×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بحرانوں کی دلدل میں پھنسے حکمران …اور قوم کا مستقبل
Dated: 23-Oct-2010
قوموں کی زندگی میں اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں۔ قومیں بڑی جدوجہد سے اور مدتوں میں بنتی ہیں لیکن ٹوٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ تاریخ کے اوراق الٹنے سے پتا چلتا ہے کہ 8سو سال تک حکمرانی کرنے والے شاہی خاندان آخر میں ایک نکمے فرمانروا کے ہاتھوں ایسی تاریخی موت مرتے ہیں کہ ان کو تاریخ بھی فراموش کر دیتی ہے۔ پاکستان کی 63سالہ سیاست میں ایسے کئی کردار گزرے ہیں جنہوں نے سمندر کی لہروں کی طرح کئی طوفان برپا کیے۔ لیکن وہ اسی طرح ساحل سے ٹکرا کر واپس ہوئے اور پانی کے بلبلے اور سمندر کی جھاگ کی طرح نابود ہو گئے۔ سیاستدانوں کا ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے پہلا ٹکرائو سکندر مرزا کے لگائے ہوئے مارشل لاء سے شروع ہوا جس نے ایوب خان کو بیک وقت آرمی چیف کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنایا۔ جن کے بوتل سے باہر نکلنے کی دیر تھی کہ ایوب خان کو اصل خطرہ سیاستدان محسوس ہونے لگے۔ ایوب خان نے بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ملک میں جنگی ماحول پیدا کیا۔ جبکہ اس سے پہلے وہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی کے ذریعے مات دے چکا تھا۔ ایوب خان کی اصل نظریں ملک کے سرکردہ سیاستدانوں پر تھیں جنہیں وہ اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتا تھا۔ مادرِ ملت کے ساتھ ہونے والے سیاسی جبر اور بدنام زمانہ ایبڈو کے ذریعے ملک کی سیاسی قیادت کو سیاست سے دور رکھنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ ایوب خان کو اقتدار ایک دوسرے جرنیل کے حوالے کرنا پڑا۔ آمریت کے سیاست پر مسلسل ستم کا یہ نتیجہ ہوا کہ سیاست سے دور عوام کو سیاست دانوں کے انتخاب کا موقع ملا تو مشرقی اور مغربی پاکستان میں کسی پارٹی کو فیصلہ کن مینڈ یٹ نہ مل سکا۔ جرنیلی آمریت نے ایسی لسانی تفریق پیدا کی کہ مشرقی پاکستان میں بنگالی اپنے آپ کو مظلوم گردانتے تھے انہوں نے شیخ مجیب الرحمن کو نجات دہندہ سمجھ لیا اور مغربی پاکستان میں جاگیرداروں اور وڈیروں کے زخم خوردہ عوام نے ذوالفقار علی بھٹو سے اپنی تقدیر وابستہ کر لی۔ بہرحال یہاں تک بھی معاملہ اتنا بگڑا نہیں تھا۔ اگر دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرتیں اور عوامی رائے کے مطابق حکومت سازی ہوتی اور یحییٰ خان کی ہر صورت صدارت سے چمٹے رہنے کی بے پایاں خواہش نہ ہوتی تو آگے چل کر ملک میں دو جماعتی نظام مستحکم ہو جاتا جس سے آج جمہوریت مضبوط ہوتی اور پاکستان دنیا کے کسی بھی ملک کی طرح ترقی یافتہ ہوتا۔ میری زندگی کا بڑا حصہ یورپ میں گزرا ہے۔ایک سیاسی طالب علم ہونے کے ناطے میں نے ان چیزوں کا بڑی قریب سے تجزیہ کیا ہے کہ آج دنیا میں ترقی یافتہ ممالک میں سیاسی جماعتوں کی تعداد چار یا چار سے کم دو تین ہوتی ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بھی دو ہی بڑی سیاسی جماعتیں ہیں۔ ووٹ دینے والے عوام کے پاس ایک محدود چوائس ہوتی ہے۔ جب کسی ترقی یافتہ اسلامی ملک کی بات کریں تو ترکی کا نام سرفہرست ہے۔ ترکی میں کثیر جماعتی سسٹم اور چھوٹی پارٹیوں کی بلیک میلنگ کو یوں ڈس کرج کیا گیا ہے کہ بڑی سیاسی جماعت کو اگر چھوٹی پارٹی کی مخلوط حکومت بنانے کے لیے ضرورت پڑے تو دس فیصد سے کم ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی مخلوط حکومت میں تو شامل ہو گی لیکن اس کا کوئی منسٹر نہیں بن سکے گا۔ہمارے ہاں ایک یا دو سیٹیں لینے والی پارٹی بھی حکومت بنانے والی پارٹی کو بلیک میل کرکے منفعت بخش وزارتیں لے لیتی ہے۔ امریکہ اور یورپ سمیت دنیا بھر میں ججوں کا انتخاب عوام براہِ راست ووٹنگ سے کرتے ہیں۔ یہ جج سیاسی جماعتوں کے کھڑے کیے ہوئے امیدوار ہوتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے نامزد اور عوام کے منتخب کردہ جج عموماً سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر فیصلے کرتے ہیں۔ تاہم کبھی کبھی سائیڈ مارتے بھی نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بش اور الگور کے انتخابی معرکے کے نتائج کا اعلان بش کی پارٹی کے جج نے اس وقت تک روکے رکھا جب تک الگور کے مقابلے میں بش کی اکثریت واضح نہیں ہو گئی۔ جنگ عظیم دوم کے دوران چرچل کو ہٹلر کی طاقت سے خائف کرنے کی کوشش کی گئی تو اس نے اپنی کابینہ سے پوچھا کیا ملک میں عدالتیں آزاد اور عوام کو انصاف مل رہا ہے، ہاں میں جواب سن کر چرچل نے کہا پھر ہٹلر یا کسی اورسے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ 2008ء سے قبل پاکستان میں ججوں کا ایشوزوروں پر تھا۔ میاں نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے مابین ججوں کے ایشو پر میثاقِ جمہوریت میں معاہدہ ہو چکا تھا۔ محترمہ زندہ رہتیں تو اس پر یقینا عمل ہوتا۔ اور آج قوم جس مصیبت اور ٹینشن میں مبتلا ہے اس کی نوبت نہ آتی۔ موجودہ حالات میں جب کہ پاکستان زمینی و آسمانی آفات کی زد میں ہے۔ بہانہ سازی اور حیلہ بازی سے حکومت نے اپنے اڑھائی سال پورے کر لیے۔ حالیہ دنوں میں شروع ہونے والی اداروں کی چپقلش نے ایک دفعہ پھر عدلیہ اور حکومت کو نیام سے تلواریں نکال کر آمنے سامنے لا کھڑا کیاہے۔ ملک کے وزیر قانون اور وزیراعظم نت نئی سمریوں کی آڑ میں عدالت عظمیٰ کے احکامات کی صریحاًخلاف ورزی کرتے ہوئے ملک کو ایک نئے آئینی بحران میں دھکیل رہے ہیں۔ جس کی پاکستان کی ٹمٹماتی اور ہچکولے کھاتی معیشت اور جمہوریت متحمل نہیں ہو سکتی۔ میاں نوازشریف کے دوسرے دورِ حکومت میں موجودہ بحران سے ملتا جلتا ایک آئینی بحران پیدا کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ پر حملہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور صدر فاروق لغاری کو گھر جانا پڑا۔ آج بھی حالات اسی نہج پر ہیں۔ اگر حکمرانوں نے وژن،دوراندیشی اور معاملہ فہمی سے کام نہ لیا تو پارٹی اے یا بی یا دونوں یعنی اے بی کو اپنے دفاتر ٹوہ میں لگی آنے والی قوتوں کے لیے خالی کرنا پڑیں گے۔ وزیراعظم گیلانی چندہ ماہ پہلے تک اپوزیشن کے بھی پیارے سمجھے جاتے تھے آج اپنی پالیسیوں اور عاقبت نااندیش وزیروں اور مشیروں کی مشاورت کی وجہ سے نہ صرف ایک نئی متنازعہ اور غیرمقبول شخصیت بن کر رہ گئے ہیں بلکہ مصیبتوں،قربانیوں اور صعوبتوں کا سفر طے کرکے اقتدار میں آنے والی پیپلز پارٹی کو ایک چوراہے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس چوراہے سے نکلنے والا ہر راستہ نئے سے نئے بحران کی دلدل کی طرف جاتا ہے۔ مجھ سمیت لاکھوں جمہوریت پسند سیاسی کارکن بلاامتیاز کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی کے پریشان ہیں کہ اگر ملک کو جمہوریت راس نہیں آتی تو قوم اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کی خاطر وہ کونسا راستہ اختیار کرنا چاہیے جوعدلیہ، فوج، اسٹیبلشمنٹ اور 18کروڑ عوام کو بھی قابل قبول ہو۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus