×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بھارت میں عدم استحکام
Dated: 28-Jul-2026
بھارت جتنا بڑا ملک ہے، اتنی بڑی وہاں جمہوریت نہیں ہے۔ بھارت میں جمہوریت سے زیادہ ڈرامہ بازی ہوئی ہے۔ مودی نے اپنے دورِ اقتدار میں بھارت کو ایک سیکولر ریاست سے شدت پسند ہندو ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔ مودی سرکار خود کو طاقتور سمجھ رہی تھی، مگر آج وہاں جو صورتحال ہے، وہ مودی حکومت کی کمزوری کا اظہار ہے۔بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے اس فلسفے کو پوری دنیا میں اس انداز سے پیش کیا کہ جیسے اگر بھارت نہ ہوتا تو جمہوریت بھی نہ ہوتی۔ حالانکہ جمہوریت کا لفظ اور تصور یونانی فلسفے سے پوری دنیا میں منتقل ہوا، مگر بھارت نے ہمیشہ یہ تاثر دیا کہ گویا وہ جمہوریت کا نہ صرف چیمپئن بلکہ اس کا باپ بھی ہے۔خاص طور پر گزشتہ بارہ برس سے، جب سے نریندر مودی چند بڑے سرمایہ دار گروپس، خصوصاً اڈانی اور امبانی، کی مدد سے اقتدار پر قابض ہیں، تب سے بھارت کے عوام کو ایک ایسی سمت میں لے جایا گیا جسے قطعاً لبرل ازم نہیں کہا جا سکتا۔ اس پورے عرصے میں بھارت کی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، جو اس وقت بھارت کی دوسری بڑی قومیت ہیں اور جن کی تعداد 32 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، کے ساتھ غیر مناسب اور غیر انسانی رویہ اختیار کیا گیا۔ حتیٰ کہ مغل، غوری اور تغلق خاندانوں کی تاریخ کو مٹانے کی مذموم کوششیں بھی کی گئیں۔بھارت میں تو اگر چڑیا بھی مر جائے تو اس کا الزام اورنگزیب پر ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں مسلم تہذیب تقریباً گیارہ سو سال سے اپنی جڑیں رکھتی ہے اور صدیوں تک اقتدار کا حصہ رہی ہے۔ اس کے باوجود سڑکوں، گلیوں، کوچوں اور شہروں کے نام بتدریج تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ تاریخ کو اس حد تک مسخ کیا جا رہا ہے کہ سنی دیول کی بھارتی فلم "زارا اکبر" میں مغل تاریخ کے ساتھ جو کچھ کیا گیا، وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے لیے اب گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف، جدید تحقیقات اور مختلف سرویز کے مطابق دنیا میں جغرافیائی اور سیاسی نقشے وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ جو ممالک کل موجود تھے، ضروری نہیں کہ آج بھی ہوں، اور جو آج موجود ہیں، ممکن ہے کل نہ ہوں۔ یہی تاریخ کا فطری عمل ہے۔جب برصغیر میں دو قومی نظریہ پروان چڑھا اور قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال اور ان کے رفقاء کی کاوشوں سے مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ وہ ہندوؤں کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتے، کیونکہ انگریز کی غلامی سے نکل کر ہندو بنیے کی غلامی میں جانا ان کے لیے قابلِ قبول نہیں تھا، تو مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا، جسے قائداعظم کی قیادت میں عملی شکل دی گئی۔لیکن ہندو قیادت آج تک اس حقیقت کو قبول نہیں کر سکی، حالانکہ 1947ء میں دنیا میں صرف 63 ممالک تھے، جبکہ آج دنیا میں ممالک کی تعداد 197 ہو چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقسیمِ اراضی اور تقسیمِ مملکت کا عمل صرف برصغیر تک محدود نہیں تھا بلکہ دنیا بھر میں مختلف ادوار میں نئے ممالک وجود میں آتے رہے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے قیام کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ پاکستان بنے ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ پہلی جنگ شروع کر دی گئی اور جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا گیا۔ اسی طرح ریاست جوناگڑھ اور حیدرآباد پر بھی جبراً قبضہ کر لیا گیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت جمہوریت نہیں، بلکہ ہندو غلبے پر مبنی ایک ریاست چاہتا تھا اور اپنے اس نظریے کو پروان چڑھانے کے لیے مسلسل کوشش کرتا رہا۔ جب تک کانگریس کی حکومت رہی، یہ رجحانات کسی حد تک قابو میں رہے، لیکن جب بی جے پی اقتدار میں آئی تو ہندو قوم پرست عناصر کو اپنے عزائم کے ساتھ کھل کر سامنے آنے کا موقع مل گیا۔ آج وہ انہی عزائم پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔بھارت میں اذان پر پابندی لگانے، لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو محدود کرنے اور سڑکوں پر نماز ادا کرنے پر قدغن لگانے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ خصوصاً جمعے کے روز نمازیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث بعض مقامات پر سڑکوں پر صفیں بچھا کر نماز ادا کی جاتی ہے، مگر اسے سیکیورٹی اور دیگر حیلے بہانوں کی آڑ میں محدود یا ختم کیا جا رہا ہے۔مسلمان خواتین کا نقاب اوڑھنا بھی بھارت کو اس قدر کھٹکتا ہے کہ، بقول ناقدین، مسلمانوں کی مخالفت میں وہاں اپنی خواتین کے لباس کو بھی مختصر کرنے کو فروغ دیا گیا۔ اسی طرح رام مندر کے نام پر ایک تاریخی مسجد کو منہدم کر کے اپنے مقاصد کو آشکار کیا گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جب رام مندر کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تو بھارت کی صدر دروپدی مرمو کو اس تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا، کیونکہ وہ ہندو سماج کی ایک نچلی ذات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ذات پات کا نظام آج بھی بھارتی معاشرے میں کس قدر گہرا اثر رکھتا ہے۔خود صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے ہندو، جو خصوصاً کیرلہ، تامل ناڈو اور دیگر ریاستوں میں بڑی تعداد میں آباد ہیں، بھی امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ اگر نچلی ذات کے ہندوؤں اور مسلمانوں کی آبادی کو یکجا کیا جائے تو ان کی تعداد ایک سو کروڑ سے تجاوز کر جاتی ہے، جبکہ اونچی ذات کے ہندو اور وہ چند دیگر طبقات، جنہیں ریاستی سطح پر ترجیح حاصل ہے، ان کی تعداد تیس کروڑ کے قریب بھی نہیں بنتی۔ اس کے باوجود، بقول ناقدین، یہی اقلیتی اشرافیہ بھارت کے وسائل اور جمہوری نظام پر قابض ہے۔جب بھی بھارت کے اندر کوئی سیاسی، سماجی یا سیکیورٹی بحران پیدا ہوتا ہے تو اسے پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپریشن سیندور اور اس سے قبل کشمیر میں ہونے والے مختلف آپریشنز کو بھی پاکستان سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مودی سرکار ایک نئی بننے والی پارٹی کا دباؤ برداشت نہیں کر سکے گی اور اتنی جلد اپنے گھٹنوں پر آ جائے گی۔سونم وانگچک کی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد مودی سرکار کو شاید یہ حوصلہ ملا تھا کہ احتجاج بھی ختم ہو جائے گا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ سونم وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال محض اس لیے ختم کی کہ جن لوگوں پر مقدمات درج کیے گئے تھے، وہ واپس لیے جا سکیں، جبکہ احتجاج پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ یہ احتجاج مودی سرکار کے گلے کا پھندا بنتا جا رہا ہے۔ عدالتیں اور الیکشن کمیشن مودی کی جیب میں تھے۔مودی 12 سال سے اقتدار میں ہے فوجی سربراہان انہوں نے مقرر کیے جو ہندتوا کے ایجنڈے پر عمل پیرا تھے۔ مودی اگلے 20 برس تک حکمرانی کی منصوبہ بندی کر چکے تھے۔ جس طرح ادارے کمزور یا متنازع دکھائی دیتے تھے، اس سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنی منصوبہ بندی میں کامیاب ہو جائیں گے، مگر کہا جاتا ہے کہ ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ ہوتا ہے، اور بھارت میں بھی کچھ ایسا ہی منظر دکھائی دے رہا ہے۔ بھارتی چیف جسٹس کے ایک طنزیہ تبصرے اور مذاق سے جنم لینے والی پارٹی اتنی مضبوط ہو گئی کہ لاکھوں افراد جنتر منتر پر جمع ہو گئے اور مودی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر دیں۔ مودی حکومت نے 16 سے 22 سال کی عمر کے احتجاجی طلبہ کو قائل کرنے کے لیے رات گئے ان کے مطالبات پر غور کرنے کا اعلان کیا، مگر مظاہرین وزیرِ تعلیم کے استعفے سے کم کسی بات پر آمادہ نہیں تھے۔کاکروچ جنتا پارٹی نے مودی کا بیان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم طلبہ کے دباؤ میں آ گئے ہیں، اسی لیے رات ساڑھے بارہ بجے ویڈیو بیان جاری کیا گیا۔ پارٹی کے ترجمان اشوتوش رانکا کے مطابق، مقدمات واپس لینے کی یقین دہانی کے بعد سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کی۔کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج بدستور جاری ہے۔ احتجاج کرنے والے بھارتی طلبہ نے پاکستان مخالف بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے مودی حکومت کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ اس کے بعد حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت پاکستان پر یہ الزام بھی عائد کرتا ہے کہ پاکستانی ایکٹیوسٹس بھارتی نوجوانوں کو احتجاج پر اکسا رہے ہیں، تاہم احتجاجی طلبہ نے اس الزام کی تردید کی۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی نوجوان نسل کو اتنے طویل عرصے تک محض بیرونی ترغیب کے ذریعے احتجاج پر قائم رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ جب میڈیکل کے طلبہ کے داخلہ امتحانات کے پرچے لیک ہو جائیں اور میرٹ کا نظام تلپٹ ہو جائے تو ایسے حالات میں عوامی ردِعمل کے لیے کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں رہتی۔بھارت اپنی پراکسیز، جن میں افغان حکومت، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے عناصر ہیں، ان کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔کل تک طاقتور نظر آنے والی مودی سرکار آج کمزور اور بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ بھارت میں موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے: ’’لو، آپ اپنے دام میں صیّاد آ گیا۔‘‘ اب بھی، جب بھارت میں طلبہ اپنے مسائل کے حل کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، تو بھارتی صحافیوں کی جانب سے کیے گئے انٹرویوز میں نوجوان یہ کہتے ہوئے سنائی دیے کہ انہیں خدشہ ہے کہ حکومت کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اس کا الزام پاکستان پر ڈال دے گی۔ ان کے مطابق، یا تو یہ کہا جائے گا کہ احتجاج کی فنڈنگ پاکستان سے ہو رہی ہے، یا بھارت میں کوئی واقعہ پیش آنے کے بعد اس کا الزام پاکستان پر عائد کر کے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔لیکن اس مرتبہ بھارتیہ جنتا پارٹی جس طرح اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئی ہے، اس سے نکلنے کا فی الحال کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus