×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پرویز مشرف پر فردِ جرم۔جمہوریت کی فتح
Dated: 10-Aug-2008
جمہوریت اور آمریت ساتھ ساتھ چل جائیں یہ ناممکن ہے۔ آمریت کی کوکھ سے جمہوریت جنم لے سکتی ہے نہ جمہوریت آمریت کا روپ دھار سکتی ہے۔ 18فروری 2008کے انتخابات میں جمہوری قوتوں نے آمریت کو عبرت اور شرمناک شکست سے دوچار کر دیا۔ عوام نے جمہوریت پسند پارٹیوں کو بھاری مینڈیٹ دیا۔ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بارہا کہا تھا کہ عوام نے ان کی حامی پارٹی کو مسترد کیا تو وہ بھی گھر چلے جائیں گے لیکن انہوں نے اسی وعدے کی طرح اس کا بھی پاس نہ کیاجو انہوں نے قوم سے خطاب کے دوران کیا تھا کہ وہ 31دسمبر2004ء کو آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ اپنی زندگی کی آخری سانس لیتی ہوئی اسمبلی سے ڈنڈے اور وردی کے زور پر انہوں نے اعتماد کا ووٹ چھین تو لیا اور خود کو پانچ سال کے لیے صدر رہنے پر مصر ہو گئے۔معاملہ عدالت میں گیا تو انہوں نے عدالت کا گلا بھی دبا دیا۔ قوم اپنے وطن میں جمہوریت دیکھنا چاہتی ہے۔ آمریت کی آلائشوں سے پاک جمہوریت۔ جس کی راہ میں صدر جنرل(ر) پرویز مشرف رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اتحادی حکومت کے قیام کے بعد ان سے بار بار درخواست کی گئی کہ جمہوری حکومت کو مکمل طور پر بااختیار ہو کر کام کرنے دیا جائے لیکن انہوں نے جمہوری حکومت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور سازشیں کرنے کو معمول بنا لیا۔ ایوان صدر ساشوں کا گڑھ بن گیا ہے جس کو عوام کے مسترد شدہ لوگوں نے ایک بار پھر پناہ گاہ بنا لیا۔حکومتی اتحاد کو توڑنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں، اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے پہلے دن سے جمہوری حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ ق لیگ دھڑلے سے 58(2)B کے استعمال کا اعلان کرکے ملکی سلامتی کو بھی دائو پر لگا رہی ہے۔90کی دہائی میں 4جمہوری حکومتوں کو غیر آئینی طور پر ان کی مدت پوری ہونے سے پہلے توڑ دیا گیا حتیٰ کہ ان توڑنے جانے والی حکومتوں کو بھی دو سال سے زائد مدت حکومت نہ کرنے دی گئی۔ اب تو تین ماہ بعد ہی 58(2)Bکے استعمال کا واویلا کر دیا گیا۔ برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ عوام مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی اور قبائلی علاقوں میں جو ہو رہا ہے اس سے تنگ ہیں۔ جب ایک ہی ملک میں دو متوازی حکومتیں چل رہی ہوں اور ان ڈائریکشن بھی مختلف ہو تو معاملات کیسے حل ہو سکتے ہیں۔ صدر مشرف نے 9سال اقتدار بلاشرکتِ غیرے انجوائے کرلیا ایسا موقع تو امریکی صدر کو بھی نہیں ملتا وہ بھی زیادہ سے زیادہ دوبارہ انتخاب جیتنے کی صورت میں 8سال صدر رہ سکتا ہے۔ اب جبکہ صدر مشرف جمہوریت کی بحالی اور اس کو پٹڑی پر چڑھانے کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں تو ملک و قوم کو مکمل جمہوریت سے مستفید ہونے دیں۔ اور اپنی آمریت کا سایہ جمہوریت پر ڈال کر اس کو گہن نہ لگائیں۔ لیکن یہ بات صدر صاحب کی سمجھ میں نہیں آتی یا پھر ان کے ناعاقبت اندیش ساتھی ان کو سمجھنے ہی نہیں دے رہے۔ اور خوشامدیوں اور موقع پرستوں کا یہ ٹولہ صدر کو اب اپنے آخری انجام تک لے گیا ہے۔ بالآخر 7اگست کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نوازشریف نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفر میں صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے مواخذے کا اعلان کر دیا۔ جناب آصف علی زرداری شیر کی طرح دھاڑ کر ابتدائی فردِ جرم سنا رہے تھے۔ نواز شریف ان کے شانہ بشانہ تھے۔ اے این پی اور جے یو آئی نے بھی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ اس لمحے نہ صرف وہاں موجود آمریت کے زخم خوردہ صحافیوں کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے بلکہ قوم ٹی وی پر منظر دیکھ کر بے پایاں خوشی کا اظہار کر رہی تھی۔ یہ قوم کی فتح ہے، عوام کی جیت ہے اور جمہوریت کی کامرانی ہے۔ اور بقول شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ’’جمہوریت ہی سب سے بڑا انتقام ہے‘‘ 27دسمبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کو ظالم ہاتھوں نے شہید کر دیا تو ہر طرف مایوسی تھی۔ ناعاقبت اندیش حکمرانوں اور ان کے حواریوں نے محترمہ کی شہادت پر بھی سیاست کی اور انتخابات محض اس وجہ سے ڈیڑھ ماہ تک موخر کرا دیئے تاکہ پیپلز پارٹی کو شہید محترمہ کی ہمدردی کا ووٹ نہ مل سکے۔ لیکن ان کا یہ غیرانسانی حربہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ پھر صدر نے اپنی پیاری پارٹی کو کامیاب کرانے کا ایک منصوبہ بنایا تھا لیکن ق لیگ اسی وقت الیکشن ہار گئی جب فوج کے نئے آرمی چیف نے اپنی غیرجانبداری ظاہر کی اور اعلان کیا کہ فوج کسی بھی غیرآئینی کام میں شامل نہیں ہو گی۔ اور ملک کے محافظوں کو ملک کی تقدیر بگاڑنے کے عمل سے بہت پیچھے جانے کو کہہ دیا۔ ق لیگ کے سیاسی تابوت میں آخری کیل 18فروری کو ووٹ کی طاقت سے عوام نے ٹھونک دی۔ عوامی مینڈیٹ کے حصول کے باوجود جمہوری اور اتحادی حکومت کو آزادی سے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ یہ جمہوریت کی آزمائش تھی اسے کئی مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ ایسا تاثر دیا گیا کہ جمہوریت ابھی گئی۔ اعلان بھوربن سے قوم کو ایک نیا ولولہ اورتازہ حوصلہ ملا۔ لیکن پھر معاملات ایسے ہوئے کہ ایک بار پھر جمہوریت دشمن قوتوں کو خوش ہونے کا موقع مل گیا۔ نوازشریف معزول ججوں کی بحالی چاہتے ہیں پیپلز پارٹی بھی ایساہی چاہتی ہے۔ منزل ایک ہے لیکن اس تک پہنچنے کے لیے راستے الگ ہو سکتے ہیں۔میاں نوازشریف نے اپنے پارٹی موقف کی وجہ سے مرکز سے وزراء کو واپس بلایا تو دردِ دل رکھنے والے پاکستانیوں کو صدمہ پہنچا لیکن میاں نوازشریف نے ہر صورت حکومتی اتحاد برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا تو جمہوریت دشمن قوتوں کو مایوسی ہوئی۔ میں یہاں پر سینیٹر جناب آصف علی زرداری صاحب کی دوراندیشی اور ثابت قدمی ان کے عزم اور بلند حوصلے اور قائدانہ صلاحیتوں کی بھی تعریف ضرور کروں گا کیونکہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔اور آج جنرل پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد کرکے جناب زرداری صاحب نے خود کو 16کروڑ پاکستانیوں کا نمائندہ تسلیم کروا لیا۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت نے چند معاملات پر اختلافات کے باوجود یک جان اور قالب ہونے کا مظاہرہ کیا۔ اور جمہوریت دشمن عناصر کے ملکی سلامتی سے کھیلنے اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی خواہشیں اور سازشیں خاک میں ملا دیں۔ قوم ملکی سلامتی کے تحفظ اور استحکام کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن، اے این پی، جے یو آئی اور دیگر جمہوریت پسند سیاسی پارٹیوں کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ میرا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ اتحاد کو کامیاب بنانے کے لیے تمام پارٹنرز کو ساتھ بٹھانا ناگزیر ہے۔ اسلام آباد میں جاری ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے اس پر اتحادی پارٹیوں کی قیادتیں مبارک باد کی مستحق ہیں۔ میں سینیٹر جناب آصف علی زرداری صاحب کو اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی اور وطنِ عزیز کا پرچم تھام رکھا ہے وہ جان تو دے دیں گے اسے سرنگوں نہیں ہونے دیں گے۔مجھے یقین ہے کہ اب کی بار 14اگست ہی دراصل پاکستان کی اصل آزادی کا دن ثابت ہوگا ہم منزل پر پہنچے تو سہی بے شک اس منزل کے حصول میں ہمیں کئی صعوبتوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہمارا ایک بازو ہم سے جدا کر دیا گیا اس قوم سے اس کے 61 سالوں میں سے 40سال چھین لیے گئے۔اور جو جمہوری دور آئے اس میں بھی اسٹیبلشمنٹ اور آمرانہ ذہن رکھنے والی قوتوں نے ہمیشہ ٹانگ کھینچنے کی پالیسی اپنائی۔ صدر جنرل (ر)پرویز مشرف سے پوری قوم توقع کرتی ہے کہ وہ اس نازک موقع پر قوم کو اپنے استعفیٰ کا تحفہ دے کر جمہوریت کی بحالی کے آخری مرحلے کی تکمیل کر یں گے۔ صدر کو اب سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرنا چاہیے دوسری صورت میں ان کے خلاف مکمل اور حمتی چارج شیٹ تیار ہے۔ جس میں ان کے جرم کی تفصیل ان کی کامیابیوں سے کہیں زیادہ طویل ہے۔ایک بار کسی پر فردِ جرم لگ جائے تو آدھا مجرم تو وہ اسی مرحلے پر قرار دیا جاتا ہے۔ مواخذے کی تحریک کامیاب ہوئی تو وہ مکمل مجرم ٹھہریں گے۔ پوری دنیا کے سامنے ان کا داغدار اور گھنائوناچہرہ بے نقاب ہو جائے گا اور وہ اپنے مشرقی اور مغربی اتحادیوں کی سیاسی موت کا باعث بنیں گے۔ ؎ خود تو ڈوبیں گے صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے اس وقت وطنِ عزیز بحرانوں کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ پاکستان کا امیج اس پوری طرح مسخ ہوا ہوا ہے اس کا اندازہ آپ روپے کی گرتی ہوئی قیمت اور قوم کی بگڑتی ہوئی ساکھ سے لگا سکتے ہیں۔ ابھی تو فردِ جرموں کو پنڈورا بکس کھلنے والا ہے اور ایسے ایسے حقائق سامنے آئیں گے اور پھر قوم دیکھے گی کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت سمیت سینکڑوں واقعات روزِروشن کی طرح عیاں ہوں گے اور مجرموں کے پاس بھاگنے کے مواقعے کم اور ان کے گرد تنگ ہوتی ہوئی حقیقتوں کی دیواریں ان کو راہِ فرار کا موقع نہیں دیں گی۔ عوام اب ہر قیمت پر ہرقسم کی قربانیوں کے لیے تیار ہے اور صدر صاحب کو بھی اب یہ آواز سن لینی چاہیے اور یہ گنگناتے ہوئے چل دینا چاہیے۔ ؎ اِنشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں دل کا لگانا کیا
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus