×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سید عاصم منیر لفٹین سے مارشل آف پاکستان
Dated: 27-May-2025
پاکستان کی عسکری تاریخ میں چند ہی ایسے سپہ سالار گزرے ہیں جنہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں، تدبر اور جرات کے بل بوتے پر دشمن کو نہ صرف میدان جنگ میں پچھاڑا بلکہ قوم کے دلوں میں بھی ایک مضبوط مقام پیدا کیا۔ موجودہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسی صفِ اول کی قیادت میں ایک درخشاں نام بن کر ابھرے ہیں، جنہوں نے جدید جنگی حکمتِ عملی اور قومی دفاعی پالیسی میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کروائیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ غیر روایتی جنگ — جسے بین الاقوامی میڈیا اور عالمی طاقتوں نے تسلیم کیا — محض ایک عسکری جھڑپ نہیں تھی بلکہ ایک بھرپور سائبر، نفسیاتی، سفارتی اور تکنیکی جنگ تھی جس میں پاکستان نے بلاشبہ ایک زبردست فتح حاصل کی۔ یہ وہ فتح ہے جس کے گواہ نہ صرف پاکستانی عوام اور ادارے ہیں بلکہ عالمی قوتیں بھی اس کی تصدیق کر چکی ہیں، جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ترک صدر طیب اردگان، چینی قیادت اور خود فرانس کے رافیل بنانے والے ادارے شامل ہیں۔ یہ جنگ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں روایتی توپ و تفنگ کے بجائے، اسٹریٹجک انداز، سائبر وار، ڈرون ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وار فیئر اور انٹیلی جنس برتری کو مرکزی اہمیت حاصل تھی۔ اور انہی جدید تقاضوں کے مطابق جنگ کی قیادت کرنے والے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شطرنج کے ماہر کھلاڑی کی طرح ہر چال سوچ سمجھ کر چلی۔ بھارت کی جارحیت کا جواب ایسا دیا گیا کہ نہ صرف دشمن کی عسکری صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا گیا بلکہ عالمی رائے عامہ بھی پاکستان کے حق میں ہموار کی گئی۔ اس جنگ میں بھارتی فوجی تنصیبات، ائیر بیسز، مواصلاتی نظام اور فوجی نقل و حرکت کو اس مہارت سے نشانہ بنایا گیا کہ دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا۔ انڈین پالیسی سازوں کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ پاکستان نے ان کے ساتھ "کیا کر دیا"۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں نہ صرف بھارت کو عسکری شکست ہوئی بلکہ اندرونی سیاسی انتشار اور عالمی سطح پر بدنامی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری ساکھ میں اضافہ۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جنگیں صرف میدانِ کارزار میں نہیں، سفارتی اور ابلاغی محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی فتح کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سفارتخانوں میں جشن فتح کی تقریبات ہوئیں، اوورسیز پاکستانیوں نے سڑکوں پر جھنڈے اٹھائے، اور قومی فخر کا ایک نیا جذبہ دنیا بھر میں محسوس کیا گیا۔میں کینیڈا میں مقیم ہوں میرے بچے پاکستان کا پرچم لہراتے ہیں۔اپنی جیب کالر پر پاکستان کے سٹیکر لگا کر باہر نکلتے ہیں۔پاکستان میں تہنیتی تقریبات کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ دوسری جانب بھارت میں اس جنگی شکست نے سیاسی بھونچال پیدا کر دیا۔ راہول گاندھی نے مودی کے خلاف بھرپور مہم کا آغاز کیا، اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر وزیر اعظم کے خلاف محاذ کھڑا کر دیا، اور انتہا پسند ہندو تنظیموں کی طرف سے مودی سمیت اعلیٰ عسکری قیادت کو سنگین دھمکیاں دی گئیں۔ ان حالات نے یہ واضح کر دیا کہ بھارت اپنی عسکری و سیاسی ساکھ کو اس جنگ کے بعد بحال نہیں کر سکا۔یہ بھارت کی طرف سے اپنی شکست کا اعتراف ہے۔ فیلڈ مارشل سے آگے کا درجہ: ایک تجویز۔پاکستانی قوم کی یہ خوش نصیبی ہے کہ اسے ایک ایسا سپہ سالار میسر آیا جو صرف جنگی مہارت کا ماہر ہی نہیں بلکہ وڑنری قیادت کی بھی بہترین مثال ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کا دائرہ صرف دفاع تک محدود نہیں رہا، بلکہ انہوں نے معیشت، سفارت کاری اور داخلی استحکام کے لیے بھی گراں قدر کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے وزرائے اعظم اور اعلیٰ سیاسی قیادت نے بھی بارہا ان کے کردار کو سراہا ہے اور ملکی معیشت کے استحکام میں ان کی شراکت کو تسلیم کیا ہے۔ اس پس منظر میں یہ تجویز کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک مدبرانہ سوچ ہے کہ جس طرح مارشل ٹیٹو یوگوسلاویہ میں، سٹالن سوویت یونین میں اور دیگر عالمی سپہ سالاروں کو ان کے کارہائے نمایاں پر اعلیٰ ترین فوجی اعزازات سے نوازا گیا، ویسے ہی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو "مارشل آف پاکستان" جیسے منفرد اعزاز سے سرفراز کیا جائے۔یہ صرف ایک اعزازی لقب نہیں ہوگا، بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی جائے گا کہ پاکستان اپنے قومی ہیروز کی قدر کرتا ہے اور ان کی کامیابیوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کروانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے پاکستان کی عسکری قیادت کی ساکھ بھی مزید مستحکم ہو گی اور نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم ہو گی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ جنگ میں پاک فضائیہ نے ایک تاریخی، فیصلہ کن اور تکنیکی لحاظ سے بے مثال کردار ادا کیا۔ یہ صرف ایک فضائی معرکہ نہ تھا بلکہ جدید الیکٹرانک وار فیئر، سائبر کنٹرول، انٹیلی جنس اور قومی دفاعی حکمت عملی کا ایک منہ بولتا ثبوت تھا۔ پاک فضائیہ نے اپنے خود تخلیق کردہ جدید ترین دفاعی و جارحانہ سسٹمز کے ذریعے بھارتی جنگی طیاروں کے تمام ڈیجیٹل سسٹمز کو مکمل طور پر غیرمؤثر کر دیا۔ انڈین فائٹرز کا کمانڈ، نیویگیشن، اور کمیونیکیشن سسٹم فضا میں معطل ہو گیا — یوں وہ مکمل طور پر پاک فضائیہ کے رحم و کرم پر آ گئے۔یہ ایک ایسی صورتِ حال تھی جہاں دشمن کے پاس نہ تو کوئی ردعمل دینے کا وقت تھا اور نہ ہی حربی صلاحیت باقی بچی تھی۔ فضا میں جتنے بھی بھارتی فائٹر طیارے موجود تھے، وہ جیسے "بلائنڈ" ہو چکے تھے — نہ راستہ دکھائی دے رہا تھا، نہ ہدف، اور نہ رابطہ۔ اس شدید برتری کے باوجود پاک فضائیہ نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف چھ طیارے مار گرائے، جب کہ دیگر کو وارننگ کے ساتھ واپس جانے کی اجازت دی گئی۔ یہ وہ اعلیٰ ظرف اور پیشہ ورانہ مہارت ہے جو صرف پاک فضائیہ جیسے منظم ادارے کا خاصہ ہو سکتی ہے۔ اس تمام کارروائی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت اور وڑن نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی زیرِ نگرانی پاک فضائیہ نے جدید وار فیئر کی نئی جہتیں متعارف کروائیں، ڈیجیٹل اور الیکٹرانک نظام میں خود کفالت حاصل کی، اور ایک ایسی جنگ جیتی جو مستقبل کے عسکری رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔ان کی اس بے مثال حکمت عملی، تدبر، اور جنگی منصوبہ بندی کے اعتراف میں یہ بالکل بجا تجویز ہے کہ انہیں "مارشل آف دی ایئر فورس" کے رینک سے سرفراز کیا جائے۔ یہ نہ صرف ان کی قیادت کا اعتراف ہوگا بلکہ پاک فضائیہ کے اْن ہزاروں افسران، پائلٹس، اور انجینئرز کی حوصلہ افزائی بھی، جنہوں نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔ایئر چیف مارشل سدھو اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مابین مثالی کوارڈینیشن تھا جس نے بھارت کو دھول چٹا کے رکھ دی۔ پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں عسکری طاقت صرف گولہ بارود نہیں بلکہ حکمت عملی، ٹیکنالوجی، اور قیادت کی دانشمندانہ صلاحیتوں پر مبنی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جس انداز میں پاکستان کو اس نازک مرحلے پر نہ صرف جنگی محاذ پر کامیاب کروایا بلکہ عالمی سطح پر ایک نیا وقار عطا کیا، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی ادارے، حکومت، میڈیا اور عوام اس کامیابی کو صرف وقتی خوشی تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے یادگار بنائیں، اسے نصابوں میں شامل کیا جائے، قومی تقریبات میں نمایاں کیا جائے، اور عالمی سطح پر اس کا پرچار کیا جائے۔یہ وقت ہے کہ ہم اپنے سپہ سالار کی خدمات کا اعتراف ایک نئے اعزاز کی صورت میں کریں— تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ پاکستان نہ صرف جنگ جیتنا جانتا ہے بلکہ اپنے ہیروز کو عزت دینا بھی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus