×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جنگ بندی کا اعلان: ٹرمپ کا امن کی طرف قدم یا چال ؟
Dated: 26-Mar-2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کی ڈیڈلائن ختم ہونے سے پہلے ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل’ پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز گفتگو‘ ہوئی، کئی نکات پر اتفاق ہوا ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق ان تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کے تناظر میں انھوں نے امریکی محکمہ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مجوزہ تمام فوجی حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے جائیں جبکہ اس دوران مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ جاری بات چیت کی کامیابی سے مشروط ہے اور اگر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہے تو مزید پیش رفت متوقع ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا جو پاکستانی وقت کے مطابق پیر کی صبح سات بجے ختم ہو گیا۔ ٹرمپ نے ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کی ہے۔ ایران کے قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ صدر ٹرمپ علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے وقت بڑھا رہے ہیں۔ یہ دشمن کی ایک اور شکست ہے۔ ایران کے معاملے پر ٹرمپ کا اب تک کا سب سے حیران کن ’’یوٹرن‘‘ سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی منڈیاں اور پوری دنیا امریکی صدر کی اچانک تبدیلیوں کی عادی ہو چکی ہے، لیکن پیر کے روز ایران کے حوالے سے ان کا یہ یوٹرن اب تک کے سب سے ڈرامائی فیصلوں میں سے ایک تھا۔گزشتہ سال دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ٹرمپ نے کھلے عام ’’جبلت‘‘ کے ذریعے حکومت چلانے کے طریقے کو اپنایا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع پر انہوں نے اہداف اور ٹائم لائن کے حوالے سے متضاد بیانات کی بھرمار کر دی۔ یہاں تک کہ 13 مارچ کو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ جنگ تب ختم ہوگی جب وہ ’’اپنی ہڈیوں میں اسے محسوس کریں گے۔‘‘ واشنگٹن میں امریکن یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر گیرٹ مارٹن کا کہنا ہے: ’’ٹرمپ اچانک پینترا بدلنے اور رخ موڑنے کے ماہر رہے ہیں۔‘‘صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی تھی، مگر حیران کن طور پر ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ بات ہو گئی ہے، جبکہ ایران اس کی تردید کر رہا ہے۔ اگر ایران پر حملے نہ کیے جائیں تو ممکن ہے کہ وہ بھی یکطرفہ کارروائیاں جاری نہ رکھے، تاہم ایران کا عمل اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ٹرمپ کے اعلان پر کئی ممالک اور اداروں نے یقین کر لیا، جس کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں کمی آئی اور اسٹاک مارکیٹیں اوپر جانے لگیں۔ تاہم ایران ٹرمپ کی باتوں میں آنے کے لیے تیار نہیں ہے، کیونکہ محض ایک سال میں امریکہ دو مرتبہ ایران کو مذاکرات میں الجھا کر حملہ کر چکا ہے۔وہ تیسری مرتبہ بھی ایسا کر دیں تو بعید نہیں ہے۔ جنگ کے خاتمے کے ہونے والی کوششوں کی بات کی جائے تو ماہرین اور سفارت کار ثالثی کی کامیابی کے امکانات کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ ناجائز صہیونی ریاست اس جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتی۔ اسی لیے امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے کہا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ اسرائیل کو روکنا ہے ورنہ مذاکرات کی تمام کوششیں اسی ڈگر پر چلتی رہیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر عوامی سطح پر کشیدگی کم کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور اسرائیل حملہ کر دیتا ہے۔ اسرائیل بڑے حملے کرتا ہے تاکہ مذاکرات کو سبوتاڑ کیا جا سکے۔ اسرائیلی حملے مذاکراتی صلاحیت کو کمزور کر دیتے ہیں اور جنگ تیز ہو جاتی ہے۔ جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کی سفارت کاری کامیاب ہو یا نہ ہو لیکن اس کی یہ اہم کوشش اور مثالی کردار تاریخ میں درج ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا تقسیم ہو رہی ہے، پاکستان نے ثابت کیا کہ ایک ترقی پذیر ملک بھی عالمی امن کی راہ میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر اسلام آباد کی بیک چینل ڈپلومیسی سے یہ جنگ رک جائے تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی تاریخ کا روشن باب ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ سبق بھی ہوگا کہ امن کے لیے ہمیشہ ایک دروازہ کھلا رکھنا چاہیے، چاہے ہر طرف جنگ کے شعلے ہی کیوں نہ بھڑک رہے ہوں۔ اگر اس جنگ کے پس منظر، اس کے سود و زیاں اور آئندہ اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے جو کہیں واضح ہے اور کہیں دھند میں لپٹی ہوئی۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ آیا یہ سب کچھ محض ایک ڈرامہ ہے یا کسی گہری جنگی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔ بظاہر اس وقت صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں، مگر یہ اختلاف بھی شاید اسی کھیل کا حصہ ہو جس میں دکھ کچھ اور اور حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ جنگ کے ابتدائی دن ہی یہ تاثر ابھر آیا تھا کہ نیتن یاہو کسی نہ کسی طرح امریکہ کو اس جنگ میں شامل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ٹرمپ اپنے داخلی سیاسی تقاضوں کے تحت محتاط قدم اٹھا رہے تھے۔ امریکی سیاست میں وسط مدتی انتخابات کی اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں حکمران اپنی عوامی مقبولیت کو پرکھتے ہیں۔ ایسے میں ٹرمپ کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ داخلی حلقوں، خصوصاً اثر و رسوخ رکھنے والے گروہوں کو مطمئن رکھیں۔ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے یہ حلقے فیصلہ کن نہ ہوں، مگر ذرائع ابلاغ، سرمایہ اور رائے سازی میں ان کا کردار غیر معمولی ہوتا ہے۔ چنانچہ عالمی فیصلوں میں داخلی سیاست کی یہ جھلک بھی صاف نظر آتی ہے۔ ایران کے حوالے سے ایک اور پہلو اس کے اندرونی نظام کا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ریاست کے اندر کمزوریاں پیدا ہوں تو بیرونی قوتیں ان سے فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں کرتیں۔ ایران میں حالیہ برسوں کے دوران اہم شخصیات کا نشانہ بننا اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ قاسم سلیمانی سے لے کر دیگر عسکری و سیاسی رہنماؤں تک، یہ سب واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اندرونی سطح پر دراڑیں موجود ہیں جنہیں مزید گہرا کیا جا رہا ہے۔ ریاست کی اصل طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ اعتماد اور استحکام میں ہوتی ہے۔ اگر قیادت اپنے عوام اور خطے کو یہ یقین دلانے میں کامیاب نہ ہو کہ وہ ان کی حفاظت کر سکتی ہے، تو عالمی رائے عامہ بھی اس کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر ایران کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ خطے کی صورتحال بھی ایران کے لیے آسان نہیں۔ خلیجی ممالک پہلے ہی اس پر اعتماد کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے، اور اس جنگ کے بعد یہ فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اگر عالمی پابندیاں برقرار رہتی ہیں تو ایران کے لیے معاشی اور سفارتی مشکلات میں اضافہ یقینی ہے۔ دوسری جانب عالمی طاقتوں کا کردار بھی خاصا پیچیدہ ہے۔ روس اور چین نے اپنے اپنے مفادات کے تحت ایران کی مدد کی، مگر یہ مدد بھی ایک حد تک ہی ہو سکتی ہے۔ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، بلکہ مفادات ہی اصل رہنما ہوتے ہیں۔ یورپی ممالک کی جانب سے جنگ میں براہِ راست شرکت سے انکار بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دنیا ایک بڑی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی اور ہر فریق کسی نہ کسی حد تک پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہے۔ یہ تمام حالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنگ شاید وقتی طور پر تھم جائے، مگر اس کے اثرات دیرپا ہوں گے۔ طاقت کے اس کھیل میں وقتی کامیابی بھی بعض اوقات مستقل کمزوری میں بدل جاتی ہے۔ آخرکار یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ محض ہتھیاروں کی جنگ نہیں بلکہ حکمت، صبر اور وقت کی جنگ ہے۔ جو قومیں اپنی اندرونی صفوں کو مضبوط کر لیتی ہیں، وہی تاریخ کے اس کٹھن مرحلے سے سرخرو ہو کر نکلتی ہیں، جبکہ کمزور بنیادوں پر کھڑی قوتیں وقتی چمک کے بعد ماند پڑ جاتی ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus