×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا پاکستان میں خونی انقلاب کا راستہ ہموار ہو رہا ہے؟
Dated: 09-Dec-2010
بچپن میں جب ہم اپنے ڈیرے پر جاتے تو اکثر یہ دیکھنے میں آتا کہ صبح صبح ہمارے دادا جان مزارعوں سے یہ کہہ رہے ہوتے کہ جلدی جلدی بھوسہ،چارہ کاٹ کر سنبھال لو تو مزارعے پوچھ رہے ہوتے میاں جی آج اتنی صبح کیوں ؟ تو دادا جی کہتے آج بارش آنے والی ہے ہم حیرت سے پوچھتے وہ کیسے ؟ آپ کو کیسے پتہ چلا ہے کہ آج بارش ہو گی؟ جس پر دادا جان فرماتے کہ یہ میرے زمینداری تجربے کی بنیاد پر ہے۔ یہ تجربہ میں نے اپنے باپ سے اور میرے باپ نے اپنے باپ سے سیکھاہے۔ ہم آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیکھتے موسم صاف ہوتا کہیں بادلوں کے نشان نظر نہ آتے مگر میاں جی کی بات کو جھٹلانا ممکن نہ ہوتا تھوڑی دیر کے بعد واقعی بارش شروع ہو جاتی۔ دراصل دادا جان موسم میں چھپا ہوا وہ حبس اور ’’گُمّاں‘‘دیکھنے اور محسوس کرنے کی حِس رکھتے تھے جو بعدازاں آندھی اور بارش کی صورت اختیار کر جاتا تھا۔ آج پاکستان کی سیاست بھی ایک ’’گُمّے ‘‘کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔ چھوٹے بڑے واقعات روزمرہ کی زندگی میں کوئی ارتعاش نہیں کر پاتے۔ وطن عزیز پچھلے 10سالو ںسے دہشت گردی کے موسم کی لپیٹ میں ہے اس دوران بے شمار سانحات رونما ہوئے مگر ہمارے عاقبت نااندیش حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ قوم سمیت حکمران،سیاست دان، اسٹیبلشمنٹ،طالب علم، مزدور، کسان، سرمایہ دار، جاگیردار غرضیکہ ہر طبقہ ہائے فکر کے لوگ اتنے بے حس اور قومی معاملات سے لاتعلق ہو گئے ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا حادثہ اور سانحہ بھی ہمیں چونکنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔12اکتوبر1999ء کو ایک حادثہ رونما ہوا جس نے آنے والی ملکی سیاست کی روش بدل دی۔ ایک آمر پرویز مشرف نے دوتہائی اکثریت کی حامل مسلم لیگ کے منتخب وزیراعظم کو ہتھکڑیاں لگا کر پابند سلاسل کر دیا۔ منتخب پارلیمنٹ کو ایک شیشے کے ناکارہ گلاس کی طرح توڑ دیا۔ حکمران خاندان کو جتنا بے عزت کیا جا سکتا تھا اس حد سے بھی تجاوز کرکے ان کو زبردستی جلاوطنی پر مجبور کر دیا گیا۔نہ صرف یہ بلکہ ان کے بوڑھے والدین کو بھی عمر کے آخری حصہ میں جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں اور جناب میاں شریف صاحب جو اپنی جوانی میں ہجرت فرما کر اپنا سب کچھ لٹا کر انڈیا سے پاکستان آئے تھے ان پر اس وطن عزیز کی زمین تنگ کر دی گئی ان کی بہوو سابق خاتون اول کو گاڑی سمیت کرین سے اٹھایا گیا اور صرف جلاوطنی کی ہی سزا نہ دی گئی بلکہ ماڈل ٹائون اور رائے ونڈ میں ان کی رہائش گاہوں کی ٹوٹیاں تک اتروا ئی گئیں اور پھر محترم میاں محمد شریف صاحب جلاوطنی کے دوران جلاوطنی کے زخم سہتے ہوئے جب انتقال فرما گئے تو ان کے بیٹوں اور اہل خانہ کو میت کے آخری دیدار اور جنازے کی اجازت تک نہ دی گئی۔ اس دوران آمر نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے خود کو صدر منتخب کروا لیا اور بلاشرکت غیرے اس اٹھارہ کروڑ عوام کا حکمران بن بیٹھا۔ اس کوملک کے کرپٹ ترین طبقات کی یقینا حمایت حاصل تھی مگر عوام اتنے بے حس نکلے کہ وہ سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنے کی بجائے گِدھوں کا انتظار کرتے رہے کہ کب وہ ان کا ماس نوچیں۔ بے حسی، لاتعلقی اور انسانی سردمہری کا یہ زمانہ عروج تھا۔قومیں قربانیوں سے تابندہ ہوتی ہیں۔ مجھے خود جلاوطنی کے دوران یورپ کے دانشوروں اور مفکروں سے مل کر پتہ چلا کہ جنگ عظیم اول اورجنگ عظیم دوم کے دوران 40لاکھ سے زائد انسان لقمہ اجل بنے۔ پورے یورپ کاانفراسٹکچر تباہ ہو گیا۔ مجھے ایک بوڑھے یورپین بزرگ مسٹر گِرھارڈ جس کی عمر 85سال ہے اور وہ جنگوں کا عینی شاہد ہے نے بتایا کہ ہم عالمی جنگوں کے دوران سال ہا سال تک صرف ٹماٹر اور آلو کا سُوپ پی کر زندہ رہنے پر مجبور کر دیئے گئے تھے۔ مگر جب یورپ نے متحد ہو کر اتحادی افواج تشکیل دی تو پھر کہیں جا کر ہٹلر کو پستی اختیار کرنا پڑی۔ دنیا کی تاریخ پر نظر دالیں تو پتہ چلتا ہے کہ قوموں کی ترقی میں انقلابوں نے کلیدی کردار ادا کیا اور انقلاب اپنا لگان اور تاوان مانگتے ہیں۔ ؎ کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا 1979ء میں جب قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی جانے والی تھی تو درجن بھر جیالوں نے خودسوزی کرکے اپنی قوم کے زندہ ہونے پر مہرتصدیق ثبت کی۔ جس کے ثمرات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی ساڑھے گیارہ سال بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کی زیر قیادت دوبارہ اقتدار میں آئی مگر اس ملک کے ازلی حکمرانوں، اسٹیبلشمنٹ کی نہ تھمنے والی سازشوں کی وجہ سے صرف اگلے گیارہ سال میں دو دفعہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور جناب میاں نوازشریف کی جمہوری حکومتوں کا قتل عام ہوا۔عوامی بے حسی اور سردمہری بام عروج پر تھی کہ اکتوبر 2005ء کے ملک گیر زلزلے کے بعد اس قوم کے ایثار کو ایک دفعہ پھر دیکھا گیا۔ قوم نے اپنے ذاتی استعمال کے کپڑوں اور گہنوں تک کو اتار کر اپنے ضرورت مند بھائیوں کو دے دیا اور جب ہسپتالوں میں خون کی ضرورت پڑی تو اٹھارہ کروڑ عوام نے خون دینے کے لیے قطاریں لگا دیں اور پھر اتنا خون جمع ہو گیا جسے سنبھالنے کے لیے ہمارے ہسپتالوں کے بلڈ بنک میں جگہ ناکافی تھی مگر ہماری سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس ایثار کے جذبے کے ثمرات کو چُرا کر اپنے بنک اکائونٹس کے حجم بلند کر لیے۔ یہی وجہ ہے کہ جب میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف نے یکے بعد دیگرے اپنے وطن اپنی عوام میں لوٹنا چاہا تو عوامی بے حسی کی نبض کو جانچنے اور پرکھنے والے حکمرانوں نے انہیں ایئرپورٹ سے ہی ڈی پورٹ کر دیا۔ لاہور اور راولپنڈی کی سڑکیں عوامی احتجاج کو ترستی رہیں۔ اس دوران 18اکتوبر2007ء کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی پر اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے جو سلامی دی گئی اس میں سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع کا سانحہ رونما ہوا۔ پھر چند ہفتے بعد ہی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ٹھیک اسی شہر میں پھانسی گھاٹ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر شہید کر دیا گیا جہاں چند سال پہلے ان کے عظیم بابا کو پھانسی دی گئی تھی۔ عوام نے اس دفعہ شدید ردعمل ریکارڈ کروایا جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی ایک دفعہ پھر اقتدار میں تو آ گئی مگر بعدازاں عوامی حمایت کھو کر اس وقت پستی اور گہرائیوں کی طرف گامزن ہے۔ مہنگائی، لوڈشیڈنگ، گندم، چاول،کھاد، ادویات،چینی اور لاء اینڈ آرڈر کے مسائل سے نبٹنا حکمرانوں کے بس کی بات نہیں رہی۔ دوسری طرف میاں نوازشریف اور شہباز شریف جو ڈیڑھ سال پہلے تک ملک گیر سروے کے مطابق 70فیصد مقبولیت رکھتے تھے آج عوامی سوچوں کے برعکس اور غیرمقبول سیاسی فیصلے کرنے کی وجہ سے 20فیصد سے بھی کم مقبولیت کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اور یہی ہماری اسٹیبلشمنٹ اور جمہور دشمن قوتوں کی جیت ہے کہ دونوں مقبول قیادتوں کو ناکام بنا دیا گیاہے اور یہی وجہ ہے کہ آج عوام ملک کی دونوں بڑی سیاسی قوتوں اور ان کی قیادتوں سے نالاں ہیں۔ اسی دوران وکی لیکس کے انکشافات نے اس سیاسی حمام کے تمام کرداروں کو نہ صرف ننگاکر دیا ہے بلکہ وکی لیکس کے خالقوں نے اس ملک کے تمام سیاست دانوں بشمول ملٹری قیادت کو عوام کی نظروں سے نہ صرف نیچے گِرا دیا ہے اور عالمی سیاست میں بھی ہماری اجتماعی قومی حیثیت مشکوک بنا دی گئی ہے۔یہی وہ لمحہ فکریہ ہے کہ جس کے سوچنے سے بھی خوف آتا ہے کہ کیا کچھ قوتیں پاکستان کو ایک خونی انقلاب کی طرف تو نہیں لے جانا چاہ رہی ہیں؟ کیا اس سیاسی ’’گُمّے ‘‘ اور ڈرامے کا بھیانک انجام تو ترتیب نہیں دیا جا رہا ؟ کیوں کہ جب عوام کو بند گلی میں دیوار سے لگا دیا جائے تو جب وہ پلٹ کر جھپٹتے ہیں تو انقلاب رونما ہوتے ہیں۔ اور جیسے انصاف اندھا ہوتا ہے ایسے ہی انقلاب کی آنکھوں پر بھی بے رحمی اور جبرکی پٹی بندھی ہوتی ہے اور پھر تلوار اور گولی کی آنکھیں بھی تو نہیں ہوتیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus