×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مِیڈ اِن چائنا
Dated: 07-Nov-2010
یہ دسویں صدی کے ابتداء کی بات ہے۔ بغدا د کی عباسی سلطنت بھی انہی دنوں اندرونی خلفشار اور سیاسی بدامنی کا شکار تھی جبکہ اس عہد میں چین میں بھی ’’ہین‘‘ خاندان کی مرکزی ختم کا خاتمہ ہو چکا تھا اور پورا ملک طوائف الملوکی کی لپیٹ میں تھا، خانہ جنگیوں کا دور دورہ تھا۔ ان حالات میں جو بادشاہ بھی تخت نشین ہوتا تھا سپہ سالار مملکت چین ملک کے وسیع تر مفاد میں بادشاہ کو زیر کر لیتا یا پھر اسے تہہ تیغ کرکے خود تاج و تخت کا وارث بن جاتا اور پریشان حال رعایا کا نجات دہندہ ہونے کا اعلان کر دیتا لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد وہ اس منحوس انجام کاخود شکار ہو جاتا۔ یہ سلسلہ بڑے طویل عرصے تک یونہی چلتا رہا کہ سن 959میں ایک جنرل ’’کائوکانگ‘‘ سلطنت سنگ کے تخت پر جلوہ افروز ہوا۔ اس کے سامنے چین کی طویل تاریخ موجود تھی کہ ہمیشہ بادشاہ کے فوجی جرنیل بادشاہ کا تختہ الٹ کر خود حکمران بنتے چلے آ رہے تھے۔اس لحاظ سے خود اس کی بادشاہی بھی ڈیڑھ دو سال سے زیادہ قائم نہیں رہ سکتی تھی۔ بادشاہ کائوکانگ ایک ذہین شخص تھا اور اس کے ذہن میں بس ایک ہی خلش تھی کہ کسی طرح اپنے اقتدار کو ان فوجی جرنیلوں اور عاقبت نااندیش حواریوں سے بچا سکے۔ اچانک بادشاہ کے ذہن میں خیال آیا کہ وہ کیوں نہ بجائے دوستوں پہ اعتماد کرنے کے اپنے دشمنوں کو دوست بنا کر استعمال کرے۔ اس نے آخرکار اپنا یہ دائو آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک رات بادشاہ نے اپنی فوج کے تمام جرنیلوں اور سپہ سالاروں کا اجلاس شاہی محل میں طلب کر لیا اور ایک شاندار دعوت کا اہتمام کیا۔جوں جوں ضیافت آگے بڑھتی چلی گئی شام ڈھلتے ڈھلتے گہری رات میں تبدیل ہونے لگی۔ فوج کے یہ جرنیل اور بادشاہ کے حواری شراب کے نشے میں بدمست ہوتے چلے گئے۔ بادشاہ اگرچہ جوان مگر بلا کا ذہین تھا اس نے جرنیلوں کی سرمستی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام جرنیلوں کو غیر مسلح کر دیا جرنیل جام پر جام لنڈھاتے چلے جا رہے تھے۔ ان لمحوں کی نزاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بادشاہ نے تمام مسلح پہرے داروں کو بھی غیر مسلح کر دیا۔ جرنیلوں کو شراب کی وجہ سے مدہوشی کے باوجود عجیب دھچکا سا لگا۔ مگر وہ اتنے مسرور اور مدہوش ہو چکے تھے کہ کچھ نہ کر سکتے تھے لیکن خوف سے انہیں اپنا انجام سامنے نظر آنے لگا اور اب وہ صرف بادشاہ کے حکم کے منتظر تھے کہ کب بادشاہ سلامت لب کشائی کریں۔ وہ لمحہ اب قریب تھاکہ ان کے سر تن سے جدا ہو جاتے۔ لیکن جب بادشاہ نے لب کھولے تو ان جرنیلوں کی چیخیں جو ان کے منہ سے نکلنا ہی چاہتی تھیں مسرت میں بدل گئیں۔ بادشاہ نے انہیں پیش کش کی کے اگر وہ حضرات بڑی بڑی جاگیریں اور خوشحال زندگی کو پسند کریں تو صرف اپنی موجودہ حیثیت سے مستعفی ہو جائیں۔ تمام احباب و جرنیل فوراً اس پیش کش کو قبول کرنے کو تیار ہو گئے۔ یوں بادشاہ نے آئندہ کے متوقع فوجی انقلاب سے اور اپنے بھیڑیا نما دوستوں سے نجات حاصل کر لی۔ ’’بادشاہ کائوکانگ‘‘ نے اپنی ذہانت سے جلد ہی شہنشاہ چین کے تخت پر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی اور ملک سے خانہ جنگی کا خاتمہ کر دیا۔ سن 971عیسوی میں جنوبی چین میں برسراقتدار اس کے دشمن ’’بین بادشاہ‘‘ نے بھی اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ کائوکانگ نے اسے اپنے دربار میں خصوصی نشست عطا فرمائی اور بجائے اس کے کہ وہ اس کو قتل کروا دیتا اسے اس کے صوبے کی حکمرانی واپس لوٹا دی اور ایک تحریری دستاویز اس کو عطا کی اور حکم دیا کہ جب تم واپسی کے راستے میں آدھا سفر طے کرو تو تم اس کو کھولنا اور پڑھ لینا۔ بین بادشاہ جب واپسی کے سفر میں آدھا سفر طے کر چکا تو اس نے دستاویز کو کھولا تو وہ حیران رہ گیا کیونکہ یہ خود اس کا اپنا دیا ہوا حکم نامہ تھا جس کے ذریعے اس نے بادشاہ کائوکانگ کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا ہوا تھا وہ حیران رہ گیا کہ کائوکانگ بادشاہ نے یہ صرف اس کی جان بخشی کی بلکہ معاف کرکے اس کی ریاست بھی اسے واپس کر دی تھی۔ اس طرح کائوکانگ بادشاہ کو ایک حریف کی بجائے مستقبل میں ایک جانثار دوست مل گیا۔ میں تاریخ کے یہ اوراق پڑھ کر حیران ہوں کہ کیا ہمارے سیاست دان ہمارے حکمران ہماری اپوزیشن ٹالرنس کی ایسی سیاست کو نہیں اپنا سکتے۔ ہماری سیاست کے سپہ سالار کبھی بنگلہ دیش رول ماڈل کی بات کرتے ہیں کبھی ملائیشیا کے مہاتیرمحمد کی طرز سیاست کو رول ماڈل کے طور پر اپنے لیے مناسب خیال کرتے ہیں اور کبھی سعودی عرب کے طرز حکومت کو اسلامی تصور کرتے ہوئے پاکستان کے لیے بھی ویسا ہی ماڈل چاہتے ہیں اور کبھی مغربی جمہوریت کو پاکستان کا مستقبل گردانتے ہیں اور یہی لوگ جب چاہا اس جمہوریت میں ملاوٹ کرتے ہوئے اپنے پسند کی ریاستی کھیر بنا لیتے ہیں۔تجربہ گاہوں کی اس بھٹی میں جھلستا ہو ا یہ وطن عزیز اب مزید کسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔اور اس سے پہلے کہ ملک میں انارکی پھیلے اور آج کے طاقت رکھنے والے چھوٹے بڑے گروہ وار لارڈز کی صورت اختیار کر جائیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس ملک کے عوام اب اقتدار کی اس جنگ میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست کے بین ستونوں کو مضبوط کیا جائے اور اداروں کے احترام کو مقدم رکھے ہوئے فیصلے اور ان پر عمل کیا جائیں۔ملک میں سیاسی عدم استحکام کی دلدل اتنی گہری ہو چلی ہے کہ یہ اب کسی ایسے معاہدے اور میثاق کی مشتاق ہے جو پوری قوم کو اس دلدل سے نکالے۔ جس میں ہماری سول و ملٹری بیوروکریسی اور سیاست سمیت پوری قوم پھنسی ہوئی ہے۔ میں نے اپنے ایک گذشتہ کالم میں لکھا تھا کہ پاکستان کو ایک نئے میثاق کی ضرورت ہے۔ گذشتہ روز مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف صاحب نے ایسے ہی ایک میثاق کی ضرورت پر زور دیا۔ ورنہ یہ لڑائی تو ایسی چیز ہے جیسے لسّی میں پانی ڈالتے جائو۔کیا اب کی بار صدر مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، آرمی چیف جنرل پرویز اشفاق کیانی،میاں نوازشریف،میاں شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن، جناب منور حسن، اسفند یار ولی، الطاف حسین مل کر اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام پر ترس کھائیں اور اپنی آنائوں سے نیچے اتر کر اپنے ’’ایگو‘‘ کو وطن عزیز کی خاطر قربان کرکے اس مملکت عزیز کو بچا لیں۔ نظریہ پاکستان کے علمبردار اور مردِ صحافت جناب مجید نظامی صاحب بھی اور محب وطن صحافت کے دیگر زعما بھی اپنا فرض ادا کریں اور اس قوم کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے باہمی اعتماد ایک دوسرے کا احترام اور بھائی چارہ۔وگرنہ ہمارے حریف دشمن بھارت کی ناپاک آنکھیں ہر لمحہ ہماری طرف اٹھی ہوئی ہیں اور ہماری غفلت کی منتظر ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus