×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سنتِ ابراہیمیؑ کا فلسفہ اور واللہ! یہ کیسا معجزہ؟
Dated: 26-May-2026
سن سب گلوبل فراڈ انڈیکس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان فراڈ، آن لائن دھوکہ دہی اور سائبر جرائم کے خطرات کے اعتبار سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار پایا ہے۔ اس رپورٹ نے نہ صرف پاکستان کے مالیاتی اور ڈیجیٹل نظام پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں بلکہ معاشرتی، انتظامی اور قانونی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ گلوبل فراڈ انڈیکس میں پاکستان کی پہلی پوزیشن۔عالمی فراڈ انڈیکس میں پاکستان کو 7.48 کا اسکور دیا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں آن لائن فراڈ، سائبر دھوکہ دہی اور مالیاتی جرائم کا خطرہ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس فہرست میں پاکستان پہلے، انڈونیشیا دوسرے جبکہ نائیجیریا تیسرے نمبر پر موجود ہے۔یہ درجہ بندی صرف ایک عددی رپورٹ نہیں بلکہ اس حقیقت کی عکاس ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت جتنی تیزی سے پھیل رہی ہے، اس کے تحفظ کے لیے اسی رفتار سے اقدامات نہیں کیے جا سکے۔عالمی انسدادِ فراڈ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آن لائن خریداری، جعلی سرمایہ کاری اسکیموں، بینکاری فراڈ اور سائبر جرائم کے ذریعے سالانہ تقریباً 9 ارب ڈالر لوٹے جا رہے ہیں۔ یہ رقم پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً ڈھائی فیصد بنتی ہے۔ ہزار اور پانچ ہزار کے نوٹ اگر آپ بینک یا منی چینجر سے حاصل کریں تو بظاہر اطمینان ہوتا ہے کہ رقم اصلی ہوگی، کیونکہ منی چینجر رسید بھی دیتے ہیں اور قانونی طور پر ذمہ دار بھی ہوتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود بعض اوقات ایک پیکٹ میں ایک دو جعلی نوٹ نکل ہی آتے ہیں۔ یہ صرف کرنسی تک محدود نہیں، جعل سازی تو ہمارے معاشرے کے ہر شعبے میں سرایت کر چکی ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں فراڈ، دھوکہ دہی اور جعل سازی ایک معمول بنتے جا رہے ہیں۔ دیہات سے بیوپاری جانور خرید کر شہروں میں لاتے ہیں تو فراڈیئے گاہک بن کر ان سے سودا کرتے ہیں۔ جلدی جلدی ہاتھوں پر ہاتھ مار کر سودا طے ہوتا ہے اور پھر چالاکی سے جعل سازی کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔بھیڑ کو مصنوعی طریقوں سے دنبہ بنا کر فروخت کیا جاتا ہے۔ بکرے کے دانت تبدیل کر کے اسے ’’دوندا‘‘ ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ قیمت وصول کی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے بعض جعلی دندان ساز بھی سرگرم ہیں۔ پہلے دندان سازی صرف انسانوں تک محدود تھی، مگر اب جانوروں کے دانت لگا کر انہیں کم عمر یا زیادہ قیمتی ظاہر کرنا بھی ایک کاروبار بن چکا ہے۔ لوگ پیسے دے کر بکرے کو’’دوندا‘‘ بنواتے ہیں اور پھر بھاری قیمت وصول کرتے ہیں۔ معاشرے میں دھوکہ دہی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب ایمانداری حیرت اور بددیانتی معمول محسوس ہونے لگی ہے۔ ہمارے بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں پر اربوں روپے کی کرپشن کے مقدمات قائم ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے کرپشن اور جعل سازی کے خلاف قوانین تو بنا رکھے ہیں، مگر عملی طور پر احتساب کا نظام ہمیشہ سوالات کی زد میں رہا ہے۔نیب کی جانب سے تین ٹریلین روپے کی ریکوری کو بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تین ٹریلین روپے واپس آئے ہیں تو ملک سے کتنی بڑی مقدار میں دولت لوٹی گئی ہوگی؟ اگر صرف چند فیصد ریکور ہوا ہے تو باقی دولت کہاں گئی؟ یہ ایک ایسا لمحۂ فکریہ ہے جس پر ریاست، اداروں اور عوام سب کو غور کرنا ہوگا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دھوکہ دہی صرف کاروبار یا سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ عبادات جیسے مقدس معاملات بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔ گزشتہ برس متعدد حاجی فراڈ کی وجہ سے حج جیسی عظیم سعادت سے محروم رہ گئے۔ اللہ کے مہمانوں کے ساتھ بھی دھوکہ کیا گیا۔ بعض نجی ٹور آپریٹرز نے لوگوں سے رقوم وصول کیں مگر انہیں حج پر نہ بھیجا۔اگر یہ بدعنوانی کسی نچلی سطح پر ہوتی تو شاید اتنا صدمہ نہ ہوتا، مگر جب وزارتی سطح پر ایسے اسکینڈلز سامنے آئیں تو قوم کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچتی ہے۔ حاجیوں سے فراڈ کے الزام میں ایک وزیر اور متعلقہ عملے کے کئی افراد گرفتار بھی ہوئے اور سزائیں بھی سنائی گئیں، مگر اس کے باوجود نظام مکمل طور پر شفاف نہ بن سکا۔ سوال یہ ہے کہ کیا جھوٹ، فراڈ، دھوکہ دہی، لوٹ مار اور بددیانتی ہماری گھٹی میں پڑ چکی ہے؟ کیا ہم نے اجتماعی طور پر سچائی اور دیانت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے؟ اگر ایک معاشرہ ہر سطح پر جعل سازی کو برداشت کرنے لگے تو پھر اعتماد ختم ہو جاتا ہے، اور جس معاشرے سے اعتماد اٹھ جائے وہاں ترقی، انصاف اور خوشحالی صرف خواب بن کر رہ جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف حکومت یا اداروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے خود بھی اپنے کردار کا جائزہ لیں۔ جب تک فرد اپنی نیت، کردار اور معاملات میں دیانت داری پیدا نہیں کرے گا، اس وقت تک معاشرے سے بدعنوانی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ایک قوم کی اصل طاقت اس کی معیشت یا ہتھیار نہیں بلکہ اس کی اخلاقیات اور سچائی ہوتی ہے۔فراڈ صرف کسی ایک بڑے طبقے یا ادارے تک محدود نہیں رہتا، یہ ایک ایسا رویہ بن چکا ہے جو چھوٹے روزمرہ معاملات سے شروع ہو کر بڑے معاشی اور انتظامی ڈھانچوں تک پھیل جاتا ہے۔ کبھی یہ دکان کی سطح پر نظر آتا ہے، کبھی سروس انڈسٹری میں، اور کبھی ریاستی نظام تک اس کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ راقم کا ذاتی تجربہ بھی اسی کیفیت کی ایک چھوٹی مگر واضح مثال ہے۔ ایک مرتبہ میں ایک دکان سے سامان خریدنے گیا۔ بظاہر معاملہ معمول کے مطابق تھا، مگر بعد میں دکاندار نے شاپر بدل دیا۔ یہ ایک چھوٹی سی حرکت تھی، مگر اس میں وہی ذہنیت جھلک رہی تھی جو اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ لکشمی چوک کے ایک مشہور ریسٹورنٹ کا ہے، جہاں کا چرغہ خاصا معروف ہے۔ میں نے آن لائن آرڈر کیا۔ ڈیلیوری مین آیا، رقم لی اور چلا گیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد فون آیا کہ دیے گئے نوٹوں میں سے کچھ’’جعلی‘‘ ہیں۔یہ سن کر پہلا سوال یہی ذہن میں آتا ہے کہ اگر نوٹ مشکوک تھے تو ان کی جانچ اسی وقت کیوں نہ کی گئی؟ ڈیلیوری کے وقت ہی تصدیق کیوں نہ ہوئی؟ آدھے گھنٹے بعد اس قسم کی اطلاع ایک عام صارف کو ذہنی دباؤ میں ڈال دیتی ہے، خاص طور پر جب وہ پہلے ہی ادائیگی کر چکا ہو اور ٹپ بھی دے چکا ہو۔ یوں ایک معمول کا لین دین بھی بے اعتمادی کی فضا میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اسی طرح کے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ’’اعتماد‘‘ کتنا کمزور ہو چکا ہے۔ ہر فریق دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگا ہے، اور چھوٹے معاملات بھی تنازع کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ کویت سے ایک کویتی ہر ہفتے عمرہ کرنے چلا جاتا تھا عمر ہ کرکے آتا تو اس کو سال ہو گیا اور ایئر پورٹ والے ان کو پہچاننے لگتے ہیں۔ ایک دفعہ وہ پاس سے گزرا تو ان کو واٹکا شراب کی خوشبو آئی ۔واٹکا شراب وائٹ کلر کی ہوتی ہے اور وہ پانی کی طرح ہوتی ہے اور کے اوپر اس نے زم زم کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں انہوں نے کھول کر دیکھا تو کہا کہ اوئے یہ کیا ہے۔اس نے کہا کہ میں تو عمرہ کرکے آیا ہوں۔ وہ عمرہ کرنے کویت سے سیدھا سعودی عرب نہیں جاتا وہ ایمریٹس ایئر لائن سے جاتا تھا وہ پہلے دبئی جاتا تھا کیونکہ وہاں دبئی سے شراب خریدتا تھااور باہر سے خالی گیلن لے کر آتا تھا وہ ایئرپورٹ کے واش روم میں جا کر بوتلوں میں شراب بھر لیتا تھا۔ انہوں نے کہا یہ کیا ہے یہ شراب ہے اس نے کہا واللہ معجزہ۔میں تو آب زمزم لے کے آیا تھا۔(عیدالاضحی ،بڑی عید یا عید قربان کی آمد آمد ہے اور یہ سنت ابراہیمیؑ ہمیں محبت، ایثار اور قربانی سکھاتی ہے ۔یعنی جو چیز آپ کے پاس ہو اسے کسی دوسرے کے لیے سکریفائز کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔ اگر ہم آج سے ہی عہد کر لیں کہ ہم نے اسلام کا یہ خوبصور ت رکن فقط تہوار منانے کے لیے نہیں بلکہ اس سے سیکھا ہوا فلسفہ اپنے آپ پر طاری یا لاگو کرنا ہے تو یقین جانیے ہم بے شمار خرافات سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ اہلِ وطن ،مسلمانوں اور سنتِ ابراہیمیؑ پر یقین رکھنے والے تمام پاکستانیوں اور قارئین ’’نوائے وقت‘‘ کو بڑی عید کی بڑی خوشیاں مبارک ہوں! اپنی ان خوشیوں میں اپنے اردگر اور اطراف ضرورت مندوں کا بھی خیال رکھیے گا ۔یقینا بہت سے ایسے لوگ مل جائیں گے جنہیں آپ کی تھوڑی سی توجہ کی بہت بڑی ضرورت ہے۔عیدالاضحی مبارک!)
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus