×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امام صحافت مجید نظامیؒ
Dated: 26-Jul-2026
آج مردِ صحافت، محافظِ دو قومی نظریہ، جناب مجید نظامیؒ مجھے بہت شدت سے یاد آ رہے ہیں۔ یوں تو ان کے ساتھ وابستہ خوشگوار یادیں میرے لیے سرمایۂ افتخار ہیں، مگر آج میرے سمیت انتیس کروڑ پاکستانی انہیں اس حوالے سے بھی ضرور یاد کر رہے ہوں گے کہ جب بھی پاکستان کی سالمیت کو اندرونی یا بیرونی خطرات لاحق ہوئے، مجید نظامیؒ کے غیر متزلزل اور بے لاگ موقف نے پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی کی۔ آج نظریۂ پاکستان کے نگہبان، مرشدِ صحافت اور صحافت میں میرے اتالیق، جناب مجید نظامیؒ کو ہم سے بچھڑے بارہ برس بیت چکے ہیں۔ اگرچہ میری زندگی کا ایک بڑا حصہ سیاست میں گزرا، لیکن ان سے ملاقات کے بعد میں نے خود کو سیاست کا بھی طفلِ مکتب محسوس کیا۔ اس دوران جب 2008ء کے عام انتخابات ہو چکے تھے۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی المناک شہادت کے بعد میرے اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے تھے۔ انہی دنوں میرے کالم باقاعدگی سے ’’نوائے وقت‘‘ میں شائع ہو رہے تھے ۔یوں تو مجید نظامی صاحب سے میری پہلی ملاقات 1999ء کے شروعات سے ہی ہو چکی تھی ۔بھلا کون تھا جو مجیدنظامیؒ کے نام، ان کے عزم اور ان کے نظریاتی کردار سے واقف نہ ہو؟ میں بھی ان کی شخصیت سے اچھی طرح آگاہ تھا، مگر جب ان سے ملاقاتیں ہوئیں تو یوں محسوس ہوا جیسے پاکستان کی تاریخ سے ملاقات ہو رہی ہو۔ ان سے جب گفتگو کرتا تو ایسا لگتاکہ جیسے میں انہیں برسوں سے جانتا ہوں۔ مجیدنظامیؒ میری تحریروں اور کتب سے پہلے ہی واقف تھے۔ انہوں نے مجھ سے ایک وعدہ لیا اور خود بھی ایک وعدہ کیا۔ انہوں نے فرمایا:"اگر آپ دو قومی نظریے اور پاکستان کے بنیادی نظریے کا احترام کریں گے تو نوائے وقت میں جو چاہیں، جتنا چاہیں لکھیں۔ ہم آپ کی تحریر میں غیر ضروری مداخلت نہیں کریں گے۔"میں نے عرض کیا: "سر! میرے کالموں کی اصلاح بھی فرمایا کیجیے، اور اگر اجازت دیں تو مجھے اپنی شاگردی میں بھی قبول کر لیجیے۔" انہوں نے مسکراتے ہوئے حامی بھر لی، اور یوں باقاعدہ طور پر میں ان کا شاگرد اور وہ میرے اتالیق بن گئے۔ یہ میرے صحافتی سفر کا ایک ایسا اعزاز ہے جس پر آج بھی مجھے فخر ہے۔(مجھے مجید نظامی صاحب نے باقاعدہ اپنی شاگردی میں لیااس دن ادارہ نوائے وقت کے سٹاف کو مٹھائی کھلا کر منہ میٹھا کرایا گیا)اس کے بعد کئی برسوں تک وہ میرے ہر کالم کا بغور مطالعہ کرتے، جہاں ضرورت محسوس کرتے اصلاح فرماتے اور قیمتی مشوروں سے نوازتے۔ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک مجھے اپنی ہی جماعت کی حکومت کے دور میں طالبان کی دھمکیوں کے باعث جلاوطنی اختیار نہ کرنا پڑی۔ انہی دنوں میں نے طالبان کی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک کتاب لکھی، ایسے وقت میں جب بہت سے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان ان دہشت گردوں کے خلاف خبر تک شائع کرنے سے خوف زدہ تھے۔ ایک ملاقات کے دوران مجیدنظامیؒ نے مجھ سے فرمایا:"ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ میرے تعلقات بہت پرانے تھے۔ ہماری دوستی لندن سے شروع ہوئی۔ جب بھٹو صاحب نے ایوب خان کی کابینہ سے استعفیٰ دیا تو وہ سیدھے میرے پاس لاہور آئے۔ انہوں نے کہا کہ ایوب خان کے سامنے کوئی بولنے کی ہمت نہیں کرتا۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ نوائے وقت آپ کا ساتھ دے گا۔ بعد ازاں ہماری کوششوں سے مال روڈ کے وائی ایم سی اے ہال میں بھٹو صاحب کے پہلے عوامی جلسے کا بھی اہتمام کیا گیا۔" ایک روز وہ مجھے نوائے وقت کی پرانی عمارت کی بالائی منزل پر لے گئے، جہاں دیواروں پر پاکستان کی صحافتی اور سیاسی تاریخ کی سینکڑوں نادر تصاویر آویزاں تھیں۔ انہی میں بھٹو صاحب کے اس تاریخی جلسے کی تصاویر بھی شامل تھیں۔مجید نظامیؒ کی پوری زندگی جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے سے عبارت تھی۔ اسی جراتِ اظہار کا ایک واقعہ انہوں نے خود سنایا۔ ایک تقریب میں صدر ایوب خان نے ملک کے مدیرانِ اخبارات کو مدعو کیا ہوا تھا۔ سب خاموش بیٹھے تھے، مگر مجیدنظامیؒ نے کھڑے ہو کر ایوب خان کی پالیسیوں پر کھلے الفاظ میں اختلاف کیا۔ ان کی بے باکی سے برہم ہو کر ایوب خان نے وہ تقریب اسی وقت ختم کر دی، مگر مجیدنظامیؒ نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ میرے خیال میں اس ترمیم کے بعد مضمون زیادہ مربوط، ادبی اور اخباری کالم کے معیار کے مطابق ہو گیا ہے، جبکہ آپ کا اصل اسلوب اور مؤقف بھی برقرار رکھا گیا ہے۔بھٹو صاحب، مجیدنظامیؒ کے قریبی دوست تھے، مگر جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو سوشلزم کے معاملے پر دونوں کے درمیان شدید نظریاتی اختلافات پیدا ہو گئے۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ نوائے وقت کا اخبار شائع کرنا بھی مشکل بنا دیا گیا، لیکن مجیدنظامیؒ نے اپنے نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔اسی طرح ایک موقع پر جنرل ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کے تحت انہیں اپنے ہمراہ بھارت جانے کی دعوت دی تو مجید نظامیؒ نے برجستہ جواب دیا: "ضیاء صاحب! بھارت تو جانا چاہتا ہوں، مگر ٹینک پر بیٹھ کر۔"یہ ایک جملہ ہی ان کے قومی مؤقف اور دو ٹوک اندازِ فکر کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ایک مرتبہ وہ جنرل ضیاء الحق کے ہمراہ ترکی کے دورے پر گئے۔ اس وقت ترکی میں سیکولر فوج کے حمایت یافتہ حکمرانوں کا دور تھا۔ پاکستانی وفد کو جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے مزار پر لے جایا گیا۔ پروٹوکول کے مطابق وفد کے تمام ارکان خاموشی سے تعظیماً کھڑے ہو گئے، مگر مجیدنظامیؒ نے ہاتھ اٹھا کر دعائے مغفرت شروع کر دی۔ بعد میں جنرل ضیاء الحق نے دریافت کیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: "کمال اتاترک مسلمان تھا، میں اس کی قبر پر آیا ہوں، تو اس کے لیے دعائے مغفرت کیوں نہ کروں؟" 1998ء میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو پاکستان شدید بین الاقوامی دباؤ میں تھا۔ وزیراعظم نواز شریف بھی تذبذب کا شکار تھے۔ ایسے نازک وقت میں مجیدنظامیؒ نے دوٹوک انداز میں نواز شریف سے کہا:"میاں صاحب! اس سے پہلے کہ عوام آپ کا دھماکہ کر دیں، آپ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دینے کے لیے ایٹمی دھماکوں کا حکم جاری کریں۔"بعدازاں پاکستان نے چاغی میں کامیاب ایٹمی دھماکے کیے اور دفاعی توازن بحال کر دیا۔(قارئین یاد رہے کہ اس دوران مردِ صحافت اور شہید محترمہ بھٹو کے درمیان مکمل رابطہ اور پیغامات کا سلسلہ میرے ذریعے جاری رہتا تھاکیونکہ انہی دنو ں میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا خصوصی ایلچی مقرر ہوا تھا) اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے کا تاریخی کریڈٹ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو جاتا ہے تو ایٹمی دھماکے کرنے کے فیصلے پر قومی رائے ہموار کرنے میں مجید نظامیؒ کا کردار بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔نوائے وقت میں میری کالم نگاری کے ابتدائی دنوں میں بعض حلقوں نے سخت اعتراضات کیے۔ شکایات کی گئیں کہ ایک جیالا آخر نوائے وقت کا کالم نگار کیسے ہو سکتا ہے؟ میں اس صورتحال پر پریشان ہوتا تو مجید نظامیؒ مجھے تسلی دیتے اور فرماتے:"مطلوب! آپ ہرگز پریشان نہ ہوں۔ ہمارا ادارہ کسی خاص مذہب، مسلک، رنگ، نسل یا سیاسی جماعت کا ترجمان نہیں۔ نوائے وقت صرف نظریۂ پاکستان، تحریکِ پاکستان اور دو قومی نظریے کا محافظ ہے۔" مجید نظامیؒ یاروں کے یار اور قول کے پکے انسان تھے۔ انہوں نے جو وعدہ کیا، اسے آخری دم تک نبھایا۔وہ صحافتی روایات کے حقیقی امین تھے۔ ان کی شخصیت پر یقینا مزید کتابیں لکھی جائیں گی، خصوصی مکالمے ہوں گے اور ان کے کردار کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کی جائے گی، لیکن ان کے جانے سے پیدا ہونے والا صحافتی خلا شاید کبھی پْر نہ ہو سکے۔آج ان کی برسی کے موقع پر میں ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہوں اور اس اطمینان کا اظہار بھی کرتا ہوں کہ ان کی صاحبزادی محترمہ رمیزہ مجید نظامی، نوائے وقت کے ادارے کو انہی اصولوں اور پالیسیوں کے مطابق آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں جنہیں مجید نظامیؒ نے اپنی پوری زندگی اپنائے رکھا۔ آج پاکستان ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ پاکستان کے دشمن، مشرقی سرحد پر بھارت اور مغربی جانب افغانستان، ایک طرح سے اس کا گھیراؤ کیے ہوئے ہیں۔پاکستان نے مئی 2025 میں بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، جس کے بعد وہ براہِ راست پاکستان کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہا۔ اب وہ پاکستان کو دہشت گردی کے ذریعے عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اپنی پراکسیز استعمال کر رہا ہے۔افغانستان کی جانب سے بھی متعدد مرتبہ پاکستان پر حملے کیے گئے، جن کا پاکستان نے اسی انداز میں جواب دیا، جس طرح بھارت کی جارحیت کا مؤثر جواب دیا تھا۔ پاکستان کے اندر کئی مسائل سر اٹھا رہے ہیں سیاسی عدم استحکام بھی اپنی جگہ پر موجود ہے۔ایسے حالات میں مجید نظامیؒ کی یاد اس لیے بھی شدت سے آتی ہے کہ وہ اختلاف رکھنے والی سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بٹھانے کی اخلاقی قوت اور قومی وقار رکھتے تھے۔ جب بھی پاکستان کسی بڑے سیاسی بحران سے دوچار ہوا، انہوں نے اپنی صحافتی ساکھ اور قومی اعتماد کو بروئے کار لاتے ہوئے مفاہمت، قومی یکجہتی اور ریاستی استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔آج اگر مجید نظامیؒ ہمارے درمیان موجود ہوتے تو میرا یقین ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد پر اکٹھا ہونے کا مشورہ دیتے۔ ان کا پیغام ہمیشہ یہی رہا کہ جماعتیں مضبوط ہونے سے پہلے پاکستان کا مضبوط ہونا ضروری ہے، کیونکہ پاکستان رہے گا تو سیاست بھی رہے گی، جمہوریت بھی اور تمام سیاسی جماعتیں بھی۔میری حکومت وقت سے استدعا ہے کہ مجید نظامیؒ کی صحافتی اور ملّی خدمات کے اعتراف میں ان کے وصال دن کو ایک قومی تہوار کے طور پر منایا جائے تاکہ آنے والی نسلیں مجید نظامیؒ جیسے درخشاں ستاروں کی قدر اور افادیت جان سکیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus