×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سازشوں کے باوجود پاکستان امن کے لیے کوشاں!
Dated: 16-Jun-2026
دنیا کی تاریخ میں بعض اوقات ایسے نازک موڑ آتے ہیں جب ایک ہی وقت میں داخلی استحکام، علاقائی سیاست اور معاشی حالات ایک دوسرے سے جڑ کر کسی قوم کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ آج پاکستان بھی ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف داخلی امن و استحکام کے چیلنجز موجود ہیں، دوسری طرف خطے میں بڑی سفارتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور تیسری جانب عوام کی نظریں حکومت کے معاشی فیصلوں اور بجٹ پر مرکوز ہیں۔ آزاد کشمیر کے حالیہ حالات، ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مفاہمتی معاہدہ اور وفاقی بجٹ 2026-27 درحقیقت ایک ہی قومی داستان کے مختلف ابواب ہیں، جن کا مرکزی نکتہ پاکستان کا استحکام، ترقی اور مستقبل ہے۔ آزاد کشمیر: امن و استحکام سب سے بڑی ضرورت۔آزاد جموں و کشمیر ہمیشہ سے پاکستان کی شہ رگ اور قومی جذبات کا مرکز رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں پیدا ہونے والی ہر سیاسی یا سماجی کشیدگی کو صرف مقامی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔گزشتہ دنوں راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے واقعات نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ ابتدا میں عوامی مسائل اور معاشی مطالبات کے نام پر سامنے آنے والی تحریک کے بعض عناصر کی جانب سے ’’اپنی ریاست، اپنا جھنڈا، اپنا سکہ اور اپنی فوج‘‘ جیسے نعروں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ یہ نعرے محض معاشی مطالبات کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ ان کے پیچھے ایک وسیع تر سیاسی ایجنڈا کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے بیرونی سازشوں، دہشت گردی اور عدم استحکام کی کوششوں کا سامنا کرتا آیا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ دشمن قوتوں نے ہمیشہ پاکستان کے اندرونی اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب ایک محاذ پر ناکامی ہوئی تو دوسرے محاذ کو فعال کرنے کی کوشش کی گئی۔وزیراعظم نریندر مودی ان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی طرف سے واضح طور پر کہا گیا تھا کہ پاکستان جو کچھ کشمیر میں کر رہا ہے کشمیر سے مراد ان کی مقبوضہ کشمیر ہے۔ اس کا بدلہ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں چکائیں گے۔مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی طرف سے کوئی مداخلت اس لیے بھی ناممکن ہے کہ انڈیا نے لائن اف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سٹیل کی تاروں کی ایک طرح سے فولادی دیوار کھڑی کی ہوئی ہے لہٰذا ادھر سے اْدھر اور اْدھر سے ادھر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔یہ بھارت کے طرف سے جھوٹ بولا جاتا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں کسی قسم کی مداخلت کر رہا ہے۔بلوچستان میں دہشت گردی تو ضرور ہو رہی ہے لیکن بھارتی سازشوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر جیسے حساس علاقوں میں بھی انتشار پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جو عناصر بیرونی ایجنڈوں کے آلہ کار بن رہے ہیں تو انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلافِ رائے جمہوری حق ضرور ہے، مگر تشدد، اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم کسی مسئلے کا حل نہیں۔دشمن کی ایجنٹی تو کسی بھی قابلِ قبول اور قابلِ برداشت نہیں ہے۔راولاکوٹ کے واقعات میں پولیس اہلکاروں کی شہادت، سرکاری املاک پر حملوں اور ہسپتال کے محاصرے جیسے واقعات نے صورتحال کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا۔ اس کے باوجود حکومت آزاد کشمیر نے مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔ یہی جمہوری رویہ کسی بھی مسئلے کے حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بالآخر ہر تنازع مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوتا ہے۔ اس لیے جو عناصر قومی دھارے سے دور ہو گئے ہیں، ان کے لیے بھی یہی بہترین راستہ ہے کہ وہ تشدد اور تصادم سے دستبردار ہو کر آئینی اور جمہوری طریقہ اختیار کریں۔ ایران۔امریکا مفاہمت: امن کی نئی امید۔داخلی سطح پر چیلنجز کے ساتھ ساتھ خطے میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت بھی سامنے آ رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدے کی خبریں کئی برسوں کے بعد امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھری ہیں۔اگر یہ معاہدہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ، عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیاں اس سے متاثر ہوں گی۔ آبنائے ہرمز کی بحالی، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، ایرانی تیل کی فروخت اور جنگ بندی میں توسیع جیسے اقدامات خطے کے استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔اس پیش رفت کا سب سے قابل ذکر پہلو پاکستان کا سفارتی کردار ہے۔ پاکستان نے مختلف مراحل میں ثالثی اور سفارتی رابطوں میں اپنا حصہ ڈالا۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ کئی مبصرین اس مجوزہ معاہدے کو ’’اسلام آباد اکارڈ‘‘ قرار دینے کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، مفاہمت اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔ اسلام آباد نے پس پردہ اہم کردار ادا کیا ہے یہ پاکستان کی عالمی ساکھ اور سفارتی اہمیت میں اضافے کا سبب بنے گا۔کافی عرصے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ امید کی کرن یقین میں بدلنے کے قریب ہے۔ دنیا کو جنگوں اور تصادم کے بجائے امن، تجارت اور ترقی کی ضرورت ہے۔ اگر ایران اور امریکا مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ صرف دو ممالک کی کامیابی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ بجٹ 2026-27: اعداد و شمار اور عوامی حقیقت۔داخلی امن اور خارجی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ معیشت وہ ستون ہے جس پر ہر ریاست کی طاقت قائم ہوتی ہے۔ حکومت نے 18 ہزار 721 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اسے معاشی استحکام اور ترقی کا بجٹ قرار دیا ہے۔حکومت کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا، ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر پہنچیں، مالیاتی خسارہ کم ہوا اور معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ اعداد و شمار یقیناًحوصلہ افزا ہیں، مگر عام آدمی کی نظر ان اعداد و شمار سے زیادہ اپنی جیب پر ہوتی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اضافہ مہنگائی کے بوجھ کے مقابلے میں کافی ہے؟جب عوام بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم اور صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہے ہوں تو سات فیصد اضافہ محدود محسوس ہوتا ہے۔ خصوصاً اس وقت جب اعلیٰ سرکاری عہدوں، پارلیمنٹیرینز، اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں غیر معمولی اضافوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہوں۔حکومت کی مشکلات اپنی جگہ، قرضے اپنی جگہ، مالیاتی تقاضے اپنی جگہ، مگر عوام کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا معاشی مشکلات کا بوجھ صرف عام شہری اور سرکاری ملازم ہی اٹھائیں گے؟پٹرول کی قیمتوں کی مثال بھی اسی احساس کو تقویت دیتی ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو اضافہ فوراً عوام تک منتقل ہو جاتا ہے، لیکن جب عالمی سطح پر کمی آتی ہے تو عوام کو چند روپے فی لیٹر کمی دے کر اسے بڑا ریلیف قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ قربانیوں کا مطالبہ ہمیشہ عوام سے کیا جاتا ہے جبکہ حکومتی اخراجات اور مراعات میں خاطر خواہ کمی نظر نہیں آتی۔ آگے کا راستہ۔پاکستان اس وقت تین محاذوں پر بیک وقت امتحان سے گزر رہا ہے۔ داخلی طور پر امن و استحکام کا چیلنج موجود ہے، خارجی سطح پر خطے کی بدلتی ہوئی سیاست نئے مواقع پیدا کر رہی ہے اور معاشی میدان میں عوام بہتر حالات کے منتظر ہیں۔آزاد کشمیر میں امن کا قیام، ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمت اور بجٹ کے ذریعے معاشی بہتری، یہ تینوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ملک میں امن ہوگا تو سرمایہ کاری آئے گی، اگر خطے میں کشیدگی کم ہوگی تو معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی، اور اگر عوام کو حقیقی ریلیف ملے گا تو قومی استحکام مزید مضبوط ہوگا۔ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ مشکل حالات میں صبر، حوصلے اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست بھی عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے، قومی یکجہتی کو فروغ دے، غیر ضروری اخراجات میں کمی لائے، اور ایسی پالیسیاں اختیار کرے جن سے ترقی کے ثمرات حقیقی معنوں میں عام آدمی تک پہنچ سکیں۔آج پاکستان کو انتشار نہیں، اتحاد کی ضرورت ہے؛ تصادم نہیں، مذاکرات کی ضرورت ہے؛ اور نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ان تین اصولوں کو اپنا لیں تو موجودہ چیلنجز ہی آنے والے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ قارئین! مندرجہ بالا حقائق اور ان پر میرا تجزیہ صرف اسی صورت قابل قبول تصور کیا جا سکتا ہے کہ جب اس کے لیے مطلوبہ علاقائی انوائرمنٹ بھی قابل قبول ہو۔دراصل مشرق وسطیٰ کی جنگ نے نہ صرف اس خطے بلکہ عالمی امن کو بھی سخت دبائو میں لا کھڑا کیا ہے۔ یقینا اب یہ جنگ پہلے سو دنوں کے تجرباتی عمل سے گزر چکی ہے۔اور اس جنگ کے مضمرات اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔دوبئی ،ابوظہبی ، شارجہ، لبنان،مسقط ،عمان، کویت ،بحرین، اردن اور قطر سمیت سعودی عریبیہ یہ ایسے ممالک کی فہرست ہے جسے عالمی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی قراردیا جا سکتا ہے لیکن اسرائیل کی مدہوشی اور پاگل پن اور امریکہ کا جانبدارانہ کردار اس بات کا غماض ہے کہ وہ عالمی امن کے لیے کچھ زیادہ پریشان اور محتاط نہیں ہے۔اس جنگ میں پاکستانی قیادت کا کردار یقینا ایک غیرجانبدارانہ اور ثالثی کا رہا ہے ۔اور ہمارا سب سے قریبی اور ازلی دشمن بھارت ہمیشہ اسی تگ و دو میں لگا ہوا ہے کہ وہ پاکستان کے ثالثانہ کردار کو کسی طرح سبوتاژ کر سکے اور یقینا بدخواہوں کی اس خواہش کو نیتن یاہو اور اسرائیل کی وحشیانہ سوچ سے تقویت بھی ملتی رہی ہے مگر عالم اسلام ،خطے اور عالمی امن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پاکستان نے اس عمل کو جاری رکھا اور آج یہ نتائج ایران کے وزیرخارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کے بعد کہ ایران اور امریکہ کسی ممکنہ ڈیل یا معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔یہ خبر جہاں امن پسند لوگوں کے لیے اُمید کی ایک کرن ہے وہیں ایسے مواقعے پر بھارت اور اسرائیل جیسے امن دشمنوں پر کسی بھی قسم کی سبوتاژ کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔جس کے لیے اس خطے میں موجود ہر چھوٹی بڑی مملکت کو اپنا ایک مضبوط کردار ادا کرنا ہوگا۔ضروری ہے کہ ثالثی کی اس لسٹ میں ایران ،امریکہ ،چائن، رشیا کے علاوہ برطانیہ، جرمن وغیرہ کو بھی شامل کر لیا جائے تاکہ پائیدار امن کی ضمانت کو ممکن بنایا جا سکے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus