×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا مضبوط وفاق کیلئے صوبیداری نظام بہتر ہوگا؟
Dated: 08-Sep-2026
پاکستان جب 1947ء میں وجود میں آیا تو اس وقت مشرقی اور مغربی پاکستان کو ملا کر ملک کی مجموعی آبادی تقریباً پانچ کروڑ کے لگ بھگ تھی۔ آج حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ موجودہ پاکستان کی آبادی غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق 29کروڑ ، جبکہ سابق مشرقی پاکستان، جو اب بنگلہ دیش ہے کی آبادی بیس کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے، اس بنیادی تبدیلی کے باوجود پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک اسی تصور کے گرد گھوم رہا ہے جو ایک نسبتاً کم آبادی والے ملک کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔یہ سوال اب محض سیاسی نہیں رہا کہ پاکستان کو مزید صوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ انتظامی ساخت آج کی آبادی، شہری پھیلاؤ اور عوامی ضروریات کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ کراچی اس بحث کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ قیام پاکستان کے وقت کراچی کی آبادی بمشکل پانچ سے سات لاکھ کے قریب تھی مگر آج یہ شہر غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق پونے تین کروڑ کی نفسیاتی حد عبور کر چکا ہے،اتنی بڑی آبادی کو صرف ایک میئر، ایک بلدیاتی نظام یا ایک محدود انتظامی ڈھانچے کے ذریعے مؤثر انداز میں چلانا ایک غیر معمولی چیلنج ہے۔ دنیا کے بڑے شہروں میں بھی آبادی بڑھنے کے ساتھ انتظامی اختیارات کو مختلف سطحوں اور اداروں میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ فیصلہ سازی شہریوں کے قریب ہو سکے۔اسی طرح لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، پشاور، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہری مراکز بھی مسلسل پھیل رہے ہیں۔جب کہ راولپنڈی جیسا قصباتی شہر قیام پاکستان کے وقت سے لے کر آب تک میٹروپولیٹن شہر کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ آبادی کے دباؤ کے ساتھ تعلیم، صحت، صفائی، ٹرانسپورٹ، پانی، نکاسیٔ آب، روزگار اور شہری منصوبہ بندی جیسے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ بحث ناگزیر ہے کہ کیا بڑے صوبے اپنے تمام علاقوں کو یکساں توجہ دے سکتے ہیں؟ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی حالیہ گفتگو میں پنجاب کی حکمران جماعت کا موقف بیان کیا ہے ۔ ان کے مطابق حل یہ ہو سکتا ہے کہ بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کی جائیں یا ملک میں 12 سے 15 صوبے بنائے جائیں۔ انہوں نے آبادی کے دباؤ اور مرکزیت کو نظام پر بڑھتے ہوئے بوجھ کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی آبادی والے علاقوں کو ایک ہی صوبائی مرکز سے چلانا مشکل ہو چکا ہے۔احسن اقبال نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بدین سے گھوٹکی تک پورا سندھ کراچی یا کسی ایک مرکز سے مؤثر انداز میں نہیں چلایا جا سکتا، اسی طرح رحیم یار خان سے اٹک تک پھیلے ہوئے پنجاب کے لیے لاہور سے ہر علاقے کی ضروریات کو یکساں طور پر دیکھنا آسان نہیں۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ انتظامی طور پر نظام میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بات اہم ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کو کسی علاقے کی شناخت ختم کرنے کے بجائے انتظامی اصلاحات کے تناظر میں دیکھا جائے۔ صوبہ ایک انتظامی اکائی بھی ہے، لیکن اس کے ساتھ زبان، ثقافت، تاریخ اور علاقائی شناخت بھی جڑی ہوتی ہے۔ اس لیے نئے انتظامی یونٹس تشکیل دیتے وقت مقامی ثقافت اور شناخت کے تحفظ کو بنیادی اصول بنایا جانا چاہیے۔(ایک شعوری اور پنجابی سماجی کارکن ہونے کے ناطے میں ان حالات میں تو قطعاً اس فلسفے کو سپورٹ نہیں کر سکتاکیونکہ اس میں عوامی اعتماد اور قبولیت کا فقدان ہے) پنجاب کے حوالے سے بھی یہی اصول سامنے آتا ہے۔ اگر نئے انتظامی صوبے یا یونٹس بنائے جاتے ہیں تو اس کا مطلب پنجاب کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو ختم کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ جنوبی پنجاب، وسطی پنجاب، پوٹھوہار یا دیگر علاقوں کی انتظامی ضروریات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ان علاقوں کی ثقافتی شناخت اپنی جگہ برقرار رہ سکتی ہے۔اسی طرح سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو بھی کسی زبان یا قومیت کے خلاف اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ سندھ کی اپنی تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی شناخت ہے اور اسے محفوظ رکھتے ہوئے انتظامی سہولت پیدا کی جا سکتی ہے۔ کراچی کی غیر معمولی آبادی اور معاشی اہمیت بھی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر سنجیدہ اور غیر جذباتی بحث ہونی چاہیے۔ ایک قابلِ غور تصور یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ ڈویژنوں کو بنیاد بنا کر انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں۔ مثال کے طور پر لاہور ڈویژن، گوجرانوالہ ڈویژن، ملتان ڈویژن، بہاولپور ڈویژن یا دیگر ڈویژنوں کو مستقبل میں صوبائی حیثیت دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح انتظامی مرکز عوام کے قریب آ سکتا ہے اور ایک بہت بڑے صوبے کے اندر موجود علاقوں کو اپنی ترقیاتی ترجیحات طے کرنے کا زیادہ موقع مل سکتا ہے۔ یہاں ایک اور بنیادی سوال سامنے آتا ہے: کیا پاکستان کو موجودہ پارلیمانی انتظام کے ساتھ مزید صوبوں کی ضرورت ہے یا انتظامی نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی بھی درکار ہے؟صدارتی نظام اور انتظامی یونٹس کے حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں۔ ایک تصور یہ ہے کہ مضبوط وفاق کے ساتھ نسبتاً چھوٹے اور بااختیار انتظامی یونٹس بنائے جائیں، جن کے سربراہ انتظامی ذمہ داری ادا کریں۔ تاریخی تناظر میں برصغیر میں صوبہ دار کا تصور بھی موجود رہا ہے۔ جدید ریاست میں یقیناً اس تصور کو جوں کا توں نافذ نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس تاریخی اصطلاح کو جدید انتظامی مفہوم دے کر کسی صوبائی انتظامی سربراہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً نئے صوبے کے سربراہ کو ’’صوبہ دار‘‘ کہا جائے، جبکہ اس کے اختیارات آئین اور قانون کے ذریعے واضح کیے جائیں۔ اس انتظام میں تاریخی نام صرف ایک علامت ہو، جبکہ نظام جدید جمہوری اصولوں، شفافیت، احتساب اور عوامی نمائندگی پر قائم ہو۔(مثال کے طور پر جس طرح مغل، لودھی، غوری اورسلجوق خاندانوں کے ادوار میں چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹ بنا کر منتظم کو صوبے دار پکارا جاتا تھا اور صوبے دار کی حیثیت آج کل کی سسٹم کے لحاظ سے گورنر کی سی ہوتی تھی جو براہ راست بادشاہ کو جوابدہ تھا )یہ بھی ضروری ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کو صرف اقتدار کی تقسیم کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ اگر کوئی سیاسی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ نئے صوبے بننے سے اس کی سیاسی طاقت کم ہو جائے گی تو یہ انتظامی اصلاحات روکنے کی مناسب وجہ نہیں ہونی چاہیے۔ ریاستی نظام کا مقصد کسی ایک جماعت یا گروہ کا سیاسی مفاد محفوظ کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو بہتر حکمرانی فراہم کرنا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت یا حمایت کو بھی سیاسی دشمنی کے بجائے انتظامی ضرورت کی بنیاد پر دیکھنا ہوگا۔ اگر دس یا بارہ صوبے انتظامی اعتبار سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں تو اس تجویز پر غور ہونا چاہیے۔ اگر سندھ میں مزید انتظامی یونٹس بن سکتے ہیں اور پنجاب میں بھی آبادی اور رقبے کے مطابق نئی اکائیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں تو اس پر قومی سطح پر کھلی بحث ہونی چاہیے۔پاکستان میں موجود ڈویژنوں، اضلاع اور تحصیلوں کی موجودہ ساخت کو سامنے رکھ کر ایک جامع انتظامی نقشہ تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ آبادی، رقبہ، معاشی سرگرمی، جغرافیہ، شہری پھیلاؤ، ثقافتی شناخت اور مواصلاتی رابطوں کو معیار بنایا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کو ’’کون جیتے گا اور کون ہارے گا‘‘ کے سیاسی سوال سے نکال کر ’’عوام کو کیا ملے گا‘‘ کے سوال میں تبدیل کیا جائے۔ اگر نئے انتظامی یونٹ عوام کو بہتر تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار، ٹرانسپورٹ اور فوری انتظامی رسائی فراہم کرتے ہیں تو ان کی مخالفت محض سیاسی مفاد کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ اس لیے ریاستی ڈھانچے کو بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہونا ہوگا۔نئے صوبے پاکستان کو تقسیم نہیں کرتے؛ اگر دانش مندی، آئینی طریقے اور قومی اتفاقِ رائے سے بنائے جائیں تو وہ اختیارات کو عوام کے قریب لا سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی شناختیں محفوظ رہیں، ثقافتوں کا احترام ہو، مقامی حکومتیں بااختیار ہوں اور وفاق مضبوط رہے۔پاکستان کو ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو آبادی کے موجودہ حجم اور مستقبل کی ضروریات کا مقابلہ کر سکے۔ قارئین!نئے انتظامی ڈھانچے یا صوبے داری نظام کو نافذ کرنے سے پہلے ہمیں اس امر پر بھی سوچنا ہوگا کہ ملکی سلامتی مقدم ہے یا کہیں نئے انتظامی ڈھانچواں کا خواب ہماری ملکی سلامتی سے متصادم نہ ہو جائیں۔ قارئین!سیاست اور صحافت کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے میں اس تجزیے پر پہنچا ہوں کہ شاید یہ وقت صوبوں کو تقسیم یا نئے انتظامی یونٹ بنانے کے لیے سازگار نہیں تھا کیونکہ بہت سی سیاسی جماعتوں کو ویسے ہی سسٹم پر اعتبار نہیں جیسے نئے صوبوں بنانے کی سوچ دینے والی قوتیں اس موجودہ سسٹم کو ناکام قرار دے چکی ہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ خود بھی اس سسٹم کا ایک مضبوط ترین ’’پاوا‘‘ہیں۔یقینا نئے انتظامی یونٹ بنانے کا فیصلہ بھی عوام کی مرضی کے بغیر یا عوام کو کنوینس کیے بغیر کیسے ممکن ہے؟جب کہ پچھلے 80سالوں میں پنجاب کی پے در پے تقسیم سے پنجاب کی اپنی ثقافتی اور لسانی پہچان اس حد تک ختم ہو چکی ہے کہ اس وقت بھی پنجاب وہ واحد صوبہ ہے جہاں پر بچے کو اسکول میں اس کی مادری زبان میں تعلیم میسر نہیں۔اسی لیے نئے صوبوں پر پنجاب کے عوام کا ردعمل غیرمتوقع نہیں۔قارئین!نئے یونٹ بے شک انتظامی اصطلاحات کے لیے ضروری ہیں مگر یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ کسی شہری کو کُرتہ لاچا اُتار کر تھری پیس سوٹ پہننے پر مجبور کر دیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus