×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کینیڈا میں لوکل باڈی انتخابات اور جمہوری سسٹم
Dated: 15-Sep-2026
کینیڈا میں انتخابات کے بنیادی طور پر تین درجے ہیں: وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی۔ وفاقی سطح پر ہاؤس آف کامنز کے ارکان یعنی ممبران پارلیمنٹ (MPs) منتخب ہوتے ہیں، جو وفاقی پارلیمنٹ کا حصہ بنتے ہیں اور قومی سطح کی قانون سازی اور پالیسی سازی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ عام طور پر وفاقی انتخابات کی مدت زیادہ سے زیادہ چار سال ہوتی ہے، تاہم بعض حالات میں پارلیمنٹ قبل از وقت بھی تحلیل ہو سکتی ہے اور نئے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ دوسری سطح صوبائی اسمبلیوں کی ہے۔ ہر صوبے کی اپنی اسمبلی اور حکومت ہوتی ہے جو صوبائی معاملات، قانون سازی اور پالیسی سازی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ صوبائی اسمبلیوں کی معمول کی مدت بھی تقریباً چار سال ہوتی ہے، تاہم بعض حالات میں قبل از وقت انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ تیسری اور انتہائی اہم سطح بلدیاتی حکومتوں (Local Governments)کی ہے۔ کینیڈا کے شہریوں کی روزمرہ زندگی سے سب سے زیادہ براہِ راست تعلق اسی سطح کی حکومت سے ہوتا ہے۔ سڑکیں، مقامی ٹرانسپورٹ، پانی و نکاسی آب، صفائی، شہری منصوبہ بندی، پارکس، مقامی ترقیاتی منصوبے اور متعدد دیگر بنیادی شہری سہولتیں بلدیاتی اداروں کے دائرۂ کار میں آتی ہیں۔بلدیاتی انتخابات عموماً غیر جماعتی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ یعنی امیدوار ضروری نہیں کہ کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے۔ اس نظام میں امیدوار کی شخصیت، مقامی مسائل سے واقفیت، کارکردگی اور شہریوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ مثلاً انٹاریو کے شہر مسی ساگا کی آبادی پندرہ لاکھ کے قریب ہے۔ یہاں شہری حکومت میں میئر اور وارڈز سے منتخب کونسلرز شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح گریٹر ٹورنٹو ایریا اور دیگر بڑے شہری مراکز میں بلدیاتی حکومت کا کردار بہت نمایاں ہے۔ کینیڈا کا سب سے بڑا شہر ٹورنٹو ہے، جبکہ ملک کے بیشتر دیگر شہری مراکز کی آبادی چند لاکھ سے لے کر دس، بارہ لاکھ یا اس سے زیادہ تک ہے۔ اصل طاقت کہاں ہے؟کینیڈا کے سیاسی نظام کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی نمائندوں کا بنیادی کام قانون سازی، پالیسی سازی، حکومت کی نگرانی اور اپنے حلقے کے شہریوں کی آواز پارلیمنٹ تک پہنچانا ہے۔ ان کے پاس پاکستان کے روایتی سیاسی تصور کے مطابق ترقیاتی فنڈ یا سرکاری ملازمتوں کے کوٹے تقسیم کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ کینیڈا میں ایک رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کے رکن کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ اس نے اپنے حلقے میں کتنی سڑکیں بنوائیں یا کتنے لوگوں کو سرکاری ملازمتیں دلوائیں، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس نے قانون سازی، پالیسی اور عوامی مسائل پر پارلیمنٹ میں کیا کردار ادا کیا۔اس کے برعکس شہری زندگی کے بہت سے عملی معاملات بلدیاتی حکومت کے ذریعے طے ہوتے ہیں۔ شہری منصوبہ بندی، سڑکوں اور مقامی انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال، پبلک ٹرانزٹ، پارکس، کچرے کے انتظام اور دیگر مقامی سہولتوں سے متعلق فیصلوں میں میئر اور سٹی کونسل کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔اسی لیے بعض اوقات وفاقی یا صوبائی سطح کے سیاست دان بھی بلدیاتی سیاست کو زیادہ براہِ راست عوامی اثر رکھنے والی سیاست سمجھتے ہیں۔ کونسلر اپنے علاقے کے شہریوں کے نسبتاً قریب ہوتا ہے اور اسے روزمرہ شہری مسائل کا براہِ راست سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کی اہمیت۔کینیڈا میں وفاقی یا صوبائی سیاست میں سیاسی بحران، حکومت کی تبدیلی یا قبل از وقت انتخابات کا امکان ہو سکتا ہے، لیکن بلدیاتی اداروں کا نظام شہری انتظام کے تسلسل کے لیے ایک الگ بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کو محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ شہری نظام کے تسلسل کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔انٹاریو میں بلدیاتی انتخابات مقررہ انتخابی شیڈول کے تحت ہوتے ہیں اور شہری اپنے میئر، کونسلرز اور بعض دیگر مقامی نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ مختلف صوبوں میں بلدیاتی نظام، انتخابی قوانین، عہدوں اور انتخابی طریقۂ کار میں فرق پایا جاتا ہے۔یہ فرق اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کینیڈا کا وفاقی نظام صرف اوپر سے نیچے تک اقتدار کی تقسیم کا نام نہیں، بلکہ مقامی سطح پر بھی اختیارات اور ذمہ داریوں کی ایک باقاعدہ تقسیم موجود ہے۔ پاکستان کے لیے ایک اہم سبق۔پاکستان اور کینیڈا کے سیاسی نظام کا تقابل کیا جائے تو ایک دلچسپ فرق سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں فوجی ادوار کے دوران بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نسبتاً زیادہ باقاعدگی سے ہوتا رہا، جبکہ جمہوری ادوار میں بلدیاتی نظام کو مسلسل اور مؤثر انداز میں چلانے میں مشکلات رہی ہیں۔ بعض اوقات انتخابات ہوتے ہیں، پھر ادارے اپنی مدت پوری نہیں کر پاتے یا طویل عرصے تک نئے انتخابات نہیں ہو پاتے۔اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بلدیاتی انتخابات کب ہوتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو آئینی، انتظامی اور مالی اعتبار سے کتنا اختیار حاصل ہے۔اگر مقامی حکومت کے پاس اپنے علاقے کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے مناسب اختیارات، وسائل اور جواب دہی کا نظام موجود نہ ہو تو صرف الیکشن کرا دینے سے گراس روٹ جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی۔قارئین جب ہم کینیڈا کی بات کریں تو ایک بات کا خاص دھیان رکھنا ہوگا کہ کینیڈا میں مضبوط وفاق کے لیے ایک عام شہری کو تین مختلف ٹیکسز کے درمیان سے گزرنا پڑتا ہے۔ ۱۔وفاقی ٹیکس ،۲۔ پرونشل ٹیکس، ۳۔سٹی یا ویلج ٹیکس۔اور دوسرا یہ کہ وفاق کے پاس صرف ریلوے ،دفاع وزارتِ خارجہ و امیگریشن اور کرنسی کے معاملات ہوتے ہیں۔جب کہ باقی ہر قسم کے روزمرہ معاملات مثلاً پولیس، سڑکیں، پانی، بجلی ،ایمپلائمنٹ اور سوشل ویلفیئر جیسے معاملات صوبوں کی زیر نگرانی چلتے ہیں ۔کینیڈا کے تجربے سے پاکستان کے لیے سب سے اہم سبق یہی ہے کہ اقتدار کی منتقلی صرف اسلام آباد سے صوبائی دارالحکومتوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اختیارات کا ایک مؤثر حصہ تحصیل، شہر، ضلع اور یونین کونسل کی سطح تک بھی منتقل ہونا چاہیے۔ گراس روٹ جمہوریت ہی اصل جمہوریت ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن عام شہری کا واسطہ سب سے زیادہ اپنے شہر، محلے اور مقامی حکومت سے پڑتا ہے۔ اسے صاف سڑک، بہتر ٹرانسپورٹ، نکاسی آب، صفائی، پارک، شہری منصوبہ بندی اور دیگر بنیادی سہولتیں درکار ہوتی ہیں۔اس لیے اگر پاکستان میں جمہوریت کو حقیقی معنوں میں گراس روٹ لیول تک لے جانا ہے تو مضبوط، بااختیار، باوسائل اور جواب دہ لوکل گورنمنٹس ناگزیر ہیں۔سیاسی اقتدار کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ صرف پارلیمنٹ کی عمارتوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام آدمی کی دہلیز تک پہنچے۔ گراس روٹ لیول تک اقتدار کی حقیقی منتقلی کے لیے لوکل گورنمنٹس کو مضبوط بنانا اب وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ قارئین!اپنے چالیس سال سے زیادہ بیرون ملک خصوصی یورپ اور نارتھ امریکہ میں گزارنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ غیرجماعتی بلدیاتی نظام جس میں خصوصا ً کسی سیاسی جماعت کی بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت نہ ہو۔اور وہ کسی بھی مقامی یا صوبائی طاقتور دھڑوں کی اپروچ سے دور رہے ۔اور بلدیاتی نظام کسی بھی ملک کے قومی نظام اور سسٹم کو نہ صرف مضبوط بناتا ہے بلکہ یہ کسی بھی شہری کی پہلی تربیت ہوتی ہے جو اسے اس کا ہوم ٹائون فراہم کرتا ہے۔ ہم نے یورپ اور کینیڈا میں رہتے ہوئے یہ اکثر محسوس کیا کہ شہر کے چھوٹے چھوٹے لوکل مسائل پر بھی بیشتر اوقات ریفرنڈم کروا دیئے جاتے ہیں۔چونکہ یہ مسائل براہ راست عوام سے منسلک ہوتے ہیں ۔عوام کو ہی یقینا یہ فیصلہ کرنا چاہیے ۔مثلاً ایک شہر میں شہری اتھارٹی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ یہاں اورنج ٹرین کی ضرورت ہے اور اس پر بیس ارب ڈالر خرچہ آئے گا۔اب اس پرپوزل کو سٹی گورنمنٹ ایک ریفرنڈم کی صورت عوام کے سامنے رکھتی ہے ۔اب یہ فیصلہ کرنا عوام کا کام کہ ہمیں اس پراجیکٹ کی ضرورت ہے کہ نہیں۔کیونکہ اس جیسے پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے بھاری رقوم درکار ہوتی ہیںاور یہ پیسہ وفاق مہیا نہیں کرتا ، یہ پیسہ پرونشل اور لوکل گورنمنٹ نے خود اپنے بل بوتے پر انجام دینا ہوتا ہے۔ اور یقینا یہ پیسہ عوام کے ٹیکسز سے ہی وصول کیا جاتا ہے۔ اور یہ عوام کی صوابدید پر ہے کہ وہ اس پیسے سے اورنج ٹرین کا منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچانا چاہتی ہے یا پھر وہ کسی نئی یونیورسٹی یا ہسپتال کی تعمیر پر خرچ کرنا چاہتی ہے۔ایک صاف اور شفاف بلدیاتی نظام کسی بھی ملک کے لیے ایک بنیادی نرسری کا درجہ رکھتا ہے۔پاکستان میں بھی ایک ایسے مربوط جمہوری نظام کی ضرورت ہے۔جس میں سوفیصد عوام کی شمولیت اور دسترس ہو۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus