایک نئے جیوپولیٹیکل دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں پرانے اتحاد کمزور اور نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی—موقع اس لیے کہ وہ اپنی سفارتی اہمیت کو بڑھا سکتے ہیں، اور چیلنج اس لیے کہ انہیں انتہائی محتاط توازن قائم رکھنا ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus