×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مودی جی۔زندگی بالی ووڈ فلم نہیں ہوتی!
Dated: 13-May-2025
ایک وقت تک، جب ہم تعلیم کے لیے ملک سے باہر نکلے تو ہمارا سکن کلر یا ہماری رنگت دیکھ کر یورپین، سینٹرل ایشیا اور ایشیا کے لوگ ہمیں انڈین نژاد سمجھتے تھے۔ اور جب بھی ملنا، انہوں نے "نمستے" بھی کہنا۔ اس پر ہم کہتے کہ ہم تو "اسلام علیکم" بولتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی، اگر افریقی یا امریکی کبھی ملتے تو انہوں نے بھی انڈین فلم دیکھی ہوتی تھی۔ وہ زمانہ تھا جب اس وقت کپور فیملی کا فلم انڈسٹری پر راج تھا اور ’’آوارہ‘‘ اور اس قسم کی فلموں کو لگے ہوئے ابھی چند سال ہی گزرے تھے۔انڈیا نے پوری دنیا میں فلم انڈسٹری کے ذریعے، خاص طور پر اپنے گانوں کے ذریعے، پوری دنیا پر ایک ثقافتی قبضہ کر لیا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ انڈیا کو لوگ ایک بڑا طاقتور ملک سمجھتے تھے کیونکہ اس کی دیومالائی کہانیاں، رومانوی کہانیاں فلموں کے اندر، وہ لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتی تھیں۔اس کے بعد وقت بدلا، ٹیکنالوجی بدلی۔ انڈیا نے بے شک بہت ترقی کی ہوئی، لیکن اس کے حالات ایسے تھے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر وہ ترقی نہ کر سکا۔ اس میں اس کے بے شمار علاقے بھی ایسے شامل تھے جہاں اتنی جلدی ترقی ممکن نہ تھی، جیسے کیرالہ، تامل ناڈو، منی پوری، بہار، بنگال، راجستھان، گجرات، مدھیہ پردیش کے علاقے۔ یہ علاقے ایسے تھے کہ جہاں اتنی جلدی ترقی ممکن نہ تھی۔لیکن آج بھی، انڈیا کے پہلے فنکاروں کے بعد میں جو فنکار آئے، جیسے شاہ رخ خان، امیتابھ بچن وغیرہ، انہوں نے بھی انڈیا کی فلم انڈسٹری کو بوم کروانے میں خاصا کردار ادا کیا۔ دوسری طرف دنیا ویڈیو گیموں کی طرف چل پڑی اور ترقی کی طرف۔ انڈیا نے سمجھا کہ میں بھی فلمیں اچھی بنا لیتا ہوں، اس لیے میں بھی سپر پاور ہوں۔ اسی دم پر انڈیا نے آہستہ آہستہ دوسرے ملکوں سے پنگا لینا شروع کر دیا۔ سب سے پہلے انگلینڈ سے کہا کہ ہم نے ان سے نمبر فور کی پوزیشن چھین لی ہے اور اب نمبر فور ہم ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں پر انڈین نژاد ایک وزیراعظم بھی آیا۔ جب انڈیا اپنی اوقات سے باہر جانے لگا تو پھر مقامی برٹش نے اس کو نکال باہر کیا اور اس کا کیریئر ختم کر دیا۔اسی طرح امریکہ میں، جو سابقہ وائس پریذیڈنٹ کملا ہیرس بھارتی نژاد ہے، تو اس کے متعلق بھی یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ اب امریکہ کی وائس پریذیڈنٹ انڈین نژاد ہے۔ اسے بعد میں صدارتی امیدوار کے طور پر کھڑا کیا گیا، لیکن وہ جس بْری طرح ٹرمپ سے ہاری ہے، اس کی مثال امریکن انتخابی تاریخ میں نہیں ملتی۔اب ٹرمپ صاحب نے اپنا وائس پریذیڈنٹ مسٹر وینس کو مقرر کیا ہے، اور مسٹر وینس کی بیوی کے والدین انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ انڈین نژاد مانی جاتی ہے۔ اب انڈیا کو یہ بھی ہے کہ وائس پریذیڈنٹ کی بیوی ہماری شہری ہے۔ تو یہ انڈیا کی ترجیحات میں ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ملکوں کو بے وقوف بنا سکتے ہیں۔ مادھوری، جوہی چاولہ، شلپا شیٹھی، اس قسم کے لوگوں کے آگے جا کر ہمیں کوئی سیاسی فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔ وائس پریذیڈنٹ جے ڈی وینس اپنی بیوی، انڈین نژاد کے ساتھ انڈیا آیا۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا تھا، نہ مودی کو اپنی حلف برداری تقریب میں بلایا۔ انڈیا اگر سیانا ہوتا تو بات کو بھانپ جاتا۔ مسٹر وینس کے انڈیا کے ٹور کو دیکھتے ہوئے، بھارت نے یہ پہلگام کا سارا ڈرامہ رچایا اور اس ڈرامے کے نتیجے میں انہوں نے حملہ کر دیا۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔ یہ ڈراما بھی ان کا ادھورا رہا۔ آپ ان کے دیوتا اور بھگوانوں کی طرف چلے جائیں تو، مجھے ایک انڈین سکھ نے بتایا کہ ان کے تینتیس کروڑ دیوتا اور بھگوان ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ہر چیز جو انسان کو نقصان پہنچاتی ہے، ہندو اس کو اپنا بھگوان مان لیتے ہیں۔اسی طرح اب انہوں نے یہ پنگا پاکستان سے لیا ہے۔ ہم ایک لکھاری ہونے کے ناطے یہ جانتے ہیں کہ پاکستان، بھارت سے آبادی اور وسائل کے لحاظ سے سات گنا چھوٹا ملک ہے۔ نریندر مودی کا بیک گراؤنڈ چائے بیچنے والے کا ہے۔ اور یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک لڑکا، جو ٹیبل صاف کرنے والا ہوتا، وہ ہیں یعنی چھوٹا، جس نے کندھے پر رومال ڈالا ہوتا ہے۔ اس نے ہمیں وہ سمجھا ہوا ہے۔ہم نے انڈیا سے آزادی لی۔ آزادی لینے کا مقصد یہ تھا کہ دو قومی نظریے پر ہم اپنے ایک خودمختار اور آزاد ملک میں جیئیں۔ جہاں ہماری عزت، تکریم اور ہمارے تقدس کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور ہم اپنی مذہبی عبادت اپنے طریقے اور آزادی کے ساتھ ادا کر سکیں۔ جس کو انڈیا آج تک ہضم نہیں کر پایا۔مودی تو بعد کی بات، اس سے پہلے نہرو، شاستری جو ان کے لیڈران گزرے ہیں، وہ مرتے دم تک اس صدمے کو نہیں بھولے کہ یہ خطہ ہم سے جدا کیسے ہو گیا۔ لیکن اس کے پیچھے ایک تاریخ ہے، ہزاروں سال پرانی، جب سے مسلمان برصغیر میں داخل ہوئے۔ جس میں مسلمانوں نے یہ ثابت کیا کہ مسلمانوں نے ادھر آ کر حکومت کی۔ اور چند ہزار لوگوں نے آ کر اس وقت برصغیر، یعنی ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ پرانی تاریخ اور موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو یہ فلمی کہانیوں، ڈرامے اور تھیٹروں پر یقین کرنے والے ہمیں بھی اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مجھے یورپ میں رہتے ہوئے چالیس سال سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ پوری دنیا دیکھی ہے، 131 ملک دیکھے ہیں۔ میں جہاں بھی گیا ہوں، میں انڈین سے ملا ہوں، افریقی سے ملا ہوں۔ دنیا کے ہر لوگوں سے ملا ہوں۔ ان کا جنرل نالج پاکستانیوں کے مقابلے میں صفر ہے۔ان کی جنرل نالج کی حد یہ ہے کہ بھارت سے ایک لڑکی، جس نے وہاں کی گریجوایشن میں گولڈ میڈل حاصل کیا، ہمارے ساتھ ایک انٹرویو میں کہہ رہی تھی، جب اسے بتایا کہ فلاں گانا راحت فتح علی کا ہے، تو وہ کہنے لگی کہ وہ تو انڈین ہے، پاکستانی نہیں ہے۔بھارت کے وزیراعظم ہوتے ہوئے مودی کی معلومات عامہ کا بھی یہی حال ہے۔ بہرحال، یہ ایک جنگ ہے اور جنگ انہوں نے چھیڑی ہے۔ اور جنگ چھیڑنے کی وجہ یہ ہے کہ خطہ کشمیر۔ پاکستان کی سلامتی اور علاقے کی دیگر قومیتوں کو انڈیا سے آزاد کرانے کے لیے، پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ابھی تو ائیر اٹیک کی ابتدا ہوئی ہے۔ سات جہازوں کو کیسے مار گرایا، ابھی نندن کی طرح پائلٹ شیوانگی سنگھ گرفتار کر لی گئی۔ بھارت نے پاکستان کے چینلز کو بین کر دیا ہے۔ انٹرنیشنل ادارے، جیسے ٹوئٹر، یوٹیوب، انسٹاگرام ہیں، ان سب کے سی ای او وہ انڈین نژاد ہیں۔ دنیا کی چالیس بڑی کمپنیوں میں سے 25 کے سی ای او وہ انڈین ہیں۔ اس طرح وہ سمجھتا ہے کہ سارے حقائق عوام سے دبا کر چھپا سکتے ہیں۔لیکن جب ان کی عوام کو پتا چلے گا کہ اصل حقیقت کیا ہے، تو اس دن تک بہت دیر ہو چکی ہو گی اور بھارت اپنا بہت کچھ گنوا چکا ہو گا۔ انڈیا نے اپنی فلموں سے دنیا کو یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی اور تاریخ بدلنے کی ناکام کوشش کی۔ اکبر اعظم، مغل شہنشاہ کے کردار کو کس قدر قبیح اور گندہ شو کر کے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔ جب انہوں نے "جودھا اکبر" فلم بنا کر مغلوں کے کردار کو، اور خاص طور پر اورنگزیب عالمگیر کے کردار کو، بدلنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کو انہوں نے ایک ظالم اور مذہب کو زبردستی بدلنے پر مجبور کرنے والا ظاہر کیا، عجیب گندے قسم کے الزامات لگا کر تاریخ بدلنے کی کوشش کی۔انہوں نے علاؤ الدین خلجی کو ایک فلم میں ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ ٹرانس جینڈر تھا۔ اسی طرح انہوں نے ابراہیم لودھی کے کردار کو فلموں کے ذریعے گندا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہر چیز کا آغاز فلموں میں رکھا ہوا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا کو جو بنا کر دکھا دیں گے، تاریخ وہاں سے شروع ہو گی۔یہ پاگل بھول گئے ہیں کہ دنیا کی بڑی بڑی آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹیوں اور کالجز میں دنیا کی تاریخیں محفوظ ہیں۔ اور ان کی ایک فلم بنانے سے، یہ اپنے لوگوں کو تو بے وقوف بنا سکتے ہیں، لیکن دنیا بھر کی لائبریریوں اور دنیا بھر میں پڑے ہوئے تاریخی مواد کو یہ کیسے ضائع کر سکتے ہیں۔ اب انہوں نے مسلمانوں کے کردار کو اپنے نصابوں سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ اور اپنے نئے نصاب میں آپ کو مسلمان بادشاہ کا نام نظر نہیں آئے گا۔ ایک عجیب قسم کا مسلمانوں کے متعلق تاثر دیا ہے۔ مسلمانوں کو فلموں میں دکھائیں کہ ٹوپی پہنی، آنکھوں میں گہرا سرمہ ڈالا، گلا کھلا پہنا ہوا، گریبان کھلا ہوا، اور اوپر ٹوپی گول پہنی ہوئی ہے، یہ مسلمان کی پہچان ہے۔ایک انڈین فیملی آئی پاکستان میں تو وہ کہتے کہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہاں سارے لوگ ٹوپیاں پہنے، آنکھوں میں گہرا سرمہ ڈالے ہوئے ہوں گے۔ یہاں تو کوئی بندہ ایسا نظر نہیں آیا۔ یہ بھی ان کا ایک بھیانک انداز ہے۔ وہ مسلمانوں کو اپنی تاریخ سے غائب کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ماضی میں مسلمان کہیں نظر نہ آئیں۔ان کی کوئی بھی فلم دیکھ لیں، اس کی ہر فلم میں مسلمان آپ کو قصائی نظر آئے گا، یعنی گوشت کا دھندا کرتا ہوا۔ مگر تاریخ سے نہ کوئی جیتا ہے، اور نہ ہی مودی کی ہندوتوا جیتے گی۔ اور گذشتہ کئی روز سے انڈین دراندازی اور جارحیت کے مقابلے میں پاکستان یہ سمجھتا رہا کہ بے شک عوام ناراض ہوتی ہے مگر ہمیں عالمی امن اور خطے کے امن کو بچانا ہوگا اور ہماری خاموشی اور صبر کی عادت کو یہ مکار مودی ٹولہ ہماری بزدلی اور ڈر سمجھا۔جس پر پاک فوج اور ریاست پاکستان نے عوام کی ڈیمانڈ پر تنگ آ کر بھارتی جارحیت کا جواب دیا اور ایک ہی رات میں نریندرمودی کی پوری حکمران ٹیم اور بی جے پی کی پوری پارٹی گودی میڈیاکے اینکرز ،جرنلسٹ اور نام نہاد تجزیہ نگار جیسے کہ جنرل بخشی اور میجر گوروآریہ سمیت سبھی کی بینڈ بج گئی اور وہ چیخ چیخ کر جنگ بندی کا مطالبہ کرنے لگے۔اور اگر انہیں اب بھی سمجھا نہیں آ ئی تو پاکستانیوں کی زنبیل میں بہت سے کھیل تماشے باقی ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus