×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سہ ملکی مکہ اتحاد
Dated: 11-Aug-2026
تاریخ گواہ ہے کہ قوموں اور ریاستوں کے درمیان ہونے والے وہ معاہدے زیادہ پائیدار ثابت ہوتے ہیں جو وقتی سیاسی ضرورت، حکمرانوں کی شخصی وابستگی یا انفرادی مفادات کے بجائے ریاستی مفادات، مشترکہ ضرورتوں اور ادارہ جاتی تسلسل کی بنیاد پر قائم ہوں۔ معاہدے پر دستخط یقینا شخصیات ہی کرتی ہیں، لیکن ایک کامیاب اور دیرپا معاہدہ ان شخصیات کی ذات سے آگے بڑھ کر ریاستوں کے باہمی مفادات کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس اصول کو سمجھنے کے لیے تاریخ میں متعدد مثالیں موجود ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران مارچ 1941ء میں یوگوسلاویہ نے جرمنی اور اس کے اتحادیوں کے ٹرائی پارٹائٹ پیکٹ میں شمولیت اختیار کی۔ یہ معاہدہ اس وقت کی حکومت نے کیا، مگر صرف دو روز بعد فوجی بغاوت کے نتیجے میں حکومت تبدیل ہوگئی۔ نئی حکومت نے سابق حکومت کے فیصلے سے فاصلہ اختیار کیا، جس کے بعد ہٹلر نے یوگوسلاویہ کو دشمن ریاست سمجھتے ہوئے اس کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ 6 اپریل 1941ء کو جرمنی نے یوگوسلاویہ پر حملہ کردیا۔یہ واقعہ اس بنیادی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اگر کسی بین الریاستی معاہدے کی بنیاد کسی ایک حکومت یا مخصوص سیاسی قیادت کے ساتھ شخصی مفاہمت تک محدود ہو تو اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ اس معاہدے کی سیاسی بنیاد بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔ اس کے برعکس وہ معاہدے جنہیں ریاستی ادارے، پارلیمانی و قانونی ڈھانچے، دفاعی ضروریات اور طویل المدت قومی مفادات تقویت دیتے ہیں، حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود اپنا تسلسل برقرار رکھتے ہیں۔ اسی تاریخی تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ محض تین موجودہ حکمرانوں کے درمیان مفاہمت نہیں بلکہ تین ریاستوں کے درمیان ایک وسیع تر دفاعی فریم ورک کی تشکیل ہے، جس کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے پر سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے مکہ مکرمہ میں دستخط کیے۔اس معاہدے کی اصل اہمیت اس کے ریاستی اور ادارہ جاتی کردار میں ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نیا تصور نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے دفاعی، عسکری اور تزویراتی روابط موجود ہیں۔ مکہ معاہدہ اسی تعلق کو ایک نئے مرحلے میں لے جاتا ہے، جہاں باہمی دفاعی تعاون کو ترکیہ کی شمولیت کے ذریعے ایک وسیع تر سہ فریقی فریم ورک حاصل ہوتا ہے۔ یہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار خصوصی طور پر نمایاں ہوتا ہے۔اس پورے عمل کو صرف ایک نئے معاہدے کے طور پر دیکھنا اس کی اصل اہمیت کو محدود کر دیتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وسیع تر تزویراتی تصور نظر آتا ہے: پاکستان اور سعودی عرب کے پہلے سے موجود دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرتے ہوئے اسے ایک ایسے فریم ورک میں تبدیل کیا جائے جس میں ترکیہ جیسی اہم دفاعی اور علاقائی قوت بھی شامل ہو۔ اس تصور کو آگے بڑھانے اور تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو عملی سمت دینے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔یوں دیکھا جائے تو مکہ معاہدہ کسی ایک شخصیت کی ذات سے وابستہ وقتی انتظام کے بجائے تین ریاستوں کے درمیان مشترکہ دفاعی مفادات کو ایک مستقل فریم ورک میں ڈھالنے کی کوشش ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو شخصی معاہدے اور ریاستی معاہدے کے درمیان بنیادی امتیاز پیدا کرتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ بھی اس حوالے سے اہم مثال پیش کرتی ہے۔ 21 جولائی 1964ء کو پاکستان، ایران اور ترکیہ نے علاقائی تعاون برائے ترقی (RCD) کے ذریعے اقتصادی، تجارتی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون کا ایک مشترکہ فریم ورک قائم کیا۔ بعد ازاں 1985ء میں اسی تعاون کو وسعت دے کر اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کی شکل دی گئی، اور 1992ء میں وسطی ایشیا کی ریاستوں اور افغانستان سمیت مزید ممالک اس میں شامل ہوئے۔ یوں ایک ایسا علاقائی تصور جو تین ریاستوں سے شروع ہوا تھا، وقت کے ساتھ وسیع تر بین الریاستی ادارے میں تبدیل ہوگیا۔یہ مثال اس امر کی بھی دلیل ہے کہ تاریخی طور پر پاکستان، ایران اور ترکیہ کے درمیان تعاون صرف حکمرانوں کے تعلقات تک محدود نہیں رہا بلکہ ادارہ جاتی شکل اختیار کرتا رہا ہے۔ آج پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا فریم ورک اسی وسیع تر روایت میں ایک نئے باب کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں دفاعی تعاون کو محض سیاسی بیانات سے نکال کر مشترکہ ذمہ داری کے تصور سے جوڑا گیا ہے۔ اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تینوں ریاستیں اپنی سلامتی کو ایک دوسرے کی سلامتی سے جوڑ رہی ہیں۔ اس طرح باہمی دفاع ایک مشترکہ تزویراتی مفاد بن جاتا ہے۔ترکیہ کی شمولیت اس بندوبست کو مزید اہم بناتی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت، سعودی عرب کی علاقائی حیثیت اور معاشی و تزویراتی وزن، جبکہ ترکیہ کی عسکری صلاحیت، دفاعی صنعت اور جغرافیائی اہمیت—یہ تینوں عوامل مل کر ایک ایسا دفاعی مثلث تشکیل دیتے ہیں جس کے اثرات صرف تینوں ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور تزویراتی توازن پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو محض ایک فوجی سربراہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ دفاعی اور تزویراتی سوچ کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے موجودہ دفاعی تعلقات کو مزید آگے بڑھا کر ترکیہ کو اس فریم ورک میں شامل کرنے کا تصور تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تعلقات کو ایک نئے اور زیادہ جامع مرحلے میں داخل کرتا ہے۔ تاہم اس معاہدے کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ شخصیات کے ساتھ نہیں بلکہ ریاستوں کے ساتھ زندہ رہے گا۔ آج اس پر دستخط کرنے والے رہنما کل اقتدار میں نہ بھی ہوں، تب بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی مفاد، باہمی سلامتی اور تزویراتی شراکت داری برقرار رہنی چاہیے۔ یہی کسی بھی بڑے بین الاقوامی معاہدے کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہے۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے واضح کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ صرف تین ممالک تک محدود نہیں بلکہ امن اور علاقائی استحکام کے خواہش مند دیگر برادر اور دوست ممالک بھی مستقبل میں اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ سعودی حکام نے ساتھ ہی وضاحت کی ہے کہ یہ معاہدہ فوجی یا فرقہ وارانہ بلاک، جوہری اتحاد یا اسلحہ کی دوڑ کا منصوبہ نہیں اور موجودہ دوطرفہ و کثیرالجہتی دفاعی معاہدوں کی جگہ بھی نہیں لے گا۔شخصیات معاہدے تشکیل دیتی ہیں، مگر ریاستیں انہیں زندہ رکھتی ہیں۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت بھی اسی اصول میں پوشیدہ ہے: یہ تین حکمرانوں کے درمیان محض ایک عارضی مفاہمت نہیں، بلکہ تین برادر ریاستوں کے درمیان دفاعی مفادات کو ایک مشترکہ تزویراتی فریم ورک میں ڈھالنے کی کوشش ہے۔ اور اس عمل کو آگے بڑھانے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تزویراتی سوچ، دفاعی سفارت کاری اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعاون کو ایک نئے درجے تک لے جانے کی کوششیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہاں پر چند افسوس ناک پہلوؤں کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین ثالثی کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ نہ صرف مثالی ہے بلکہ ایران اور امریکہ بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔ گو کہ ایران کے سعودی عرب کے ساتھ اختلافات رہے ہیں، لیکن ان کے مابین اس طرح کے اختلافات نہیں تھے کہ ایک دوسرے پر حملہ کر دیتے، جبکہ ایران کی طرف سے خلیجی ممالک، بشمول سعودی عرب، پر حملہ کیا گیا، لیکن سعودی عرب نے اس کے باوجود بھی جوابی کارروائی نہیں کی۔اب جب یہ معاہدہ ہوا ہے تو ایران کی طرف سے اس پر جو ردعمل آیا ہے، اسے افسوس ناک ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ گو کہ ایران نے سعودی عرب کے حوالے سے بات کی ہے، پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کسی قسم کے منفی ریمارکس نہیں دیے، لیکن پاکستان اس معاہدے کا بڑا فریق ہے، اس لیے تلخی کا محسوس ہونا فطری عمل ہے۔ایران کی طرف سے کہا گیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا معاہدہ سعودی عرب کو تحفظ کی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔ ایرانی حکومت کے ترجمان ابراہیم رضائی کی طرف سے کہا گیا کہ سعودی عرب اپنی پالیسیاں تبدیل کرے تاکہ اسے تحفظ کے لیے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ سعودی عرب نے اپنے تحفظ کے لیے امریکہ پر بھی انحصار کیا تھا، لیکن وہ ان کی حفاظت نہیں کر سکا۔ یہ تو بہرحال ایران کی طرف سے آنے والا ردعمل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی طرف سے بھی اس معاہدے پر ردعمل آیا ہے۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رنبیر جسوال کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ہماری اس معاہدے پر ہمہ وقت نظر ہے اور ہم میڈیا کو اس حوالے سے آگاہ کرتے رہیں گے۔بھارت کی طرف سے تحفظات کا آنا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن سعودی عرب کے ساتھ جس طرح کے گرم جوش تعلقات ہیں، ان کی طرف سے بھی اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار ان کے اور سعودی عرب کے تعلقات پر ایک سوالیہ نشان ضرور کھڑا کرتا ہے۔ تاہم، پاکستان کے حوالے سے بھارت کی طرف سے ایسا کہا جانا فطری عمل ہے۔اس کے ساتھ ایک اور افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ ادھر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی معاہدے پر دستخط ہو رہے تھے، ادھر یمن کی طرف سے سعودی عرب پر حملہ کر دیا گیا، جس میں گیارہ شہری زخمی ہوئے، جن میں چار پاکستانی بھی شامل ہیں۔ قارئین!مختلف مملکتوں ، ریاستوں اور جغرافیائی خطوں کے درمیان ایسے دفاعی معاہدے ہماری تاریخ میں اکثر جابجا پڑھنے کو ملتے ہیں۔معاہدہ ذاتی طور پر،گروپ کی بنیاد پر یا ریاستی بنیاد پر کیا جائے تو اس کے محرکات پر نظر دوڑانا بہت ضروری ہوتا ہے۔دنیا بھر کے دو ارب مسلمانوں کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ اقوام متحدہ کی طرح ایک ڈپلومیٹک پلیٹ فارم یا نیٹو کی طرز پر ایک دفاعی حصار قائم ہونا چاہیے۔مگر مسلمان ریاستوں کی خود اپنی ہی ناعاقبت اندیشیوں اور سیاسی نابالغ پن کی وجہ سے ایسے خواب کبھی منصوبوں میں نہ بدل سکے۔یہ کون نہیں جانتا کہ سعودی عرب سے ہمارے ایموشنل مذہبی جذبات وابستہ ہیں اور ترک تو ہماری رگوں تک میں شامل ہیں۔اور دنیا میں جب بھی پاکستان کے مفادات کی بات ہوتی ہے تو پاکستان سے زیادہ ترکی ہمارے سامنے ڈھال کی طرح سینہ سپر ہوتا ہے۔اس معاہدے پر مستقبل قریب میں پازیٹو اور نیگیٹو آراء یقینا سامنے آئیں گی۔مگر اب ان تینوں برادرز مملکتوں کو اپنی عوام کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا کیونکہ وہی رشتے دیرپا ہوتے ہیں جن کی جڑیں عوام کے اندر گہرائی تک پہنچی ہوں۔(قارئین اس اتحاد کو شخصیتوں تک محدود رکھنے سے یقینا اس کو شدید نقصان پہنچے گا کیونکہ مملکتوں کی سیاسی اقتدار کی رسہ کشی ایک بنیادی عمل ہے مگر ریاستوں اور عوام کے درمیان ہم آہنگی آنے والے والے عشروں میں بھی اس بندھن کو مزید مضبوط کرے گی)ترکی،سعودی عرب اور پاکستان کے دشمنوں کی بڑی تعداد ہمہ وقت اس ژبوتاز کی تلاش میں لگی رہے گی لیکن عوام کے درمیان دلی فاصلوں کو کم کرکے ہم اس حصار کو مضبوط کر سکتے ہیں۔اور ہمیں دنیا کے باقی ساٹھ سے زیادہ برادرز اسلامی ملکوں کو یہ پیغام بھی ڈلیور کرنا ہے کہ ہم مسلک،زبان اور ثقافتی جذباتیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اب ان تین ممالک کے اتحاد کو63ملکوں کے عوام تک پہنچانا ہے۔جیسا کہ اس سے پہلے یورپ کے چالیس سے زائد ممالک معاشی اور دفاعی پیکج میں بندھ چکے ہیں۔ جبکہ ایشیا کی متمول ریاستیں جیسے جاپان ،انڈونیشیا ،ملائیشیا ،کوریا ،چین، سنگاپور وغیرہ نے بھی ’’آسیان ‘‘ کے نام سے ایسا ہی گروپ بنا رکھا ہے۔اور نارتھ امریکہ کی کینیڈا، میکسیکو اور امریکہ سمیت ریاستیں بھی گہرے دفاعی اور معاشی بندھن میں بندھ چکی ہیں۔اور اب تو افریقہ جسے ہم پسماندہ براعظم تصور کرتے تھے ان کے پاس ایٹم بم تو نہیں مگر معاشی طور پر وہ کافی زیادہ خوشحال اور آسودہ ریاستوں کا سٹیٹس حاصل کر چکی ہیں۔اس طرح عرب بھی ’’عرب لیگ‘‘ سے جڑے ہوئے ہیں ۔جبکہ بھار ت نے اپنا قدرتی اور فطرتی پارٹنر بھی ڈھونڈ لیا ہے ۔بھارت اسرائیل اور یوکرین سے مل کر ایک اتحاد تشکیل دے چکا ہے۔مکہ دفاعی معاہدہ ان سب ممالک کی نیندیں حرام کرنے کے لیے یقینا تپتے ہوئے پتھر پر بارش کے پہلے قطرے کی مانند ہے۔اور یہ مسلم عوام اور مسلم ریاستوں کی ثوابدید پر ہے کہ وہ اپنے کاز اور مشن سے کس قدر مخلص ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus