×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
حرمین شریفین کا دفاع اور پاکستان کا عزم
Dated: 22-Sep-2026
حرم کعبہ مسلمانوں کے لیے محض ایک مقدس مقام نہیں، بلکہ ان کے ایمان، عقیدے اور روحانی وحدت کا مرکز ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور جہانوں کے لیے ہدایت ہے‘‘ (آل عمران: 96)۔ اس آیت میں بیت اللہ کی عظمت اور اس کی عالمی ہدایت کا ذکر موجود ہے۔ مسلمانوں کے لیے حرمین شریفین کی حرمت کا تحفظ ایک غیر معمولی جذباتی، دینی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔ تاہم، اس ذمہ داری پر گفتگو کرتے ہوئے ایمان کے جذبات، ریاستی فرائض، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سیاست، ان تمام پہلوؤں کو ایک ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی عقیدت، عوامی روابط، معاشی مفادات اور دفاعی تعاون کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ ایسے میں سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے برادر ملک اور حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے اپنے عزم کو کس طرح ایک مؤثر، متوازن اور قابلِ عمل حکمت عملی میں تبدیل کر سکتا ہے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جو موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کے سامنے کھڑا ہے۔ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اس خطے کی بدلتی ہوئی سلامتی کی صورت حال میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع اور باہمی سلامتی کے تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ اس معاہدے کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ اس میں تین مسلم ممالک شامل ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ ان تینوں کی دفاعی صلاحیتیں، جغرافیائی اہمیت اور معاشی مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود مشترکہ سلامتی کے ایک فریم ورک میں جمع ہو رہے ہیں۔ پاکستان ایک جوہری قوت ہے، ترکیہ ایک مضبوط دفاعی صنعت اور بڑی فوجی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب خطے کی اہم معاشی اور توانائی کی طاقت ہے۔ ان تینوں کا تعاون علاقائی سلامتی، دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس تعاون اور سفارتی رابطوں کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ہوگا: کسی دفاعی معاہدے پر دستخط اور اس کے تحت کسی مخصوص جنگ میں فوجی کارروائی کے درمیان کئی آئینی، سیاسی، عسکری اور سفارتی مراحل ہوتے ہیں۔ معاہدہ اجتماعی دفاع کا اصول بیان کرتا ہے، مگر اس کے عملی اطلاق کے لیے حملے کی نوعیت، فریقین کی مشاورت، قانونی تقاضوں اور متعلقہ ریاستوں کے فیصلوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس لیے پاکستان کا عزم کمزوری نہیں، بلکہ ذمہ داری کے ساتھ جڑا ہوا ہونا چاہیے۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں نے یہ سوال ضرور پیدا کیا ہے کہ ایک غیر ریاستی مسلح گروہ اتنی مؤثر حملہ آور صلاحیت کیسے برقرار رکھتا ہے۔ تاہم، اسے محض اچانک نمودار ہونے والی طاقت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ حوثی تحریک نے کئی برسوں کے دوران جنگی تجربہ، مقامی نیٹ ورکس، میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی، اور جغرافیائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت پیدا کی ہے۔ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات اور مبینہ عسکری مدد بھی علاقائی تجزیوں کا اہم موضوع رہے ہیں۔ اس کے باوجود ایران اور حوثیوں کے تعلقات کو مکمل طور پر ایک ہی کمانڈ کے تحت کام کرنے کے مترادف سمجھنا محتاط تجزیے کے خلاف ہوگا۔ ایران حوثیوں کو مختلف نوعیت کی معاونت فراہم کرنے کے الزامات کا سامنا کرتا رہا ہے، لیکن حوثیوں کے اپنے سیاسی اور عسکری مفادات بھی ہیں۔ اس لیے ہر حملے کا فیصلہ براہِ راست ایرانی حکم کا نتیجہ قرار دینا ایک ایسا دعویٰ ہوگا جس کے لیے مخصوص شواہد درکار ہیں۔ پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ حوثیوں کو کس نے طاقت دی، بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ سعودی عرب کی فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتوں کو کس طرح مضبوط کیا جا سکتا ہے، شہری آبادی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے کون سے مؤثر انتظامات ضروری ہیں، علاقائی کشیدگی کو وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے کیسے روکا جائے، اور پاکستان اپنے دفاعی وعدوں کو کس طرح ایسی حکمت عملی میں تبدیل کرے جو قومی مفاد اور علاقائی استحکام دونوں سے ہم آہنگ ہو۔ یہ سوالات جذباتی نعروں سے زیادہ عملی توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کئی دہائیوں سے سلامتی، توانائی، اسلحے اور سفارت کاری کے شعبوں میں قائم ہیں، لیکن کسی مخصوص جنگ میں امریکی فوجی مداخلت کا فیصلہ ہمیشہ واشنگٹن کے اپنے مفادات، جنگی خطرات اور سیاسی ترجیحات سے متاثر ہوتا ہے۔ حالیہ صورت حال میں امریکی پالیسی کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ واشنگٹن سعودی عرب کے خلاف حوثی کارروائیوں پر براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کر رہا ہے۔ اس رویے کی کئی ممکنہ وجوہات ہیں: خطے میں پہلے سے جاری جنگ، مزید محاذ کھلنے کا خطرہ، توانائی کی عالمی منڈی پر اثرات اور سفارتی حل کے امکانات۔ ان میں سے کسی ایک وجہ کو واشنگٹن کی مکمل نیت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ پاکستان کو اس صورت حال سے ایک اہم سبق حاصل کرنا چاہیے: کسی بھی ملک کی سلامتی کو مکمل طور پر کسی بیرونی طاقت کی مرضی یا عسکری ترجیحات سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ تاہم، اس تعاون کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف مستقل محاذ آرائی نہیں، بلکہ اپنے علاقوں اور عوام کے تحفظ، دفاعی خود انحصاری اور علاقائی استحکام کی صلاحیت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاست میں سعودی عرب اور اسرائیل کے ممکنہ تعلقات بھی ایک اہم موضوع ہیں۔ امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو ابراہم معاہدوں میں شامل کرنے کی خواہش کا تعلق خطے میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے دائرے کو وسیع کرنے سے ہے۔ تاہم، سعودی قیادت نے فلسطینی مسئلے، بالخصوص دو ریاستی حل، کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی ممکنہ پیش رفت سے جوڑنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس معاملے میں سعودی عرب کے لیے فلسطینی ریاست کا سوال ایک اہم سفارتی اور سیاسی شرط کے طور پر سامنے آتا رہا ہے۔ یہاں پاکستان کے لیے ایک بنیادی اصول موجود ہے: فلسطینی عوام کے حقوق، بیت المقدس کی حرمت اور خطے میں منصفانہ امن کی حمایت اس کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ رہی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر اپنے اصولی مؤقف سے دست بردار ہو جائے۔ پاکستان کو ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنے چاہییں اور دوسری طرف فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے سفارتی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ دونوں ذمہ داریاں ایک دوسرے سے متصادم نہیں، بشرطیکہ خارجہ پالیسی جذباتی ردعمل کے بجائے واضح اصولوں پر قائم ہو۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے پاکستانی عوام کے جذبات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اظہار دونوں ملکوں کے تاریخی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے منسوب بیان، جس میں سعودی عرب کے دفاع اور حرمین شریفین کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا گیا، پاکستانی معاشرے میں گہرے مذہبی جذبات سے ہم آہنگ ہے۔ تاہم، ریاستی پالیسی کے بارے میں کسی بھی بیان کی عملی تشریح کرتے وقت اس کے سرکاری متن، دائرۂ کار اور متعلقہ حکومتی فیصلوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان کا دفاعی کردار صرف فوجی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ جدید جنگوں میں فضائی دفاع، ڈرون شکن نظام، سائبر سکیورٹی، انٹیلی جنس تعاون، دفاعی پیداوار اور شہری تحفظ بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو سعودی عرب کے ساتھ تعاون میں استعمال کر سکتا ہے، مگر اس کے لیے واضح قواعد، باہمی مشاورت اور قانونی اختیار ضروری ہوں گے۔ کسی بھی ممکنہ فوجی اقدام میں پاکستانی فوجیوں کی سلامتی، قومی وسائل، خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور ایران کے ساتھ تعلقات جیسے عوامل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان طویل سرحد، تاریخی روابط اور علاقائی مفادات موجود ہیں۔ اس لیے سعودی عرب کے دفاع کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھنا بھی پاکستان کی ضرورت ہے۔ علاقائی جنگ میں توسیع کے بجائے کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش پاکستان کے لیے زیادہ پائیدار راستہ پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا شکار ہے۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے لیے تعاون کے نئے امکانات پیدا کرتا ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار صرف دستخطوں پر نہیں بلکہ عملی منصوبہ بندی، باہمی اعتماد اور واضح فیصلوں پر ہوگا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کے اپنے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک ذمہ دار علاقائی شراکت دار ہے۔ ایسا شراکت دار جو اپنے دوستوں کی سلامتی کو اہمیت دیتا ہے، مگر جنگ کے پھیلاؤ کے خطرات کو بھی سمجھتا ہے؛ جو دفاعی صلاحیت رکھتا ہے، مگر سفارت کاری کو کمزوری نہیں سمجھتا؛ اور جو حرمین شریفین کی حرمت کے لیے جذبات رکھتا ہے، مگر ان جذبات کو مؤثر ریاستی حکمت عملی میں ڈھالنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ آج پاکستان کے سامنے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ عقیدت کو ذمہ داری، عزم کو حکمتِ عملی اور دفاعی طاقت کو پائیدار امن کے مقصد سے کس طرح جوڑتا ہے۔ حرمین شریفین کا تحفظ صرف ایک ملک کی نہیں، پوری امت کی تشویش ہے۔ اس تشویش کا بہترین جواب ایسا اجتماعی کردار ہے جو مقدس مقامات، انسانی جانوں اور علاقائی امن، تینوں کی حفاظت کو اپنا مقصد بنائے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعاون کو مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی تعاون، معاشی شراکت داری اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہیے۔ اسی طرح ترکیہ کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مضبوط بنانا تینوں ممالک کی مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔ صرف فوجی طاقت پر انحصار کسی بھی تنازعے کو مستقل طور پر ختم نہیں کرتا۔ پائیدار امن کے لیے سیاسی حل، علاقائی اعتماد اور تنازعات کے بنیادی اسباب پر توجہ ضروری ہے۔ اگر پاکستان اپنے دفاعی عزم کو مؤثر بنانا چاہتا ہے تو اسے اپنی معاشی بنیاد، دفاعی پیداوار، سفارتی صلاحیت اور داخلی استحکام پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ حرمین شریفین کی حفاظت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ مقدس مقامات کو جنگ، تباہی اور سیاسی تنازعات سے محفوظ رکھنے کے لیے دانش مندانہ اقدامات کیے جائیں۔ اس لیے پاکستان کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ اپنے تاریخی، مذہبی اور دفاعی تعلقات کو ایک ایسی متوازن حکمتِ عملی میں ڈھالے جو سعودی عرب کی سلامتی، حرمین شریفین کے تحفظ، فلسطینی عوام کے حقوق اور پورے خطے کے امن کو یکجا کر سکے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus