×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا پاکستانی حکومت مشرف کو واپس لا سکتی ہے؟
Dated: 15-Apr-2011
جلاوطنی کے کرب سے میں خودگزرا ہوں۔ 80ء کی ابتدائی عشرے میں جب جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا اور اس وقت میں ایک طالب علم لیڈرکے طور پر جنرل ضیاء کے غضب کا نشانہ بنا۔ بادل نخواستہ مجھے جلاوطنی کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔ تب مجھے جلاوطنی کی حقیقتوں کا ادراک ہوا۔ تعلیم کو ادھورا چھوڑنا، ماں،بھائی، بہنوں سے جدائی کا زہر پینا پڑا تو مجھے احساس ہوا کہ ’’کاز‘‘ کے لیے قربانی دینا کچھ آسان کام نہیں۔ سوئٹزرلینڈ میری جلاوطنی کی منزل تھا اور مجھ سے پہلے 77ء سے لے کر پیپلزپارٹی کی قیادت کی ایک بڑی تعداد ملک چھوڑ چکی تھی اس وقت ہزاروں کارکن قلعوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔ لاہور سمیت ملک بھر کے قلعے، صعوبت خانوں کا روپ دھار چکے تھے۔ کوڑے، پھانسیاں، تشدد کارکنوں کے لیے ’’امروز‘‘ بن چکا تھا۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو،شہید میر مرتضیٰ بھٹو، شہید شاہ نواز بھٹو بھی جلاوطنی کی اذیت میں مبتلا تھے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی دفعہ سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد جلاوطن تھی پھر کچھ لوگوں کی جلاوطنی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے 10اپریل 1986ء کو محترمہ کی وطن واپسی پر ختم ہوئی اور بے شمار جلاوطن راہنما اور کارکن تب بھی واپس نہ آ سکے اس لیے کہ ان کے خلاف درجنوں سنگین قسم کے مقدمات زیرالتوا تھے۔ 17اگست کو جب آمر مطلق کے طیارے کو حادثہ پیش آیا تو پھر میرے سمیت سینکڑوں جیالوں نے وطن واپسی کی راہ اپنائی۔ جبکہ دوران جلاوطنی آمر ضیاء کے دور میں سیاسی جلاوطنوں کو ہراساں کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً حکومت وقت نے امریکہ، برطانیہ،کینیڈااور یورپ کے ان ممالک کو جو سیاسی جلاوطنوں کو سیاسی پناہ کی سہولت دیئے ہوئے تھے کو حکومتی سطح پر مسلسل پریشررائز کیا جاتا رہا کہ وہ پاکستان کے سیاسی کارکنوں کو وطن واپس بھجوادیں جبکہ حکومت وقت کا کسی بھی ملک کے ساتھ مجرموں کی واپسی یا تبادلے کا معاہدہ موجود نہ تھا۔ دنیا بھر میں موجود ویلفیئر سٹیٹ ہمیشہ سیاسی جلاوطنوں کو مجرموں کی صف میں کھڑا کرنے اور واپس بھجوانے سے گریزاں رہی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب 96ء میں محترمہ کی حکومت کو ختم کرنے کے بعد میاں نوازشریف کے وزارت عظمیٰ کے دور میں ایک دفعہ پھر جلاوطنی اختیار کرنا پڑی تو پیپلزپارٹی کے ہزاروں جیالے،لیڈر،خود میں اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی جلاوطنی اختیار کی۔ جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے شوہر سینیٹر آصف علی زرداری اور بے شمار ساتھیوں کو پابندسلاسل کرکے سنگین الزامات لگا دیئے گئے اور جلاوطنی اختیار کیے ہوئے لوگوں کو واپس منگوانے کے لیے مختلف حربے و ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔دراصل امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور یورپ کے ساتھ ایک تو پاکستان کا ایسا کوئی معاہدہ موجود نہیں تھا۔دوسرا جنیوا کنونشن اور ویانا معاہدوں میں سیاسی قیدیوں کو ایمونٹی حاصل تھی جس کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاسی رہنمائوں نے مختلف ادوار میں جلاوطنی اختیار کی۔ جب ہم تاریخ کے اوراق الٹتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ عظیم سوشلسٹ راہنما ولادی میر لینن نے بھی اپنی زندگی میں جلاوطنی اختیار کی اور جب 1887ء میں زارِ روس الیگزینڈر سوم پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں لینن کے بڑے بھائی ولادی میر الیگزینڈر کو گرفتار کیا گیا اور انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تو ولادی میر لینن نے 1895ء میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ جلاوطنی اختیار کی جبکہ واپس آنے کے کچھ عرصہ بعد1900ء میں انہیں دوبارہ ملک بدر کر دیا گیا۔ احمد ابراہیم سوئیکارنو جنہوں نے اپنے وطن انڈونیشیا کو و لندیزیوں سے تین سو سالہ غلامی سے نجات دلوائی اور اپنے وطن کے بانی اور ہیرو کہلوائے مگر اندرونی سازشوں کی وجہ سے 1967ء میں ان کو بھی جبراً جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ سیاسی جلاوطنوں کی تاریخ امام خمینی کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ امام خمینی نے شاہ ایران کے خلاف جدوجہد کا اعلان کیا پھر 1963ء کو انہیں مجبوراً جلاوطنی اختیار کرنا پڑی اور جب شاہ ایران کو عوامی غضب کے بعد ملک چھوڑنا پڑا تو 15سال بعد 1978ء میں فرانس سے امام خمینی وطن واپس پہنچے اور ہم وطنوں سے رہبرایران کا خطاب پایا۔ جلاوطنوں میں الطاف حسین جنہوں نے آل پاکستان مہاجروں سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی پھر 18مارچ 1984ء کو ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی اور ایم کیو ایم کو ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت بنا دیا مگر دسمبر1991ء کو الطاف حسین کو بھی جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ اسی طرح اس ملک کے دو دفعہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بننے والے جناب میاں نوازشریف کو بھی آمر مشرف نے طیارہ سازش کیس میں سزا سنائی اور پھر سعودی عرب کی مداخلت پر میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کو بالآخر10دسمبر2000ء میں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی اور میاں صاحب اپنے خاندان کے ہمراہ پہلے جدہ (سعودی عرب) میں بعدازاں کچھ عرصہ لندن میں بھی جلاوطنی کے عذاب سہتے رہے۔ میاں نوازشریف اور شہباز شریف کو ایک ایک دفعہ پاکستان کے ایئرپورٹس سے جبراً ڈی پورٹ بھی کیا گیا۔ جبکہ اس سے پہلے ملک کی دو دفعہ وزیراعظم منتخب ہونے والی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو پہلی دفعہ جنوری84ء میں اورپھر 99ء میں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ اور پھر مکافاتِ عمل کے نتیجے میں سب کو جلاوطنی پر مجبور کرنے والے جنرل پرویز مشرف کو 2009ء میں خود جلاوطنی اختیار کرنا پڑی ہے۔ جس نے اپنے دورحکومت میں ہر آمر کی طرح دوسرے ممالک کو جہاں سیاسی جلاوطن موجود تھے مجبور کرتا رہا کہ وہ سیاسی مجرموں کو پاکستان ڈی پورٹ کریں۔ آج مشرف خود دربدر بھٹک رہا ہے۔پاکستان کی عدالتیں اس کی بازیابی کو ممکن بنانے کے لیے مسلسل احکامات جاری کر رہی ہیں جبکہ مشرف کے اوپر سیاسی ہی نہیں کریمینل مقدمات بھی پاکستان کی عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ جن میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا مقدمہ بھی شامل ہے اور ایک اندازے کے مطابق بالآخر انہیں بھی عدالتوں سے غیرحاضری کی وجہ سے ایک دن اپنے آپ کو سیاسی جلاوطن ڈکلیئر کرنا پڑے گا اور بین الاقوامی قوانین اور عالمی ضابطوں میں ایسی کوئی گنجائش نہیں کہ کسی جلاوطن راہنما کو پکڑ کر وطن واپس بھیجا جا سکے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت بھی برطانیہ، امریکہ، کینیڈا،جرمنی، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، ہالینڈ، بلجیم اور فرانس میں 3لاکھ کے قریب پاکستانی تارکین وطن سیاسی جلاوطنی کے کیس رجسٹر کروا کر ان ملکوں میں رہائش پذیر ہیں۔ جبکہ پچھلی چار دہائیوں میں سنٹرل یورپ،جرمنی،سوئٹزرلینڈ اور فرانس و برطانیہ میں لاکھوں پاکستانی جلاوطنی کے نام پر امیگریشن حاصل کر چکے ہیں اور بین الاقوامی قانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ سیاسی جلاوطن کو وطن واپس بھجوایا جا سکے اور آج ہمارے حکمران خود بھی شاید اس مسئلہ پر ’’سیریس ‘‘نہیں کہ کل کو انہیں کہیں پھر خود اسی جلاوطنی کی صورت اختیار نہ کرنی پڑ جائے۔ جبکہ برطانیہ کے وزیراعظم کیمرون منٹر نے بڑے واشگاف الفاظ میں حکومت کو بتا دیا ہے کہ برطانیہ کا پاکستان کے ساتھ مجرموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں، ان حقائق کی روشنی میں یورپ سے سیاسی ملزموں کی واپسی کی توقع رکھنا ممکن نہیں۔گذشتہ روز وزیرداخلہ رحمان ملک کا دورہ برطانیہ صرف ’’شلجم سے مٹی جھاڑنے کے مترادف ہے‘‘۔ اور ہماری بھولی قوم یہ کیسے توقع کر لیتی ہے کہ جس آمر جنرل پرویز مشرف کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ایوان صدر اور جی ایچ کیو سے رخصت کیا جاتا ہے اس کو موجودہ آرمی چیف ہتھکڑیاں پہنے دیکھے؟ سب سیاستدان مل کر ایک سیاست دان ’’بھٹو‘‘ کو پھانسی لگوانے کے عمل میں برابر کے شریک ہو سکتے ہیں مگر ایک آرمی چیف کسی سابقہ آرمی چیف کی تذلیل برداشت نہیں کر سکتا۔قوم کی اس خواہش پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ: ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارماں پھر بھی کم نکلے
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus