×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
فٹ بال ورلڈ کپ ۔الومیناٹی فیسٹیول
Dated: 14-Jul-2026
پوری دنیا میں ایک تنظیم ایسی ہے جس کا نشان اہرامِ مصر جیسا ہوتا ہے، لیکن وہ خود اہرامِ مصر نہیں ہوتا بلکہ ایک تکون ہوتی ہے۔ اس نشان کو ایلومیناتی (Illuminati) سے منسوب کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اس کے ساتھ ایک آنکھ کا نشان بھی بنایا جاتا ہے۔ اگر آپ آذربائیجان اور ترکی جائیں تو وہاں جگہ جگہ یہ نشان سووینئرز پر نظر آتا ہے، جن پر آنکھ بنی ہوتی ہے۔ یہ نشان ترکی اور آذربائیجان میں بھی کافی عام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عثمانی لوگوں کا بھی ان قوتوں کے ساتھ اختلاف رہا تھا۔ بعض لوگوں کے مطابق وہ فتح کی علامت کے طور پر یہ نشان لگاتے تھے کہ دیکھو، ہم نے اسے فتح کر لیا، جبکہ عام لوگ اس نشان سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ شیطانی قوتوں کا نشان ہے، جو یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ پوری دنیا کی آبادی کو ختم کر کے ایک نئی دنیا قائم کی جائے گی، جو ابراہم اکارڈ کے مطابق ہو۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے اس مشن کو پورا کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہزار سال پہلے صلاح الدین ایوبی نے ان سے یہ طاقت چھین لی تھی۔ دنیا کے بڑے سنگرز، سائنس دان، بزنس مین، ڈاکٹر اور دیگر بااثر افراد کو مختلف طریقوں سے اس نظام کا حصہ بنایا جاتا ہے۔یہ ایک ایسا کلب ہے جس کا حقیقی سربراہ کون ہے، اس کا پتا نہیں چلتا۔ یہی کلب ڈونلڈ ٹرمپ کو بلیک میل کر رہی ہے۔ اسی طرح سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور جو بائیڈن کے بارے میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اسی کلب کے رکن تھے۔ اس کلب نے بہت سے سنگرز، وکیلوں، بزنس مینوں اور آرٹسٹوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا، اور بل کلنٹن بھی انہی قوتوں سے وابستہ تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ساری قوتیں ارجنٹائن کو کیوں جتوانا چاہتی ہیں؟ میں خود ارجنٹائن جا چکا ہوں۔ ارجنٹائن کی موجودہ آبادی میں بڑی تعداد سفید فام یورپی نسل کے لوگوں کی ہے، جنہوں نے تقریباً دو سو سال پہلے جنوبی امریکہ کے مختلف علاقوں، مثلاً ارجنٹائن، یوراگوئے، پیراگوئے اور کولمبیا وغیرہ میں آ کر آباد ہونا شروع کیا۔ ان میں زیادہ تر ہسپانوی نسل کے لوگ تھے۔ جب دوسری جنگِ عظیم ختم ہوئی اور ہٹلر کو شکست ہوئی تو کہا جاتا ہے کہ اس کے بہت سے ساتھی ارجنٹائن جا کر آباد ہو گئے۔ بعد میں جب اسرائیل قائم ہوا اور اس نے اپنے قدم مضبوط کیے تو اس نے اپنے سینکڑوں ایجنٹ وہاں بھیجے، جنہوں نے ان لوگوں کو تلاش کر کے مارا جنہوں نے ہٹلر کا ساتھ دیا تھا۔ ارجنٹائن کی مقامی آبادی، یعنی ریڈ انڈین، اب بہت کم رہ گئی ہے۔ موجودہ آبادی میں لیونل میسی جیسے کھلاڑی بھی انہی سفید فام یورپی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، بعد میں اسرائیل نے انہیں وہاں منتقل کیا۔ چند سال پہلے جب میسی اسرائیل گیا تھا تو اس نے ان کی مقدس دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر عبادت بھی کی تھی۔اسرائیل سمجھتا ہے کہ دنیا میں اسرائیل کے بعد اگر کوئی دوسرا ملک یہودیوں یا مبینہ ایلومیناتی قوتوں کے لیے اہم ہے تو وہ ارجنٹائن ہے۔ (اور اس کے علاوہ یوکرین بھی تیسرے نمبر پر آتاہے) یہی وجہ ہے کہ وہ ساری قوتیں مل کر پوری دنیا پر اپنی برتری قائم کرنا چاہتی ہیں۔ پچھلی مرتبہ بھی ارجنٹائن کو جتوایا گیا، حالانکہ اس کی ٹیم اتنی مضبوط نہیں تھی۔ اس سال بھی ارجنٹائن کو جتوانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ چونکہ ٹورنامنٹ امریکہ میں ہو رہا ہے، اس لیے اگر ارجنٹائن نہ جیتے تو یہ ان قوتوں کے لیے بڑی ناکامی ہوگی۔ دوسری طرف، مصر فٹ بال فیڈریشن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان سے ایک غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے اپنے پہلے میچ کے بعد کہا تھا کہ اگر ہم ورلڈ کپ جیت گئے تو یہ کامیابی غزہ کے شہداء کے نام کریں گے، اور اس کی ساری کریم اور سارا مکھن غزہ کے لوگوں کو ملنا چاہیے یا اس کا فائدہ انہیں پہنچنا چاہیے۔ اس ٹورنامنٹ پر تقریباً دو سو ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں اور سو ارب ڈالر منافع کی توقع کی جا رہی ہے۔ دنیا کی بڑی کمپنیاں، جیسے پیپسی، کوکاکولا اور میکڈونلڈز، اس میں سرمایہ کاری اور اسپانسرشپ کے ذریعے شامل ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا فٹ بال ٹورنامنٹ 2022ء میں قطر میں ہوا تھا، جس پر تقریباً دوسوانیس ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ یہ رقم پاکستان کے کئی سال کے مجموعی بجٹ کے برابر یا اس سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ایلومیناتی، یعنی شیطانی قوتوں، نے دنیا بھر کے سیاست دانوں، ڈاکٹروں ،فنکاروں، اداکاروں اور ایلیٹ کلاس کو اپنے اثر و رسوخ میں لے رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جنگ نہیں چاہتا، لیکن وہ انہی قوتوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہا ہے۔ اسی طرح چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی جیسے جرائم کو بھی وہ انہی قوتوں سے جوڑتے ہیں۔ جب کسی شخص کے پاس بے حد دولت آ جاتی ہے تو اسے سمجھ نہیں آتی کہ وہ اسے کس طرح خرچ کرے۔ وہ اچھے جہاز، عمدہ کپڑے، عالی شان گھر، سوئمنگ پول اور مہنگی گاڑیاں خرید لیتا ہے، لیکن اس کے بعد بھی اس کی خواہشات ختم نہیں ہوتیں۔ پھر، وہ ایسے کام کرنے لگتا ہے جو عام آدمی نہیں کر سکتا، اور یوں آہستہ آہستہ گناہ کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ دنیا میں 198 ممالک ہیں۔ جب کوالیفائنگ راؤنڈ ہوا تو پاکستان، انڈونیشیا، بھارت، چین اور ملائیشیا جیسے ممالک کوالیفائی نہ کر سکے۔ دنیا کی تقریباً آدھی آبادی تو اسی مرحلے پر باہر ہو گئی، یعنی وہ لوگ جو ایلومیناتی قوتوں کے زیرِ اثر نہیں تھے، انہیں پہلے ہی کوالیفائنگ راؤنڈ میں باہر کر دیا گیا۔ دنیا کی آٹھ ارب آبادی میں سے چار ارب لوگ تو پہلے ہی باہر ہو گئے۔ اس کے بعد باقی ممالک میں سے 48 ٹیمیں منتخب کی گئیں۔ان 48 ٹیموں میں پہلی مرتبہ 13 مسلم ممالک کی ٹیمیں شامل ہوئیں، جبکہ اس سے پہلے صرف 9 ٹیمیں شامل ہوتی تھیں۔ تاہم، ان مسلم ممالک میں سے کوئی بھی ٹیم کوارٹر فائنل تک نہ پہنچ سکی۔ صرف مصر اور مراکش آگے گئے، لیکن کل مراکش بھی میچ ہار گیا اور پرسوں مصر بھی ہار گیا۔ یوں،مسلمان ٹیمیں پورے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئیں۔ سیمی فائنل میں ارجنٹائن پہنچ گیا، جبکہ باقی تین ٹیمیں بھی یورپی ممالک کی تھیں۔ نہ کوئی افریقی ملک وہاں پہنچا اور نہ ہی کوئی ایشیائی ملک۔ ایشیا آبادی، رقبے اور معاشی اہمیت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا براعظم ہے، لیکن اس کے باوجود کوئی ایشیائی ملک آگے نہ جا سکا۔ ایشیا میں ایک سو سے زائد ممالک ہیں، مگر ان میں سے ایک بھی سیمی فائنل تک نہیں پہنچا۔ اسی طرح، دنیا کی دو ارب مسلم آبادی رکھنے والے ممالک میں سے بھی کسی ایک مسلم ملک کو آگے نہیں آنے دیا گیا۔ جس طرح امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ سے پہلے پوری دنیا میں یہ تاثر پیدا کیا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر میں بیٹھ کر اخبار بھی پڑھ رہا ہو تو انہیں اس کا بھی علم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح چاند پر جانے جیسے دعووں کا مقصد بھی اپنی طاقت اور برتری کا تاثر قائم کرنا تھا۔ یہ سب رعب اور دبدبہ قائم رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے، کیونکہ جب کسی گاؤں کے چودھری کا رعب ختم ہو جائے تو اس کی چودھراہٹ بھی ختم ہو جاتی ہے۔ امریکہ نے بھی دنیا میں یہی تاثر قائم کیا کہ وہ سب سے طاقت ور ہے، اس کے پاس جدید ترین اسلحہ موجود ہے، اور اسرائیل کے پاس آئرن ڈوم(Iron Dome) جیسا دفاعی نظام ہے، جو کسی بھی آنے والے بم یا میزائل کو روک لیتا ہے۔ لیکن، حالیہ حملوں کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ دفاعی نظام کہاں گیا، کیونکہ اسرائیل کو نقصان اٹھانا پڑا۔ دنیا کو اس قسم کے دعوؤں کے ذریعے ایک سحر میں مبتلا رکھا گیا تاکہ ان کی طاقت کا رعب برقرار رہے، لیکن ایران نے اس تاثر کو چیلنج کر دیا۔ جس دن بنیامین نیتن یاہو اقتدار سے الگ ہوئے، ان کے خلاف پہلے سے موجود تحقیقات آگے بڑھ جائیں گی۔اسرائیلی پارلیمنٹ بھی اس صورتِ حال سے آگاہ ہے اور نیتن یاہو خود بھی جانتے ہیں کہ اقتدار چھوڑنے کے بعد انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وہ دنیا میں کہیں اور بھی آسانی سے نہیں جا سکتے، کیونکہ ان پر بین الاقوامی سطح پر قانونی دباؤ موجود ہے۔ نیتن یاہو اس وقت ایک خودکش حملہ آور کی طرح ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ابراہم اکارڈ مکمل ہو جائے تاکہ تاریخ میں ان کا نام درج ہو جائے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، کیونکہ اسرائیل بعض سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اس صورتِ حال کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔ قارئین! دنیا بھر کے محققین کی نظرمیں یہ فٹ بال کا ورلڈ کپ شیطانی قوتوں کا ایک ایسا میلہ ہوتا ہے جو ہر چار سال بعد منعقد کرکے دنیا کویہ جتلاتے ہیں کہ ہم کتنی بڑی طاقت کے مالک ہیں۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ اللہ رب العزت یہ سب دیکھ رہے ہیں ۔شیطان کی رسی دراز ضرور ہوئی ہے مگر یہ قدرت کی دسترس سے باہر نہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus