×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ممدانی — ایک زبردست سیاسی کاریگر، ٹرمپ کی صدارت کے لیے نیا خطرہ
Dated: 11-Nov-2025
دنیا کی آبادی کے لحاظ سے نیویارک شہر یہودیوں کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اسرائیل کا دارالحکومت یروشلم بھی اتنے یہودیوں کا مسکن نہیں جتنا نیویارک ہے۔ یہاں یہودی آبادی کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ وہ جس طرف ووٹ ڈالیں، کامیابی اسی دھڑے کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ صرف ووٹ نہیں ڈالتے بلکہ انتخابی مہموں پر بے دریغ سرمایہ بھی لگاتے ہیں۔ نیویارک پانچ بڑے محلوں پر مشتمل ہے جنہیں انگریزی میں ’’بارو‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ہیں: نیویارک، بروکلین، کوئینز، برونکس اور مین ہیٹن۔ جغرافیائی طور پر شہر انہی پانچ حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ان میں سے بروکلین کا علاقہ یہودی آبادی کا مرکز ہے — آپ اسے یروشلم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا یہودی گڑھ کہہ سکتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ارب پتی اور کھرب پتی مذہبی یہودی اسی علاقے میں بستے ہیں۔ ٹرمپ کی سخت زبان اور سیاسی جوا۔انہی مذہبی طبقوں کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران سخت الفاظ کہے۔ انہوں نے کہا، ’’جو شخص ممدانی کو ووٹ دے گا، وہ احمق ہوگا۔‘‘ امریکہ میں دو جماعتی نظام رائج ہے — ایک قدامت پسند جماعت یعنی ریپبلکن پارٹی، اور دوسری جمہوری جماعت یعنی ڈیموکریٹک پارٹی۔ پورا ملک انہی دو جماعتوں میں منقسم ہے۔ ہماری طرح وہاں سینکڑوں چھوٹی پارٹیاں نہیں ہوتیں۔ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نیویارک میں کبھی زیادہ مقبول نہیں رہی۔ یہ صوبہ ہمیشہ ڈیموکریٹس کے ہاتھ رہا ہے۔ اوباما، کلنٹن اور جو بائیڈن — سب اسی جماعت سے وابستہ رہے ہیں اور نیویارک میں انہیں ہمیشہ کامیابی ملی۔ ٹرمپ نے اس بار غیر معمولی جوا کھیلا۔ انہوں نے اپنی جماعت کے امیدوار کرٹس سلِوا کے بجائے سابق گورنر ایندرو کومو کی حمایت کی، جو آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں ہار گئے، اور کامیابی ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی کے حصے میں آئی۔ ’’فنڈ بند کر دوں گا‘‘— ٹرمپ کی دھمکی۔امریکہ میں’’پرائمری‘‘انتخابات کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ اندرونی پارٹی مقابلے ہوتے ہیں جن میں طے کیا جاتا ہے کہ پارٹی کی جانب سے کون امیدوار کھڑا ہوگا۔ ممدانی نے وہ دشوار مرحلہ جیتنے کے بعد مرکزی انتخاب میں قدم رکھا۔اسی دوران ٹرمپ نے نیویارک کے شہریوں کو دھمکی دی کہ اگر زہران ممدانی جیت گئے تو وفاقی فنڈز بند کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے ووٹروں کو اس حد تک ڈرانے کی کوشش کی کہ انہیں یقین تھا، یہ حربہ کامیاب ہوگا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ عوام نے تمام دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ممدانی کو کامیابی دلا دی۔ ایک مقامی تجزیہ نگار نے لکھا،’’ٹرمپ کی دھمکی نے نیویارک کے شہریوں کو متحد کر دیا۔ وہ خوفزدہ نہیں ہوئے، بلکہ انہوں نے جمہوریت پر اعتماد کا اظہار کیا۔‘‘ امیگرنٹس کی جیت — نیویارک کی نئی پہچان۔یہ جیت صرف ایک شخص کی جیت نہیں تھی بلکہ نیویارک کے تارکینِ وطن — یعنی امیگرنٹس — کی جیت تھی۔ ممدانی نے کامیابی کے بعد کہا،’’آج شام کے بعد اس شہر کی قیادت ایک امیگرنٹ کے ہاتھ میں ہوگی۔‘‘یہ جملہ نہ صرف ان کی سیاسی بصیرت کا مظہر تھا بلکہ امریکہ جیسے ملک میں امید کی نئی کرن بھی۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر آپ میں ہنر، تعلیم اور ہمت ہے، تو نیویارک آپ کے لیے اپنے دروازے کھول دیتا ہے۔ ممدانی کی جیت نے غیر ملکی آبادکاروں کے بچوں کے لیے ایک نیا سبق چھوڑا ہے۔ ان کی ماں فلم ساز تھیں — بالی وْوڈ کی معروف ہدایت کارہ جنہوں نے ’’سلام بمبئے‘‘ جیسی شہرۂ آفاق فلم بنائی۔ ان کے والد کا تعلق بھارتی ریاست گجرات سے ہے۔ زہران ممدانی کی پیدائش یوگنڈا میں ہوئی۔ بعدازاں جب صدر عیدی امین نے غیر ملکیوں، خصوصاً بھارتی نژاد افراد کو ملک سے نکال دیا تو ان کا خاندان ہجرت کر کے امریکہ آ گیا۔ عالمی سیاست کا پہلو:آج وہی ممدانی دنیا کے سب سے بڑے شہر کے میئر بن چکے ہیں — ایک ایسا شہر جس کی اپنی حکومت اور انتظامی خودمختاری ہے۔ ان کی جیت کا ایک پہلو عالمی سیاست سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک آیا تو اسے گرفتار کیا جائے گا، کیونکہ عالمی عدالتِ انصاف نے اس کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔یہ اعلان جرأت مندی کی اعلیٰ مثال تھا۔ ممدانی نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی، اور امریکہ کے اندر انسانی حقوق پر ایک نیا مباحثہ جنم دیا۔ ان کے اس موقف نے انہیں نوجوان نسل، بالخصوص مسلمانوں، افریقی نژاد امریکیوں اور سماجی انصاف کے کارکنوں میں بے پناہ مقبول بنا دیا۔ بھٹو کا نعرہ، امریکہ میں گونج اٹھا:ممدانی نے اپنی مہم کے دوران ایک ایسا نعرہ اپنایا جو جنوبی ایشیا میں مشہور ہے — ذوالفقار علی بھٹو کا نعرہ: ’’روٹی، کپڑا اور مکان۔‘‘امریکہ جیسے سرمایہ دارانہ نظام والے ملک میں اس نعرے نے حیران کن حد تک اثر دکھایا۔ جہاں سوشلسٹ نظریات کے لیے کوئی گنجائش نہیں سمجھی جاتی تھی، وہاں ممدانی نے سماجی برابری اور فلاحی سوچ کو زندہ کر دیا۔ ایک امریکی تجزیہ کار نے تبصرہ کیا،’’ممدانی نے امریکہ کے سب سے امیر شہر میں غریبوں کو آواز دی۔ یہ وہ چیز تھی جو کسی نے پہلے نہیں کی تھی۔‘‘ سیاسی اثرات اور ٹرمپ کا نقصان:یہ انتخاب امریکی سیاست میں ایک غیر معمولی موڑ ثابت ہوا۔ عوام نے ثابت کر دیا کہ اب انہیں روایتی سیاست نہیں بلکہ انسان دوست قیادت چاہیے۔ اور یہی قیادت زہران ممدانی کی صورت میں سامنے آئی۔بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدارتی امیدوار بننے کی کوشش کرتے ہیں — حالانکہ امریکی آئین کے مطابق تیسری مدت کی اجازت نہیں — تو وہ قانون میں ترمیم کر کے میدان میں اترنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو ان کے مقابلے میں سب سے مضبوط امیدوار یہی زہران ممدانی ہوں گے، جو اب نہ صرف نیویارک بلکہ پورے امریکہ میں ایک نئے سیاسی رجحان کی علامت بن چکے ہیں۔ٹرمپ نے دراصل اپنی ہی جماعت کو کمزور کیا۔ انہوں نے آزاد امیدوار کومو کی حمایت کر کے ’’غلط گھوڑے پر شرط‘‘ لگا دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ کومو جیت سکے، نہ ریپبلکن امیدوار، اور نہ ہی ٹرمپ کی دھمکیاں کارگر ثابت ہوئیں۔ عوام کا فیصلہ اور نیا پیغام:نیویارک کے عوام نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ان پر زور و زبردستی نہیں چلتی۔ وہ دھمکیوں کے بجائے اصولوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ زہران ممدانی کی جیت نے یہ پیغام دیا ہے کہ امریکہ میں رنگ، نسل یا پس منظر سے زیادہ اہمیت انسان کے کردار، محنت اور وژن کی ہے۔ ایک نوجوان ووٹر کا جملہ اس انتخاب کا خلاصہ ہے:’’ہم نے صرف ممدانی کو نہیں، اپنے مستقبل کو ووٹ دیا ہے۔‘‘ اور یہی وجہ ہے کہ آج امریکی سیاست میں ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے۔ ممدانی: ایک زبردست سیاسی کاریگر، اور ٹرمپ کی آئندہ صدارت کے لیے حقیقی خطرہ۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus