×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اقوام متحدہ کی پالیسی و نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت؟
Dated: 30-Sep-2026
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایک اور اہم اجلاس گزشتہ روز اپنے اختتام کو پہنچا۔ دنیا کے 193 رکن ممالک پر مشتمل اس عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجتماع اگرچہ ایسا فورم نہیں جہاں اجلاس کے اختتام پر لازماً کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری ہو اور تمام ممالک کسی ایک مؤقف پر متفق نظر آئیں، لیکن اس کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہاں دنیا کے چھوٹے بڑے ممالک کو اپنی بات کہنے، اپنے مسائل عالمی برادری کے سامنے رکھنے، اپنے مؤقف کا دفاع کرنے اور براہِ راست دنیا تک اپنا پیغام پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔ اس مرتبہ بھی نیویارک میں ہونے والا اجلاس محض رسمی تقاریر کا مجموعہ نہیں تھا۔ عالمی سیاست میں پہلے ہی بہت کچھ بدل چکا ہے۔ ایران کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، غزہ، امریکا اور چین کی بڑھتی ہوئی مسابقت، عالمی تجارت، ٹیرف کی جنگ اور پاکستان اور بھارت کے تعلقات—یہ سب موضوعات جنرل اسمبلی کے ایوان سے لے کر اس کے راہداریوں اور بند کمروں میں ہونے والی ملاقاتوں تک زیر بحث رہے۔پاکستان کے لیے اس اجلاس کی ایک نمایاں بات یہ رہی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی ذکر کیا۔ ایک مرتبہ پھر مئی 2025 کی پاکستان بھارت کشیدگی ختم کرانے میں اپنے کردار کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے منسوب یہ بات بھی دہرائی کہ اس تصادم کے خاتمے سے تین کروڑ جانیں بچائی گئیں۔یہ باتیں ٹرمپ نے شاید مودی کو جلانے کے لیے بھیگی ہوں۔ یہ اس اجلاس کی سب سے امید افزا پیش رفت یہ تھی کہ ایک طرف انتہائی سخت زبان استعمال کی جارہی تھی تو دوسری طرف مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ صدر ٹرمپ کی تقریر اسی تضاد کی ایک غیر معمولی مثال تھی۔ ایک طرف انہوں نے ایران کو انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کیا اور یہاں تک کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ اسلامی جمہوریہ ایران کو’’annihilate‘‘ کر سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسی تقریر میں انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہوسکتا ہے۔سیاست اور سفارت کاری میں بیک وقت دباؤ اور مذاکرات کی حکمت عملی کوئی نئی بات نہیں۔ طاقتور ممالک اکثر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے پہلے اپنی قوت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب جنگ کے سائے میں لاکھوں انسانوں کا مستقبل وابستہ ہو تو کیا اس طرح کی زبان کشیدگی کم کرتی ہے یا مزید بڑھاتی ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ سخت ترین بیانات کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ٹرمپ نے خود بتایا کہ امریکی حکام کی ایرانی وفد کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے کی ملاقات ہوئی اور مزید ملاقات بھی متوقع ہے۔ نیویارک سے آنے والی اطلاعات بھی یہی بتاتی ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں، اگرچہ بنیادی اختلاف یہ ہے کہ پہلا قدم کون اٹھائے اور کس مرحلے پر اقتصادی اور دیگر شرائط میں نرمی کی جائے۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا کردار اہم ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ جغرافیائی، مذہبی، تجارتی اور تاریخی تعلقات ہیں جبکہ گزشتہ عرصے میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں بھی نمایاں گرم جوشی دکھائی دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نیویارک میں ملاقات کے دوران کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ایرانی صدر نے بھی علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ اقوام متحدہ کے اس اجلاس کا ایک دوسرا انتہائی جذباتی منظر ایرانی صدر کی تقریر تھی۔ مسعود پزشکیان نے اپنی تقریر کے دوران جنگ میں ہلاک ہونے والے ایرانی بچوں کی تصاویر دنیا کے سامنے اٹھائیں۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے ان 200 سے زیادہ اسکول جانے والے بچوں کا حوالہ دیا جو جنگ کے ابتدائی دنوں میں مارے گئے۔جنگ کی سیاست میں اعداد و شمار شاید چند لمحوں کے لیے سنائی دیتے ہیں، لیکن کسی بچے کی تصویر دنیا کے ضمیر سے ایک مختلف سوال کرتی ہے۔ یہی سوال غزہ میں بھی موجود ہے، ایران میں بھی اور دنیا کے ہر اس خطے میں جہاں طاقت کے فیصلوں کی قیمت عام شہری اپنے خون سے ادا کرتے ہیں۔ اس اجلاس کا ایک اور غیر معمولی منظر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریر کے وقت دیکھنے میں آیا۔ جیسے ہی وہ خطاب کے لیے آئے، درجنوں ممالک کے نمائندے احتجاجاً جنرل اسمبلی کے ہال سے باہر نکل گئے اور ہال کی بڑی تعداد میں نشستیں خالی ہوگئیں۔ مختلف رپورٹس میں واک آؤٹ کرنے یا نشستیں خالی چھوڑنے والے ممالک کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے، اس لیے کسی ایک حتمی تعداد کو تسلیم کرنا مشکل ہے، دنیا بھر کے 63مسلمان ممالک میں سے صرف متحدہ عرب امارات اس بائیکاٹ کا حصہ نہیں بنا اور اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ اور یوکرین سمیت 19ممالک نے اس بائیکاٹ میں حصہ نہیں لیا۔اور جب پورے یورپ نے خاص طور پر سپین، فرانس اور یورپین ممالک کی ایک بڑی تعداد نے نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ کیا ۔ادھر لوگ ہال سے اٹھ کر جا رہے تھے اور دوسری طرف نیتن یاہو کے چہرے پر کھسیانی بلی کی طرح کے تاثرات دیکھے جا سکتے تھے۔لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک نمایاں سفارتی احتجاج تھا۔ چینی صدر شی جن پنگ امریکا پہنچے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خودJoint Base Andrewsجا کر ان کا استقبال کیا۔ امریکی صدور عمومی طور پر غیر ملکی سربراہان کا استقبال وائٹ ہاؤس میں کرتے ہیں، اس لیے ایئرپورٹ پر صدر کا خود پہنچنا ایک غیر معمولی سفارتی اشارہ سمجھا گیا۔کچھ مبصرین اسے چین کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کی علامت قرار دے رہے ہیں۔شی جن پنگ کے لیے غیر معمولی استقبال کو اسی بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سفارتی پروٹوکول میں بعض اوقات ایک تصویر کئی صفحات کی تقریر سے زیادہ معنی رکھتی ہے۔ امریکی صدر کا خود ایئرپورٹ پہنچنا کم از کم یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن بیجنگ کو نظرانداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اسی طرح ایران کے معاملے میں بھی طاقت اور مذاکرات ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹرمپ ایران کے خلاف انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ تہران بھی مزاحمت کی زبان استعمال کرتا ہے مگر مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کرتا۔امریکا چین کو مکمل طور پر الگ نہیں کرسکتا۔ چین امریکی منڈی سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ ایران کو عالمی اقتصادی نظام کی ضرورت ہے اور امریکا بھی ایک طویل اور تباہ کن علاقائی جنگ کے نتائج سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کو جغرافیے سے الگ نہیں کرسکتے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں کے اثرات چند ملکوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ تیل، تجارت، کرنسی، مہنگائی اور سرمایہ کاری کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچتے ہیں۔ امریکا میں نومبر کے اوائل میں وسط مدتی انتخابات بھی قریب آرہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، ایران کی جنگ، مہنگائی، تجارت اور داخلی سیاسی معاملات یقیناً انتخابی بحث کا حصہ رہیں گے۔ لیکن انتخابات کے نتیجے میں لازماً مواخذہ ہوگا یا ٹرمپ کوئی ایک بڑا معاشی اعلان کرکے پورا انتخابی منظرنامہ پلٹ دیں گے، یہ اس مرحلے پر صرف سیاسی قیاس آرائیاں ہیں۔ امریکی سیاست کا فیصلہ بالآخر ووٹر، کانگریس کی نئی عددی صورتِ حال اور آئینی عمل ہی کرے گا۔اقوام متحدہ کا اجلاس ختم ہوگیا، تقاریر بھی ہوگئیں، تصویریں بھی دنیا بھر میں پہنچ گئیں اور عالمی رہنما نیویارک سے واپس لوٹنے لگے۔(قارئین اس تقریب کے دوران سب سے خوبصورت خبر یہ نظر سے گزری کہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان اپنے مختصر وفد کے ہمراہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے ڈھاکہ سے نیویارک کا سفر کمرشل فلائٹ سے ایک عام شہری کی طرح کیا، یاد رہے کہ بنگلہ دیش آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے) مگر اصل سوال اب شروع ہوتا ہے۔کیا ایران اور امریکا نیویارک میں شروع یا بحال ہونے والے رابطوں کو کسی قابلِ عمل معاہدے تک لے جاسکیں گے؟ کیا پاکستان اس سفارتی عمل میں پل کا کردار جاری رکھ سکے گا؟ کیا امریکا اور چین تجارتی تصادم کو ایک نئے معاشی سمجھوتے میں بدل سکیں گے؟ اور کیا غزہ اور مشرقِ وسطیٰ میں سفارت کاری جنگ کی جگہ لے سکے گی؟ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دنیا کے مسائل حل نہیں کرتی، لیکن دنیا کو آئینہ ضرور دکھاتی ہے۔اس مرتبہ اس آئینے میں ایک ایسی دنیا نظر آئی ہے جس میں امریکا اب بھی غیر معمولی فوجی، اقتصادی اور سفارتی طاقت رکھتا ہے، مگر اسے چین کے ساتھ میز پر بیٹھنا پڑتا ہے؛ ایران کو دھمکی دینے کے ساتھ مذاکرات بھی کرنا پڑتے ہیں؛ پاکستان جیسے ممالک کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے؛ اور اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے دوران درجنوں وفود کا واک آؤٹ یہ بتاتا ہے کہ طاقت کے باوجود عالمی رائے عامہ اور سفارتی ردعمل کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ امریکا کے غرور کے تابوت میں’’آخری کیل‘‘ ہے یا محض عالمی طاقت کے توازن میں ایک اور تبدیلی۔اس کا فیصلہ ایک اجلاس یا ایک تصویر سے نہیں ہوگا۔البتہ اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ دنیا بدل رہی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کے موجودہ نظام کو تبدیل کرنے کا مشورہ اور اندیہ دیا۔ان کی باتیں کافی حد تک موجودہ نظام سے نالاں لگ رہی تھیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus