×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سجدے میں لہو، سازش میں آگ
Dated: 10-Feb-2026
جمعتہ المبارک کا دن، وہ لمحہ جب زمین آسمان سے ہم کلام ہوتی ہے، جب انسان دنیاوی شور سے کٹ کر اپنے رب کے حضور جھک جاتا ہے—اسی مقدس ساعت میں اسلام آباد کی امام بارگاہ جامعہ مسجد خدیجہ الکبریٰ کو خون میں نہلا دیا گیا۔ سجدوں میں مصروف نمازی، دعا کے تسلسل میں تھے کہ اچانک بارود کی گرج نے فضا چیر دی۔ 32 معصوم نمازی شہادت کے درجے پر فائز ہو گئے، 170 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کئی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ مسجد کا صحن، جو کچھ لمحے پہلے ذکر و اذکار سے گونج رہا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے آہ و بکا، چیخ و پکار اور لہو سے رنگین ہو گیا۔ یہ محض ایک خودکش حملہ نہیں تھا، یہ پاکستان کے امن، مذہبی ہم آہنگی اور ریاستی وقار پر کھلا وار تھا۔ عینی شاہدین کے بیانات اس سانحے کی ہولناکی کو اور زیادہ واضح کرتے ہیں۔ نمازِ جمعہ کے وقت دو مسلح افراد، جدید اسلحے سے لیس، امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر پہنچے۔ وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو فائرنگ شروع ہو گئی۔ ابتدائی فائرنگ میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہو کر گر پڑے، جبکہ تیسرے نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ ایک حملہ آور اندھیرے اور گلیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گیا، مگر دوسرا، جو خودکش بمبار تھا، زخمی ہونے کے باوجود آگے بڑھتا رہا۔ گولیاں اس کے جسم کو چیرتی رہیں، مگر نفرت کا بارود اسے مسجد کے اندر داخل ہونے پر مجبور کرتا رہا۔ چند لمحے بعد اس نے دروازے کے اندر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اگر سکیورٹی اہلکار اسے گیٹ پر نہ روکتے تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ مسجد کے اندر موجود سینکڑوں نمازیوں کے ساتھ کیا قیامت گزر سکتی تھی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو نسبتاً محدود کر دیا، مگر اس کے باوجود جو نقصان ہوا وہ پوری قوم کو سوگوار کر گیا۔ یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کس قدر سفاک، منظم اور بے رحم ہو چکے ہیں، جو زخمی حالت میں بھی انسانی جانوں کے درپے رہتے ہیں۔ قوم اپنے ان بہادر محافظوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر مزید تباہی کو روکا۔ حکومتی اور پولیس ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کا تعلق بھارتی پراکسی دہشت گرد تنظیم سے تھا، جس نے افغانستان میں دہشت گردانہ تربیت حاصل کی اور کچھ عرصہ قبل وہاں سے پاکستان میں داخل ہوا۔ یہ انکشاف کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک سنگین سوال نامہ ہے جو خطے کی سلامتی پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا، اور بھارت کی جانب سے پراکسی وار کے ذریعے عدم استحکام پھیلانے کی کوششیں، ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ یہ وہی پرانا کھیل ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کے خلاف کھیلا جا رہا ہے—فرقہ واریت کو ہوا دینا، عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا اور قوم کو آپس میں لڑانے کی ناکام کوششیں۔ یہ بھی قابلِ غور ہے کہ حملے کے لیے خاص طور پر ایک امام بارگاہ کا انتخاب کیا گیا۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ دانستہ سازش تھی، جس کا مقصد ملک میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکانا تھا۔ عبادت گاہوں پر حملے کسی ایک فرقے یا مسلک کے خلاف نہیں ہوتے، بلکہ یہ پوری انسانیت، پورے معاشرے اور ریاستی نظم پر حملہ ہوتے ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی اس قسم کی دہشت گردی کا سامنا کیا ہے—مساجد، امام بارگاہیں، گرجا گھر اور عبادت کے دیگر مقامات دشمن کی نفرت کا نشانہ بنتے رہے ہیں—مگر ہر بار قوم نے اتحاد اور صبر کا مظاہرہ کر کے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا برسوں سے دہشت گردی کی آگ میں جل رہے ہیں۔ وہاں کے عوام، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے روزانہ قربانیاں دے رہے ہیں۔ اب یہ حقیقت مزید تشویشناک ہو چکی ہے کہ دہشت گرد سیٹلڈ ایریاز تک پہنچ چکے ہیں، اور اسلام آباد جیسے ہائی سکیورٹی زون کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ دشمن اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر رہا ہے—اب وہ صرف سرحدی یا دور دراز علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ریاست کے دل پر وار کر کے خوف کی فضا قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان معاشی بحالی کی جانب گامزن ہے، جب خطے کے ممالک کے ساتھ معاشی اور تجارتی معاہدے ہو رہے ہیں، اور جب دنیا میں پاکستان کا سافٹ امیج ایک بار پھر ابھر رہا ہے۔ لاہور میں برسوں بعد بسنت کے تہوار نے امن، ثقافت اور زندگی سے محبت کا پیغام دیا، مگر دشمن کو پاکستانیوں کی خوشی ہضم نہ ہو سکی۔ دس مئی کی عسکری اور سفارتی ہزیمت کے بعد بھارتی اسٹیبلشمنٹ بوکھلاہٹ کا شکار ہے، اور روایتی محاذ پر ناکامی کے بعد ایک بار پھر دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور سیاسی و دینی قیادت کی جانب سے اس حملے کی شدید مذمت اپنی جگہ، مگر اب وقت محض بیانات کا نہیں۔ وزیراعظم کا یہ اعلان کہ ملک میں شرپسندی اور بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ دہشت گردی کے پسِ پردہ نیٹ ورکس، سہولت کاروں، مالی معاونین اور سرحد پار سرپرستوں تک پہنچنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر ان کے ٹھکانے سرحدوں کے پار ہیں تو سفارتی، انٹیلی جنس اور اسٹریٹجک ہر سطح پر ان کا تعاقب ہونا چاہیے، چاہے اس کے لیے دوسرے ملک تک ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ عالمی برادری کی مذمت اس بات کا اعتراف ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، مگر محض مذمتی بیانات کافی نہیں۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو نہ روکا گیا تو اس کی لپیٹ پورے خطے اور پھر پوری دنیا تک پھیل سکتی ہے۔ پاکستان بارہا شواہد کے ساتھ دنیا کو آگاہ کر چکا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ عالمی ضمیر کب جاگے گا؟ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں جانیں اس سرزمین کی حفاظت کے لیے نچھاور کی جا چکی ہیں، اور یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ آج قوم کو ایک بار پھر اتحاد، صبر اور استقامت کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر، دشمن کی چال کو سمجھ کر، ریاست اور افواج کے ساتھ ایک صف میں کھڑا ہونا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں بہنے والا لہو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ یہ جنگ محض بندوقوں کی نہیں، قومی شعور اور اجتماعی عزم کی جنگ ہے۔ دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے ہمیں ان کے سرپرستوں تک پہنچنا ہوگا۔ یہ ہماری بقا، خودمختاری اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے—اور اس جنگ میں پسپائی کا کوئی راستہ نہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus