×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیلاب، این ڈی ایم اے اور فصلوں کی انشورنس
Dated: 02-Sep-2025
پاکستان کو کم از کم دو سو ڈیم بنانے چاہیے تھے پاکستان نے صرف دو بنا کر دو کو ہی دوسو سمجھ لیا۔یہ تو وہ تمام حقائق ہیں جو پاکستان کو پورے کرنے چاہیے تھے جو پاکستان نے پورے نہیں کیے۔ پاکستان نے حادثات ، قدرتی اور ٹیکنیکل آفات میں ہونے والے حادثات ہیں ان کو روکنے کے لیے کیا تیاری کی۔ پاکستان کے پاس بالکل کوئی تیاری نہیں ہے۔ آج بھی دو درجن بندے ڈسکہ سے گئے ہوئے ادھر سوات کے قریب گھنٹوں انتظار کرتے رہے وہاں پر ریسکیو والوں کے پاس رسے نہیں تھے کہ وہ ادھر پھینکتے تاکہ وہ رسوں سے ان کو ریسکیو کر لیتے۔ پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتنا بڑا محکمہ اور ادارہ ہے۔ جب 2005ء میں سیلاب آیا پھر 2015میں جب پاکستان میں سیلاب آیا پھر 2009اور 2010میں سیلاب آیا جب گیلانی وزیراعظم تھے۔ پاکستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا کہ پاکستان کو محفوظ کرنے کے لیے کسی بڑے حادثے کی صورت میں ،سیلاب آنے کی صورت میں ،کسی جنگل کوآگ لگنے کی صورت میں یعنی زمینی فضائی اور ہوائی اور زمینی ،پانی اور آگ یعنی کسی قسم کے حادثات کی صورت میں ان سے نبٹنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ تیسرا یہ ہے کہ آج نقصان کتنا ہوا ہے نقصان اس میں یہ ہوا کہ انسانی جانوں کا زیاں سینکڑوں میں ہوا ہوگالیکن اس سے بڑھ کر جو نقصان ہے وہ پورے پنجاب کی فصل تباہ ہو گئی ہے۔ یعنی کم از کم پچاس کھرب کا نقصان صرف فصل کا ہوا ہے۔ اس سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ جو ہمارا لائیوسٹاک وہ سارا پانی میں بہہ گیا ہے۔ اور وہ پانی سے بہنے سے مر گیا۔ اس لائیوسٹاک کے مرنے سے نہ صرف اس سے بیماریاں اور جراثیم پھیلیں گے۔ملک ایک نئی افراتفری کا شکار ہو جائے گااس لائیوسٹاک کے مرنے سے لوگوں کو کھربوں کا نقصان ہوا ہے۔ آج سیلاب آئے ہوئے د و دن ہوئے ہیں۔دو دن کی رپورٹ یہ کہ 57مرغی خانے جو جدید طرز کے بنائے گئے تھے۔اور ایک ایک مرغی خانے کو 12،12کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ ان کی ویڈیو بھی میڈیا پر میسر ہیں۔ یعنی فصل تباہ ہو گئی آئندہ ہمیں گندم بھی باہر سے منگوانا پڑے گی۔ جو ہمارا اناج جمع تھا وہ بھی سارا پانی میں بہہ گیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 20ارب ڈالر کا پاکستان کو نقصان ہوا ہے۔ جب کہ پاکستان کو صرف انٹرنیشنل امداد جو ہے ورلڈ بینک سے سالانہ وہ صرف ڈیڑھ ارب ڈالر ملتی ہے۔ یعنی ہمیں بیس ارب ڈالر کا نقصان ہو گیا ہے۔ یعنی اگر وہ سارا ہم ایمانداری سے لگائیں جو ورلڈ بینک ہمیں دیتا ہے تو آئندہ پندرہ سال میں ہم صرف سیلاب کا نقصان زیرو زیرو نہیں کر سکتے۔ اب وہی ڈیزاسٹر مینجمنٹ پھر شروع ہو جائیں کہ کشکول لے کر بل گیٹس کی طرف دیکھ رہے ہیں، طیب اردگان اور ایلن مسک کی طرف دیکھ رہے۔ پھر انہیں جو امداد ملیں گی وہ کچھ لگائیں گے۔ ابھی میں نے دیکھا کہ لاہور کی کپڑے مارکیٹ کے اندر پانی گھس گیا ہے وہ سارا کپڑا خراب ہو گیا وہ پہننے کے قابل نہیں رہا۔ بارش آنے کے بعد کے نقصانات روکنے کا نہیں سوچتے بلکہ بارش کے آنے سے پہلے بارش سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کے تدارک کے لیے انسان ایسے ادارے بناتا ہے ،جیسے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ہے۔ یہ پاکستان میں ایسا ادارہ ہے جو پانچ دہائیوں پہلے بن چکا تھالیکن اس ادارے کا آج بھی ایک مرکزی دفتر ہے۔اس کا مقصد صرف پہاڑی علاقوں میں جو قدرتی پتھر گر جانا یا کسی نہر یا دریا کا پل گر گیا، بس سے اٹھا لیا اور ٹھیک کر لیا۔ اس کی طرف سے کوشش ہی نہیں کی گئی کہ بڑی آفات سے نمٹنے کے لیے کوئی تربیت حاصل کر لی جائے، اس کے مطابق کوئی انتظامات کر لیے جائیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور عوام کو کبھی ملنے ہی نہیں دیا گیا۔یعنی آج سے کچھ سال پہلے ریسکیو 1122کا کیا کام ہے اوراس سے کیا کام لیے جا سکتے ہیں یہ عوام کونہیں پتا تھا۔ لیکن چوہدری پرویز الٰہی اور اس وقت کی پنجاب گورنمنٹ نے جو دنیا بھر میں پھرتے تھے انہوں نے دیکھا اور پھر 1122کو پنجاب میں لائے۔ اور پھر اس کی طرز پر پورے پاکستان میں ادارے قائم ہو گئے ہیں جو چھوٹے موٹے اپنی حیثیت کے مطابق بڑھ چڑھ کر صوبے کے معاملات میں حصہ لیتے ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے یہ چیز ہے کہ یہ سیلاب سے آنے والے یا اس کے نقصانات کیا ہیں۔ ہم پہلے چلتے ہیں کہ یہ آیا کیوں، اس لیے آیا کہ ہمیں پتا تھا انڈیا اور پاکستان نے جب آپس میں سندھ طاس معاہدہ کیا۔1960میں دستخط ہوئے۔ لیکن اس کی شروعات 1932ء میں کر دی گئی تھی۔ جب پاکستان اور انڈیا کے راستے جدا نہیں ہوئے تھے۔ 1932ء میں اس کو سپورٹ کرنے والے ملکوں میں جرمن، فرانس، یو کے، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ ،امریکہ اس کے فرانسر میں تھے اس کو انہوں نے فنانس کیا۔ کیونکہ اس وقت متحدہ ہندوستان تھا انہوں نے اس منصوبے کو فنانس کرنے کی حامی بھری۔ اور فنڈ بھی دیتے رہے۔ اور غیریقینی حد تک صورت حال یہ ہے کہ جب پاکستان اور بھارت الگ ہو ئے تو پھر بھی وہ اس منصوبے کو سپورٹ کرتے رہے۔ سرکلف اس کے کمیشن کے سربراہ منعقد ہوئے۔ جو سندھ طاس معاہدہ اورواٹر کمیشن تھا۔ دونوں ملکوں کے اوپر جیسے ایک سپروائزر کے طور پر نگرانی کرتے رہے۔ لیکن انڈیا نے اس دوران یہ کیا کہ جو تین دریا ستلج ، بیاس اور راوی اس کے حصے میں آئے پاکستان کے حصے میں جہلم ،چناب اور سندھ آ گیا۔انڈیا کو کہا گیا کہ وہ پاکستان کو 125میٹرک ٹن کے برابر یا تو سونا دے ان تینوں دریائوں کی قیمت یا پھر 62لاکھ برطانوی پائونڈ پاکستان کو پے کرے۔ لیکن انڈیا نے کچھ سونا اور کچھ پائونڈ پاکستان کو دے کر اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔ اب پاکستان کو چاہیے تھا کہ ان ملنے والے پیسوں سے اپنے ہاں ڈیموں کی تعمیر کرتا۔ جو اس وقت 125میٹرک ٹن سونے سے کم از کم سو ڈیم بنا سکتا تھا۔ لیکن پاکستان نے وہ پیسا ان ڈیموں پر استعمال نہیں کیا۔اور ملک کے سیاسی حالات بھی ٹھیک نہیں رہے ملک میں بار بار مارشل لاء لگتا رہاتو انہوں نے اس پیسے کو ضائع کر دیا۔ اور آج حال یہ ہے کہ انڈیا میں پانچ سو ستائیس چھوٹے بڑے ڈیم انہوں نے بنائے ہیں۔ انڈیا میں سیلاب آتا ہے لیکن سیلاب دو دن چار دن کا ہوتا ہے اس کا پانی سارا اتر کر ان ڈیموں میں جمع ہو جاتا ہے۔ (ہمارے پنجاب کی موجودہ صورتحال کے مطابق اس سیلاب کے دوران آنے والا پانی جب ضائع ہوگیا اور واپس سمندر میں گر گیا تو تخمینے کے مطابق ہم نے 12ارب ڈالر کا پانی سمندر میں بہا دیا)انڈیااتنا بڑا ملک یعنی ایک سو چالیس اور پچاس کروڑ کا ملک اپنی ضروریات پورا سال پوری کرتا رہتا ہے۔ یعنی بارش ان کے لیے وقتی طور پر تو زحمت بن کر آتی ہے لیکن وہ اس کو رحمت میں بدل کر اس کا استعمال کر لیتے ہیں۔لیکن پاکستان نے تربیلا اور منگلا دو ڈیم بنائے۔ وہ بھی ان پیسوں سے نہیں۔ ایشیائی اور ورلڈ بنک سے علیحدہ پیسے لیے گئے۔جب کہ اس وقت یہ طے پایا تھا کہ پاکستان کے اندر 45نہریں بنیں گی اور بارہ ملحقہ نہریں بنیں گی۔ اور 19بیراج بنیں گے۔ یعنی سکھر بیراج، چشمہ بیراج، کوٹلی بیراج آخری کوٹلی بیراج بناجو 1998ء میں مکمل ہوا۔ پاکستان نے کچھ بھی نہیں کیا ماسوائے بیراجوں کے۔ وہ بھی اس لیے کہ سندھ کے زمینداروں اور نوابوں کو خوش کرنے کے لیے۔ میں نے اپنی زندگی کے 40 سال مغرب میں رہ کر گزارے ہیں اور جب میں یورپ میں تھا سوئٹزرلینڈ، جرمنی، اٹلی میں تھا۔ اب کینیڈ ا اور امریکہ میں آیا ہوں کہ میں نے آ کر دیکھا کہ ادھر کا کسان جب وہ فصل کا بیج زمین میں بودیتا ہے اس کی فصل آٹومیٹک آن لائن رجسٹر ہو جاتی ہے۔ اس کی انشورنس ہو جاتی ہے۔ وہ برف زیادہ پڑے یا بارشیں زیادہ ہوں یا آگ لگے ، یا فصل نہ اْگے یا فصل کو کوئی بیماری لگ جائے۔ یعنی قدرتی آفات کی صورت میں یا ٹیکنیکل کسی بیماری کی صورت میں اس کسان کو اس کا ایک ایک پیسا ادا کیا جاتا ہے۔ جب کہ پاکستان میں فصلوں کی انشورنس کی پالیسی کیوں نہیں آنے دی گئی۔کیا ہماری زمینداری ایک انڈسٹری نہیں ہے۔ اگر یہ انڈسٹری ہے تو اس کو شوگر مل کی طرح، اس کو کھادمل کی طرح، اس کو دوائیوں کی فیکٹریوں کی طرح، اس کو برتنوں کی فیکٹریوں کی طرح یعنی اناج پیدا کرنے والی فیکٹری کی انشورنس کیوں نہیں ہے۔فصل کی انشورنس کیوں نہیں کی جاتی کیا یہ انڈسٹری نہیںہے؟ آپ کی گاڑی آپ کی ضرورت ہے،گاڑی کے بغیر آپ زندہ رہ سکتے ہیں آپ اناج کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ جب گاڑی کی انشورنس ضروری ہے گاڑی بنانے والی فیکٹری کی انشورنس ضروری ہے تو پھر اناج بنانے والی فیکٹری کی انشور نس کیوں نہیں ہے۔ آج یہ ساری فصلیں جو تباہ ہو گئی ہیں اس کی انشورنس ہوتی یہی کسان پریشان نہیں ہوتا۔ اگلے سال وہ پھر ایک نئے سرے سے اپنی ہمت ساری مجتمع کرکے وہ فصل اُگاتا۔ اب وہ کیا کرے گا۔زراعت بینک کو بھی انہوں نے ناکارہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ قارئین!ہر دو چارسال بعد سیلاب پاکستان کی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیتا اور ہم پھر یہ بڑے وعدے اور ہنگامے کرکے کہ اب کی بار ایسا نہیں ہوگا، اب کی بار ایسا کریں گے، اب کی بار وہ کریں لیکن ہر دفعہ ہم پھر وہی رویے اپناتے ہیں اور ہر دفعہ ہم بھول جاتے ہیں اور جب پھر مصیبت ہمارے دروازے کھٹکھٹاتی ہے تو ہمیں یاد آتا ہے کہ ہم نے تو یہ بھی کام کرنا تھا، وہ بھی کام کرنا تھا۔یاد رکھیے جب تک ہم اپنے مفادات کے لیے خود سنجیدہ نہیں ہوں گے کوئی باہر سے آ کر ہماری مدد کیوں کرے گا؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus