×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دنیا کابدلتا ہوا نقشہ عالمی تناظر میں
Dated: 30-Jan-2011
گذشتہ سال کے آخری مہینے میں ایک چنگاری جب شعلہ جوالا بنی تو پچھلے دو دہائیوں سے ایک آمر مطلق کی طرح تیونس کی شہ رگ پر پنجے گاڑے زین العابدین کے اقتدار کو شدید خطرات محسوس ہوئے۔ بے روزگاری اور معاشی دلدل میں پھنسے تیونس کے عوام نے جب خودکشیوں کا لامتناہی سلسلہ شروع کیا تو عوام کے شدید ردعمل نے بندوقوں کی گولیوں کی پروانہ کرتے ہوئے اقتدار کے محلوں کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ سینکڑوں قربانیوں کے بعد جب آمر وقت زین العابدین اور اس کے خاندان نے راہ فرار کی ٹھانی تو اس کی بیوی لیلی نے ٹنوں کے حساب سے سونا اور جواہرات اکٹھے کیے اور متحدہ عرب امارات کی طرف خصوصی طیارے میں رخت سفر اختیار کیا۔ عوام کو جب ان لٹیرے میاں بیوی کے کرتوتوں کا علم ہوا تو رات کے اندھیرے میں ایک خصوصی پرواز سے زین العابدین پہلے فرانس فرار ہوا پھر سعودی عرب کی طرف سے گرین سنگل ملنے پر ادھر کا رخ کیا اور سیاسی پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ زین العابدین نے اپنے 23سالہ اقتدار میں شمالی افریقہ کے اس ملک کو جو اپنے خوبصورت ساحلوں کی وجہ سے خطے اور یورپین ممالک کے لیے ہالیڈے ریسورٹ کی حیثیت رکھتا ہے ملک میں سینکڑوں کی تعداد میں فائیوسٹار ہوٹلز اور ثمر ہالیڈے ویلجز اس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ملک میں کھربوں ڈالر کا زرمبادلہ ہر سال سیاحوں کی صورت میں آتا ہے لیکن تیونس کے عوام جن کی ایک بڑی تعداد سینٹرل یورپ میں لاکھوں کی تعداد میں حصول روزگارکے لیے کوچ کر چکے ہیںجب کہ ملک میں موجود صرف وہ چند ہزار افراد رہ گئے ہیں جو سیاحت اور ہوٹل انڈسٹری سے منسلک ہیں۔جبکہ عوام کا ایک بڑا طبقہ جو نوجوانوں پر مشتمل ہے یا تو کرائم کی طرف راغب ہے یا پھر یورپ پہنچنے کے حصول میں اپنی جانیں سمندری لہروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ مجھے تیونس جانے کا چند دفعہ اتفاق ہوا ہر دوسرے نوجوان نے مجھ سے یورپ کے ویزے کے حصول کی معلومات ہی پوچھیں۔ اسی طرح سوڈان میں گذشتہ دنوں سوڈان کے روحانی اور سیاسی پیشوا عمر البشیر نے امریکی حکمرانوں کے ساتھ مل کر ریفرنڈم کے ذریعے ملک کو تقسیم کرنے کی سازش کا حصہ بننا قبول کیا۔ اس طرح خطے کے انتہائی اہم ملک جس کی جغرافیائی سرحدیں مسلم ممالک سے ملتی ہیں کے عین درمیان ایک پہلی عیسائی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی۔تیونس اور سوڈان کے بعد الجزائر اور مراکش کے عوام بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں ابھی گذشتہ روز افریقہ کے ایک اہم ملک اور نیل اور اہرام مصر کے نگہبان مملکت مصر جو صدیوں پرانی تہذیب و تمدن کی وجہ سے خطے میں اپنا علیحدہ مقام رکھتا ہے جہاں پر اسلام پسندی کی لہریں وقتاً فوقتاً موجوں کا روپ دھارتی رہی ہیں اور ماضی میں اخوان المسلمین نے بے شمار قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے۔ علم اور تمدن کے اس گڑھ جامعہ الازہر اور قاہرہ یونیورسٹی جہاں پر حصول تعلیم ماضی اور حال میں ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے آج معاشی اور سیاسی بدحالی کا شکار ہے۔ اربوں ڈالر سیاحت کی مد میں اور شرم الشیخ جیسے ہالیڈے مقامات کا حامل یہ ملک عالمی سیاست میں نہ صرف ایک منفرد مقام رکھتا ہے بلکہ مصر کے سربراہان نے ہمیشہ فلسطین کے مسائل اور خطے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ شاہ فاروق کی جلاوطنی کے بعد جمال عبدالناصر نے مصر کے عوام کے دلوں پر حکومت کی۔ اس کے قتل کے بعد انور سادات نے عنانِ حکومت سنبھالی جس کو ایک فوجی پریڈ کے دوران قتل کر دیا گیا تو موجودہ صدر حسنی مبارک اقتدار پر قابض ہوئے اور پچھلی تین دہائیوں سے وہ مسند اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اس دوران لاکھوں مصریوں کو قتل اور قید خانوں میں جھونک دیا گیا،ہزاروں لاپتہ افراد کا کہیں وجود نہیں۔ اپنے ہی عوام کے لیے جیل نما ملک کے اندر خوف کا راج ہے ہزاروں مصری نوجوان امریکہ، یورپ اور متحدہ عرب امارات میں سکونت اختیار کر چکے ہیں مگر وہ اپنے وطن میں ہونے والی سیاسی و مذہبی ناہمواری سے لاتعلق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ’’القاعدہ ‘‘کی تشکیل اور تنظیم سازی ہوئی توسب سے زیادہ افرادی قوت مصر سے ہی میسر ہوئی اور نائن الیون کے نامزدہ چودہ ملزمان میں سے 6کا تعلق مصر اور باقی 8کا تعلق سعودی عرب سے بتایا جاتا ہے۔ آج بھی ایمن الظواہری جو موجودہ القاعدہ کا لیڈر ہے کا تعلق بھی مصر سے ہے۔ مصر وہ پہلا اسلامی ملک تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور کیمپ ڈیوڈ اور شرم الشیخ جیسے شرمناک معاہدوں کا موجب و بانی کہلایا۔ وکی لیکس کے خود ساختہ انکشافات کی روشنی میں خطے کے ممالک کے اندر جوآزادی اظہار اور جمہوری روایات جنم لے رہی ہیں اس سے چشم پوشی شاید اب ملوکیت کی پروردہ ریاستیں کویت اور عمان کے علاوہ مراکش،الجزائر اور متحدہ عرب امارات کے لیے بھی ممکن نہ ہو گی کیونکہ معاشی ناہمواری اور دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کے زور پر اب اس خطے کو ایک لمبے عرصے تک جمہوریت کے اثرات سے نہ بچایا جا سکے گا۔ سوشلسٹ انٹرنیشنل کی ایک کانفرنس کے دوران فرانس کے وزیراعظم لیولین جوژپاںکے خصوصی ڈنر میں کھانے کی میز پر پاکستان،اسرائیل اور فلسطین تعلقات پر گفتگو ہو رہی تھی تو میں نے اپنے ساتھ بیٹھے اسرائیل کے اس وقت کے وزیراعظم اور موجودہ صدر شمعون پیرزسے پوچھا کہ اسرائیل فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے سے گریزاں کیوں ہے؟جس پر میرے بائیں جانب بیٹھے ہوئے فرانسیسی وزیراعظم لیولین جوژپاں نے لقمہ دیتے ہوئے اسرائیل وزیراعظم سے کہا کہ کیا آپ اس Young Politician کو مطمئن کر سکتے ہو؟جس پر اسرائیلی وزیراعظم شمعون پیرز نے مجھے بتایا ہے کہ اسرائیل فلسطین کو ریاستی حقوق دینے کے لیے تیار ہے مگر عرب ممالک نہیں چاہتے کے عین ان کی ملوکیت زدہ ریاستوں کے درمیان ایک آزاد،خودمختار اور جمہوری فلسطین کی تشکیل پائے جو مستقبل میں ان ریاستوں کے لیے خطرہ کی گھنٹی بن جائے۔اس موقع پر مرحوم فلسطینی رہنما یاسرعرفات، ترکی کے سابق وزیراعظم اور انور اونونو کے بیٹے عصمت اونونوہمارے ساتھ کھانے کی اس میز پر موجود تھے۔میں اسرائیل وزیراعظم کے اس خیال سے کتنا متفق ہوا اس سے قطعہ نظر بعد کے معروضی حالات میں اسرائیلی وزیراعظم کی سوچ نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تقریباً ہر 35سے 40سال کے بعد دنیا کے نقشے پر تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ 1947ء کودو قومی نظریہ کے علاوہ علاقائی اور جغرافیائی تبدیلیاں جو عالمی سطح پر روپذیر ہو رہی تھیںپاکستان اور بھارت کی آزادی کا موجب بنی۔پاکستان کے سوئے ہوئے سیاسی راہنمائوں نے اگر اب بھی اپنی بند آنکھیں نہ کھولیں تو زمانہ کروٹ بدلنے کی روش ترک نہ کرے گا۔ پاکستان کے موجودہ حالات خاک بدہن اس وقت کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ بلوچستان میں تحریک مزاحمت، خیبر پی کے میں جغرافیائی حالات اور عسکریت پسندوں کا جڑیں پکڑنا، سندھ کے اندر وفاق مخالف پارٹیوں کا متحدہ ہونا اور پنجاب کو تقسیم کرنے کی سازشوں کا جال یہ سب بہت کچھ سوچنے کے لیے کافی ہے اور اگر اب بھی ہمارے عاقبت نااندیش حکمرانوں کی نظریں وفاق کی بجائے اقتدار پر جمی رہیں تو نتائج اپنا وزن کسی بھی پلڑے میں ڈال سکتے ہیں۔کیا گذشتہ روز مزنگ روڈ پر امریکی بلیک واٹر کا آپریشن جس کے دوران پاکستان کے 3معصوم شہریوں کا شرمناک قتل ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus