×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کشمیر کا حل ! کشمیریوں کی مرضی کے مطابق !
Dated: 07-Oct-2025
آزاد کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان بالآخر مذاکرات کامیاب ہو گئے اور ایکشن کمیٹی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ تاہم اس اتفاقِ رائے کے لیے قیمتی جانوں کی قربانی دینا پڑی، جو افسوسناک ہے۔ اگر حکومت بروقت مطالبات پر غور کر لیتی اور ایکشن کمیٹی بھی شدت پسندی سے اجتناب کرتی تو اتنی خونریزی نہ ہوتی۔ پولیس اہلکار شہید اور دوسو کے قریب زخمی ہوئے، مظاہرین بھی جاں بحق ہوئے، پتھراؤ اور فائرنگ جیسے واقعات پیش آئے—یہ سب کچھ اس لیے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ یہ سب ایک ہی معاشرے کے لوگ ہیں۔ بہرحال اب حالات بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے اور جلد باضابطہ دستخط بھی کر دیے جائیں گے۔ اْن کے مطابق بڑے پیمانے پر خونریزی کے خواہش مند عناصر ناکام ہو گئے ہیں اور یہ جیت پاکستان، آزاد کشمیر کے عوام اور جمہوریت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر امور کشمیر کی سربراہی میں ہر پندرہ روز بعد کمیٹی کا اجلاس ہو گا جس میں مطالبات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔صورتحال کو بگاڑ کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے حکومت سے معاملات کو بلا تاخیر سدھارنے کی بات کی گئی تھی جس پر مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ مذاکرات کے آخری دور میں وفاقی وزراء رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، سردار یوسف، طارق فضل چوہدری، قمر زمان کائرہ اور امیر مقام شریک تھے۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق صدر سردار مسعود خان بھی شریک ہوئے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی شوکت نواز میر، راجہ امجد ایڈووکیٹ اور انجم زمان نے کی۔ایکشن کمیٹی والے وہی لوگ ہیں جو کسی صورت بھی مطالبات تسلیم ہونے سے قبل بات کرنے پر تیار نہیں تھے تاہم ان کی طرف سے بھی اپنے موقف سے پسپائی اختیار کی گئی اسے بھی اپریشیٹ کیا جانا چاہیے۔حکومت نے معاملے کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا اس لیے حکومت کا سٹانس بھی خوش آئند ہے۔معاملات بڑی سوجھ بوجھ دانش اور سمجھداری سے طے ہوتے ہیں اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 12 نشستوں کے مسئلے پر کہا کہ یہ ایک آئینی معاملہ ہے جس پر جلد بازی نہیں ہونی چاہئے۔ ان نشستوں کے ووٹرز کا تعلق براہِ راست کشمیر سے ہے اور ان کا حق چھینا نہیں جا سکتا۔ اس مقصد کے لیے آئینی پیکج اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کا حق بنیادی حق ہے اور اس پر بھرپور بحث ہونی چاہئے، ورنہ یہ سب کچھ ہمارے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔یہ لوگ وہی ہیں جو بھارت کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے اور پاکستان کی خاطر بے گھر ہوئے تھے، اور پاکستان نے انہیں مہمانوں کی طرح آباد کیا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر کے حساس معاملات پر سیاسی و آئینی بصیرت سے کام لیا جائے، تاکہ نہ عوامی حقوق متاثر ہوں اور نہ ہی کشمیر کاز کمزور ہوگا۔ یہ باتیں بھی سامنے آ رہی تھیں کہ ایکشن کمیٹی میں را کے ایجنٹ بھی گھسے ہیں جو دشمن کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔کشمیر پاکستان کی آنکھوں کا تارا ہے اس کے باسی پاکستان کے لیے محترم ہیں اور ریاست پاکستان کے لیے پاکستانیوں سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ پنجاب میں آٹا پیدا ہوتا ہے اور یہاں پر سو روپے کلوبِک رہا ہے۔آزاد کشمیر میں سبسٹڈی دے کر 30روپے کلو بِک رہا ہے۔ اسی طرح چاول، گندم، چینی ہر چیز پر سبسٹڈی حکومت پاکستان نے لگائی ہوئی ہے۔ اگرانڈیا نے اپنی طرف پچھلے پانچ سالوں میں آ کر مودی نے صرف پاکستان سے نفرت پیدا کرنے کے لیے ،پل، سڑکیں اور ریلوے بچھا دی ہے اس کا مطلب ترقی نہیں ہے ،ترقی یہ ہے کہ ان کو بھارت کے اندر جاپ اپرچونٹی کتنی ہے ،ان کے تعلیمی ادارے نہیں ہیں۔ اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں کوئی ایک بھی ڈھنگ کا کالج نہیں ہے۔ اور حیرت ناک بات یہ ہے بھارت میں رائج کوٹہ سسٹم کشمیریوں سمیت ہر طبقے کے میرٹ کو قدغن لگتا ہے۔ فرض کریں اگر بھارت کا پبلک سروس کمیشن سو پوسٹس کے عہدوں پر تعیناتی کے لیے انٹرویوز کرتا ہے تو کوٹہ کے حساب سے چونکہ مقبوضہ کشمیر کومکمل ریاست کا درجہ حاصل نہیں اس لیے ان کے حصے میں ایک بھی CSS، CSPآفیسر نہیں آئے گا۔جب کہ جیسے بھی پاکستان میں حالات ہوں اور اقرباپروری ہو یہاں مگر قابلیت کی بنا پر آپ کو آگے آنے کا موقع مل جاتا ہے۔جب کہ انڈیا کے غیر انسانی کوٹہ سسٹم میں پہلے تو پنڈت ،براہمنوں اور بڑی ذاتوں کے لیے کوٹے مختص ہیں ۔جب کہ شیڈول کاسٹ کے لیے آخر میں کچھ بھی نہیں بچتا۔یاد رہے کہ بھارت کی ایک سوپچاس کروڑ آبادی میں ایک سو بیس کروڑ سے زائد شیڈول کاسٹ سے متعلقہ لوگ رہتے ہیں۔بس سڑکیں بنائی اور سڑکیں اس لیے بنائی کہ اس کی فوج کو ان تک راستہ مل سکے۔جیسے یہ پلگرام والا اٹیک ہوا ہے اس کی صورت میں وہ جلدی اپنی فوجوں کو موو کر سکیں یہ سڑکیں تو اس نے اس لیے بنائی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ جو اس نے انفرسٹراکچر بنایا ہے وہ اس ملک کے لوگوں کے لیے شاید کوئی نعمت عطا کر رہا ہے یہ نعمت نہیں ہے یہ ان کو کنٹرول کرنے کے لیے انفراسٹرکچر ہے۔ یہ کسی بھی ملک کو جس نے اپنے عوام پر کنٹرول کرنا ہوتا ہے تو ایسی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جلدی سے جلدی ان کے سر پر پہنچنا۔ اگر کوئی شورش سر اٹھا رہی ہے اس کو بٹھانے کے لیے۔ یہ ترقی نہیں ہے، ترقی یہ ہوتی ہے کہ اس نے کتنے کالج بنائے،اس نے کتنے سکول بنائے۔خود بھارت میں رہنے والے بھارتیوں کو یعنی ہندو بھارتیوں کو یہ سہولت نہیں ہے۔ہمارے ہاں کوٹہ سسٹم یہاں صوبوں کی بنیاد پر ہے ،بھارت میں ذات برادری کی بنیاد پرہے ،یعنی دلت کا اتنا حصہ ہے، براہمن کا اتنا حصہ ہے۔ ادھر ایک لفظ چلتا شیڈول کاسٹ۔شیڈول کاسٹ چھوٹی ذاتوں کو کہتے ہیں یعنی کمی کمین۔ اگر جس ملک میں پہلے ہی شیڈول کاسٹ کے لیول پر نوکریوں کا کوٹہ اور تناسب دیا جائے گا اس ملک میں کشمیری کہاں پر ہیں۔ پوری دنیا میں کچھ رینک بڑھتا ہے ،عہدے بڑھتے ہیں۔ انہوں نے 75سال کشمیر کو آزاد ریاست کا درجہ دیا اور لداخ کو بھی اس کا حصہ بنایا۔پھر 370آرٹیکل لگا کر پھر سارے حقوق ان سے واپس لے لیے۔تو یہ میڈیا اور اپنے ایجنڈوں کے لیے ذریعے کشمیریوں کو سبزباغ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب یاسین ملک کی بیٹی کو مجبور کیا گیا کہ یاسین ملک سے سپریم کورٹ میں بیان لکھوایا گیا کہ ہم آپ کی سزائے موت معاف کر دیتے ہیں آپ یہ بیان دے دیں کہ میں انڈیا ہی کا ایجنڈا تھا اور پاکستان کے ساتھ میں ڈبل ایجنڈی کررہا تھا۔یاسین ملک نے اپنا چند دن پہلے بیان جمع کروایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آزادی کے متوالے اور آزادی چاہتے ہیں ان کو ڈسٹرب کیا جاسکے کہ دیکھیں ایسا آدمی بھی ڈبل ایجنڈی کا رہا تھا جس کو ہم اپنا ہیرومانتے تھے۔ان سب چیزوں کو کشمیریوں کو سمجھنا چاہیے۔ ہاں اگر حقوق تمہارے پاس نہیں ہیں تو ہم کونسا دنیا کی نمبر ون انصاف کی گدی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس بھی تو کچھ نہیں۔ 2005میں جب زلزلہ آیا تھا۔اس وقت جہانگیر بدر اور امین فہیم اور میں تینوں ادھر پہلے سے موجود تھے ایک تقریب میں گئے ہوئے تھے۔مظفر آباد سے واپس آ رہے تھا تو پتا چلا کہ زلزلہ آیا ہے تو بی بی نے کہا کہ فوراًالٹے قدموں واپس جائو اور وہاں پر بیٹھ کر سارے معاملات دیکھو۔ جہانگیر بدر صاحب اور امین فہیم کو بھی کہیں کہ وہاں پر رہیں جب تک میری کال نہ آ جائے۔تو پھر ہم کم از کم تین ہفتے ادھر رہے تھے اور ہم نے وہاں بیٹھ کر پوری پارٹی کو ایکٹو کیا۔ حالات بتاتے ہیں کہ کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی نے بہت زیادہ محنت کی۔یہ واحد ایک قسم کا پیپلزپارٹی کا امتحان تھا۔ کیونکہ پیپلزپارٹی ہمیشہ آزاد کشمیر میں گورنمنٹ بناتی تھی۔ بیرسٹر سلطان محمود، چوہدری مجید، چوہدری یاسین، چوہدری مطلوب، چوہدری لطیف گجر،صاحبزاد ہ اسحق یہ سارے دوست ہماری ٹیم میں اس وقت شامل تھے۔ ہم نے ایک ماہ وہاں پر رہ کر ان کو بڑے قریب سے دیکھا۔ وہ ہمارے آج بھی دوست ہیں ایک دوسرے کے فیملی فرینڈز ہیں۔ لیکن حقوق ان کو نہیں پتا کہ ہمیں پاکستان میں کتنے حقوق میسر ہیں۔ہم نے یو این او کی قرارداد کے مطابق کشمیر کو اپنے میں ضم نہیں کیا کیونکہ ہم اس قرارداد کا ویٹ کر رہے ہیں جس پر پنڈت جواہر لال نہرو نے سائن کیے تھے۔ اور اس کی روسے یہ کشمیر کو رائے شماری کا موقع دینا اس میں طے پایا تھا۔ اور بھارت اس پر عمل نہیں کررہا۔جو یو این او کی قراردادوں پر عمل نہیں کر رہا۔وہ کشمیری نوجوانوں کو ورغلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس میں پی ٹی آئی کو بھی ٹھنڈے دماغ سے کام لینا چاہیے۔ جماعت اسلامی اور دیگر پارٹیوں کو بھی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اب دشمن کے ہاتھوں کھیلنے لگ جائیں۔ دشمن وہ جو جنگ کے میدان میں ہم سے ہار گیاہے وہ جنگ اب پراکسی وار سے ہم سے جیتنا چاہے۔ پاکستان اور اس کی فوج جو کشمیر کے لیے اپنی جانیں دے رہے ہیں وہ کشمیریوں کی جانیں لے کیسے سکتے ہیں۔یہ لازمی کوئی دوسری طاقت ہے جو اس میں ملوث ہے۔ کشمیریوں کا ایک جائزہ مطالبہ یہ بھی تھا کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی بارہ سیٹیں جو کہ پاکستان بھر کے دیگر علاقوں سے کشمیری ووٹرز کو اسمبلی میں آواز پہنچانے کے لیے بارہ اراکین منتخب کرنے کا حق حاصل تھالیکن سابقہ تاریخ بتاتی ہے کہ ان مخصوص سیٹوں کو ہمیشہ بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔جس پر کشمیری برہم تھے کہ ان کی بنائی ہوئی کسی بھی حکومت کو یہ بارہ سیٹیں جب چاہتی الٹ پلٹ کر رکھی دیتی۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کا جائزہ مطالبہ تھا جسے 76سال بعد پذیرائی ملی۔قارئین! یاد رکھیے عوام کے جائز حقوق اگر عوام کو مل جائیں تو عوام سڑکوں پرآ کر ہلڑ گلڑ کیوں مچائے گی۔اور یہی وجہ ہے کہ اس سیاسی ناہمواریوں کا فائدہ ہمیشہ غیرسیاسی قوتوں اور پاکستان کے دشمنوں کو ہوتاہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus