×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
انقلاب درست !مگر پنجاب پوچھتا ہے
Dated: 21-Feb-2011
ایک شخص بھینس خریدنے منڈی مویشیاں گیا۔ بیوپاری سے وہاں بندھی دو بھینسوں کی قیمت دریافت کی۔ بیوپاری نے کہا یہ جو پہلی بھینس ہے جس کے ساتھ بچھڑا بھی ہے،روزانہ 20کلو دودھ دیتی ہے، اچھی نسل کی ہے، اس کی قیمت 50ہزار روپے ہے۔ یہ جو ساتھ کھڑی بھینس ہے اس نے نہ آج تک کبھی بچھڑا بچھڑی جنا ہے نہ کبھی دودھ دیا ہے نہ کبھی مستقبل میں کوئی چانس ہے۔ خریدار نے کہا مگر اس کی قیمت کیا ہے۔ بیوپاری نے کہا ایک لاکھ روپے جس پر خریدار نے پوچھا جس بھینس میں ساری خوبیاں اور بہت سارا دودھ دیتی ہے وہ 50ہزار روپے میں اور جو بھینس ’’کھانگڑ ‘‘ہے کبھی دودھ نہ دیا نہ دے گی وہ ایک لاکھ روپے کی۔ جس پر بیوپاری نے کہا کہ بھائی جی کیرکٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے اس بھینس کا کردار تو دیکھیں۔اور پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں ایسے ہی انوکھے کردار کی حامل ہیں۔الطاف بھائی سندھ کے عوام نے آپ سے محبت کی، مان دیا،آپ کو ایک عام ورکر سے قائد بنا یا کراچی اور سندھ کے اردو بولنے والوں کے آپ لیڈر بن گئے۔ ایک کالج کا ’’کھلنڈرا‘‘ نوجوان آج نوجوانوں کے لیے مشعل راہ بن گیا یہ آپ پر کارکنان و عوام کا اندھا دھند اعتماد ہے۔ آپ نے خود کبھی الیکشن نہیں لڑا مگر یہ حقیقت ہے آپ نے جس کو بھی نامزد کیا وہ گلی کا ایک عام ورکریا یونٹ انچارج تھا فیڈرل منسٹر بن گیا۔ گورنر عشرت العباد بھائی پر بھی آصف علی زرداری صاحب، نوازشریف اور چوہدری برادران کی طرح درجنوں الزامات اور مقدمات تھے آپ نے اس کو اپنی پارٹی کی طرف سے گورنر نامزد کیا تو وہ مشرف کے دور کے بعد بھی پیپلزپارٹی کے لیے قابل قبول بنے رہے۔ جبکہ آپ نے این آر او پر سیاست کرکے اپنے ہی فلسفہ کی نفی کر دی۔ آپ نے میاںنوازشریف اور شہبازشریف پر تخت لاہور اور پنجاب کے بادشاہ کے الزامات لگائے مگر آپ نے اپنے حالیہ خطاب میں کراچی میں بسنے والے پنجابیوں،پختونوں،بلوچوں اور اندرون سندھ کے سندھیوں کے لیے اپنے الفاظ تک میں نرم گوشہ نہ رکھا۔ آپ کی پارٹی نے ہر آمر کا ساتھ دے کر ہمیشہ خود تو جمہوریت کی نفی کی مگر آپ جاگیرداروں،سرمایہ داروں،سرداروں کو للکارتے ہیں مگر دوسری طرف ان ہی سرداروں،جاگیرداروںاور سرمایہ داروں کے کولیشن پارٹنر بن کر حکومتوں کا حصہ بنے رہے۔ پچھلے چند ماہ سے آپ نے ہر ماہ کم از کم ایک دفعہ پیپلزپارٹی کی کولیشن سے علیحدہ ہونے کا نعرہ مستانہ بلند کیا مگر ہر دفعہ وزیر داخلہ رحمان ملک کے نائن زیرو یا لندن پہنچنے کے چند منٹ بعد ہی کبھی آپ کے ساتھ فوٹوسیشن یا پھر فاروق ستار اور بابر غوری،حیدررضوی بھائی کے ساتھ رحمان ملک کی ہنستی مسکراتی تصویر ٹی وی چینلز پر ناظرین کو دیکھنے کو ملتی ہیں۔الطاف بھائی کیا آپ اپنی سیاست کے معیار کا پیمانہ بتانے کی جسارت کریں گے؟ الطاف بھائی آپ صوبوں کی تقسیم کی بات کرتے ہیں آپ خیبرپی کے اور ہزارہ کے عوام کی بات کرتے ہیں،آپ شہری سندھی اور دیہی سندھی کی بات کرتے ہیں آپ پنجابی اور سرائیکی کی بات کرتے ہیں، لسانی بنیادپر تقسیم کی بات کرتے ہیں تو پھر بتایئے اردو جواس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کی زبان ہے، ایک قومی زبان ہے، یہ زبان وفاق کی زبان ہے،کیا یہ زبان پاکستان کے کسی علاقے میں لسانی بنیاد پر یا علاقائی بنیاد پر بولی جاتی ہے،کیا اردو کسی صوبے کا نام ہے۔ الطاف بھائی کیا آپ کے بہتر علم میں یہ بات ہے کہ پنجاب کے سکولوں میں یا کسی بھی سرائیکی علاقے کے سکول میں پنجابی یا سرائیکی نہ کبھی پڑھائی گئی نہ پڑھائی جا رہی ہے اور نہ کسی ’’محب وطن‘‘ پنجابی نے پنجابی زبان کی تحریک چلائی جبکہ سندھ کے پرائمری سکولز میں سندھی، بلوچستان کے پرائمری سکولز میں بلوچی اور خیبر پی کے پرائمری سکولز میں پشتو اور کشمیر کے پرائمری سکولز میں کشمیری لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہیں جبکہ گیارہ کروڑ پنجابیوں کے بچے جو گھر میں مینڈک کو ’’ڈھڈو‘‘ اور بھینس کو ’’مج‘‘ کہتے ہیں کس طرح اپنی ہی شخصیت کے دوہرے پن کا ہمیشہ شکاررہتے ہیں۔ اگر لسانی بنیاد پر تقسیم پنجاب ضروری ہے تو سندھ میں سندھی بولنے والوں کے لیے سندھی صوبہ اور کراچی میں پنجابیوںکے لیے اورپشتونوں کے لیے بھی صوبے بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے غیور عوام پوچھتے ہیں کہ انقلاب تشددپسندانہ رویے،بوریوں میں لاشیں بند کرنے سے نہیں آتے۔ انقلاب کے لیے عوام کے دل جیتے جاتے ہیں۔ انقلاب فلسفہ کی پیداوار ہوتے ہیں، انقلاب سوچوں کی تبدیلی کا نام ہے، انقلاب محبت کے جذبوں سے پیوستہ ہوتے ہیں، انقلاب مساوات اور اخوت کا درس دیتے ہیں، انقلاب امام خمینی ؒ کی طرح ذہنوں کو تسخیر کرنے کا نام ہے۔ عوامی انقلاب حضرت علامہ محمد اقبال کی فکر، حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی فراست اور ذوالفقار علی بھٹو کے ازم سے طلوع ہوتے ہیں۔ اس دنیا کا سب سے بڑا فکری انقلاب ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ حجتہ الوداع ہے جس نے عربی کو عجمی، گورے کو کالے اور امیر کو غریب پر فوقیت نہ دینے کا در س دیا اور ہمارے پیارے پیغمبر کا یہ آخری خطبہ اس عظیم فلسفے کا نام ہے جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک سوچ و فکر میں پُرو دیا۔الطاف بھائی آپ نے اپنی پارٹی کے منشور کو اس عظیم خطبے سے مماثلت دی ہے نبی اکرمؐ کے فلسفے میں محبت و اخوت کی چاشنی تھی جبکہ آپ نے لسانی بنیادوں پر تقسیم کی ہمیشہ بات کی ہے۔ الطاف بھائی آپ نے پنجاب، سندھ،خیبرپی کے، بلوچستان اور کشمیر کی سیاست کرنی ہے تو بلاتفریق مذہب وملت، فرقہ و لسانی خطوط سے ہٹ کر سوچیے پاکستان کی سیاست کرنی ہے تو دوقومی نظریہ کو ماننا ہوگا،وفاق کے احترام کو ماننا ہوگا،پاکستان کے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کرنا ہوگی، 18کروڑ پاکستانیوں میں نفرت و تقسیم کی دیواریں گرانا ہوں گی۔ پنجابیوں کے دل جیتنے ہیں تو پنجاب کی ریڑھ کی ہڈی کالاباغ ڈیم کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ پنجاب کی زمینوں کو بنجر کرکے کراچی کے ساحلوں پر کون سا گندم و چاول اگانا چاہتے ہیں ؟ الطاف بھائی آپ پاکستان کے ازلی دشمن کو خوش کرکے کیا پاکستانیوں کے دل جیت سکیں گے؟آپ کی دشمن سے محبت اور پنجاب سے نفرت والی پالیسی دراصل پنجابی مثال کے مصداق ہے’’ماں کی سوکن بیٹی کی سہیلی‘‘۔الطاف بھائی پنجاب کی سیاست کرنی ہے تو پنجابیوں کی طرح بڑے دل سے بڑی بات کریں۔ میں نے ایک پنجابی ہونے کے ناطے بھی اپنی کتاب ’’جلاوطن لیڈر‘‘میں آپ کو دنیا کے چھ عظیم جلاوطنی لیڈروں میں شمار کیا اور ٹائٹل پر شہید محترمہ کے ساتھ جگہ دی۔ میں نے پاکستان کے سب سے موقر روزنامہ نوائے وقت کے ادارتی صفحات پر ’’لاہور کو بھی ایک مصطفی کمال چاہیے‘‘ کالم لکھ کر نفرتوں کے بند توڑ کر محبتوں کی راہیں بنانے کے لیے پُل کا کردار ادا کیا۔ الطاف بھائی آپ چاہتے ہیں کہ آپ اس ملک کے پسے ہوئے محکوم اور ڈسے ہوئے عوام کے لیے ایک تیسری قوت کے طور پر متعارف ہوں تو اپنے دل کے دروازے ہم پنجابیوں،سندھیوں، بلوچوں، پٹھانوں اور کشمیریوں پرکھول دیجئے۔ آگے بڑھیئے ہم محبت کے چند بولوں کو ترستے ہوئے عوام کو صدق دل سے گلے لگایئے۔پھر دیکھئے اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام خون سے رستے زخموں سے چور بدن کے ساتھ بھی اپنے خون سے معمور پھولوں کی پتیاں آپ پر نچھاور کرنے کو تیار ہوں گے۔ آگے بڑھیئے سنت حسینی کی طرح جبر کے خلاف، ظلم کے خلاف۔ آگے بڑھیئے قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کی طرح اور پھانسی کے پھندے کو چوم لیجئے۔ آگے بڑھیئے الطاف بھائی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی طرح جنہوں نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر موت کو مات دے دی اور ابدی زندگی کی راہ اپنائی۔ الطاف بھائی جب جذبے صادق ہوں دل منافقت سے پاک تو انقلاب خود آپ کے قدموں سے لپٹ جائے گا۔ بس ایک بار سچا محب وطن ہونے کا احساس دلا دیں اس اٹھارہ کروڑ عوام کو جس کو ہر دفعہ مختلف ناموں سے مختلف روپوں سے مختلف نقاب پہن کر لوٹا گیا تو پھر دیکھئے گا پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام جس مسیحا کی تلاش میں ہیں کہیں وہ خوبیاں آپ میں توموجود نہیں ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus