×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نظام کی تبدیلی وقت کی ضرورت
Dated: 04-Aug-2026
پاکستان میں نظامِ حکمرانی کی خامیوں پر تنقید کوئی نئی بات نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ماضی میں یہ آواز زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں یا حکومت مخالف حلقوں کی جانب سے بلند ہوتی رہی، لیکن اب یہی سوال حکومت کے اندر سے اٹھ رہا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر جس انداز میں کھل کر اظہارِ خیال کیا، اس نے اس بحث کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اس کے ذریعے ملک کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق اگر یہی ڈھانچہ برقرار رہا تو آئندہ دس برس بعد بھی ہم انہی مسائل پر گفتگو کر رہے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو صرف لیپ ٹاپ، وظائف یا چند مالی مراعات دے کر مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ نئی نسل میرٹ پر روزگار، شفاف طرزِحکمرانی اور انصاف پر مبنی نظام چاہتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور عوام کو مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ محسن نقوی کا یہ مؤقف اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ حکومت کا حصہ ہیں بلکہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے کے باعث انتظامی امور کا عملی تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ وزیر داخلہ کی حیثیت سے بھی انہیں ملک کے داخلی حالات اور ریاستی انتظامی ڈھانچے کا براہِ راست مشاہدہ حاصل ہے۔ جب حکومت کے ایک اہم رکن کی جانب سے یہ اعتراف سامنے آتا ہے کہ موجودہ نظام مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ہو چکا ہے تو اسے محض ایک سیاسی بیان قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کا سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ ان کے بیان پر حکومتی اتحادیوں کی جانب سے کوئی سخت ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ اپوزیشن نے بھی اس سوچ کی مخالفت نہیں کی۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ نظامِ حکمرانی میں اصلاحات کی ضرورت کا احساس سیاسی تقسیم سے بالاتر ہو کر ایک قومی بحث بنتا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگرچہ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر داخلہ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کی مضبوطی اور قومی سلامتی کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق ریاست کا استحکام ہر چیز پر مقدم ہے، کیونکہ مضبوط ریاست ہی شہریوں کے حقوق، شناخت اور سیاسی نظام کی ضامن ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آئین اور قانون کی مکمل بالادستی پر مبنی ایسی ریاست بننا ہوگا جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو اور ریاستی معاملات مؤثر انداز میں چلائے جائیں۔انہوں نے یہ حقیقت بھی اجاگر کی کہ 1972ء میں تقریباً سات کروڑ آبادی کے لیے چار صوبے تھے، جبکہ آج تقریباً 24 کروڑ آبادی کے باوجود انتظامی ڈھانچہ تقریباً وہی ہے۔ اس تناظر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے گورننس کے موجودہ ماڈل پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ وضاحت بھی کر دی کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا اختیار کسی ادارے کے پاس نہیں بلکہ یہ فیصلہ صرف عوام اور پارلیمنٹ آئین میں طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق ہی کر سکتے ہیں۔ اس پوری بحث کو وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان نے بھی ایک اہم جہت دی ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مؤقف کی وہ مکمل توثیق کرتے ہیں، جبکہ وزیر داخلہ کے بیان کا ایک سیاسی پہلو بھی موجود ہے۔ ان کے بقول سیاسی جماعتیں وہ کردار ادا نہیں کر سکیں جو انہیں کرنا چاہیے تھا، اسی لیے آج ہائبرڈ نظام کو موجودہ حالات میں ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ موجودہ نظام میں خامیوں کی ذمہ داری صرف اداروں پر نہیں ڈالی جا سکتی، بلکہ سیاسی قیادت کو بھی اپنا حصہ قبول کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق چار پانچ اہم حکومتی شخصیات کو مل بیٹھ کر معاملات کا جائزہ لینا چاہیے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ درحقیقت وزیر داخلہ، ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر دفاع کے بیانات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان میں کہیں بھی موجودہ آئینی سیٹ اپ کو لپیٹنے یا کسی غیر معمولی تبدیلی کا اشارہ نہیں ملتا۔ بلکہ تینوں بیانات کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ ملک کو بہتر حکمرانی، مؤثر انتظامی اصلاحات اور نظام کی بہتری کی ضرورت ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جن اصلاحات کی ذمہ داری بنیادی طور پر سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے، وہ ماضی میں مطلوبہ انداز میں نہیں ہو سکیں۔ تاہم ’’دیر آید، درست آید‘‘ کے مصداق اگر آج تمام سیاسی قوتیں، ریاستی ادارے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سنجیدگی سے ایک میز پر بیٹھ جائیں تو نظام کی اصلاح کی سمت میں بڑی پیش رفت اب بھی ممکن ہے۔اگر ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی ضرورت واقعی محسوس کی جا رہی ہے تو اس کا فیصلہ صرف آئینی تقاضوں، قومی اتفاقِ رائے اور انتظامی ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس عمل میں کسی ایک صوبے کو تقسیم کرنا اور کسی دوسرے صوبے کو سیاسی دباؤ، مصلحت یا حساسیت کے نام پر اس بحث سے مستثنیٰ رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔ اگر آبادی، انتظامی سہولت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر حکمرانی نئے یونٹس کے قیام کا جواز ہیں تو یہی اصول ملک کے تمام صوبوں پر یکساں طور پر لاگو ہونے چاہئیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک صوبے کے کئی حصے بنا دیے جائیں جبکہ دوسرے صوبوں کو ہر صورت ناقابلِ تقسیم تصور کیا جائے۔ دنیا کے بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں انتظامی نظام صوبوں کے بجائے مضبوط مقامی حکومتوں یا ضلعی سطح کے انتظام پر قائم ہے۔ اگر دنیا کے تقریباً 200 ممالک کو دیکھا جائے تو بڑی تعداد میں ایسے ممالک موجود ہیں جہاں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے گئے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ، جرمنی، فرانس، اٹلی، اسپین اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں مقامی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کا نظام انتہائی مؤثر انداز میں کام کرتا ہے، جس کی وجہ سے عوامی مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہو جاتے ہیں۔پاکستان میں بھی اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے کہ اختیارات کو مزید نچلی سطح تک منتقل کیا جائے اور بلدیاتی نظام کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنایا جائے۔ ضلعی حکومتوں، ضلعی اسمبلیوں اور مقامی اداروں کو بااختیار بنانے سے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے نئے صوبے بنانا واحد حل نہیں، بلکہ مضبوط اور فعال مقامی حکومتیں بھی مؤثر متبادل ثابت ہو سکتی ہیں۔اگر نئے صوبوں کی تشکیل پر غور کیا جاتا ہے تو پھر یہ مطالبہ صرف پنجاب تک محدود نہیں رہے گا۔ سندھ، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں بھی مختلف انتظامی اکائیاں نئے صوبوں کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔(پنجاب آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو کہ ملک کی مجموعی آبادی کا 65فیصد حصہ بنتا ہے اور اس اعتبار سے پنجاب کی اس وقت آبادی 18کروڑ ہے جب کہ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے بلکہ وہ دیگر تین صوبوں کے مقابلے میں رقبے کے اعتبار سے بڑا ہے اور بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ پینتالیس لاکھ ہے جس میں چالیس فیصد سے زائد پختون قبائل بھی آباد ہیں جبکہ دس سے پندرہ فیصد پنجابی اور سندھی قبائل بھی نسلوں سے آباد ہیں) اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے پر جذبات کے بجائے قومی مفاد، انتظامی ضرورت اور تمام اکائیوں کے اتفاقِ رائے کو بنیاد بنایا جائے۔بہتر یہی ہوگا کہ اگر انتظامی ڈھانچے میں کوئی بڑی تبدیلی لانی ہے تو وہ تمام سیاسی جماعتوں، آئینی ماہرین اور متعلقہ اداروں کی مشاورت سے کی جائے، تاکہ ایسا نظام تشکیل دیا جا سکے جو ملک کے تمام حصوں کے لیے قابلِ قبول ہو اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط کرے۔جہاں تک سیاسی قیادت کا تعلق ہے، پاکستان میں نوجوان قیادت آہستہ آہستہ اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز سمیت دیگر سیاسی رہنما ملکی سیاست میں تجربہ حاصل کر رہے ہیں اور مستقبل میں ان سے مزید مؤثر کردار کی توقع کی جا سکتی ہے۔ قومی مسائل کا حل سیاسی قیادت، ریاستی اداروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے باہمی تعاون، آئینی عمل اور جمہوری تسلسل میں ہی مضمر ہے، کیونکہ مضبوط جمہوریت ہی ملک کو سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ پاکستان کو اس وقت شخصیات کے گرد گھومتے ہوئے نظام کی نہیں بلکہ مضبوط اداروں، شفاف حکمرانی، قانون کی بالادستی اور مؤثر انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر موجودہ ڈھانچہ عوام کی توقعات پوری نہیں کر پا رہا تو اصلاحات سے گریز کے بجائے ان پر قومی سطح پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے۔ نئے انتظامی یونٹس اس مکالمے کا ایک حصہ ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی بنیاد صرف آئین، قومی مفاد، انتظامی ضرورت اور تمام وفاقی اکائیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مصلحت یا وقتی دباؤ۔وقت کا تقاضا یہی ہے کہ نظام کو افراد کے سہارے چلانے کے بجائے ایسا مضبوط، شفاف اور جوابدہ بنایا جائے جو ہر حکومت، ہر ادارے اور ہر شہری کے لیے یکساں طور پر قابلِ اعتماد ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو بہتر حکمرانی، سیاسی استحکام اور پائیدار ترقی کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔ قارئین!راقم ذاتی طور پر صوبوں کو مزید تقسیم کے طریقہ کار سے شاید اتفاق نہیں کرتا کیونکہ دنیا بھر کے197ممالک کے انتظامی ڈھانچے ان کی ضرورتوں کے تابع اور مطابق ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں لسانیت اور لہجوں کی بنیاد پر اگر صوبوں کی مزید توڑ پھوڑ کی گئی تو وفاقِ پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔آج سے کچھ دہائیاں پہلے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کو ’’ون یونٹ‘‘ بنانے کا تجربہ بھی کیاجا چکا ہے۔ اور اس وقت بھی پوری دنیا میں صوبوں اور صوبوں کے بغیر ضلعی حکومتوں کا نظام بخوبی اور بہ احسن چل رہا ہے۔ہمیں جذباتیت سے ہٹ کر سوچنا ہوگا کہ آنے والے دور میں قدم رکھنے سے پہلے کیا ہم نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus